لداخ کا چین بھارت تصادم اور کشمیر کا مقدمہ

فاروق درویش

بھارت کی ذلت آمیز شکست کے بعد عالمی ایوانوں میں کشمیری مسلمانوں کے حق خود ارادیت کا مقدمہ ایک جنوں خیز انداز کے ساتھ اجاگر ہو گا۔چين اور بھارت کے مابين حالیہ جنگی تصادم میں بھارت کی جنگی مہم جوئیوں کی  رسوائی کے بعد خطے میں نئی اسٹریٹیجک صف بندیوں کے جو تازہ اشارے مل رہے ہیں ۔ یقینی طور پر ان سے پاکستان کیليے سفارتی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ اور قوی امید ہے کہ اب عالمی ایوانوں میں کشمیری مسلمانوں کے حق خود ارادیت کا مقدمہ ایک جنوں خیز انداز کے ساتھ پھر سے اجاگر ہو گا۔مودی سرکار کے وجود میں آنے کے بعد سے بھارت  اندرونی خلفشار میں ڈوب رہا ہے۔ نریندرمودی کی متشدد مذہبی پالیسیوں کی وجہ سے صرف بھارتی مسلمان ہی نہیں دیگر اقلیتیں بھی معاشرتی و معاشی نا انصافی اور جبر کا شکار ہیں۔ آج مودی سرکار کی مذہبی متشدد سیاست میں لتھڑا ہوا نام نہاد سیکولر بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کیخلاف مہم جوئیوں سے عالمی امن کیلئے سنگین خطرات کی گھنٹی بجا رہا ہے ۔بھارت کی روایتی مہم جوئیوں کے جنون اور دوسروں کے علاقوں میں مداخلت کی دیرینہ روش کے نتیجے میں تازہ جھڑپ ميں بھارت کے بیس سے زائد فوجی ہلاک اور 60 کے قریب شدید زخمی ہوئے ہیں۔  چین کے ہاتھوں بھارت کی  ذلت آمیز شکست اور فوجی ہلاکتوں کی وجہ بھارت میں پریس اینڈ میڈیا اور سوشل میڈیا ہی نہیں تابڑ توڑ سوال اٹھاتی بھارتی اپوزیشن اور غم و غصہ میں بپھری ہوئی عوام کی طرف سے بھی مودی سرکار پر کڑی تنقید کا ایک طوفان امڈ آیا ہے۔ بھارتی آل پاریٹیز کانفرنس میں نریندر مودی نے بھارت کی ذلت اور رسوائی کو یہ کہہ  کر جھوٹ کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی ہے کہ  چین نے بھارت  کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کیا۔ حالانکہ عالمی پریس اور سیٹیلائٹ تصاویر تصدیق کرتے ہیں کہ چینی فوج بھارتی قبضے والے علاقے کے سینکڑوں مربع کلومیٹر ایریا  پر قابض ہے موجودہ صورت حال میں حکومت اور افواج پاکستان  نہ صرف اپنی سرحدوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ اندرون بھارت میں مودی سرکار کیخلاف تنقیدی طوفان کا بھی بغور جائرہ لے رہے ہیں۔حالات میں آگ بھڑکنے کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارت نے عالمی اداروں کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر کشمیر اور لداخ کی بھارتی آئین میں دی گئی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے دو حصوں، لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کیا۔ جس کیخلاف پاکستان اور چین میں عوامی اور سرکاری سطح پر زوردارآواز اٹھ رہی ہے۔عالمی اداروں کی قراردادوں کے برخلاف اس اقدام کی جہاں پاکستان میں عوامی اور سرکاری سطح پر سخت مخالفت کی گئی ہے۔ وہاں چین بھی سخت گیر رد عمل کے ساتھ فریق بن کر سامنے آیا ہے۔ چین  بھی لداخ کے بھارتی اقدامات کو مسترد کر کے  انہیں واپس لینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس وجہ سے کئی ماہ سے چین اور بھارت کے مابین لداخ سیکٹر میں مسلسل تناؤ رہا ہے۔یہ بھارت کی ناقابل فہم ہٹ دھرمی ہے کہ وہ عالمی اداروں کی قراردادوں کے باوجود جموںو کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ لیکن پاکستان اور چین اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حل طلب معاملہ قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔پاکستان میں کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چین دراصل انڈو پیسیفک اتحاد میں بھارت کی سرگرمیوں کے بارے شدید تحفظات رکھتا ہے ۔ چین خطے میں جاری بھارتی سرگرمیاں اپنے ریاستی مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔ عالمی مبصرین جانتے ہیں کہ یہ حالیہ کشیدگی اس نئی اسٹریٹیجک صف بندی کا واضح اشارہ ہے جس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے ۔

عالمی منظر پر بغور نظر ڈالیں تو ایک طرف امریکہ اور اس کا نیا اتحادی  بھارت ، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور جاپان کھڑے ہیں۔ یہ عالمی اتحاد  اسٹریٹ آف ملاکا میں چین کا راستہ بند کرنے کیلئے اس کے ہر نوعیت کے مفادات کی راہ میں مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف روس کی تازہ لابنگ کی بدولت چین کے ساتھ پاکستان، نیپال، بھوٹان اور خطے کے وہ دوسرے چھوٹے ممالک اکٹھے ہو رہے ہیں جو بھارت کی ڈبل فیس سیاست اور  چودھراہٹ  سے سخت عاجز ہیں۔چین بھارت کی امن دشمنی ، ہمسایہ ممالک کے معاملات میں مداخلت اور اینٹی سٹیٹ عناصر کی سرپرستی کو امن اور معاشی ترقی کے سفر میں بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے لہذا وہ ہر قیمت پر ایسی مشکلات کا خاتمہ چاہتا ہے۔ چین کو  کسی بحرانی صورت میں  جو متبادل روٹ دستیاب ہو سکتا ہے وہ صرف پاکستان سی پیک کی شکل میں فراہم کر سکتا ہے۔ گو کہ ہر  اسٹریٹیجک لیول پر پاک چین تعلقات ہمیشہ سے بڑے مضبوط رہے ہیں۔ لیکن لداخ میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے مفادات اب مشترکہ مفادات میں بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ اور عالمی مبصرین کے مطابق مستقبل  میں ان  تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا ہوگی۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اس صورت حال سے پاکستان کو کافی فائدہ پہنچ رہا ہے۔  پاکستان سفارتی سطح پر بھوٹان، نیپال اور چین کے ساتھ مل کر بھارت کو خطے میں تنہا کر سکتا ہے۔  چین سے قریبی تعلقات والے ممالک سے ملکر بین الاقوامی سطح پر بھارت پر اس بات کیلئے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ کشمیر کی سابقہ حیثیت فوری بحال کرے ۔ نریندر مودی اپنی ہٹ دھرمیوں پر اڑے رہے تو چین اور پاکستان کا  مشترکہ رد عمل کشمیر میں بھارت کیليے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ عالمی برادری بھی جانتی ہے کہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل ہونے سے مقبوضہ کشمیری مسلمانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جبکہ نریندر مودی کے برسر اقتدار آتے ہی کشمیر میں نہتے عوام پر ریاستی جبر و تشدد میں انتہائی اضافہ ہوا ہے۔  لیکن افسوس کہ حکومت پاکستان یا برادر مسلمان ممالک نے بھارتی اقدامات کیخلاف نہ تو کوئی بھرپور آواز اٹھائی اور نہ ہی کوئی عملی اقدامات کئے ہیں۔ لیکن چین اور بھارت کے حالیہ تصادم  کے بعد صورت حال یکسر بدلتی نظر آتی ہے۔اب پاکستان کے  ساتھ چین بھی یہ مطالبہ مضبوط انداز میں کر رہا ہے۔ بظاہر پاکستان کی پہلی ترجیح یہی ہو گی کہ پہلے کشمیر کی سابقہ خصوصی حیثیت بحال کی جائے تاکہ کشمیری مسلمانوں کی مایوسی کم ہو۔ لہذا اب چین کے ساتھ مضبوط سٹانس کے ساتھ کھڑا ہونا انتہائی اہم ہے۔ چونکہ  شکست خوردہ بھارت ابھی بیک فٹ پر ہے لہذا چین اور پاکستان کی طرف سے اس زوردار مطالبے کی شدت سے  بھارت پر شدید دباؤ بڑھے گا۔پاکستان کو یہ خدشہ رہا ہے کہ بھارت اس کیخلاف کوئی مہم جوئی کر سکتا ہے۔ لیکن دفاعی مبصرین کے مطابق چین کے ساتھ حالیہ تصادم کے بعد اب بھارت کی پاکستان کیخلاف ممکنہ مہم جوئی کی منصوبہ بندیوں کو زبردست دھچکا لگا ہو گا۔ بھارت مشرقی سرحد پر درپیش ان حالات میں اب پاکستان کیخلاف کسی جنگی مہم جوئی کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ وہ دونوں سرحدوں پر جنگ چھیڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور ویسے بھی پچھلے ایک ماہ سے چین نے دنیا کو اس کی ” نام نہاد مہان جنگی قوت ” کا جو بینڈ بجایا ہے ، اس کے بعد بھارت میں مزید مہم جوئی کی ہمت باقی نہیں ہو گی۔ بھارت جانتا ہے کہ چین اور پاکستان شانہ بشانہ ساتھ ہیں۔ لہذا دوطرفہ محاذ کھولنے کا انجام بھیانک ہو گا۔ہمسایہ ممالک کیخلاف مہم جوئیوں کی عادت سے مجبور بھارت نے چینی سرحد کے اندر مہم جوئی کی جو کوشش ، چین نے منہ توڑ جواب دیکر بتا دیا کہ یہ مقبوضہ کشمیر نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں بھارت اس خوف میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے کہ کہيں چین اور پاکستان اس کیخلاف کوئی مشترکہ منصوبہ تو نہيں کر رہے۔ لہذا اس صورت حال میں پاکستان اور چین کو مضبوط باہمی منصوبہ بندی اور ورکنگ ریلیشن کو مزید فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔یاد رہے کہ راجیو گاندھی کے دورے میں کشمیر ہاؤس کے بورڈ پر پردے ڈالنے والی پاکستانی حکومتوں سے زیادہ امیدیں رکھنا مابعد دل آزاریوں کا سبب ہوتا ہے۔  البتہ افواج پاکستان اور حساس قومی ادارے اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے مکمل الرٹ ہیں۔ عسکری قیادت بھارت اور چین کے مابین کشیدگی کے سنگین حالات میں اپنے ملکی مفادات کا تحفظ بہتر جانتی ہے۔ اس وقت پاکستانی پالیسی کی پہلی ترجیح کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرانا اور چین سے اشتراک عمل کو وسیع سے وسیع تر کرنا ہی ہونی چاہئے۔خطے میں پائیدار امن اور کشمیر کی آزادی کیلئے پاکستان اور چین میں مضبوط اشتراک عمل اورفعال تر ورکنگ ریلیشن شپ ایک سنہری کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور میرے دل میں  امید جاگی ہے کہ  اب  میں ان شاء اللہ آزادی کے ساتھ اپنے آبائی شہر ضلع اننت ناگ کشمیر میں مقیم اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے ضرور ملوں گا ۔ ۔ ۔ ۔    ۔ ♣♣♣♣

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *