اسرائیل کوتسلیم کرنے کا مشورہ : مجاہدِ اوّل وخلفِ آں سے مولانا شیرانی تک

تحریر: طارق احمد مرزا اسٹریلیا

ابھی متعددعرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو باضابطہ طورپر تسلیم کرنے کی خبریں سننے کے پے در پے”صدمات” کا سلسلہ کم نہ ہوا تھا کہ پاکستانی وزیرخارجہ محترم شاہ محمود قریشی صاحب کا عرب امارات کی طرف سے حاضری کا حکمنامہ موصول ہوا،دل دھڑک اٹھے کہ واپسی پر شاہ صاحب پاکستان کی طرف سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ صادر فرمانے سے پہلے پاکستانی عوام کو اعتماد میں لینے کا کوئی بیان جاری فرمائیں گے (اصل “امہ” تو اسرائیل کو تسلیم کر ہی چکی) لیکن انہوں نے یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ وہ امارات کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق ڈھالنے کی وجہ جاننے اور سمجھنے کے لئے وہاں تشریف لے گئے تھے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اندر ہی اندر “دوسری” یا “اصل” بات کے لئے راہ ہموار کرنے کا مذہبی اور شرعی فریضہ بزرگ مذہبی شخصیت حضرت مولانا محمد خان شیرانی صاحب سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کو سونپ دیا گیا تھا۔چنانچہ ایک حالیہ مجلس سوال وجواب میں باقاعدہ کسی صاحب کی طرف سے یہ سوال پوچھا(یا پچھوایا) گیا کہ آج کل اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارہ میں باتیں چل رہی ہیں، توکیا فرماتے ہیں آپ حضوربیچ اس مسئلہ کے۔سوال سن کر نہ آپ کے چہرہ مبارک پہ غیض وغضب کے تاثرات نمودار ہوئے،نہ جوش جہاد سے آپ کا چہرہ سرخ ہوااور نہ ہی آپ نے  سوال کنندہ کویہود اور اسرائیل کا ایجنٹ  ،یا “قادیانی” قرار دیتے ہوئے اپنے معتقدین کو اپنی ابرومبارک کی جنبش سے اس شخص کو اٹھاکر مجلس سے باہر پھنکوا دینے کا اشارہ دیا۔اس کے برعکس باکل “نارمل “رہتے ہوئے اورکامل متانت و سنجیدگی کے ساتھ جو جواب آپ نےارشاد فرامایا ،معلوم ہوتا ہے کہ سوال کی طرح جواب بھی پہلے سے خوب اچھی طرح سے تیار کیا ہوا تھا۔یہ کوئی بدظنی نہیں بلکہ جناب کا لب و لہجہ اور “ٹون” اس کی پوری غمازی کررہی تھی۔ویسے بھی آپ موصوف اس پایہ کے عالم ہیں  اور عمر کے اس حصہ میں ہیں جہاں کسی سوال کا جواب دینے کے لئے کوئی تیاری کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی،ہاں ” ٹائمنگ ” کی منصوبہ بندی کی ضرورت ضرور پیش آسکتی ہے۔احقرکے نزدیک آپ کے جواب کے دوبنیادی نکات تھے۔ایک کا تعلق عالمی سیاست اور تزویراتی حکمت عملی سے تھا اور دوسرے کا تعلق فقہی،اسلامی یاشرعی لحاظ سے تھا۔اول الذکر کے حوالے سے تو آپ نے یہ فرمایا کہ اس وقت کی عالمی اوربین الاقوامی صورتحال جو چل رہی ہے ،اسرائیل کے وجود کو اس کا رسمی حق عطاکرنا،یعنی اسے تسلیم کرلینا ان کے نزدیک ضروری ہو چکا ہے۔،کیونکہ یہ معاملہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اسے اسی طرح سے لینا چاہیئے۔

اسلامی و قرآنی نکتہ نظر سے اگربات کی جائے تو اس حوالہ سے مولانا صاحب موصوف نے سورۃ المائدہ کی مندرجہ ذیل آیت بطور حوالہ و دلیل پیش فرمائی:

يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ

سورہ مائدہ کی اس آیت میں یہ ذکر کیا گیا ہے ( جو بعض تراجم کے لحاظ سے 21ویں اور بعض کے مطابق 22ویں ہے) کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حکم پاکر بنی اسرائیل سے یہ کہا کہ اے میری قوم “ارض مقدس” میں داخل ہو جاؤ جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دیا ہے۔مولانا شیرانی صاحب نے زیرلب مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مولویوں کو چاہیئے کہ ذرا کتب اللہ کے الفاظ پر غورکریں کہ اس کے کیا معنی ہیں ؟۔

آپ نے فرمایا کہ باقی سب بحثیں “فالتو” ہیں،ان کی ضرورت نہیں۔

مراد یہ تھی کہ ارض مقدس کو تو خود اللہ تعالیٰ کی طرف قوم یہود کے نام کردیا گیا ہے ہم کون ہوتے ہیں ان کا یہ حق نہ تسلیم کرنے والے۔مولانا صاحب کی یہ مجلس سوال پشتو زبان میں تھی ، اس کے مذکورہ حصہ کے تراجم ملکی وغیر ملکی(بشمول اسرائیلی) اخبارات نیز سوشل میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہو چکے ہیں۔

قارئین کرام مولانا شیرانی صاحب کے ان بظاہر قوی دلائل کو سن کر مجھے نجانے کیوں مجاہد اول صاحبزادہ عبدالقیوم خان صاحب مرحوم سابق صدر آزاد کشمیر کی یادآگئی۔آپ ہمیشہ اس خیال کے حامی رہے اور ببانگ دہل یہ مطالبہ بھی کرتے رہے کہ پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو باضابطہ طورپر تسلیم کرلینا چاہیئے۔آپ کے صاحبزادہ محترم سردار محمد عتیق خان صاحب بھی جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں اسی نظریہ کی ترویج کرتے رہے اور اپنے ایک شائع شدہ انٹرویو کے مطابق اب بھی اسی خیال کے حامی ہیں،تاہم فی الحال اس حساس نوعیت کے مطالبہ کا اعادہ کرنے کی “ٹائمنگ” کا مسئلہ پیش آیا ہوا ہے۔مجاہد اول محترم سردار عبدالقیوم صاحب کے بارہ میں اکثر یہ سننے میں آتا تھا کہ آپ نے خفیہ طورپر اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا جس کی آپ ہمیشہ نفی کرتے رہے۔تاہم اسکے باوجود وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بیان پر تادم حیات قائم رہے تھے۔آپ کا اس بارہ میں نقطہ نظر کیا تھا،اس کا ذکر کرتے ہوئے محمد عبدالمتین خان زاہد (المعروف ابوعمارزاہدالراشدی) صاحب تحریر فرماتے ہیں:

محترم سردار عبد القیوم خان کی اس وضاحت سے مجھے اتفاق ہے کہ وہ یقیناً اسرائیل نہیں گئے ہوں گے، اس لیے کہ ان جیسا جہاندیدہ اور تجربہ کار بزرگ کسی طرح بھی ایسے رسک کا متحمل نہیں ہو سکتا، البتہ سردار صاحب محترم نے اس وضاحت کے ساتھ اسرائیل کو ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم کر لینے کا جو مشورہ دیا ہے اس سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔ سردار محمد عبد القیوم خان صاحب کا ارشاد ہے کہ

  1. بھارت کے ساتھ حالت جنگ کے باوجود سفارتی تعلقات قائم ہیں تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کیا حرج ہے؟
  2. دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اسرائیل ایک حقیقت ہے اس لیے اسے تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
  3. اس حوالے سے ان کا تیسرا ارشاد یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔

http://zahidrashdi.org/821

جہاں تک مجاہد اول کے صاحبزادہ سردار عتیق احمد خان صآحب کا تعلق ہے تو ان کے بارہ میں معروف کالم نگار سحر صدیقی صاحب لکھتے ہیں :

ایک زمانے میں آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق احمد خان نے پشاور بار ایسویسی ایشن سے خطاب کے دوران اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے آواز بلند کی تھی۔ موصوف نے اس حوالے سے دلائل دئیے ان کا خلاصہ تھا کہ قیام پاکستان کے وقت بھارت میں ہزاروں مسلمانوں کو تہ تیغ جبکہ عورتوں کو اغوا اور بے آبرو کیا گیا، اب تک اس کے ساتھ ہمارے چار بڑے عسکری تصادم ہوچکے ہیں، نئی دہلی نے ہمارے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کردیا، وہ ہمارے کشمیر پر بھی قابض ہے، بھارت اور پاکستان کی روایتی دشمنی سے ساری دنیا واقف ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان نے بھارت کو تسلیم کررکھا ہے اور اس کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل نے پاکستان کے ساتھ مذکورہ زیادتیوں میں سے کسی ایک زیادتی کا ارتکاب نہیں کیا لیکن ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے نتیجہ میں ہمارا رابطہ کسی سطح پر اس اسرائیلی اور یہودی لابی کے ساتھ نہیں ہے جو حقیقی معنوں میں اور عملی طور پر بین الاقوامی سیاست، معیشت، میڈیا اور سفارت کاری پر اپنا نتیجہ خیز اثرور سوخ رکھتی ہے۔

بحوالہ:

https://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2015/12/08

یہ جو سردار عبدالقیوم صاحب کے کسی مبینہ دورہ اسرائیل کا تعلق ہے،قیام اسرائیل کے بعد انہوں نے وہاں کا دورہ کیا تھا یا نہیں یہ حقیقت تو ہمیں نہیں معلوم،آگر آپ اس سے انکار کر تے رہے تو پھر ان پر اعتبار نہ کرنے کا کوئی جواز تو نہیں بنتا۔ لیکن یہ حقیقت تو بہرحال ناقابل تردید ہے کہ اسرائیل کو انہوں نے عین اپنی آنکھوں تلے بنتے ضرور دیکھا تھا۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب ارض فلسطین برٹش مینڈیٹ کی عملداری میں تھی اور صیہونی مملکت اسرائیل کی داغ بیل ڈالی جارہی تھی۔سردار صاحب موصوف بھی برٹش آرمی میں ملازم تھے اوران دنوں ارض فلسطین میں ان کی پوسٹنگ تھی۔اس وقت کے حالات میں یہودی آبادکاروں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی آنکھوں دیکھا حال آپ نے  دسمبر 1973 میں چنیوٹ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حسب ذیل الفاظ میں بیان فرمایا:

میں نے دیکھا کہ انہوں (یہودیوں) نے کس طرح اپنی بچیوں کو وقف کررکھاتھا۔1950سے پہلے وہاں (فلسطین میں) مجھے رہنے کا موقعہ ملاتھاکہ کس طرح وہ اپنی خوبصورت اورنوجوان بچیوں کو وقف کررہے تھے تاکہ وہ عرب لڑکوں کے پیچھے پھریں اور ان کو آوارہ کریں اور پھر ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیں اور یہ فلسطین جس کا جھگڑاآپ کررہے ہیں، یعنی ایک تو وہ فلسطین ہے جو پہلے یہودیوں کے پاس تھا،میں اس کی بات کررہا ہوں۔یہ تو بعد میں انہوں نے حملے وغیرہ کرکے کچھ اورعلاقہ لیا ہے ۔تو پہلے یہودیوں نے وہ خریدا تھا،اسی طریقہ سے، اور میرے سامنے انہوں نے خریداہے۔اور خریدا اس طرح کہ عرب لڑکے پیچھے اپنی بیٹی لگادی،اس نے عیاشی کرکے باپ کی دولت لٹا دی اور اسی یہودی کا پھر مقروض ہوگیا جس نے بعد میں وہ باغ خرید لیا،یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔   (ہفت روزہ لولاک 26 فروری 1974)

قارئین کرام شاید آپ میں سے کسی کے ذہن میں یہ سوال جنم لے کہ یہ سب کچھ اس مجاہد اول کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا لیکن آپ نے نہ کسی فلسطینی نوجوان کو یہودیوں کی ان چالوں سے ہوشیاررہنے کی نصیحت کی،نہ ہی اس کے باپ کو متنبہ کیا کہ تمہارا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے ایک یہودی حسینہ کے جھانسے میں آکر تمہاری عمر بھر کی پونجی لٹا رہا ہے اور نتیجہ کیا نکلے گا،تم اپنے خاندان سمیت اپنی آبائی زمین سے بے دخل کردیئے جاؤ گے اوریہودی آبادکاروں کو ان کی ارض موعود کا ایک اور ٹکڑا ہاتھ آجائے گا۔لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا،نہ ہی مسلم امہ کو اس بارہ میں کوئی کتاب لکھ کر یا بیان جاری کرکے خبردار کیا۔اس کا واحد سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ مولانا شیرانی صاحب کی طرح “كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ” کے معنی سے خوب آگاہ تھے!۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *