میر گل خان نصیر مصور بلوچستان

        

تحریر:عابد میر

پابلو نرودا نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف Memoirs میں ایک جگہ لکھا ہے:

Anyone who has not been in the Chilea’s forest does not know this planet.

یعنی جو شخص چلی کے جنگلات میں نہیں رہا، وہ اس کرۂِ ارض کو نہیں جان سکتا۔ بعینہٖ یہی بات بلوچستان کے معاملے میں کہی جا سکتی ہے کہ جو بلوچستان کے پہاڑوں، صحراؤں اور میدانوں میں نہیں رہا، وہ اس سیارے سے واقف نہیں ہو سکتا۔لیکن وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ نے گل خان نصیر کی شاعری پڑھ لی (اور محسوس کر کے پڑھی) تو سمجھیں آپ نے آدھا بلوچستان جان لیا۔ آدھا اس لیے کہ محبت کا بیاں خواہ کتنا ہی حسیں کیوں نہ ہو، اس میں محبت کرنے جیسا لطف نہیں ہو سکتا۔سو، بلوچستان کو مکمل جاننے کے لیے تو وہاں ہونا ضروری ہے، اور اگر وہاں تک رسائی نہیں، تو گل خان کا کلام ہے نا۔ ایک مکمل ٹُورِسٹ گائیڈ!

میر گل خان نصیر بلوچستان کے سماجی حقیقت حقیقت نگار تو ہیں ہی، ساتھ ہی انھوں نے اپنی شاعری میں بلوچستان کی خوب صورت نقش کاری بھی کی ہے۔ کبھی وہ دریائے جیونی کے کنارے بیٹھے آنسو بہا رہے ہوتے ہیں، تو کبھی بولان سے گزرتے ہوئے لاری میں بیٹھے بیٹھے اس منظر کو الفاظ میں قید کر لیتے ہیں، تو کبھی اس دیس کے مختلف مناظر کو میرا دیس پیارا کے عنوان سے تفصیلاً قلم بند کرتے ہیں۔گل خان نصیر کی یہ لفظی نقش کاری ذرا رک کر، ٹھہر کر، ذرا سی توجُّہ بھرے مطالِعہ کا تقاضا کرتی ہے۔ اصل میں بلوچستان ہر معاملے میں سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ یہاں آپ کہیں بھی سرسری نہیں گزر سکتے۔ اس کے تو دشوار گزار راستے، استاد ڈرائیوروں سے بھی مشاقی مانگتے ہیں۔

کہتے ہیں ٹرک ڈرائیور کو جب اپنے اسسٹنٹ کو ڈرائیونگ کی فائنل کلاس دینی ہو تو بَہ بطورِ امتحان وہ اسے بولان کی پُر پیچ پہاڑیوں میں لے آتا ہے۔کسی سرکاری اہل کار کا امتحان مقصود ہو تو اسے سوئی یا کوہلو کے کالا پانی میں بھیج دیا جاتا ہے؛ یعنی یہ سر زمین سہل پسندی کو گوارا نہیں کرتی، یہ ہر معاملے میں perfection مانگتی ہے۔حسن سے لے کر فن تک، محبت سے لے کر سیاست تک، اگر آپ بلوچستان میں ہیں، تو آپ کو سنجیدہ ہونا ہو گا، بھاری پن چاہیے ہو گا، اعلیٰ ظرفی چاہیے ہو گی۔یوں تو بلوچستان گل خان نصیر کی شاعری کے مرکزی موضوعات میں سے ہے، بَلکہ موضوع کوئی بھی ہو، بلوچستان اس کا complimentary حصہ ہوتا ہے۔ یہی شاعر کا اول و آخر ہے۔ یہی اس کی حمد و نعت ہے۔ یہی اس کا بسم اللہ ہے۔ البتہ ان کے اردو مطبوعہ کلام میں دو تین نظمیں ایسی ہیں جنھیں بلوچستان کا شعری پورٹریٹ کہا جا سکتا ہے۔ اس مضمون میں ہمارا مطالِعہ انھی نظموں سے متعلق ہے۔پہلی نظم بولان کے عنوان سے لکھی گئی ہے۔ جس کی ذیلی سرخی میں گل خان نصیر نے اس کا سببِ ورُدو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

مورخہ ١٥ مارچ سِنہ ١٩٤٨ کو بولان سے گزرتے وقت لاری میں لکھے گئے۔ (۱)

نیز اس کے آخر میں نا تمام بھی لکھا ہے، حالاں کہ اپنے موضوع اور تأثر کے لحاظ سے یہ ایک مکمل نظم ہے۔ممکن ہے شاعر کے ذہن میں اس کی وسعت سے متعلق کوئی خیال موجود ہے، جسے وہ مذکورہ نظم کا حصہ بنانا چاہتا ہو، لیکن آگے اس کا کوئی تذکرہ نہیں آیا۔

آئیے پہلے نظم کی قرأت کرتے ہیں:

خشک و بے مہر چٹانوں کا تراشیدہ حصار

تپشِ مہر سے جھلسی ہوئی سنگین دیوار

جھریاں چہرۂِ پر ہول پہ ادواروں کی

گھاؤ رِستے ہوئے، شمشیر سے قہاروں کی

پیرِ فرتوتِ کہن سالہِ زابل کی طرح

بُھنویں سکڑی ہوئی ابھرے ہوئے ماتھے پہ تناؤ

جیسے کوہ زاد سے رستم کے بگڑ جانے پر

اس نے زابل کے بلوچوں پہ نظر ڈالی تھی!

اس طرح آج بھی بولان کی گھاٹی ہر دم

اُسی مشتاق مگر تُند نظر سے ہم کو دیکھتی ہے!

کسی کوہ زاد سے ٹکرانے کو

یہ پوری نظم منظر کشی کا شاہکار ہے۔ اس کے اوّلین مصرعے ہی ہمیں بلوچستان کے لینڈ اسکیپ کا بھر پُور عکس دکھاتے ہیں:

خشک و بے مہر چٹانوں کا تراشیدہ حصار

تپشِ مہر سے جھلسی ہوئی سنگین دیوار

آپ نے کبھی بولان کا سفر کیا ہو تو یہ لینڈ اسکیپ آپ کے لیے ہر گز اجنبی نہ ہو گا، اور اگر کبھی یہ سفر کرنے کی تمنا ہے تو پھر یہ آپ کے لیے زبردست متخیلہ، imagination کا باعث بنے گا۔دوسری جانب شاعرانہ خیال ملاحظہ ہو: چٹانیں تراشیدہ ہیں، گویا کسی نے تراش کر وہاں رکھی ہوں۔ لیکن شاعر چٹانوں کے اس حصار کو خشک و بے مہر قرار دیتا ہے۔ محض چٹانوں کا ذکر ہو تو اس سے بلوچستان کا لینڈ اسکیپ ذہن میں نہیں ہوتا، لیکن اگر خشک و بے مہر چٹانوں کی تشبیہ استعمال ہو تو واضح ہے کہ بلوچستان کے پہاڑوں کا ذکر ہو رہا ہے۔اگلے مصرعے میں پھر شاعر سنگین دیوار کو مہر (آفتاب) کی تپش سے جھلسا ہوا ظاہر کرتا ہے۔یعنی پہاڑ خود تو بے مہر ہیں لیکن یہاں آفتاب کی ایسی گرمی پڑی ہے کہ سنگین دیواریں اس سے جھلسی ہوئی ہیں۔ یہ خیال بلوچستان کے طبعی ماحول سے بھی رُو شناس کراتا ہے۔

اب منظر کشی سے جُزئیات نگاری کا شاہکار دیکھیے:

جھریاں چہرۂِ پُر ہول پہ ادواروں کی

گھاؤ رِستے ہوئے، شمشیر سے قہاروں کی

کبھی چٹانوں کے چہرے پہ جھریاں دیکھی ہیں آپ نے؟ یہی تو کمال ہے شاعر کا! یہ آپ کو ان جزئیات سے آگاہ کراتا ہے، جن کی جانب کبھی آپ کی توجُّہ ہی نہیں گئی ہوتی۔

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *