بے رحم سیاست

تحریر:  عبدالکریم

اقتدار ایک ایسا نشہ ہے جس کو پانے کے لیے انسان کیا سے کیا ہو جاتا ہے، اس کو پورا کرنے کے لیے اندھا، بہرا، پاگل، حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ یہی ہمارے سیاستدانوں کا حال ہے جو ہر وقت اقتدار کےحصول کے چکر میں رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں جیسے تیسے ان کو اقتدار ہی میں رہنا ہے۔ یہ انسان کی خصلت ہے کہ اس کو اقتدار میں رہنا پسند ہے۔ ہمارے ملک کی جتنی سیاسی پارٹیاں ہیں ان کو ہر وقت حکومت میں ہی رہنا اچھا لگتا ہے۔ جیسے ہی یہ لوگ حکومت سے اترتے ہیں یا اتارے جاتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ ہم سے اچھی حکومت اس ملک میں کوئی چلا ہی نہیں سکتا۔ ہر سیاسی پارٹی جب اقتدار میں ہوتی ہے وہ یہی سمجھ رہی ہوتی ہے کہ صرف یہی پارٹی عوام کی خدمت کر رہی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔پاکستان میں سیاسی پارٹیاں ایک ذات کے گرد گھومتی ہیں، ہر سیاسی پارٹی کا ایک گاڈ فادر ہے۔ پوری سیاسی پارٹی اس گاڈ فادر کو پروٹیکٹ کرتی ہے۔ اس کے اچھے برے فیصلوں کے آگے سرخم تسلیم رہتا ہے۔ اس پارٹی کے گاڈ فادر کا جو بھی بیانیہ ہو اس کو سارے لوگ لے کر چلتے ہیں۔ یہ سیاسی لوگ اس سیاسی گاڈ فادر کی اندھی تقلید کرتےہیں۔ اس کے لیے مر مٹنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان سیاسی پارٹیوں کے منشور میں آپ کو صرف کاغذی طور پر عوام کی محبت نظر آئے گی۔ ویسے ان سیاسی پارٹیوں کے نزدیک عوام ایک ٹشو پیپر ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے نزدیک عوام کی کوئی حیثیت نہیں۔ہر سیاسی پارٹی انتخابات سے پہلے عوام کو سبزباغ دکھاتی ہے اور جب ووٹ لے کر یہ پارٹیاں حکومت بناتی ہیں تو عوام کوبھول جاتی ہیں۔ اسی طرح سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے لوگوں کو سبز باغ دکھائے، لوگوں نےان کی بھی اندھی تقلید کی، ان کو ووٹ دیا، اقتدار میں لائے لیکن عوام اب بھی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ مہنگائی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ عوام کو گدھوں کی طرح نوچا جا رہا ہے۔ کوئی ایک چیز ایسی نہیں کہ حکومت کے کنٹرول میں ہو۔ گندم مافیا ،چینی مافیا، ادویات مافیا، آٹا مافیا، تیل مافیا، گیس مافیا، تاجر مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا، ایسالگتا ہے یہ ملک نہیں، گینگسٹرز کا اڈا ہے۔ جو بھی جو مرضی چاہے کر رہا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی۔ ایسا نہیں کہ یہ سارا قصور موجودہ حکومت کا ہے، مافیاز کوئی ایک دن میں نہیں بنتے۔ سالوں لگتے ہیں۔ مافیاز بننے میں موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ پچھلی حکومتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔ ہر حکومت نے ان مافیاز کو بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ مافیاز میں کون لوگ ہوتے ہیں؟ یہ وہی لوگ ہوتے جو مالدار ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی ملوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ارب پتی لوگ ہوتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہوتےہیں جو ہمارے ملک میں الیکشن لڑتے ہیں۔ حکومتیں بناتے اور توڑتے ہیں۔ کون ہے جو ان کو نہیں جانتا مگر یہ لوگ اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ ہر حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔یہ ہر حکومت کی مجبوری ہوتے ہیں، اس لئے آپ ان کو پولیٹیکل مافیا بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ملک کے سرمایہ دار لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس بہت پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے، یہ پیسے سے ووٹ کو خریدتے ہیں اور پیسے سے ووٹ کو عزت دیتے ہیں۔ آپ ان لوگوں کو الیکٹیبل بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی الیکٹیبل ہر پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے چاہیے ہوتے ہیں۔ حکومتوں میں ان الیکٹیبل کا بڑا اہم رول ہوتا ہے۔ آسان زبان میں آپ ان کو آزاد امیدوار بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس مافیا کی تازہ ترین مثال آپ گلگت بلتستان کے الیکشن میں دیکھ لیں جس میں موجودہ حکومت کی اپنی سادہ اکثریت بھی نہیں تھی لیکن پھر اس حکومت نے آزاد امیدواروں کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے سادہ اکثریت لی ہے۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں پاکستان میں ہونے والےہر الیکشن میں ان آزاد امیدواروں کی بہت اہمیت ہوتی ہے کیونکہ یہ کاروباری اور پیسے والے لوگ ہوتےہیں۔ یہ پیسے سے الیکشن جیت کر آتے ہیں، پھر یہ حکومت کی مجبوری بن جاتے ہیں۔ یہ اگر حکومت سے کوئی عہدہ نہ بھی لیں تو ان کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ ہر حکومت سے اپنے کاروبار کے لیے فائدہ لے لیتے ہیں۔پی ڈی ایم بھی ایک ایسا ٹولہ ہے جس کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے، یہ ٹولہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس ٹولے کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ اب ملک میں کورونا کی دوسری لہر عروج پر ہے۔ عام آدمی ایک تو مہنگائی اور بھوک سے مر رہا ہے لیکن پی ڈی ایم کا ٹولہ عوام کو کورونا سے بھی مارنا چاہتاہے۔ ان کو عوام کی کوئی فکر نہیں، ان کے لیے عمران خان کی حکومت کو گرانا اہم ہے۔ بغض عمران میں اتنے آگے جاچکے ہیں یہ چاہتے ہیں عوام ان کی وجہ سے کورونا کا ہی شکار کیوں نہ ہو، یہ ہر صورت میں جلسوں کے ذریعے موجودہ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس ٹولے کو کون سمجھائے کہ پاکستان میں کبھی بھی حکومتیں جلسے جلوسوں سے نہیں جاتی ہیں۔ حکومت کہہ رہی ہے جو کہ بالکل درست بات ہے کہ پی ڈی ایم کےجلسوں سے کورونا بہت پھیلے گا لیکن اپوزیشن بغض عمران میں اس حقیقت کو نظر انداز کر رہی ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان عام شخص کا ہو گا۔ چاہے وہ اموات کی صورت میں چاہے وہ لاک ڈاؤن ہو، اگر اموات ہونگی تو زیادہ تر غریب آدمی مریں گے اور اگر لاک ڈاؤن ہوگا تو بھی غریب کا ہی نقصان ہے جس سے کاروبار بند ہونگے۔ غریب آدمی بھوک سے مرے گا۔اپوزیش کی منطق بڑی عجیب ہے، وہ سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت کورونا سے بڑا خطرہ ہے، اگر یہ حکومت رہتی ہے لوگ کورونا کی بجائے حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے زیادہ مریں گے۔ اپوزیشن کے نزدیک ایک عام آدمی کی موت سے زیادہ اہم اس حکومت کا خاتمہ ہے جو کہ اپوزیشن کا جہالت پر مبنی مفروضہ ہے۔ عوام اس اپوزیشن کو بھی دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح عوام کی خدمت کر رہے ہیں، عوام دیکھ رہے ہیں اپوزیشن لاشوں کی سیاست چاہتی ہے حالانکہ کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ یہ حکومت نواز شریف صاحب کی والدہ کی موت پر سیاست کر رہی ہے، مریم نواز شریف نے اپنی دادی کی موت پر ایک سیاسی جلسے میں سیاسی بیان دیا کہ اس حکومت نے مجھے میری دادی کی وفات کا نہیں بتایا اور میں اپنے والد کو کہتی ہوں یہ ظالم لوگ ہیں۔ آپ اپنی والدہ کی میت کے ساتھ ملک میں واپس نہ آئیں، اس کے بعد حکومتی ترجمانوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نواز شریف کی والدہ شریف فیملی کے لیے سب سے بڑا نقصان ہیں۔ نوازشریف کی والدہ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ایک پل تھیں، دونوں بھائیوں میں جتنے سیاسی اختلافات ہوتے تھے، ان کے حل میں ان کی والدہ کا ہمیشہ بہت کردار رہا ہے۔شہباز شریف صاحب کہہ رہے ہیں قومی مکالمہ یعنی بات چیت ہونی چاہئے، انتقام کی سیاست کو ختم ہونا چاہیے، حکومت نے گالم گلوچ سے سیاست کو گالی بنا دیا ہے۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ معاملات بات چیت سے ہی حل ہونے چاہییں۔ اپوزیشن اور حکومت جمہوریت کا حسن ہے۔ اپوزیشن کو چاہیے حکومت سے براہ راست بات کرے اور حکومت کو بھی اپوزیشن کی طاقت کو ماننا چاہیے اور سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہمیشہ اختلافات کا حل بات چیت ہی ہوتا ہے اور بات چیت کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کو تسلیم کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *