کوئی سنے گا تو کیا کہے گا؟ 

 

تحریر:اقراء یاسمین ملک

چھن کی آواز کے ساتھ چائے کی قیمتی پیالی زمین بوس ہوئی اور گیارہ سالہ گھریلو ملازمہ کا دل ڈوبنے لگا۔ بیگم صاحبہ کا غضب ناک چہرہ آنکھوں کے سامنے آتے ہی وہ تیزی سے  زمین پر جھکی اور پیالی کی کرچیاں ہاتھوں سے سمیٹ کر اٹھانے لگی۔ شدید تکلیف کا احساس  ہونے پر ہاتھوں کی سمت دیکھا توانگلیوں کی  پوریں لہولہان تھیں۔ ملازمہ نے زخموں کی پروا کئے بغیر تیزی سے کرچیاں سمیٹیں اور ڈسٹ بن میں پھینک دیں۔ ملازمہ گہرا سانس لے کر پلٹی تو بیگم صاحبہ کو سر پر کھڑا دیکھ کر اسکی جان نکل گئی۔ بھاری بھرکم  ڈیل ڈول  کی حامل بے رحم مالکن غضب ناک آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔ تو نے آج پھر پیالی توڑ دی؟ بیگم صاحبہ نے قہر آلود لہجے میں پوچھا اس سے پہلے کہ کم سن ملازمہ اپنے دفاع میں کچھ کہہ پاتی وہ غضب ناک ہو کر آگے بڑھی اور اسکے معصوم چہرے پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ کچھ دیر بعد جب بیگم صاحبہ مار مار کر تھک چکیں تو ہانپتے ہوئے کرسی پر جا بیٹھیں اور حقارت آمیز لہجے میں کہا فکر مت کر پیسے تو میں تنخواہ سے کاٹ ہی لوں گی۔

عدم برداشت کا یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں۔ یہ تو ہر گھر کی، بازار، گلی کوچوں، شہروں، قصبوں، دفتروں اور ریاستوں کی کہانی ہے۔ انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک، شخصی ذہنیت سے لے کر قومی ذہنیت  اور جھنڈ سے لے کر ہجوم تک یہ رویہ عام ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر غضب ناک ہو کر ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔  گزشتہ کچھ ماہ سے فرقہ پرستی کی خون آشام بلا ایک بار پھر خون آلود منہ کے ساتھ ملک بھر میں دندناتی پھر رہی ہے۔ کبھی شیعہ کے کان میں سرگوشی کرتی ہے تو وہ بپھر کے سنی کی جان لے لیتا ہے اور کبھی سنی کو ایسی کہانی سناتی ہے کہ وہ شیعہ کی جان کا لاگو ہوجاتا ہے۔ گھر گھر وحشت کا رقص ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پرندے بھی سہم گئے ہوں۔ علماءا کرام کا سفاکانہ قتل ہو یا مذہب کے نام پر رچایا جانے والا خونی کھیل اس کے پس منظر میں صرف اور صرف ایک ہی جذبہ کار فرماں ہی نظر آتا ہے اور وہ ہے عدم برداشت۔ اس معاشرے میں اختلاف رائے قابل قتل جرم بن چکا ہے۔ ناقدین سازشی قرار  دئیے جاتے ہیں اور معاشرے سے اوپر کی سوچ رکھنا سوائے گناہ کبیرہ کے اور کچھ نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے اکیسویں صدی  جہالت میں زمانہ جاہلیت کو بھی پیچھے چھوڑ رہی ہے دور جاہلیت میں پانی پر شروع ہونے والا جھگڑا نسلوں تک چلتا تھا تو آج ایک مرلہ زمین کی خاطر پورے پورے خاندان قتل کر دئیے جاتے ہیں۔  زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا تو آج بیٹے کی ماں پر وحشیانہ تشدد کی وڈیو وائرل ہو کے معاشرے کا سر شرم سے جھکا دیتی ہے۔ عدم برداشت صرف یہ نہیں کہ کسی دوسرے کی بات کو برداشت نہ کیا جائے۔ بلکہ کسی کی ترقی، کسی کے بلندی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم، کسی کی خوشی ہضم نہ کرنا بھی عدم برداشت کے زمرے میں آتا ہے جو آگے بڑھ کر حسد کی صورت اختیار کر لیتا ہے لیکن اس کی ابتدا ء عدم برداشت سے ہی ہوتی ہے۔

سقراط جسے میں دنیا کا پہلا صحافی کہوں تو بے جا نہ ہوگا صرف اس لیے زہر پینے پر مجبور ہوا کیوں کہ حکمران وقت میں اسکی حق بات سننے کی برداشت نہ تھی اور اختلاف رائے کی سزا موت سے کم کچھ نہیں تھی۔ یہاں صرف تین منٹ لگتے ہیں آپ کی ایک چھوٹی سی رائے کے عوض قابل قتل قرار دئیے جانے پر، یہاں چند ہی لمحوں میں کوئی ہجوم مشتعل ہوکر آپ کو موت کی نیند سلا سکتا ہے۔ اگر آپ استاد ہیں اور آپ نے کسی طالب علم کو نصیحت کی غرض سے ڈانٹ دیا ہے تو یہ عین ممکن ہے آپ پر آپ ہی کے شاگرد کی طرف سے قاتلانہ حملہ کر دیا جائے۔ یہ لکھتے ہوئے قلم کانپ رہا ہے مگر میں معاشرے کی بدصورتی پر پردہ ہرگز نہیں رکھوں گی۔ یہاں اکثر ہی اتفاقا سلنڈر پھٹنے سے بہو کی موت واقع ہو سکتی ہے، یہاں ساس کے کھانے میں غلطی سے چھپکلی گرنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ یہاں بیٹے کے ہاتھ میں باپ کا گریبان ہونا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ شرح طلاق میں خطرناک حد تک ہونے والا اضافہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ اب نہ تو لڑکیاں شوہر کی معمولی سی بات برداشت کرتی ہیں اور نہ ہی شوہر بیوی کو کسی چھوٹی سی غلطی پر معاف کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہاں عدم برداشت کے حوالے سے ایک نفسیاتی کشمکش کا ذکر کرنا چاہوں گی جس کا شکار بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر عمر کے افراد ہوتے ہیں۔پچھلے دنوں گھر پر کچھ مہمان آئے جن کے ہمراہ دو چھوٹے بچے بھی تھے۔  بچوں کی عمریں سات سے نو سال کے درمیان ہوں گی۔اب ایک بچے کو شرارت سوجھی اور اس نے بغیر وجہ کے چھوٹے بھائی کے سر پر ہلکا سا تھپڑ لگا دیا۔ چھوٹے بھائی نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر مڑتے ہی ایک زناٹے دار تھپڑ بڑے بھائی کے چہرے پر جڑ دیا اب بڑا لڑکا اس غیر متوقع حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ تھا لہذا سنبھل نہ پایا اور اوندھے منہ زمین پر آرہا۔  بڑے لڑکے کو اپنی سخت سبکی محسوس ہوئی اور اس نے میز پر پڑا  گلدان اٹھا کر پوری قوت سے بھائی کی طرف اچھال دیا وہ تو قسمت اچھی تھی اسکا نشانہ خطا گیا ورنہ دوسرے بچے کو گہری چوٹ بھی آسکتی تھی۔ جب دونوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو میں نے چھوٹے بچے سے استفسار کیا کہ اس نے تمہیں شرارت میں ہلکا سا تھپڑ لگایا اور تم نے اتنا سخت ردعمل دیا اسکی کیا وجہ تھی؟ اس سات سالہ بچے کے جواب نے مجھے خوف میں مبتلا کر دیا اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے قدرے اونچی آواز میں جواب دیا۔

جو بھی مجھے مارے گا میں اسے مار دوں گا بالکل مار دوں گا

اس جملے کا یہ حصہ ” بالکل مار دوں گا”  اگر اسے نفسیات کے ٹیبل پر رکھوں تو یہ عدم برداشت کی سب سے بھیانک صورت ہے جب آپ کسی کا مزاح بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ اکثر آپ بطور مزاح کسی سے کچھ کہتے ہیں اور سامنے والا آپ کے مزاح کو برداشت نا کرتے ہوئے بپھر جاتا ہے۔ کچھ روز پہلے ایک وڈیو دیکھ کر دنگ رہ گئی جب ایک آدمی گھر کے گیٹ پر جاکے ہارن بجاتا ہے لیکن دو منٹ کے گزرنے کے بعد بھی گیٹ نہیں کھلتا۔ وہ ہارن پہ ہارن دینے لگتا ہے لیکن اگلے کچھ وقت تک بھی گیٹ نہیں کھلتا جس پر غصے میں گاڑی گیٹ میں مار دیتا ہے اور اس کی معصوم بیٹی گاڑی کی ضد میں آجاتی ہے جو آنکھیں ملتی دروازے کی سمت بڑھ رہی تھی۔ عدم برداشت وہ زہر قاتل ہے جو سلو پوئزن کی طرح دھیرے دھیرے نہیں بلکہ  گندم کی گولیوں میں شامل زہر کی طرح ایک دم بپھر کر رگوں میں آگ لگا دیتا ہے۔ اور ہم اس آگ کو پیتے ہوئے طائف کا وہ واقعہ بھول جاتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ پر اہل طائف کی طرف سے اس قدر پتھر برسائے گئے کہ آپ کے جوتے لہو سے تر بتر ہوگئے مگر آپ نے کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے بدلہ تو دور کی بات اپنے لب تک بددعا سے آلودہ نہ کیے اور اہل طائف کے حق میں دعا فرمائی۔ نبی ﷺ کے نام پر جان دینے والوں کی عدم برداشت کا یہ عالم۔۔۔۔؟ کوئی سنے گا تو کیا کہے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *