سقوط ڈھاکہ کا سیاہ ترین دن

تحریر:  زین سہیل وارثی

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
دسمبر کے مہینہ میں عجیب غم کا احساس ہوتا ہے، موسم کی شدت اپنی جگہ پر لیکن ہم پر تو اس مہینہ دو ایسے سانحہ گزرے ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، پہلے سقوط ڈھاکہ اور پھر سانحہ اے پی ایس جو 2014 میں رونما ہوا۔فیض احمد فیض، نصیر ترابی اور حبیب جالب جیسے شعرا نے شاعری کے ذریعے قوم کا درد بانٹا اور سقوط ڈھاکہ کے سانحہ کو بیان کرتے رہے۔ جالب چونکہ عوامی شاعر تھے اس لئے انھوں نے لگی لپٹی بات نہیں کی، کھل کے بات کی اور فرمایا کہ راستہ کٹ رہا ہے اور منزل کھوئی جا رہی ہے اور حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
ان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
(از فیض احمد فیض)
بنگلہ دیش کی جنگ آزادی، جسے بنگالی میں مکتی جدھو اور پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان اس سانحہ کے نتیجہ میں دولخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس جنگ کا باقاعدہ آغاز 26 مارچ 1971ء کو مسلح گوریلوں کے خلاف پاک فوج کے عسکری آپریشن سے ہوا جس میں باغی گروہ اور تربیت یافتہ فوجی جنھیں مجموعی طور پر مکتی باہنی کہا جاتا تھا، کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کیں۔کیونکہ اندرونی طور پر ہم کافی حد تک کمزور تھے، ہمارے ازلی دشمن بھارت نے مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کی جس کا برملا اعتراف حالیہ دنوں میں وزیراعظم نریندر مودی نے کیا ہے، بالآخر 16 دسمبر 1971ء کو بھارت پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ یہ جنگ عظیم دوم کے بعد جنگی قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہتھیار ڈالنے کا سب سے بڑا موقع تھا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے نتیجے میں پاکستان رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز سے بھی محروم ہو گیا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب جاننے کے لیے حمود الرحمٰن کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے کمیشن رپورٹ تیار کی جو سرکاری سطح پر کبھی جاری نہ ہو سکی، نیز جو رپورٹ خفیہ طور پر ذرائع ابلاغ کے ہاتھ میں بھی آئی، اس میں سے بھی کئی اسباب حذف کر دیئے گئے۔قائداعظمؒ کی رحلت کے بعد سیاسی خلا پر نہ ہو سکا، نیز قائد ملت کی شہادت نے اس خلا کو مزید وسعت دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی ادارے مضبوط نہ ہو سکے۔ پہلے اختلاف کی بنیاد اردو زبان کو ترجیح دے کر ڈالی گئی جس کی تپش یا حدت 1952 تک اتنی ہو چکی تھی کہ تمام افراد نے اس آگ میں اپنے ہاتھ گرم کئے۔ جلتی پر تیل کا کام 12 مارچ 1949ء کی قرارداد مقاصد نے کیا جسے اس وقت منظور کروایا گیا جب مشرقی پاکستان کے ممبران، دستور ساز اسمبلی میں کم تعداد میں موجود تھے۔ 1956 کے آئین نے اس آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش کی مگر 1958 میں لگائے گئے مارشل لاء سے یہ امید ختم ہو گئی۔اس زمانے تک فوج میں سینئیر رینک میں صرف دو بنگالی افسر تھے ایک کرنل اور ایک میجر جرنل، لہذا سیاسی شعور رکھنے والے بنگالیوں نے سوچا کہ اقتدار تو کبھی عوام کو منتقل نہیں کیا جائے گا یہ انہی لوگوں کے پاس رہے گا جو طاقت کا سرچشمہ ہیں۔
11 دسمبر 1954ء کو سندھ اسمبلی سے ون یونٹ کی قراداد پاس کروائی گئی، ون یونٹ قائم کرنے کا بنیادی مقصد بھی مشرقی پاکستان کے ووٹوں کے تناسب کو مغربی پاکستان کے برابر لانا تھا، بات یہاں ہی ختم نہ ہوئی، احساس محرومی کو مغربی پاکستان کی نوکر شاہی اور مقتدر قوتوں نے بڑھاوا دینے کے لئے سیاسی کارکنان کا استحصال کیا، کبھی ایبڈو اور پروڈا کے قوانین لا کر سیاسی لوگوں کو نااہل کیا گیا۔ عدلیہ نے نظریہ ضرورت والا کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ مشرقی پاکستان کے ہر ضلع کا ڈی سی اور ایس پی مغربی پاکستان سے جاتا تھا تاکہ رعایا کو سدھایا جا سکے۔مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی صورت میں جو جمہوریت کی شمع روشن ہوئی تو مشرقی پاکستان ان کے ساتھ کھڑا نظر آیا مگر انتخابی نتائج کو بذریعہ سیاسی رشوت تبدیل کر کے ایوب خان کے حق میں کر لیا گیا۔ جو مشرقی پاکستان کی جمہوری قوتوں اور عوام کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، بنگال سے تعلق رکھنے والے سپیکر قومی اسمبلی مولوی تمیزالدین کے ساتھ بھی ہتک آمیز سلوک کے واقعے نے بھی دلوں میں دراڑ ڈال دی۔ اس کے بعد 1965ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان کی عوام نے دیکھا کہ ساری قوت مغربی محاذ کی حفاظت پر مامور ہے، وجہ یہ بتائی کہ مغربی محاذ سے دبائو بڑھا کر مشرقی حصے کا دفاع ہوگا۔ اس حکمت عملی کے سبب بنگالی عدم تحفظ کا شکار ہوئے۔ پھر شیخ مجیب الرحمن کو اگرتلہ سازش کے تحت گرفتار کیا گیا مگر عدلیہ سے فیصلہ نہ لیا گیا۔1969ء میں ایوب خان نے بیماری کے سبب صدارت چھوڑی تو قانون کے مطابق قائم مقام صدر سپیکر قومی اسمبلی کو ہونا چاہیے تھا مگر سپیکر عبدالجبار خان جو بنگالی تھے، کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ اقتدار ایک دوسرے جرنیل کو منتقل کر دیا گیا کیونکہ مقتدر حلقوں کو یہ بات معلوم تھی کہ اگر اختیار بنگالی لوگوں کے حوالے کیا تو یہ تمام بساط سیاسی انداز میں چلانا شروع کر دیں گے۔مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں 95% ہندو اساتذہ تھے جو دو قومی نظریہ کو نیست و نابود کرنے کے لئے برسرپیکار رہے۔ مغربی حصے کی جانب سے روا ناانصافیوں اور بدفعلیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے جس سے نئی نسل کے جذبات بڑھکانے اور طیش دلانے کے کام آتے۔
پٹ سن کی برآمدات کو مالیاتی طور پر نا انصافی کے طور پر پیش کرنا اور کہنا تمام تر ترقیاتی منصوبوں پر کام مغربی پاکستان میں ہوتا ہے۔ دروغ بہ گردن راوی، اسلام آباد جو اس وقت زیر تعمیر تھا، کی سڑکوں سے بنگالیوں کو پٹ سن کی بو آتی تھی۔ مشرقی پاکستان میں زیادہ ترقی اس بنیاد پر بھی نہ کی گئی کہ ہر سال وہاں سمندری طوفان یا سیلاب آ جایا کرتے تھے جس سے ڈویلپمنٹ کا کوئی خاطر خواہ فائدہ بھی نہیں ہوتا تھا۔میڈیا بھی سرکاری گرفت میں تھا جو عوام پر ہونے والی زیادتیوں پر تبصرے سے گریز کرتا۔ ملک مذہب کی بنیاد پر حاصل ہوا مگر مغربی پاکستان کی افسر شاہی بنگالیوں سے ہتک آمیز سلوک کرتی۔ اسلامی رواداری اور بھائی چارہ کسی سطح پر نظر نہ آیا۔انہی رویوں کے خلاف شیخ مجیب نے مشہور زمانہ چھ نکات پیش کئے۔ ان نکات کی بنیاد پر مولانا عبدالحمید بھاشانی بھی 1970ء کے انتخابات سے قبل شیخ مجیب الرحمن کے حق میں بلا مشروط بیٹھ گئے جس نے شیخ مجیب الرحمن کو بنگالی قوم کا واحد لیڈر بنا دیا۔ 1970ء کے عام انتخابات کے نتائج کے مطابق عوامی لیگ نے 300 میں سے 160 نشستوں پر فتح حاصل کی تھی، اصولا اسمبلی کا اجلاس بلا کر انھیں حکومت سازی کا موقع دینا چاہیے تھا کیونکہ 1970ء میں ہونے والے عام انتخابات اور ان کے نتائج کو تمام پارٹیوں نے تسلیم کیا۔ مگر یحیی خان اور بھٹو صاحب کی ہوس اقتدار نے معاملات سلجھنے نہ دیئے بلکہ ان کو بڑھاوا دیا۔ بھٹوصاحب کا رویہ بڑا جارحانہ تھا وہ حصول اقتدارکے لئے بیتاب و بے قرار تھے۔ آج کا پاکستانی پوچھتا ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں اپنے امیدوار کھڑے کیوں نہیں کئے ۔”جو مشرقی پاکستان جائے گا یک طرفہ ٹکٹ لیکر جائے”، “اپوزیشن میں نہیں بیٹھوں گا”، “دونوں حصوں کے لئے علیحدہ آئین بنا لیں”، ” میرے ہاتھ میں سندھ اور پنجاب کی چابیاں ہیں، ان کے بغیر کوئی اقتدار نہیں حاصل کر سکتا” وغیرہ وغیرہ جیسے بیانات کیوں دئیے گئے۔شیخ مجیب کی اکثریتی پارٹی کو اقتدار کیوں نہیں سونپا گیا، قائد عوام بھٹوصاحب نے نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ بن کر پولینڈ والی قرارداد میں سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر کیوں نہ رکھا، کیوں نہیں اس قرارداد کو قبول کیا جس میں جنگ بندی کے امکانات تھے۔ جب بھی مشرقی پاکستان کا ذکر ہوگا یہ سوال قائد عوام اور پیپلز پارٹی کا پیچھا کریں گے؟
مشرقی پاکستان جو سیاسی طور پر مغربی پاکستان سے پختہ ذہن کا مالک تھا، جس نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی، اس کی بیشتر قیادت متوسط طبقہ پر مشتمل تھی اور زیادہ تر کا رحجان سرخ انقلاب کی جانب تھا۔ جب کہ مغربی پاکستان میں تو وڈیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ جو خوفزدہ تھے، مقتدر قوتوں کی طرح کہ دونوں بازو یکجا ہو رہے تو شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار ملے گا اور وہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کر دے گا اور غریب حساب مانگے گا، اس اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لئے جو مقتدر قوتوں اور جاگیرداروں نے مل کر بنائی تھی، اس کی بقا کی خاطر ملک قربان کر دیا اور تقسیم کر دیا۔لوگ کہتے ہیں مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو اس سانحہ کے ذمہ دار ہیں لوگ یحیی خان کو بھول جاتے ہیں، جو نا صرف فوج کے سربراہ تھے بلکہ صدر مملکت بھی تھے اور ان دونوں سے زیادہ طاقتور تھے۔شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی جس کو اقتدار منتقل نہ ہوسکا۔ اس کا سبب بے اعتمادی ، نااتفاقی اور جمہوریت کش پالیسی کے سبب تھا لہذا قیادت کی ناکامی بین الاقوامی سازش بھارتی جارحیت اور مشرقی پاکستان کے باسیوں کی محرومی نے مملکت خداداد کو دو لخت کر ڈالا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان 16 دسمبر 1971ء کو آدھا رہ گیا۔سقوط ڈھاکہ کا المیہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ جب آپ اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہوں، اور معاشی طور پر کمزور ہوں، نیز ملک میں سیاسی استحکام نا ہو تو دشمن فائدہ بھی اٹھائے گا اور آپ کی قلعہ کی طرح کی دیواروں پر بھی لوگ نقب لگا لیں گے اور بالآخر آپ کا گھر مٹی کا گھروندا ثابت ہو گا، حقوق و فرائض بانٹنے سے ملک مضبوط ہوتے ہیں کمزور نہیں، نیز ملک دستور اور عوامی حق رائے دہی پر چلتے ہیں نا کہ ذاتی خواہشات پر معاملات کو چلایا جا سکتا ہے۔
نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *