پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں انٹری: اور فضل محمود کو چھٹی دینے کے احکامات وزیراعظم ہاؤس سے براہ راست آئے

تحریر :   عبدالرشید شکور

2دسمبر 1951 کو فضل محمود کے وننگ شاٹ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو مارلی بورن کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے خلاف دوسرے غیر سرکاری ٹیسٹ میچ میں چار وکٹوں سے کامیابی سے ہمکنار کیا تو کراچی جم خانہ کرکٹ گراؤنڈ میں موجود ہزاروں شائقین کے جوش وخروش کا ٹھکانہ نہ تھا۔

مارلی بورن کرکٹ کلب کے خلاف کامیابی کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔ یہ کلب دنیائے کرکٹ کے سب سے معزز گراؤنڈ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کا مالک ہے، اور آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کے قوانین ایم سی سی کے ذمے ہیں۔اس یادگار لمحے کو دیکھنے والوں میں خواجہ ناظم الدین بھی شامل تھے جنھیں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد وزیراعظم بنے ہوئے صرف ڈیڑھ ماہ ہی ہوا تھا۔خواجہ ناظم الدین پاکستانی ٹیم کی اس جیت پر اس قدر خوش تھے کہ انھوں نے میچ کے اختتام پر فضل محمود اور کپتان عبدالحفیظ کاردار کے ہاتھ تھامتے ہوئے فضا میں بلند کیے اور جذباتی انداز میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ اس میچ نے پاکستان کی کرکٹ کو ایک نئی شناخت دی تھی اور اسی جیت کی بنیاد پر اسے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا استحقاق حاصل ہوا۔میچ کے اختتام پر وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے فاتح ٹیم کے اعزاز میں عشائیے کا اعلان کیا جو دس روز بعد کراچی میں ہونا تھا۔

فضل محمود کی ڈیوٹی پر واپسی

فضل محمود جنھوں نے کراچی کے اس غیر سرکاری ٹیسٹ میں ایم سی سی کی پہلی اننگز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کی تھیں، میچ کے بعد فرنٹیئر میل میں سوار ہوئے اور راولپنڈی روانہ ہو گئے جہاں پولیس کی ملازمت کے دوران ان کی پوسٹنگ ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ انھوں نے ایم سی سی کے خلاف اس سیریز میں حصہ لینے کے لیے ایک ماہ کی رخصت لے رکھی تھی جو اب ختم ہو رہی تھی۔فضل محمود کو راولپنڈی پہنچنے پر وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی طرف سے ٹیم کو دی جانے والی دعوت کا پتا چلا تو انھوں نے ایس پی پولیس سے درخواست کی کہ انھیں اس دعوت میں شرکت کے لیے ایک ہفتے کی چھٹی دی جائے لیکن ایس پی کا جواب کچھ اس طرح تھا ’یہ صرف ایک ڈنر ہے، آپ اسے بھول جائیں اور اپنی ڈیوٹی پر توجہ دیں۔فضل محمود نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ’میں اس بات پر بہت دلبرداشتہ ہوا اور اپنے ایک فوجی دوست کو پورا واقعہ بتایا جس نے مجھ سے کہا کہ فکر نہ کرو تمہیں ایک گھنٹے کے اندر چھٹی مل جائے گی اور ہوا بھی ایسا ہی کیونکہ ڈی ایس پی نے آ کر مجھے بتایا کہ آپ کی چھٹی کی درخواست منظور ہو گئی ہے۔دراصل فضل محمود کے اس فوجی دوست نے اپنے جس افسر سے بات کی وہ وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری کے قریبی ساتھی تھے، یوں وزیراعظم ہاؤس سے براہ راست فضل محمود کو چھٹی دینے کے احکامات آئے تھے۔

تو آپ کو اجازت مل گئی!

فضل محمود نے کراچی پہنچ کر وزیراعظم کے عشائیے میں شرکت کی جس کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ خواجہ ناظم الدین نے جیسے ہی فضل محمود کو دیکھا وہ فوراً بولے تو آپ کو اجازت مل گئی۔خواجہ ناظم الدین نے اس موقع پر اعلان کیا کہ آئندہ سے جو بھی کھلاڑی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیل رہا ہو گا اسے اس کا ادارہ یا محکمہ قومی ڈیوٹی تصور کرے گا۔

تم نے مجھے پھانسی کے پھندے سے بچا لیا

جب ایم سی سی کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر پہنچی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے کچھ عہدیداران کا خیال تھا کہ فضل محمود انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے اتنے اچھے نہیں ہیں۔ فضل محمود کو سیالکوٹ میں ہونے والے سہ روزہ میچ میں کھلایا گیا جس میں انھوں نے نہ صرف پانچ وکٹیں حاصل کیں بلکہ 42 رنز بھی بنائے۔پاکستان اور ایم سی سی کے درمیان لاہور میں کھیلے گئے پہلے غیر سرکاری ٹیسٹ میں فضل محمود ان فٹ ہونے کی وجہ سے مؤثر بولنگ نہ کر سکے اور ان کے ہاتھ کوئی وکٹ نہ آ سکی۔جب کراچی میں ہونے والے دوسرے غیر سرکاری ٹیسٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان ہوا تو اس میں فضل محمود کا نام شامل نہیں تھا لیکن اسی رات انھیں ایک سلیکٹر ڈاکٹر دلاور حسین کا فون موصول ہوا جن کا کہنا تھا کہ آپ ٹیم میں شامل ہیں۔میچ کے پہلے دن کھانے کے وقفے سے قبل ہی فضل محمود ایم سی سی کی بیٹنگ لائن کو اپنی خطرناک بولنگ سے بکھیر چکے تھے۔ جب وہ پویلین کی طرف جا رہے تھے تو انھوں نے دیکھا کہ ڈاکٹر دلاور حسین سامنے کھڑے ہیں جنھوں نے فضل محمود سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’ ُپتر تم نے مجھے پھانسی کے پھندے سے بچا لیا ہے۔‘فضل محمود نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’میں حیران تھا کہ اس بات کا کیا مطلب ہے؟ پتا چلا کہ دیگر سلیکٹرز مجھے ٹیم میں شامل کرنے کے حق میں نہیں تھے لیکن ڈاکٹر دلاور حسین نے ان سے یہ جھوٹ بول کر مجھے ٹیم میں شامل کیا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ جسٹس کارنیلئس کی ہدایت ہے کہ فضل محمود کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *