کيسے کيسے انمول ہيرے لوگ

برٹش انڈين آرمی کے ميجرجنرل ہيکٹر پينٹ کی بيٹی شيلا آئرن پينٹ،ایک برطانوی خاتون جنہوں نے 1887 ميں لکھنو يونيورسٹی سے گريجويٹ کيا۔ان کی والدہ برہمن فيملی سے تھيں جنہوں نے کرسچن مذہب اختيار کيا تھا۔انہوں نے اپنے کيريئر کا آغاز بطور ٹيچر گوکھلے ميموريل اسکول کلکتہ سے کيا۔سن 1931 ميں ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اندر پرستھا کالج، دہلی ميں بطور اکنامک پروفيسر تعينات ہوئيں۔

آپ جانتے ہيں يہ پاکستانی تاريخ کی کون سی مشہور ترين شخصيت تھيں؟آيئے ميں آپ کو بتاتا ہوں۔شيلہ آئرن پينٹ نے 1932 ميں پاکستان کے پہلے وزيراعظم محترم لياقت علی خان شہيد رحمۃ الله عليہ کے ساتھ شادی کی۔ تب مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے اپنا نام بيگم رعنا لياقت علی رکھ ليا۔

يوں تو وہ بہت ہي عمدہ اخلاق اور اعلیٰ کردار کی مالک تھيں۔ليکن ايک ايسا سچ جو بہت کم لوگوں کو شايد معلوم ہو وہ يہ کہ جب وہ پاکستان کي سفير بن کر ہالينڈ گئيں تو ہالينڈ کی ملکہ ان کی بہت گہری دوست بن گئی۔ان دونوں کي اکثر شاميں شطرنج کھيلتے ہوئے گزرتی۔ايک دن ہالينڈ کی ملکہ نے ان سے کہا کہ اگر آج کی بازی تم جيت گئی تو ميں اپنا ذاتی شاہی قلعہ تمہارے نام کر دوں گی۔ بيگم صاحبہ نے اس کی اس بات کو منظور کرليا اور کچھ دير بعد بيگم رعنا لياقت علی شطرنج کی بازی جيت گئی۔ملکہ نے وعدے کے مطابق شاہی قلعہ ان کے نام کرديا۔ماضی کے اس سچے واقعے کا ايک حيرت انگيز اور خوشگوار پہلو يہ ہے کہ بطور سفيران کی وہاں ملازمت ختم ہوئی تو اپنے اس ذاتی قلعے کو انہوں نے پاکستانی سفارت خانے کو ہديہ کر ديا۔آج بھی پاکستانی سفارتخانہ اسی شاہی قلعے ميں واقع ہے۔ميں نے جب يہ پورا واقعہ پڑھا تو بيگم صاحبہ کے کردار کا موازنہ عصر حاضر کے مشہور و معروف سياستدانوں سے کياتو يہ بونے تو مجھے کسي قطار ميں کھڑے نظر نہيں آئے سوائے کرپشن اقربا پروري لوٹ کھسوٹ اور ملک کا ستياناس کرنے کےالله تعالیٰ نے ماضی ميں اس ملک کو ايسے زرخيز لوگ ديئے تھےليکن افسوس کہ آج پاکستانیوں نے ان کی قدر نہيں کی افسوس کہ آج ہم ان کي قربانيوں کو بھول گئے ہيں۔

پاکستان کے پہلے وزيرِخارجہ سر محمد ظفراللہ خان کتاب تحديثِ نعمت ميں بيان کرتے ہيں:1954ء ميں جب ميں وزيرِخارجہ تھا ميں نے محترمہ بيگم رعنا لياقت علی خاں کو آمادہ کيا کہ وہ ہالينڈ ميں پاکستانی سفير کا منصب منظور فرمائيں۔ انکی رضامندی حاصل ہونے کے بعد چودھری محمد علی صاحب بوگرا وزيرِ اعظم اور ملک غلام محمد صاحب گورنر جنرل کی منظوری سے ان کا تقرر عمل ميں آيا اور ستمبر 1954ء ميں انہوں نے اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھال لی۔ جون 1961ء تک بيگم صاحبہ اس منصب پر فائز رہيں۔ اس کے بعد انہيں اٹلی ميں پاکستانی سفير مقرر کيا گيا اور وہ روم تشريف لے گئيں۔ ميں بھی بين الاقوامي عدالت کا رکن منتخب ہوکر جنوری 1955ء ميں ہيگ آگيا اور فروری 1961ء تک وہاں رہا۔ چونکہ اس سارے عرصے ميں بيگم صاحبہ ہيگ ميں پاکستانی سفير تھيں اس لئے ميں ذاتی علم کي بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اپنے فرائض اور ذمہ داريوں کو بڑي قابليت اور بڑے وقار کے ساتھ سرانجام ديا۔ ہالينڈ ميں ان کا نام نامی اور پاکستان کا نام مترادف ہوگئے تھے اور اس ملک ميں اب تک انہيں نہايت احترام کے ساتھ ياد کيا جاتا ہے۔ ملکہ ہالينڈ کے ساتھ ان کے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ وہ ہالينڈ کے سرکاری اور غيرسرکاری دونوں حلقوں ميں مقبول تھيں ان کے متعلق عام رائے يہ تھي کہ ملکہ جوليانہ کے بعد وہ ملک کي سب سے ہردلعزيز خاتون ہيں۔ ہالينڈ کی سب يونيورسٹيوں ميں بھی ان کا نام بڑی عزت سے ليا جاتا تھا۔ ان کا قاعدہ تھا کہ اپنی استقبالی دعوتوں ميں التزام کے ساتھ باری باری يونيورسٹيوں کے چیدہ چیدہ طلباء کو مدعو کرتی تھيں۔ اور ان کی مہمان نوازی کا خاص خيال رکھتی تھيں۔ جو طلباء دُور سے آتے تو رسمی دعوت کے بعد ان کے لئے کھانے کا انتظام بھي فرماتيں۔ ايسی مادرانہ شفقت کا اظہار ايک مشفق خاتون ہی کی طرف سے ہوسکتا تھا۔ ان انتظامات ميں ان کی ذاتی سيکرٹری مس کيتھرين مائلز ان کی دست راست تھيں۔ ميرے ساتھ شفقت اور تواضع کا جو سلوک بيگم صاحبہ نے اور ان کی وجہ سے پاکستان سفارت خانے کے جملہ افسران اور عملے کے افراد نے روا رکھا اس کا ميرے دل پر گہرا نقش ہے۔ فجزاھم اللہ الحسن الجزاء۔ بيگم صاحبہ کي طرف سے مجھے ارشاد تھا کہ ہر ی ہفتے اور اتوار کی سہ پہر کو 5 بجے درِ دولت پر حاضر ہوں اور دونوں دن شام کا کھانا ان کے ہاں کھاؤں۔ کھانے پينے کے سلسلے ميں ميری ہر طبی احتياط اور طبعی رغبت کا پورا لحاظ رکھا جاتا۔ اس لئے مجھے ہيگ کے قیام کے دوران مجھے ذرہ بھر بھی بے وطنی کا احساس نہ ہوا۔ يہ سب بيگم صاحبہ کي شفقت اور تواضع کا کرشمہ تھا۔ ميرے دل سے ہر روز ان کے لئے دعا بلند ہوتی ہے۔ يہ کوئی رسمی جملہ نہيں بلکہ لفظاً اور معناً حقيقت ہے۔

بيگم رعنا لياقت علی خاں کی اسلامی غيرت کی دو مثاليں: ميرے دل ميں محترمہ بيگم صاحبہ کی قدرومنزلت ان کی اسلامی غيرت کے احساس کی وجہ سے بھی ہے ايک دن دوپہر کے وقت ٹيليفون پر ارشاد فرمايا کہ سہ پہر کے اجلاس کے لئے عدالت واپس جاتے ہوئے يہاں سے ہوتے جانا اور تاکيد فرمائی کہ تين بجے سے پہلے ہی آجانا۔ ميں پونے تين بجے حاضر ہوگيا۔ حاضر ہونے پر ديکھا کہ بہت اضطراب کي حالت ميں ہيں ايک ٹائپ شدہ دو رقہ ان کے ہاتھ ميں تھا۔ وہ مجھے ديتے ہوئے فرمايا پڑھو! وہ ہيگ کے ايک روزنامے کے افتتاحيہ کا انگريزی ترجمہ تھا جس کا خلاصہ يہ تھا کہ انڈونيشيا کی حکومت اپنی ہر کمزوري اور خامی کا الزام ہالينڈ کے سر تھوپتی ہے۔ اتنا نہيں سوچا جاتا کہ ملک کی بھاری کثرت اسلام جيسے دقيانوسی مذہب کو سينے سے چمٹائے ہوئے ہے جو ان کے ترقی کے رستے ميں رکاوٹ پيدا کرتا ہے۔ پہلے اس سبب کا علاج کريں پھر ہم پر الزام عائد کريں۔ فرمايا اس کا جواب لکھو۔ کب تک تيار کرلو گے ميں نے کہا تيار ہوجائے گا۔ جواب تيار ہوجانے پر ميں نے اطلاح کی تو فرمايا ہمارا تعلقات عامہ کا افسر ان دنوں چھٹی پر ہے۔ تمہارے تيار کردہ جواب کا ہولندی زبان ميں جلد ترجمہ ہونے کا کيا انتظام کيا جائے۔ ميں نے کہا آپ فکر نہ کريں ميں مسز زمرمان (ايک مسلمان ماہر ترجمہ ہو لندی خاتون) سے جلد ترجمہ کرالوں گا۔ چنانچہ ترجمہ جلد تيار ہوگيا اور تجويز ہوئی کہ مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب امام مسجد مبارک ہيگ ہالينڈ جوابی مضمون لے کر خود اخبار کے ايڈيٹر سے مليں اور اس کی اشاعت کا مطالبہ کريں۔ حافظ صاحب مضمون لے کر گئے۔ ايڈيٹر نے جواب پڑھ کر فرمايا ہم ضرور کل ہي شائع کرديں گے ليکن جواب ذرا طويل ہے سارے جواب کی گنجائش پرچے ميں نہيں ہوگی۔ ہم ضروری حصوں کو خلاصے کے طور پر ترتيب دے ليں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ بڑے عمدہ طور پر پورا کرديا۔ فجزاہ اللہ۔ بيگم صاحبہ نے مضمون کی نقول تمام سفارت خانوں ميں بھجواديں۔ایک دن پھر بڑے اضطراب کي حالت ميں طلب فرمايا۔ معلوم ہوا ان کے ايک پاکستانی مسلمان نوجوان ملازم نے جو کراچی ميں ان کے ہاں کاہی پروردہ تھا اور جس کے والد نے اس کے ہيگ آنے سے پہلے کراچی ميں اس کی شادی بھی کردی ہوئی تھی ہالينڈ ميں شادی کی ٹھانی ہے اور لڑکی کے اصرار پر عيسائی مذہب قبول کرنے پر آمادہ ہے اور اس نيت سے ايک پادری کی شاگردی ميں گرجا کی رسوم وغيرہ سيکھ رہا ہے۔ بيگم صاحبہ بڑے جوش ميں تھيں اور مصر تھيں کہ سفارت خانے کا سرکاری عملہ بھاگ دوڑ کرکے غروبِ آفتاب سے پہلے اس ملازم کو پاکستان جانيوالے ہوئی جہاز پر سوار کرکے رپورٹ کرے۔ يہ رپورٹ بيگم صاحبہ کي خدمت ميں پہنچی تو کہيں جاکر ان کی طبيعت قابو ميں آئی۔ اس وقت تک يہ بار بار یہی کہتی رہيں۔ لياقت علی خاں کے گھر ميں پلا ہوا شخص اور عيسائی ہونے پر رضامند ہوجائے!

حوالہ تحديثِ نعمت صفحہ( 624-625)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *