رپورٹ رحمت اللہ میر بلوچ بیوروچیف بلوچستان

 

 

 

 

قلات میں بلڈ بینک کے قیام کیلئے قلات نوجوان اتحاد کی جانب سے اہم قدم، میڈیکل آفیسر ڈی ایچ کیو قلات نے بلڈ بینک کیلئے قلات نوجوان اتحاد کو کمرہ الاٹ کرکے کمرے کی چابی انکے حوالے کردیا۔

قلات نوجوان اتحاد کی جانب سے گزشتہ برس سے قلات میں تھیلیسیمیاکے مریض سمیت ایکسیڈنٹ و دیگر حادثات و واقعات یا خواتین کو بروقت خون کی ضرورت کو مد نظر رکھ کر بلڈ بینک کے قیام کیلئے کوششیں جاری رکھی تھیں۔ نوجوانوں کی کوشش رنگ لائی اپنے کوشش میں نوجوان کامیابی سے ہمکنار ہوئے، جبکہ صوبائی سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان دوستین جمالدینی، کے دورہ قلات کے موقع پر بھی، نوجوان اتحاد کی جانب سے انہیں بلڈ بینک کیلئے ڈی ایچ کیو میں کمرہ الاٹ کی درخواست کی گئی تھی- جس پر سیکرٹری نے ایم ایس کو ہدایت کی کہ انہیں کمرہ الاٹ کرے۔ گزشتہ روز ایم یس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر علی اکبر نیچاری نے قلات نوجوان اتحاد کے چیئرمین اسداللہ نیچاری، ڈاکٹر مقدم بلوچ کو بلڈ بینک کے لئے کمرے کی چابی فراہم کرکے کمرہ الاٹ کیا۔ عبدالقدیر نیچاری، کو بطور انچارج ذمہ داری دیدی گئی۔  اس موقع پر قلات نوجوان اتحاد کے میر ذوالفقار جتک، وقار بلوچ،  عبدالقدیر نیچاری،  شیخ راشد نعیم سمیت دیگر موجود تھے۔ اس موقع پر قلات نوجوان اتحاد کے چیئرمین اسداللہ نیچاری، وقار بلوچ،میر ذوالفقار جتک و دیگر نے ایم ایس کے اقدام پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، یہ انسانیت کی خدمت ہے- بلڈ بینک کے قیام سے کئی ضرورت مند مستفید ہونگے۔خون دینا صدقہ جاریہ ہے- جبکہ کئی، قیمتی جانیں بروقت خون ملنے پر بچ سکتے ہیں- اس میں ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے انہوں نے کہا، کہ حکومت ،مخیر حضرات اب بلڈ بینک کی فعالی کیلئے کردار ادا کریں۔ جبکہ خون عطیہ کرنے والے حضرات ڈی ایچ کیو قلات، یا کراچی لیبارٹری ہسپتال روڈ پر رابطہ کرکے اپنا نام رجسٹرڈ کروائیں۔       ♣♣♣

 

 

چاغی میں سردار حاکم علی خان سنجرانی کی بطور چیف آف چاغی دستار بندی کردی گئی۔

مرحوم سردار تاج محمد خان سنجرانی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے کو ان کا جانشین نامزد کردیا گیا/نامہ نگار بلوچستان رحمت اللہ میر بلوچ ماہنامہ انٹرنیشنل۔

تفصیلات کے مطابق چاغی میں چیف آف چاغی سردار حاکم علی خان سنجرانی کا قبائلی رسم و رواج کے مطابق سنجرانی قبائل کے ذیلی شاخوں کے سربراہان اور چاغی و گرد و نواح میں آباد 72 قبائل کے قبائلی عمائدین نے دستار بندی کرکے انھیں باقاعدہ طور پر چیف آف چاغی منتخب کرلیا۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ،نومنتخب چیف آف چاغی سردار حاکم علی خان سنجرانی نے کہا کہ دستار محض چند گز کپڑے یا رسم کا نام نہیں بلکہ ہمارے صدیوں پر محیط قبائلی معاشرے میں اس کی بہت بڑی اہمیت اور ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دستار میں ہمارے تمام قبائلی رسم و رواج پروئے ہوئے ہیں، اور یہ ہمارے قبائلی رسم و روایات صدیوں پر محیط ہے جو نسل در نسل آرہے ہیں جو نسل در نسل چلتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی قوموں کی شعور کا صدی ہے اور بلوچ قبائل کے رسم و رواج دنیا کی نایاب رسم و رواج ہے ،اس کو برقرار رکھنے کے لیے سنجرانی قبائل سمیت تمام قبائل کو کردار ادا کرنا ہوگا، اور اس صدی میں قبائلی تنازعہ کا کوئی گنجائش نہیں، اور نہ ہی بلوچ قوم کسی تنازعہ کا متحمل ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ہمارے قبائل اور دوسرے اقوام نے ہمارے کاندھوں پر جو ذمہ داریاں ڈال دی ہے ،ہم اپنے بزرگوں کی نقش قدم پر چل کر اپنے آباؤ اجداد کی قبائلی رسم و رواج کی ہر صورت پاسداری ممکن بنانے کیلئے اپنے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کریں گے۔رسم دستار بندی کے تقریب سے میر اعجاز خان سنجرانی، سردار نجیب سنجرانی، سردار آصف ذگر مینگل، سابق سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی، سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی، مولانا نجیب اللہ محمدحسنی، سردار نادر خان بادینی، سردار اکبر جان محمد حسنی نے بھی خطاب کیا۔

♣♣♣

 

کمشنر نصیرآباد ڈویژن عابد سلیم قریشی نے کہا ہےکہ نصیرآباد ڈویژن بلوچستان کا واحد گرین بیلٹ ہے- جہاں پر زراعت گلہ بانی کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے کاروبار سے کروڑوں روپے کا انکم کمایا جا سکتا ہے- سیم و تھور والی زمینیں جو ناقابل کاشت ہیں- ان میں مچھلیوں کے تالاب بنا کر لاکھوں من مچھلیوں کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے- اس شعبے کو مزید تقویت دینے کے لیے صوبائی حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے- تاکہ لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے انہیں باوقار طریقے سے روزگار فراہم کیا جا سکے، ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچستان کی پہلی بنائی جانے والی ہچری سنٹر میں سالانہ لاکھوں کی تعداد میں مختلف اجناس کی مچھلیوں کے بیج پروڈیوس کیے جاتے ہیں- زمینداروں اور کاشتکاروں کو دیگر فصلات کی ساتھ ساتھ مچھلیوں کی افزائش کیلئے بھی آگے آنا ہوگا- تاکہ صوبے بھر کی عوام کے لیے مچھلیوں کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے -ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ مراد جمالی میں ہچری سنٹر کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد حافظ محمد قاسم کاکڑ، تحصیلدار بہادر خان کھوسہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر تاج محمد بگٹی اور مصدق خان موجود تھے- ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز نصیرآباد لکھمی چند نے کمشنر نصیرآباد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا، کہ نصیر آباد ڈویژن کی زمین ماہی گیری کے لیے موزوں ہے- تین ہزار ایکڑ پر پرائیویٹ مچھلیوں کے تالاب ہیں- جبکہ 33 ماڈل فش فارم بھی قائم ہیں- ان تالابوں، نہروں سے سالانہ دو ہزار میٹرک ٹن مچھلیاں حاصل کی جاتی ہیں- جو اندرون بلوچستان سمیت شکارپور اور سکھر سندھ کی منڈیوں میں لائی جاتی ہیں- انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں سب سے پہلے نصیرآباد میں ماہی گیری کے صنعت کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے ہچری سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا، یہاں پر مختلف اقسام کی مچھلیوں جس میں رو،موراکھی، تھیلا ،ڈمبرا ،گلفام سمیت دیگر مچھلیوں کی افزائش کے لیے ان سے بیج حاصل کیے جاتے ہیں، جو یہاں کے مقامی زمینداروں کو سستے داموں فروخت کئے جاتے ہے، اس وقت نصیرآباد ڈویژن میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر مچھلیوں کے تالاب بنائے گئے ہیں، جبکہ کہ پٹ فیڈر کینال اور کیرتھر کینال سمیت دیگر ذیلی شاخوں سے بھی سالانہ لاکھوں من مچھلیاں حاصل کی جاتی ہیں- جس کا سرکاری سطح پر ٹینڈرز ہوتے ہیں- گزشتہ سال بھی 33 لاکھ روپے سے زائد کا ریونیو حاصل کر کے صوبائی خزانے میں جمع کروا دیا گیا- کمشنر نصیرآباد ڈویژن عابد سلیم قریشی نے کہا، کہ زمینداروں اور کاشتکاروں کو چاہیے، کہ وہ زیادہ سے زیادہ ماہی گیری کی جانب راغب ہوں- تاکہ کم اخراجات پر لاکھوں روپے کا منافع حاصل کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ کاشتکار اپنی غیر آباد زمینوں میں مچھلیوں کے تالاب لگائیں- جس میں محکمہ ماہی گیری ان سے مکمل تعاون کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے- اس کاروبار میں تھوڑے سے پیسے انویسٹ کر کے لاکھوں روپے کمائے جا سکتے ہیں- انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے پروسیسنگ پلانٹ کے انعقاد کے لیے، جلد صوبائی حکومت سے رابطہ کریں گے، اور ماہی گیری کی صنعت میں درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ تاکہ اس صنعت کو مزید فروغ دیا جاسکے، حکومت کے یہ اقدام بے روزگاری کے خاتمے میں سود مند ثابت ہورہا ہے- اور وہ بیروزگاری سے نکل کر باوقار طریقے سے کاروبار کررہے ہیں-

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *