’’انصاف کرو  ورنہ یاد رکھنا؟‘‘

مدیر اعلی محی الدین عباسی

ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مؤمن

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

انصاف کرو ورنہ یاد رکھنا حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے قاتل صرف نو افراد تھے مگر غرق، تباہ پوری قوم ہوگئی تھی۔ کیونکہ باقیوں کا جرم خاموش رہنا تھا۔ سورۃ الاعراف آیت:74 کی تفسیر ہے کہ ’’نَاقَۃُاللّٰہ‘‘ سے مراد حضرت صالح علیہ السلام کی وہ اونٹنی ہے جس پر سوار ہوکر وہ قوم کو رسالت کا پیغام پہنچایا کرتے تھے۔ جب بعض بدبخت سرداروں نے اس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں اور ان کا ذریعہ پیغام رسانی ختم کردیا تو اس کے نتیجہ میں عذاب کےمستحق ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ 9 سردار تھے جنہوں نے اس بات پر اکٹھ کیا تھا۔ اس سورت کی اگلی آیات میں ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور پس انہیں ایک سخت زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ قرآنِ کریم میں متعدد بار واضح ثبوت دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کا قانون اور اس کی طرف بھیجے گئے بندوں کی تعلیمات کو یکسر نظرانداز کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑھ کر دو ظالم شخص ہیں ایک مفتری علی اللہ، دوم جو نبی کی باتوں اور اس کا انکار کرے۔ جیساکہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور اولیاءاللہ اور مؤمنین صادقین کی مسلسل بےحرمتی کی جارہی ہے۔ حالانکہ قرآن کی تعلیم ہے کہ کسی انسان کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے علاوہ ازیں سورت السجدہ آیت 23 میں فرمایا کہ وَمَنْ اَظْلَمُ۔ یعنی انبیاء اور ان کے نشانوں کے منکر اور ان سے اعراض کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں اور خداتعالیٰ ایسے قطع تعلق کرنے والوں کو ضرور سزا دے گا۔ دوسری آیت 22 میں فرمایا۔ دنیا میں اس لئے عذاب آتے ہیں تا لوگ ان بداعمالیوں سے باز آئیں جن میں وہ گرفتار ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہمیں دو ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جن میں صراحۃً اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایک تو صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ کرک میں ہندوؤں کی عبادت گاہ کو جلا کر مسمار کردیا گیا۔ دوسرا صوبہ بلوچستان کے علاقہ مچھ میں شیعہ ہزارہ برادری کے 11 افراد کو قتل کردیا گیا اور یہ دونوں کام ہمارے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں انجام پائے۔ ہندوؤں کے مندر کو نذرِآتش کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیا اور اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یاد رہے یہ امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی تھی جو شرپسندوں نے کی۔ دوسرا واقعہ بلوچستان کے علاقہ مچھ میں ہزارہ برادری کی ہلاکت کا تھا۔ اس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) نے قبول کی ہے۔ اس سے قبل بھی ان علاقوں میں کان کنوں کو اغوا کرکے قتل کیا جاچکا ہے۔ مذہبی اقلیت کا اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل شیعہ مخالف تنظیم لشکرِجھنگوی اور جیشِ اسلام نے بھی کئی ہزار شیعہ برادری کے افراد قتل کئے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں شیعہ ہزارہ برادری کے 3ہزار افراد قتل ہوچکے ہیں۔ دیکھا جائے تو تمام پاکستانی اقلیتیں اپنے آپ کو پاکستان میں غیرمحفوظ تصور کررہی ہیں جس کے باعث لاکھوں افراد بیرونِ ممالک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

25 فی صد اقلیتوں کا یہ ملک ہے اور 75 فی صد اکثریتی برادری کے بنیاد پرستوں کے ذریعہ پائے جانے والے فرقہ وارانہ تشدد میں بے حساب افراد کا قتل اور اغوا ہوا، اور یہ توہینِ رسالت کے قانون کے غیرمعمولی، اور غیرمعیاری ثبوت کی بنیاد پر اور ناقص توہینِ رسالت کے قانون کے تحت افراد کو سزا دینے کے باعث بنتی ہے۔ اس کی سزا طویل مدتی جیل اور موت ہے۔ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کے مطابق دینِ اسلام کی توہین کرنے والےکو سزا موت سنا سکتی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ  ان قوانین کو اقلیتی برادری کو ہی نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ چند اسلامی تنظیموں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کا بخوبی علم ہے جو بنیاد پرست ہیں لیکن وہ بے بس اور تماشائی کی طرح رویہ اختیار کیے رہتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ پولیس کے علاوہ عدالتی نظام بھی بےبس نظر آتا ہے۔ ججز جن کا کام صرف انصاف کرنا ہے بلا خوف و خطر ایسے موقع پر وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور کان بھی۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کے اصول کی صراحۃً خلاف ورزی ہے۔ ایسی ریاست اور قوموں کے متعلق قرآنِ کریم میں ذکر آیا ہے کہ ایک دن ان تمام کو دنیا میں اور آخرت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ان دونوں واقعات پر بیانات، تبصرے اور انصاف دینے کی باتیں حکمران جماعت، فوج اور عدالتوں کی طرف سے کئے جارہے ہیں لیکن ماضی کی طرح انصاف ملنا مشکل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے عیسائیوں اور احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے اور ان کے افراد کو قتل کیا گیا۔ اور ان پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے ہیں جن کو آج تک کوئی انصاف نہ ملا اور نہ ہی قاتل گرفتار ہوئے اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ عدالتیں بھی انصاف نہ کرسکیں۔ اس ضمن میں قرآنِ کریم کی روشنی میں کہ جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے اور جو بیجو گے وہی نکلے گا۔ نیک اعمال کا نتیجہ نیک اور بد کا بد انجام ہے۔ یاد رکھیے خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے۔ جب آتی ہے تو پھر عالم کو اِک عالم دکھاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ قوم روز بروز اخلاقی قدروں، انسانیت کی خدمت سے عاری، اسلامی تعلیمات سے دور اور دہشت گردی اور تنگ نظری کا شکار بنتی جارہی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ یہ قوم برائیوں کے دلدل میں پھنستی جارہی ہے جس سے باہر نکلنا مشکل ہے اور آج ایک عام شہری بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔ قرآنی تعلیم ہے کہ جب کوئی ان کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو ان عقل کے بہروں کو اس کی پکار سنائی نہیں دیتی۔ کیونکہ وہ خداتعالیٰ کے بھیجے ہوئے مامور من اللہ، فرستادہ کی نافرمانی کررہے ہوتے ہیں۔ سورہ یٰسین آیت 31 میں فرمایا: ترجمہ: وائے حسرت بندوں پر! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔جب ایک مضطر دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لیتا ہے لیکن ہماری پوری قوم نے پچھلے سال مولانا طارق جمیل کی قیادت میں ملک میں پائی جانے والی تمام برائیوں سے توبہ اور آسمانی وباء سے دعانجات بھی کروا دی لیکن پھر بھی ہم ان برائیوں سے پاک نہیں ہوپائے۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہوچلا کرونا وباء دنیا سے جانے کا نام نہیں لے رہی بلکہ اس میں اضافہ اور کئی اور قسم کی وبائیں پھوٹ رہی ہیں۔ یہ ایک انذار اور قوموں کے لئے تنبیہ، الارم ہے۔ خدا کی طرف سے اگر بنی نوع انسان نے آج اس کو نہ سمجھا تو پھر خدا کی تقدیر اپنا کام کرے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہر ایک انسان کو خود اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ کچھ باقی نہیں رہے گا۔ لہٰذا ایک دوسرے سے محبت، پیار کریں، مدد کریں، ہر فرقہ کا احترام کریں اور امن کے ساتھ رہیں یہ بنیادی عنصر ہے جس کے لئے خداتعالیٰ نے انسانِ آدم کو زمین پر بھیجا ہے۔

’’محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں‘‘

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم کی سورۃ یٰسین آیت67 میں فرماتا ہے۔ قیامت کے دن انسان کی جواب طلبی ہوگی ہر انسان کے اعضاء بھی اپنے جرائم کا اقبال کریں گے۔

اِک نہ اِک دن پیش ہوگا تُو فنا کے سامنے

چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں انصاف کرنے، پیار محبت سے رہنے کی، ہماری کمزوریوں، برائیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *