درس القرآن

وَلَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا۔  اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۔

اَوَ لَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ   ط  اَفَلَا يَسْمَعُوْنَ۔    (سورۃ السجدۃآیت:22-23-27)

ترجمہ:

اور ہم یقیناً انہیں بڑے عذاب سے ورے چھوٹے عذاب میں سے کچھ چکھائیں گے تاکہ ہوسکے تو وہ (ہدایت کی طرف) لُوٹ آئیں۔ اور کون ان سے زیادہ ظالم ہوسکتا ہے جو اپنے رب کی آیات کے ذریعہ اچھی طرح نصیحت کیا جائے پھر بھی ان سے منہ موڑ لے؟ یقیناً ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔

پس کیا اس بات نے انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کردیں جن کے (چھوڑے ہوئے) گھروں میں وہ چلتے پھرتے ہیں۔ یقیناً اس میں بہت سے نشانات ہیں۔ پس کیا وہ سنتے نہیں۔

تفسیر:

دنیا میں اس لئے عذاب آتے ہیں تاکہ لوگ ان بداعمالیوں سے باز آویں جن میں وہ گرفتار ہیں دوسرے مقام پر لَعَلَّھُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ (انعام: 43) فرمایا۔

وَمَنْ اَظْلَمُ: انبیاء اور ان کے نشانوں کے منکر اور ان سے اعراض کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں اور خداتعالیٰ ایسے قطع تعلق کرنے والوں کو ضرور سزا دیگا۔

فرمایا كَمْ اَهْلَكْنَا: ہدایت کا ذریعہ ایک یہ بھی ہے کہ پچھلی قوموں کی حالت پر غور کیا جاوے۔ راست باز اپنے مخالفوں کے مقابل میں کامیاب ہوتا ہے اور شریر و مفسد تباہ و ہلاک ہوجاتے ہیں۔                  (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ نمبر 384/387)

ایک نصیحت

بو علی سینا کے ایک شاگرد نے کہا۔ استاد آپ نبوت کا دعویٰ کرو۔ اس وقت تو آپ خاموش رہے۔ بعد ازاں ایک موقعہ پر جبکہ ہوا تیز و سرد تھی اور پانی یخ بستہ۔ اس نے شاگرد کو حکم دیا کہ کپڑے اتار کر اس میں کود پڑو۔ اس نے استعجاب کی نظر سے دیکھا۔ بوعلی سینا نے پوچھا؟ کیوں؟ کہا۔ آپ کو جنون تو نہیں ہوگیا؟ اس پر حکیم بولا نادان تیرے جیسے فرماں برداروں کی امید پر نبوت کروں؟ دیکھ ایک محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پیرو تھے۔ کہ خون بہا دئیے۔ اور گھمسان کی جنگوں میں جہاں موت سامنے دکھائی دیتی۔ سر کٹوانے کا حکم دیا اور انہوں نے چوں تک نہ کی۔ اور ایک تو ہے کہ جانتا ہے کہ میں طبیب ہوں۔ پھر سردی سے ڈرتا ہے! صحابہؓ کی مرہم پٹی کو بھی تسلی بخش انتظام نہ تھا۔ بوعلی سینا نے دلیلِ نبوت دی کہ خداتعالیٰ ان کے ساتھ ایک فرماں بردار جماعت کردیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *