غزل

کبھی غزل تو کبھی نظم اک بہانہ ہے۔

کسی بھی طور انہیں حال دل سنانا ہے۔

مرے حریف زمانے کا ڈر نہیں مجھ کو

مرے خلاف تو مدت سے یہ زمانہ ہے ۔

مری خوشی مرے احباب کو کھٹکتی ہے

میں کیا کروں مری عادت ہی مسکرانا ہے ۔

وظیفہ خوار یہ واعظ مجھے نہ سمجھائیں

میں جانتا ہوں مجھے سر کہاں جھکانا ہے۔

ابھی زمین کو ہموار کر رہے ہیں ہم

پھر اس کے بعد یہیں آسماں اگانا ہے۔

وہی غریب جو بستی میں خوبصورت ہے

اسی کے نام سے منسوب ہر فسانہ ہے۔

عجیب شخص ہے فیاض ہم سفر میرا

تمام عمر یونہی روٹھنا منانا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *