لَآ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ 

(قسط اول)

قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں اس کی تفسیر قارئین کےلیے پیش خدمت ہے:

{ لَآ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

(البقرہ 257)

ترجمہ :دین میں کچھ زبردستی نہیں بے شک ہدایت گمراہی سے صاف صاف الگ ہو چکی ہے تو جو نہ مانے جھوٹے معبود کو اور اللہ ہی کو مانے تو البتہ اس نے مضبوط رَسّی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔

لَآ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۔ایک انبیاء کی راہ ہوتی ہے ایک بادشاہوں کی۔ انبیاء کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ وہ ظلم و جوَرو تعدّی سے کام لیں۔ ہاں بادشاہ جبرواکراہ سے کام لیتے ہیں۔ پولیس اس وقت گرفت کر سکتی ہے جب کوئی گناہ کا اِرتکاب کر دے مگر مذہب گناہ کے ارادہ کو بھی روکتا ہے۔ پس جب مذہب کی حکومت کو آدمی مان لیتا ہے تو پولیس کی حکومت اس کی پرہیزگاری کے لئے ضروری نہیں ہوتی۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جبرواِکراہ کا تعلق مذہب سے نہیں۔ پس کسی کو جبر سے مت داخل کرو کیونکہ جو دل سے مومن نہیں ہؤا وہ ضرور منافق ہے۔ شریعت نے منافق اور کافر کو ایک ہی رسّی میں جکڑا ہے۔ غلطی سے ایسی کہانیاں مشہور ہو گئی ہیں کہ اِسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے۔ بھلا خیال تو کرو اگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو ہندوستان میں اِتنے سَو سال حکومت رہی پھر یہ ہزاروں برسوں کے مندر، شوالے اور پُستکیں کیوں موجود پائی جاتیں؟

عالمگیر کو بھی الزام دیتے ہیں کہ وہ ظالم تھا اور بالجبر مسلمان کرتا ۔ یہ کیسی بیہُودہ بات ہے۔ اس کی فوج کے سپہ سالار ایک ہندوتھے۔ بڑا حصہ اس کی عمر کا اپنے بھائیوں سے لڑتے گزرا ۔ اس کی موت بھی تاناشاہ کے مقابل میں ہوئی ۔ پھر اسلام بادشاہوں کے افعال کا ذمہ دار نہیں ۔ مسلمانوں نے یہی غلطی کی کہ معترضین کے مفتریات کو تسلیم کر لیا حالانکہ اِسلام دِلی محبت و اخلاق سے حق بات ماننے کا نام ہے۔ اِسی لئے اِسلام میں جبر نہیں۔ یہ آیت ضروری یاد رکھنی چاہیے۔ اِسلام میں ہرگز اِکراہ نہیں۔ چنانچہ پارہ گیارہ رکوع10 میں فرماتا ہے ۔وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰی يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (يونس 100) ۔

قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۔رُشد کہتے ہیں اِصَابَۃُ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ یعنی واقعی بات کو پا لینا اور حق تک پہنچ جانا۔ غَیّ کہتے ہیں اس حق وصواب کی جگہ سے رُک جانے کو۔ اِسلام کے چند اصول بیان کرتا ہوں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں رُشد و غیّ کو کیا امتیاز سے بیان کیا ہے۔

فرمایا۔ شرک نہ کرو۔ وعید بتلایا۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُّشْرَكَ بِهِ  (النسآء 49) کوئی حضرت مسیحؑ کو پُوجے یا امام حسینؓ یا سیّد عبدالقادر جیلانی کو یا درخت یا تالاب۔ پہاڑ۔ جانور کو سب برابر ہیں کیونکہ یہ سب چیزیں خادم ہیں وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (الجاثیہ 14) پس جو مخدوم ہونے کی بھی حیثیّت نہیں رکھتی وہ تمہاری معبود کِس طرح بن سکتی ہے؟ انجیل۔ وید۔ ژندوستابدھ کی تعلیم میں َمیں نے عظمت ِ الہٰی کی یہ راہیں ہرگز نہیں پائیں۔ قرآن کا ایک ایک رکوع مسلمانوں کو توحید کا سبق دیتا ہے پھر بھی اگریہ شرک میں گرفتار رہیں تو ان کی بَد قسمتی۔کیا خوب فرمایا أَبْغِيكُمْ إِلٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِينَ  (الأَعراف 141) تم خود جہاں والوں سے افضل اور پھر انہی میں سے کوئی چیز تمہاری معبود بنے؟

پھر اِسلام میں عام اخلاق کی نسبت دیکھو کہ شراب سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا کیونکہ یہ سب بُرائیوں کی جڑ ہے۔ ایک شخص ایک عورت پر عاشق ہو گیا۔ اس نے کہا وصل کی شرط میں اس بُت کی پرستش کرو۔2۔ خاوند کو قتل کر دو۔ شراب پی لو۔ اس نے کہا کہ ایک شراب پینا مان لیتا ہوں باقی بہت خوفناک گناہ کے افعال َمیں نہ کروں گا۔ جب شراب پی تو پھر دوسری چیزوں کا بھی مرتکب ہو گیا۔

اِسلام کا تیسرا اصول پَردے کی تعلیم ہے۔ میں نے کسی کتاب میں جو خدا کی طرف منسوب کی جاتی ہے یہ تعلیم نہیں پائی۔ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ  (النور 31) اور قُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ  (النور 32) مومن مرد اور عورتیں نیچی اور نیم باز نگاہیں رکھنے کی عادت ڈالیں۔

دیکھا جماع الاثم(خمر)اور حبائل الشیطان (عورت )سے کس طرح روکا۔ پھر نماز کی تاکید کی۔ جو شخص پانچ نمازوں کا پابند ہے وہ کبیرہ گناہ شراب وغیرہ کا اِرتکاب بھی نہیں کرے گا۔ پھر اسلام میں مالِ حرام سے ممانعت کی۔ شراب وغیرہ کا پینا مالِ کثیر پر موقوف ہے اور مالِ کثیر زیادہ تر طریقِ حرام ہی سے آتا ہے اِس لئے منع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا ہے اَللّٰھُمَّ ارْزُقْ اٰلَ مُحَمَّدٍ قُوْتًا۔

پھر اسلام میں جزا و سزا کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی کُل گناہوں سے روکنے والا ہے۔ پھر اسلام کا یہ اصل کہ وہ تمام پسندیدہ امور کے کرنے اور قبیحہ امور کے نہ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ایک موقع پر فرما رہے تھے۔ ُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران 111) ۔

ایک قوم نے اپنا سفیر واسطے تحقیق دینِ اسلام کے بھیجا تھا وہ یہ کلمہ سنتے ہی واپس گیا اور اپنی قوم سے جا کر کہا سب مسلمان ہو جاؤ۔ وہ حیران ہوئے تو اس نے بتایا کہ جس مذہب کا اصل امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ہو وہ کیونکر بُرا ہو سکتا ہے بلکہ اس میں نہ داخل ہونے والا بُرا ہے۔

فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ ۔ طاغوت طغووت سے نکلاہے۔ حدبندی سے آگے بڑھنے والے کو طاغی کہتے ہیں۔ سَیلاب کو بھی طُغیانی اِسی لئے کہتے ہیں کہ پانی ندی کی حدِ مقررہ سے باہر نکل کر اُچھلتا ہے۔ شریعت نے ہر بات کے لئے حد رکھی ہے پس جو اس حد سے نکلا ہے وہ طاغی ہوا اور جو تمام حدبندیوں کو توڑ کر نکل جاوے وہ طاغوت کہلاتا ہے۔ پس جو حضرت حق سبحانہ کا، جو منزّہ ہے تمام عیوب و نقائص سے اور جامع ہے کمالات و خوبیوں کا ، فرمانبردار ہو تو فَقَدِاسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی اُس نے بڑی مضبوط پکڑنے کی چیز کو پکڑا۔ عُروہ کہتے ہیں پکڑنے کی چیز کو۔

لَآ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۔ دین کے معاملہ میں جبر نہیں ۔ وہ کھُلی چیز ہے۔ رُشد اور غیّ الگ الگ چیزیں ہیں۔ رُشد اختیار کرنے اور غیّ کےچھوڑنے میں کسی اِکراہ کی ضرورت نہیں۔ اِس آیت میں تین لفظ ہیں دین،رُشد اورغیّ۔

الدِّیْن ۔اﷲ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو دین کی توضیح اور تفسیر فرمائی ہے وہ یہ ہے اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اﷲِ الْاِسْلَام۔ اﷲ تعالیٰ کے حضور دین کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ اَلْاِسْلَام اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کافرمانبردار ہو جائے۔ اﷲ تعالیٰ کے فرمان کو لے اور اس پر رُوح اور راستی سے عمل در آمد کرے۔ دین کے متعلق جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور سوال کیا ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بلکہ ہم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ جبرائیل تھا۔ اَتَاکُمْ لِیُعَلِّمَکُمْ دِیْنَکُمْ۔پس دین کی حقیقت اور اس کا صحیح اور سچا مفہوم وہ ہو گا جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرمایا۔ الاسلام کے معنے یہ ہیں۔ سر رکھ دینا ۔ جان سے۔ دِل سے۔ اعضاء سے۔ مال سے۔ غرض ہر پہلو اور ہر حالت میں اﷲ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کرنا۔

دین کے لئے اﷲ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں عطا فرمائی ہیں جن کے ذریعہ ہم اس کی کامل اطاعت، فرمان پذیری اور وفاداری کا اِظہار کر سکتے ہیں اور پھر ان کے وراء الورا اندر ہی اندر قوٰی پر حکمرانی کر سکتے ہیں اور ان کو الٰہی فرمانبرداری میں لگا سکتے ہیں۔ غرض دین کی اصل حقیقت جو قرآن شریف نے بتائی ہے وہ مختصر الفاظ میں کامل وفاداری ، سچی اطاعت اور اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے۔

الدّین کا پہلا رُکن یعنی الایمان۔ پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جبرائیل کے توسّط سے جو کچھ صحابہ کو اور ہم کو سکھایا ہے وہ ان سوالات میں بیان ہؤا ہے جو صحابہ کی موجودگی میں جبرائیل نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئے اور جن کی اصل غرض لِیُعَلِّمَکُمْ دِیْنَکُمْ تھی ۔ ان میں سے پہلا یہ ہے۔ مَاالْاِیْمَانُ ؟ یا رسول اﷲؐ!ایمان کس چیز کا نام ہے ؟ فرمایا اَنْ تُؤْمِنَ بِاﷲِایمان کی عظیم الشّان اور پہلی جُزو ایمان باﷲ ہے اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ ایمان کا سر چشمہ اور اس کی ابتدا اﷲ پر یقین کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ ایمان بِاﷲ کیا چیز ہے؟ اﷲ تعالیٰ کو جمیع صفاتِ کاملہ سے موصوف اور تمام محامد اور اسماءِ حسنیٰ کا مجموعہ اور مسمّٰی اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزّہ یقین کرنا اور اس کے سوا کسی شئی سے کوئی امید و بیم نہ رکھنا اور کسی کو اس کا ندّ اور شریک نہ ماننا یہ ایمان باﷲ ہے۔ جب اِنسان اﷲ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف یقین کرتا ہے تو ایسے خدا سے وہی قرب اور تعلق پیدا کر سکتا ہے جو خوبیوں سے موصوف اور بدیوں سے پاک ہو گا۔ پس جس جس قدر انسان فضائل کو حاصل کرتا اور رذائل کو ترک کرتا ہے اسی قدر وہ اﷲ تعالیٰ کے حضور اپنے قرب کے مدارج اور مراتب کو بڑھاتا اور اﷲ تعالیٰ کی ولایت میں آتا جاتا ہے کیونکہ پاک کو گندے کے ساتھ قرب کی نسبت نہیں ہو سکتی اور جوُں جوُں رذائل کی طرف جھکتا اور فضائل سے ہٹتا ہے اسی قدر اﷲ تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو کر اُس کے فیضانِ ولایت سے دُور اور مہجور ہوتا جاتا ہے۔ یہ ایک قابلِ غور اصل ہے اور اس کو کبھی بھی ہاتھ سے دینا نہیں چاہیے۔ صفاتِ الٰہی پر غور کرو اور وہی صفات اپنے اندر پیدا کرو نتیجہ یہ ہو گا کہ قربِ الہٰی کی راہ قریب ترہوتی جائے گی اور اس کی قدو سیت اور سبحانیت تمہاری پاکیزگی اور طہارت کو اپنی طرف جذب کرے گی۔ بہت سے لوگ اِس قِسم کے ہیں جو خود ناپاک اور گندی زیست رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیوں ہم کو قربِ الہٰی حاصل نہیں ہوتا ؟ وہ نادان نہیں جانتے کہ ایسے لوگوں کو قربِ الہٰی کیونکر حاصل ہو جو اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا نہیں کرتے۔ قدّوس خدا ایک ناپاک اِنسان سے کیسے تعلق پیدا کرے؟

ایمان بالملائکہ کی فلاسفی

ایمان باﷲ کے بعد دوسری جُزو ایمان کی ایمان بِالملائکہ ہے۔ ایمان بالملائکہ کے متعلق مجھے اﷲ تعالیٰ نے یوُں سمجھ دی ہے کہ اِنسان کے دِل پر ہر وقت ملک اور شیطان نظر رکھتے ہیں اور یہ امر ایسا واضح اور صاف ہے کہ اگر غور کرنے والی فطرت اور طبیعت رکھنے والا اِنسان ہو تو بہت جلد اس کو سمجھ لیتا ہے بلکہ موٹی عقل کے آدمی بھی معلوم کر سکتے ہیں اور وہ اِس طرح پر کہ بعض وقت یکایک بیٹھے بٹھائے اِنسان کے دِل میں نیکی کی تحریک ہوتی ہے یہاں تک کہ ایسے وقت بھی یہ تحریک ہو جاتی ہے جبکہ وہ کسی بڑی بَدی اور بدکاری میں مصروف ہو۔ َمیں نے اِن امور پر مدّتوں غور کی اور سوچا ہے اور ہر ایک شخص اپنے دل کی مختلف کیفیّتوں اور حالتوں سے آگاہ ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کبھی اندر ہی اندر کسی خطرناک بدی کی تحریک ہو رہی ہے اور پھر محسوس کرتا ہے کہ معاًدِل میں رِقّت اور نیکی کی تحریک کا اثر پاتا ہے۔ یہ تحریکات نیک یا بدجو ہوتی ہیں بدُوں کسی مُحرِّک کے تو ہو نہیں سکتی ہیں۔ پس یہ وہی بات ہے جو َمیں نے ابھی کہی ہے کہ انسان کے دِل کی طرف ملائکہ اور شیاطین نظر رکھتے ہیں ۔ پس ایمان بالملائکہ کی اصل غرض یہ ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر جو ملائکہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کبھی کسل و کاہلی سے کام نہ لے اور فوراً اس پر عمل کرنے کو تیار ہو جائے اور توجّہ کرے۔ اگر ایسا نہ کرے گا تووَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہٖ کامصداق ہو کر پھر نیکی کی توفیق سے بتدریج محروم ہو جائے گا۔

قربِ الٰہی کا دوسرا ذریعہ

یہ پکی بات ہے کہ جب انسان نیکی کی تحریکوں کو ضائع کرتا ہے تو پھر وہ طاقت، وقت، فرصت اور موقع نہیں ملتا۔ اگر انسان اسی وقت متوجہ ہو جاوے تو معًا نیک خیال کی تحریک ہوتی ہے۔ چونکہ اِس خواہش کا محرّک محض فضلِ الہٰی سے مَلَک ہوتا ہے جب اِنسان اس کی تحریک پر کار بند ہوتا ہے تو پھر اس فرشتہ اور اس کی جماعت کا تعلق بڑھتا ہے اور پھر اس جماعت سے اعلیٰ ملائکہ کا تعلق بڑھنے لگتا ہے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا قُرب حاصل ہو جاتا ہے۔

ایک حدیث میں صاف آیا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت کا محبوب ہوتا ہے اِسی طرح پر درجہ بدرجہ وہ محبوب اور مقبول ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں مقبول ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث اسی اصل اور راز کی حل کرنے والی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔ ایمان بالملائکہ کی حقیقت پر غور نہیں کی گئی اور اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ ملائکہ کی پاک تحریکوں پر کار بند ہونے سے نیکیوں میں ترقی ہوتی ہے یہاں تک کہ انسان اﷲ تعالیٰ کا قرب اور دُنیا میں قبول حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح پر جیسے نیکیوں کی تحریک ہوتی ہے َمیں نے کہا کہ بدیوں کی بھی تحریک ہوتی ہے۔ اگر انسان اس وقت تعوّذ، استغفار سے کام نہ لے۔ دعائیں نہ مانگے۔ لاحوَل نہ پڑھے تو بَدی کی تحریک اپنا اثر کرتی ہے اور بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پس جیسے یہ ضروری ہے کہ ہر نیک تحریک کے ہوتے ہی اس پر کاربند ہونے کی سعی کرے اور سُستی اور کاہلی سے کام نہ لے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بد تحریک پر فی الفور استغفار کرے، لاحوَل پڑھے، درُود شریف پڑھے اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور دعائیں مانگے۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایمان بِاﷲکے بعد ایمان بِالملائکہ کو کیوں رکھا ہے؟ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ساری سچائیوں اور پاکیزگیوں کا سر چشمہ تو جنابِ الہٰی ہی ہے مگر اﷲ تعالیٰ کے پاک ارادے ملائکہ پر جلوہ گری کرتے ہیں اور ملائکہ سے پاک تحریکیں ہوتی ہیں۔ ان نیکی کی تحریکوں کا ذریعہ دوسرے درجہ پر چونکہ ملائکہ ہیں اِس لئے ایمان باﷲ کے بعد اس کو رکھا۔

ملائکہ کے وجود پر زیادہ بحث کی اِس وقت حاجت نہیں۔ یہ تحریکیں ہی ملائکہ کے وجود کو ثابت کر رہی ہیں۔ اِس کے علاوہ لاکھوں لاکھ مخلوقِ الہٰی ایسی ہے جس کا ہم کو علم بھی نہیں اور نہ ان پر ایمان لانے کا ہم کو حکم ہے۔

ایمان بالکتب

اس کے بعد تیسرا جُزو ایمان کا ایمان بِالکتب ہے۔ براہ راست مکالمہ اوّل فضل ہےپھر ملائکہ کی تحریک پر عمل کرنا اس کے قرب کو بڑھاتا ہے ان کے بعد کتاب اﷲ کے ماننے کا مرتبہ ہے۔ کتاب اﷲ پر ایمان بھی اﷲ کے فضل اور ملائکہ ہی کی تحریک سے ہوتا ہے۔ اﷲ کی کتاب پر عمل در آمد جو سچے ایمان کا مفہوم اصلی ہے چاہتا ہے محنت اور جہاد ۔ چنانچہ فرمایا۔  وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنْکبوت 70) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ اور سعی کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔ یہ کیسی سچّی اور صاف بات ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اختلاف کے وقت انسان مجاہدات سے کام نہیں لیتا۔

کیوں ایسے وقت انسان دبدہا اور تردّد میں پڑتا ہے اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک کچھ فتوٰی دیتا ہے اور دوسرا کچھ تو وہ گھبرا جاتا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ کاش وہ جَاھَدُوْا فِیْنَاکا پابند ہوتا تو اس پر سچائی کی اصل حقیقت کُھل جاتی۔ مجاہدہ کے وقت ایک اَور شرط بھی ہے وہ تقوٰی کی شرط ہے۔ تقوٰی کلام اﷲ کے لئے معلّم کا کام دیتا ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ۔اﷲکی تعلیم تقوٰی پر منحصر ہے اور اس کی راہ کا حصول جہاد پر۔ جہاد سے مراد اﷲ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور کوشش ہے۔

ترقیات کا مانع

اﷲ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقوٰی اﷲ سے روکنے والی ایک خطرناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مُبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہےفَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِ کسی قِسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرے۔ اسی کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ سچے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے۔ خواہ کسی قِسم کا علم ہو، وجدان کا،سائنس کا ،صَرف و نحو یا کلام یا اَور علوم، غرض کچھ ہی ہو۔ اِنسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقیوں کی پیاس مٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے۔

راست باز انسان کی پیاس سچائی سے کبھی نہیں بجھ سکتی بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے۔ اس کا ثبوت اِس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ ایک کامل انسان، اَعْلَم بِاﷲ، اَتقٰی لِلّٰہ، اَخْشٰی لِلّٰہ جس کا نام محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہے وہ اﷲ تعالیٰ کے سچے علوم۔ معرفتیں۔ سچے بیان اور عمل در آمد میں کامل تھا اس سے بڑھ کر اَعلم۔ اَتقٰی اور اَخشٰی کوئی نہیں۔ پھر بھی اس امام المتقین اور امام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طہ 115) اِس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچائی کے لئے اور اﷲ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں اور علومِ حقہ کے لئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی جس قدر وہ نیکیوں اور تقوٰی میں ترقی کرے گا۔ جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بجھا ہؤا محسوس کرے اور فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِ کے آثار پائے اس کو استغفار اور دُعا کرنی چاہیے کہ وہ خطرناک مرض میں مبتلا ہے جو اس کے لئے یقین اور معرفت کی راہوں کو روکنے والی ہے۔

چونکہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بے اَنت اور اس کے مراتب و درجات بے اِنتہا ہیں پھر مومن کیونکر مستغنی ہو سکتا ہے۔ اِس لئے اسے واجب ہے کہ اﷲ کے فضل کا طالب اور ملائکہ کی پاک تحریکوں کا متّبع ہو کر کتاب اﷲ کے سمجھنے میں چست و چالاک ہو اور سعی اور مجاہدہ کرے۔ تقوٰی اختیار کرے تا سچے علوم کے دروازے اس پر کھلیں۔

غرض کتاب اﷲ پر ایمان تب پیدا ہو گا جب اس کا علم ہو گا اور علم مُنحصر ہے مجاہدہ اور تقوٰی پر اور فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِ سے الگ ہونے پر۔     ♣:♣♣♣

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *