کہوٹہ ۔۔ قلبِ پوٹھوہار

تحریر:   حبیب گوہر

اغیار کہتے ہیں کہ کہوٹہ پتھریلا، بے ترتیب اور پسماندہ ہے۔احباب بتاتے ہیں کہ کہوٹہ کہوٹہ ہے۔۔۔ اس کا نہ کوئی مقابل ہے نہ ثانی ۔۔۔ یہاں قدرتی حسن کے لنگر جاری ہیں، ہر طرف چین کی بانسریاں بج رہی ہیں اور خوشحالی کے ٹرک چل رہے ہیں۔

کہوٹہ چوکوں سے مرکب ہے۔چوک پنڈوری المعروف بہ چوکاں ، کلر چوک ، تحصیل چوک ، مٹور چوک ، سبزواری چوک ، پنجاڑ چوک اور پرفیوم چوک۔ یہاں کوئی پنج سڑکی تو نہیں لیکن پانچ راستے ضرور نکلتے ہیں۔۔۔ پنڈی، کلر، کوٹلی، راولاکوٹ اور کوٹلی ستیاں۔

کہوٹہ کے موسم کی کیا بات ہے یہاں نہ مری کی سردی ہے نہ لاہور کی گرمی۔۔۔۔نہ برف باری کی مصیبت ہے نہ لو کی اذیت۔ موسم کی بے اعتباری نے ہی اسے اعتبار بخشا ہے۔۔۔

کہوٹہ کی مٹی میں محبت گندھی ہوئی ہے۔۔۔ یہ آنے والوں کے پاؤں پکڑ لیتی ہے۔۔۔مجال نہیں کوئی لوٹ سکے۔۔۔ چنانچہ سندھ کے سومرو اور بلوچستان کے ہزارہ تک یہاں گلگشت کرتے اور کلیلیں بھرتے نظر آتے ہیں۔اگر نالہ نما سواں کے دھانے دنیا کی قدیم ترین تہذیب پروان چڑھ سکتی ہے تو لنگ کے پوتر دہانے اس اعزاز سے کیوں محروم رہیں۔۔۔! چنانچہ لنگ کے اُس پار نئی دنیا بسا دی گئی ہے ۔۔۔ جسے دیکھ کر حسن صباح کی ارم یاد آتی ہے۔لوگ قدیر خان صاحب کا تعلق بھوپال اور کراچی سے بتاتے ہیں لیکن ان کی زندگی یہاں گزری۔ یہیں ان کے نام پربازار،لائبریری اور کلب ہے۔ ظالموں نے انہیں نظر بند کر دیا ورنہ اب تک قدیر سٹیڈیم، قدیر ہسپتال، قدیر یونیورسٹی چل چکی ہوتی۔کہوٹہ منفرد اعزازات کا حامل ہے۔ دشمنوں کے لیے خطرے کی علامت نمبر ایک ہے۔اس کے ہر ٹیلے پر گنیں اور رڈار نصب ہیں۔ اس کی فضائی حدود سے ہوائی جہاز نہیں گزر سکتا۔کہوٹہ کی برآمدات کے ملک پر اثرات سب سے زیادہ ہیں لیکن ہماری سنگل پسلی تفصیلات کی متحمل نہیں ہے۔

کہوٹہ کے لوگ مذھبی ہیں۔۔۔دنیا کا کون سا مسلک ہے جو یہاں نہیں ؟ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔۔۔۔کہوٹہ میں دو مندر بھی ہیں دونوں کھنڈر ہیں۔۔۔ایک دھرم شالے کی بنیادوں کی اینٹیں اب بھی محفوظ ہیں۔ کوئی گراؤنڈ نہیں ہے۔۔۔البتہ کھوتا سٹیڈیم ضرورموجود ہے۔ اگر دنیا میں کہیں اور اس قسم کا سٹیڈیم ہے تو سامنے لائیے۔۔۔! شہر تمام مصنوعی سبزہ زاروں سے پاک ہے البتہ اطراف میں قدرتی سبزہ زاروں کی بہتات ہے۔یہاں کی زبان پوٹھوہاری ہے۔ جیلس لوگ اسے پہاڑی کہتے ہیں۔ حالانکہ فارسی کی طرح شیریں ہے۔۔ بولنے کو منہ چاہیے۔۔۔ کُر گچھنڑے او۔۔۔۔۔۔۔! کے پیا بانڑا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماڑی بجھو۔۔۔۔۔۔!

کہوٹہ کا مزاج عسکری ہے۔ ہر دوسرے گھر سے کوئی نہ کوئی فوج میں ہے۔۔۔ یہاں جرنیلوں کی ایک بستی مٹورہےجو سیاست کا گڑھ ہے۔۔ ساتھ کان گڑھ ہے جہاں تاریخی فسادات ہوئے اور وائسرے ہند کوکہوٹہ دیکھنے کا اعزاز ملا۔۔ ساتھ ناراہے جسے نور کا دھارا کہیے۔۔۔ آگے بیور ہے ۔۔۔۔ نیچے ڈیم بن رہا ہے اور پار پلندری کی چوٹی ہے جس سے جواں سال ماجد محمود ادبی اڑان کی تیاریوں میں ہیں۔۔۔۔ دوسری طرف گھڑیٹ ہے۔۔۔ مواڑہ کے موڑ ہیں۔۔۔کھڈیوٹ کے کھڈ ہیں۔۔۔تلہتر اور پنج پیر کی چوٹیاں ہیں۔۔۔ نڑھ کے سنگلاخ مزاج پہاڑ ہیں۔

یہاں ٹرانسپورٹ کا کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔نارا مٹور تا پیر ودھائی راکٹ سروس نے عوام کی سفری مشکلات ختم کر دی ہیں۔۔۔لوگ باذوق ہیں۔۔۔گدھا گاڑی تو بہت دور کی بات ہے۔۔ یہاں ٹانگے جیسی غیر مہذب سواری تک نہیں پہنچ سکی۔۔۔۔۔سڑکوں کے کھڈ لید سے پاک ہیں ۔۔۔۔کچھ دن پہلے تک یہاں چنگ چی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔ اب یہ ہی یہ ہیں۔اگر کراچی کو لالو کھیت اور جاسوسی رائٹر ابن صفی پر ناز ہے تو کہوٹہ کو اپنے سروٹ اورابن آدم پہ ناز ہے۔۔۔۔کراچی کا کوئی انگریزی شاعر مشہور ہو تو بتائیں ہمارے ہاں انگریزی کے یگانہ و یکتا شاعر شناذرکی شہرت چہار دانگ عالم میں ہے۔ کل تک گھڑے ستار پر شعر خوانی کی محفلوں کا زوروشور تھا۔۔۔ آج کل ایک نیا شور اٹھا ہوا ہے اور اٹھتا ہی چلا جا رہا ہے۔۔۔ شاعروں اور مشاعروں کا شور۔۔۔۔کہوٹہ ادبی سنگت کے سرخیل دنیا کے منصفو کے جاوید احمد ہیں ہمنوا حسن ظہیر راجہ اور دیگر ہیں ادھرعبدالرحمن واصف ، عابد تیمور ہاشمی اور عبداللہ ابراہیم کمال قلم کاری کرتے ہیں۔ہر شہر کی کوئی نا کوئی سوغات مشہور ہوتی ہے۔۔۔ چہار چیزتحفہ کہوٹہ ہیں ۔۔۔۔۔ منشی کے پکوڑے ، عابد کا چاٹ ، رحمان کی جلیبی اور عمیر کے سموسے۔ رحمان کی جلیبی کی تو کیا ہی بات ہے۔۔۔ پنڈی کے گراٹو کے لچھے میں جاذبیت ضرور ہو گی لیکن رحمان کی بے ترتیب جلیبی میں جوبات ہے وہ بھلا گراٹو میں کہاں؟ انگلینڈیوں کی فرمائشیں ہی پوری نہیں ہوتیں۔۔۔ بعض گوروں نے چکھیں تو اپنی انگلیاں تک چبا گئے۔کہوٹہ کسی سے کسی طرح کم نہیں۔ دیگر کو تو چھوڑیے کراچی ہی کو لیجئے۔۔۔اگر کراچی کی سٹوڈنٹ بریانی مشہور ہے تو یہاں کی نورانی آلو بریانی کا شہرہ ہے۔۔کراچی میں ساحل سمندر ہے تویہاں پر ساحل ِ لنگ ہے۔۔۔۔ مچھلی کے جال میں ڈڈو آتے ہیں تو بھلے آئیں ۔۔۔ کراچی میں تو جھینگوں اور سانپ نما مچھلیوں کی لانچیں بھر بھر آتی ہیں۔۔۔کہوٹہ کراچی سے کم کوئی آئیڈیل نہیں رکھتا۔۔۔اسی لیے یہاں کراچی سکول۔۔۔کراچی سویٹس۔۔۔۔ کے علاوہ کراچی کی شناخت پان کا ایک کھوکھا بھی سرشام لگتا ہے۔

اسلام آباد میں مصنوعی مانو منٹ کا چرچا ہے اور کہوٹہ کی شکرپڑیاں ڈولیاں زندہ کرامات کی وجہ سے مشہور ہے۔ ڈولی بمع برات کسی گستاخی پر پتھر ہو گئی۔ اب بھی صاحبان ِ عقیدت آنکھیں ٹھنڈی کرنے اور عبرت پکڑنے جاتے ہیں۔

اتنی صفات اور خصوصیات کے باوجود ہم اسے پوٹھوہار کا دل نہیں کہتے کہ اہل گجر خوان پر گراں گزرے گا۔۔۔ اس لیے احتیاطاً ہم اسے قلبِ پوٹھوہار کہہ دیتے ہیں۔ اب یہ قلبِ پوٹھوہار ایک آدھ تحریر میں تو سمانے سے رہا ۔۔۔۔ اس کی دوسری قسط احباب کے تبصروں اور تنقید کی روشنی میں لکھی جائے گی۔

♣♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *