مذہبی رہنماؤں کی سیاست

تحریر:  شکیل نواز

پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی اس کی سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کا عمل دخل رہا ہے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  یہ عمل دخل بڑھتا ہی گیا۔ پاکستانی سیاست میں ان غیر سیاسی قوتوں کے کردار کی واضح مثال آپ کوآئی جے آئی اور  اصغر خان کیس کی شکل میں ملتی ہے۔ پاکستان کے تقریبا ًتمام تر سیاستدانوں نے ان غیر سیاسی قوتوں سے مدد لی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں بننے والی تمام تر سیاسی حکومتوں کو ان غیر سیاسی قوتوں کی مدد و تائید حاصل رہی ہےتو غلط نہ ہوگا، قابل شرم بات یہ ہے کہ ہمارے تقریبا ًتمام لیڈران ان غیر سیاسی قوتوں کی آشیر آباد سے ہی سیاست میں آئے ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک ان ستر سالوں میں مخلص قیادت نہیں ملی۔ان سترسالوں  کا زیادہ تر حصہ تو  مارشل لا کی نظر ہو گیا۔  اگر کسی نے مخلصانہ جذبے سے کام کرنا چاہا بھی تو نااہل اور کرپٹ نظام نے انہیں کام نہیں کرنے دیا۔ان غیر سیاسی قوتوں کے حمایت یافتہ سیاستدانوں کی  وجہ سے سیاست زبوں حالی کا شکار تھی اور یہ کفیت آج بھی برقرار ہے۔یہ غیر سیاسی قوتیں مختلف اوقات میں مختلف سیاسی پارٹیوں کو سپورٹ کرتی رہی ہیں۔  اگر برسر اقتدار پارٹی ان کے مفادات کے خلاف  جائے تو یہ اپنا وزن دوسری سیاسی پارٹی کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن اورتحریک  انصاف کے عروج میں بھی انہی قوتوں کا ہاتھ نظر آئے گا۔  حکومتوں کو گرانے اور بنانے میں ان غیر سیاسی قوتوں کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔   تحریک انصاف کے عروج سے پہلے نوجوان پاکستانی سیاست میں دلچسپی نہیں لیتے تھے،تحریک انصاف کے بننے کے چند سالوں بعد نوجوانوں کو عمران خان اور تحریک انصاف کی صورت میں امید کی کرن نظر آنے لگی اور نوجوان عملی سیاست میں بھی آنے لگے۔ ملک کے لئے فکر مند اور ملک کا درد رکھنے والا یہ نوجوان طبقہ تحریک انصاف کی سپورٹ کرنے لگا۔ 2013 کے الیکشن میں اس نومولود سیاسی پارٹی کا دوسرے نمبر پر آنا  نوجوان نسل کی سپورٹ کا واضح ثبوت ہے۔ تحریک انصاف کی کارکردگی اور کرپشن کے خلاف ان کا مؤقف بہت واضح  ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے یہ غیر سیاسی قوتیں  تحریک انصاف کا متبادل تلاش کرتی نظر  آ رہی ہیں ۔  اور اس سلسلے میں دو جماعتوں کو باقاعدہ این اے 120 کے الیکشن میں آزمایا  گیا ہے ان دو جماعتوں میں ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک شامل ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ دو جماعتیں ،جماعت اسلامی جیسی پرانی اور تجربہ کار سیاسی پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ گئیں ہیں۔ ان کو کاسٹ ہونے والے ٹوٹل ووٹ سے ہی آپ کو ان کی بیک سپورٹ کا اندازہ ہوجائے گا۔ ان دونوں جماعتوں کے پاس نہ کوئی منشور ہے اور نہ ہی مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل، تحریک لبیک ممتاز قادری کی شہادت کو کیش کروا کر ووٹ لینا چاہتی ہے اور ملی مسلم لیگ بھارت مخالف ایجنڈا لے کر فائدہ اٹھانا     چاہتی ہے۔

غیر سیاسی قوتیں ان نام نہاد جماعتوں کو سیاسی عمل میں لاکر ایک سنگین غلطی کرنے جارہی ہیں جو کہ ملک کی سلامتی اور یکجہتی کے لیے بہت خطرناک ہوگا۔ ذرا سوچیئے جو مذہبی رہنما اپنے مخالفین کو مذہبی معاملات میں گالم گلوچ کے علاوہ بات ہی نہ کرے اور کسی کے اختلاف رائے کو برداشت ہی نہ کر سکتا ہو ، اُس کی سیاسی بصیرت کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ ایسے لوگوں کو سیاست میں لانا فرقہ واریت کو ہوا دینے کے مترداف ہے۔  اور ملک عزیز اس وقت کسی بھی قسم کے اندرونی خلفشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خاص کر جب بات مذہب کی ہو تو لوگوں کے جذبات کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ تحریک لبیک اقتدار میں آکر کس سے بدلہ لینا چاہتی ہے، حضور اگر آپ نے بدلہ لینا ہے تو  اس کے لیے مناسب فورم عدلیہ ہے وہاں کیس دائر کیجئے اور اگر وہاں آپ کی نہیں سنی جاتی تو دوسرا راستہ  پُرامن احتجاج کا ہے ۔ حضور والاآپ اقتدار میں آ کر بدلہ لینا چاہتے ہیں؟ معاف کیجئے گا پھر آپ کو بدلہ نہیں صرف اقتدار ہی چاہیے۔ آپ رسول اکرمﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے کیا انہوں نے اپنے مخالفیں کو اس لب و لہجے میں جواب دیا؟ لہذا اپنا یہ قصاصی منجن بند کیجئے۔حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ کالعدم تحاریک کی فہرست میں شامل ہونے اور پھر مختلف ناموں سے کام کرنے والی ایک تنظیم سے ملی مسلم لیگ نکالی جارہی ہے۔ اس تنطیم کا نعرہ صرف بھارت اور امریکہ کی تباہی اور بربادی ہے۔ایسی تنظیموں کو سیاست کی اجازت دے کر ہم دنیا پر یہ ثابت کرنا  چاہ رہے ہیں کہ ہم خود ایسی تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں؟  ملی مسلم لیگ سے میں کہنا چاہوں گا کہ مسئلے کا حل اس مسئلے کی وجہ بننے والے کی تباہی و بربادی کبھی نہیں ہو سکتا، ہمیں پہلے اپنا آپ درست کرنا ہوگا۔میرے نزدیک آپ بطور ایک فلاحی ادارہ اچھا کام کر رہے ہیں اس پر آپ قابل تعریف ہیں لیکن اس کے باوجودبھی آپ کی فلاحی تنظیم واچ لسٹ پر ہے۔ مہربانی فرمائیں اپنی فلاحی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ملک کی بدنای کا باعث مت بنیں۔میں ان دونوں پارٹیوں سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ فرقہ وارانہ اور مسلکی اختلافات سائیڈ پر رکھ کر لوگوں کی دینی معاملات میں تعلیم و تربیت کی ناگفتہ بہ حالت پر غور کیجئے۔ ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ہماری اخلاقی و دینی تربیت آپ علما کرام کا فرض ہے۔ آپ اپنا اصل کا م کیجئے فرقہ واریت چھوڑ کر لوگوں کو دین کا علم دین کی روح کے مطابق دیجئے،یہ افضل ترین جہاد ہے۔ یہی کام ہماری آنے والی نسلوں پر احسان ہوگا۔ اسی سے آپ بروز قیامت اللہ تعالیٰ اور رسول اکرمﷺ کے سامنے سرخرو ہوں گے۔آخر میں میری ان غیر سیاسی قوتوں سے گزارش ہے کہ آپ بے شک ان معاملات کو بہتر جانتے ہیں  ،آپ  جانتے ہیں کہ کچھ پالیساں وقتی طور پر  فائدہ مند ہوتی ہیں مگر یہ بعد میں بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں اس کی واضح مثال افغان جہاد کی ہے ۔ افغان جہاد کی پالیسی وقت کے لحاظ سے بہت ضروری تھی مگر بعد میں اس پالیسی کے لحاظ سے پلاننگ نہیں کی گئی یا اس پالیسی کا مناسب خاتمہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہمارے لئے ستر ہزار جانوں اور اربوں ڈالر کے ضیاع کا باعث بنی۔مذہبی رہنماؤں کو سیاسی میدان میں لانے سے فرقہ وارانہ اور مسلکی اختلافات و تعصبات میں خطرناک اضافہ ہوگا، اور یہ امر آنے والے دنوں میں قومی یکجہتی کو شدید خطرات سے دوچار کر دے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *