کتّا اور چالیس ڈول پانی

تحریر:  عبیداللہ علیم

ستھرے اور پاکیزہ ماحول کے بغیر قدرِاعلیٰ کا تصور محال ہے بلکہ ناممکن ۔ محرومی کی بھی ہزار قسمیں ہیں اور سوال کے بھی ہزار راستے ہیں سوال کے طائر محرومی کے گھونسلے سے نکلتے ہیں ۔ جو سسٹم محروم کے حق کا تحفظ نہیں کرتا اس میں سوال کا پیدا ہونا ایک فطری بات ہے ۔ایسے میں چھیننے والا بھی ظالم ہے اور چھنوانے والا بھی ظالم ہوتا ہے ۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ روز بروز ان حالتوں میں ترقی کررہا ہے اور اس میں اضمحلال، تھکن اور شکست کی کیفیت بیدا رہوتی ہی چلی جارہی ہے ۔

سیاست و مذہب بیشتر لسانی اور زبانی پینترے بازی اور سرابوں میں بھٹکنے اور بھٹکانے والا ایک مسلسل کھیل بن گیا ہے ابلاغ عامہ کے ادارے اندر سے کچھ اور اوپر سے کچھ ، سستے اور عامیانہ پن کی منڈیاں ،ٹیلی وژن گھسے پٹے ڈراموں کا ایک جنگل ، جہاں ڈرامہ نگار اور پروڈیوسر اعلیٰ استحصالی طبقے کے لڑکے اور لڑکیوں کے ذریعے نچلے اور متوسط پامال طبقے کی تفریحِ طبع کے بہانے ان ہی کے دکھ سکھ کا مذاق اڑا کر انہیں بظاہر خوش کرتے ہیں اور آرٹ کے نام پر اپنا پیٹ پالتے ہیں ۔نام و نمود کے یہ نمائشی بازار کیا سرمایہ دار اور زمیندار اور جاگیردار کی اصلاح فرمائیں گے اور کیا غریب اور محروم کی زندگی کے سامان کریں گے۔   اب بڑائی کے ،شرافت کے ،نیکی کے اور خیر کے وہی نمائندے ہیں جن کے پاس طاقت ہے ، مال ہے ، اسباب ہیں وہ جن کے پاس ان میں سے کچھ نہیں وہ کچھ نہیں ۔ایسے میں علم و دانش کے تمام اسلوب اپنی ہی پامالی ہیں اور بس اب نجابت و شرافت کا بڑا دائرہ یا تو محروم ہے یا سائل ہے گویا عام لفظوں میں یہ ہمارے عوام ہیں ۔ میں ڈرتا ہوں اس وقت سے جب حقیقی نیکی و شرافت کے رہے سہے اعصاب ٹوٹ جائیں اور وہ بھی وہی حیلے اورحربے اختیار کرے جو سوسائٹی کے اکثر بڑوں اور شریفوں نے اختیار کر رکھے ہیں ۔یہ جنگ جاری رہی تو آخر نفرتوں اور غصے کے ایٹم بم کب تک نہیں پھٹیں گے ۔یہ طوفان ٹھہر سکتا ہے اور یہ سیلاب کب رک سکتا ہے۔ سنا ہے کسی گاؤں کے کنوئیں میں ایک کتّا گر کے مرگیا اور مرا ہی نہیں بلکہ سڑ گیا۔گاؤں کے لوگ کنوئیں کی حالت کو معمول پر لانے کے لیےایک مفتی کی خدمت میں پہنچے اور فتوی طلب کیا ۔ارشاد ہوا چالیس ڈول پانی نکال دو ۔گاؤں کے معصوم لوگ چالیس ڈول پانی نکال کر پھر مفتی کے پاس گئے ۔حضور چالیس ڈول پانی تو نکال دیا مگر پانی سے بو اور سڑاند نہیں جاتی۔مفتی نے پوچھا کتا بھی نکالا ۔فرمایا جی نہیں ۔۔۔ہم بھی اپنی زندگی کے کنوؤں سے صرف چالیس ڈول پانی نکالے جارہے ہیں بدی اور برائی کے وہ کتّے نہیں نکالتے جن سے یہ کنوئیں سڑ رہے ہیں ۔

کتاب : میں کھلی ہوئی اک سچائی       ♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *