راولپنڈی کے پارسی، کہاں سے آئے کہاں چلے گئے؟

تحریر: سجاد اظہر

 

راولپنڈی شہر جس کی تعمیر و ترقی میں پارسیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، آج وہاں آباد پارسیوں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔

پارسی زرتشت کے پیروکار ہیں جن کاعہد آٹھویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ ساسانی سلطنت ( 226 تا 651) کو جب عروج حاصل ہوا اور یہ اکیلے دنیا کی سپر پاور کے منصب پر فائز ہوئی تب اس کا با ضابطہ مذہب پارسی ہی تھا۔ ایرانی سماج میں جب بین المذاہب ہم آہنگی متاثر ہوئی تو پارسیوں نے ایران کو خیرباد کہنا شروع کیا۔ہندوستان میں پارسیوں کی آمد آٹھویں سے دسویں صدی کے درمیان ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ مہاجر بن کر گجرات کے ساحلوں پر آئے تو وہاں کے مقامی حکمران جادی رانا نے انہیں دودھ سے لبالب بھرا پیالہ بھیجا۔اس میں رمز یہ تھی کہ ہمارا ملک پہلے ہی لوگوں سے بھرا ہوا ہے اس میں کسی اور کی گنجائش نہیں ہے۔اس کے جواب میں پارسیوں کے مذہبی پیشوا نے اس دودھ میں شکر ملا کر واپس راجہ کو بھجوا دیا۔ مطلب یہ تھا کہ ہم دوسروں کی جگہ نہیں گھیریں گے بلکہ ہمارے دم سے ملک کو فائدہ ہو گا۔تاریخ نے ثابت کیا کہ اگلے ایک ہزار سال کی تاریخ میں پارسیوں نے ہندوستانی تہذیب و تمدن پر خوش کن اثرات مرتب کیے۔راولپنڈی میں پارسیوں کی آمد اس وقت شروع ہوئی جب انگریزوں نے1849 میں یہاں ہندوستان کی سب سے بڑی چھاؤنی کی بنیاد رکھی۔ پارسیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور اور بمبئی سے تجارت کی غرض سے راولپنڈی آئے تھے۔ 1855 کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 15913 افراد پر مشتمل تھی جو اگلے 36 سالوں یعنی1891 میں بڑھ کر 73795 ہو گئی تھی (بحوالہ راولپنڈی گزیٹیئر 1910)۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ چھاؤنی کے بننے اور ریلوے نظام سے منسلک ہونے کے بعد راولپنڈی کی ترقی کا نیا دور شروع ہو گیا تھا۔تقسیم کے وقت راولپنڈی شہر کی 56 فیصد آبادی غیر مسلم تھی، پر اس میں پارسیوں کی تعدا د بہت کم تھی۔ یہ خالصتاً تجارت پیشہ کمیونٹی تھی۔ جو صدر میں مختلف کاروباروں سے وابستہ تھی اور صدر بازار میں قابل ذکر دکانوں کے مالک پارسی ہی تھے۔ کسی گزیٹیئر میں شہر میں پارسیوں کی تعداد تو نہیں لکھی گئی لیکن 1891 کی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ شہر میں سب سے پڑھی لکھی کمیونٹی عیسائی ہیں جن کے 87 مرد اور 52 عورتیں پڑھی لکھی ہیں جبکہ پارسیوں میں یہ شرح بالترتیب 84 اور 60 فیصد ہے۔ اس طرح یقیناً پارسی ہی شہر کی سب سے پڑھی لکھی برادری تھی۔واضح رہے اس دور میں مسلمانوں میں پڑھے لکھے افراد کی تعداد صرف تین فیصد کی تھی اور ہندوؤں اور سکھوں میں بالترتیب 29 اور 35 فیصد پڑھے لکھے مرد موجود تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 1893 میں شہر میں واحد فرسٹ کلاس اعزازی مجسٹریٹ ایک پارسی دھنجی بھائی تھے۔ ان کے ساتھ شہر کی معروف کاروباری شخصیت اور سجھان سنگھ حویلی کے مکین سردار سجھان سنگھ سیکنڈ کلاس اور رؤسائے پنجاب میں شمار کیے جانے والے بہت بڑے جاگیردار بیدی گر بخش سنگھ کلر سیداں تھرڈ کلاس مجسٹریٹ تھے۔اس کا مطلب ہے کہ شہر کی سماجی زندگی میں جو عزت و مرتبہ پارسیوں کو حاصل تھا دوسری برادریاں اس سے کوسوں دور تھیں۔جنرل میسی راولپنڈی شہر کے پہلے کمشنر تھے۔ ان کی یاد میں 1880 میں صدر میں ایک یادگار میسی گیٹ کے نام سے بنائی گئی۔ اس گیٹ کی تعمیر شہر کے مخیر حضرات کے طفیل ممکن ہوئی تھی جن میں دھنجی بھائی پیش پیش تھے۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 1845 میں پیدا ہوئے اور مواقع کی تلاش میں راولپنڈی میں مقیم ہوئے۔ جلد ہی اپنی محنت شاقہ کے بل بوتے پر شہر کی اہم شخصیت بن گئے۔ وہ اپنے وقت کے ٹرانسپورٹر تھے اور فوجی سازوسامان کی نقل و حمل کے ٹھیکیدار تھے۔انہوں نے اینگلو افغان جنگوں میں تانگہ ایمبولنس سروس متعارف کی جس کی وجہ سے میدان جنگ میں سینکڑوں فوجیوں کی جانیں بچائی گئیں۔ تانگہ سروس کی ان کی کمپنی کا نام دھن جے بھائے اینڈ سنز تھا۔ پنڈی سے کشمیر تک ان کے تانگے چلا کرتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ان کی سروس سے پہلے پنڈی سے سری نگر تک 200 میل کا سفر 14 دنوں میں ہوتا تھا لیکن ان کی شاندار سروس کی وجہ سے یہ سفر اب 24 گھنٹوں میں سمٹ آیا تھا۔ جو یورپی سیاح سری نگر جاتے تھے وہی انہی کے تانگہ سروس سے مستفید ہوتے کیونکہ اس زمانے میں سری نگر جانے کا یہی ایک راستہ تھا۔ہر چند میل کے بعد ان کے تانگوں کے اڈے بنے ہوئے تھے جہاں سے تازہ دم گھوڑے لے کر جوتے جاتے ۔ یہ ٹانگے میسی گیٹ سے چلتے تھے جس کے اوپر والی منزل پر شہر کی پہلی عوامی لائبریری دھن جی بھائے پبلک لائبریری بھی تھی۔ یہاں شہر کے علم دوست افراد کی محفلیں جما کرتیں۔ انہیں خان بہادر کےاعزازی خطاب کے ساتھ او بی ای، یعنی آرڈر آف برٹش ایمپائر کا خطاب بھی ملا ہوا تھا۔ 1893 میں انہیں قیصر ہند فرسٹ کلاس گولڈ میڈل بھی دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں کلکتہ لائٹ ہاؤس کا اعزازی طور پر تاحیات رکن بھی بنایا گیا تھا اس لیے ان کے نام کے ساتھ کموڈور بھی لگتا تھا۔ آپ ہندو ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ لاہور کے گورنر بھی تھے۔ 25 سال مری کی میونسپل کمیٹی کے رکن اور 12 سال نائب صدر بھی رہے۔ 1911 میں ان کا انتقال ہوا۔ ممتاز بھارتی صحافی اور مصنف عادل جسووالہ ان کے نواسے ہیں۔انجمن پارسیان کے صدر اور سابق اقلیتی ایم این اے اسفند یار بھنڈارا نے انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تقسیم کے وقت یہاں ستر اسی خاندان تھے مگر اب مشکل سے پانچ چھ رہ گئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ تقسیم کے وقت بھارت چلے گئے تھے، تو انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی مستند تاریخ تو نہیں ہے شاید شہر میں ہونے والے ہنگاموں میں ان کی جائیدادوں کو بھی آگ لگائی گئی اور لوٹ مار کی گئی ہو۔ اگرچہ پارسیوں کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا لیکن شاید کچھ لوگ ان کی جائیدادوں کو ہتھیانا چاہتے تھے کیونکہ شہر کے سب سے متمول لوگ وہی تھے۔ ہو سکتا ہے سارے تقسیم کے وقت نہ گئے ہوں لیکن بعد کے حالات اور مواقع کی تلاش کی وجہ سے پارسی یورپ، امریکہ اور کینیڈا ہجرت کر گئے۔اسفند یار بھنڈارا نے بتایا کہ ’میرے دادا پی ڈی بھنڈارا نے 1947 میں مری بروری کمپنی خرید لی تھی ۔ مری بروری کی بنیاد دو انگریزوں ایڈورڈ ڈائر اور ایڈورڈ ویمپر نے 1861 میں مری میں رکھی تھی جو اس وقت ایشیا کی پہلی جدید ترین بروری تھی جس کا مقصد انگریز فوجیوں اور افسر شاہی کی ضروریات پوری کرنا تھا۔ 1947 میں جب تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کی وجہ سے مری میں بروری کی فیکٹر ی کو آگ لگا دی گئی تو میرے خاندان نے یہ کمپنی خرید کر اسے راولپنڈی منتقل کر دیا کیونکہ یہ جگہ بھی کمپنی کی ملکیت تھی۔‘

اسی فیکٹری کے سامنے ان کے دادا کا وکٹورین سٹائل کا شاندار بنگلہ تھا جسے ضیا دور میں آرمی کے سربراہ کی رہائش کے لیے دے دیا گیا تھا۔ اسفند یار بھنڈارا کے والد ایم پی بھنڈارا آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹیوں کے فاضل تھے اور تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی تین بار پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کی ایک بہن بپسی سدھوا اس وقت ہیوسٹن میں مقیم ہیں اور نامی گرامی مصنفہ ہیں جنہوں نے کئی ناول اور فلمیں لکھ رکھی ہیں۔شہر میں پارسی کتنے تھے یہ تو معلوم نہیں لیکن ناز سینما کے بالمقابل مری روڈ کے ساتھ متصل پر شکوہ قبرستان کی عمارت یہ بتاتی ہے کہ یہ برادری کبھی شہر کی سماجی اور معاشی زندگی کا اہم جزو تھی۔ یہاں 130 سے زائد قبریں ہیں۔ سب سے پرانی قبر پر تاریخ وفات 1860 درج ہے۔ یہاں دو قبریں ایسی بھی ہیں جن پر لگے کتبے پر تاریخ وفات 1947 اور وجہ قتل درج کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر میں ہونے والے فسادات میں پارسیوں کو بھی نہیں بخشا گیا تھا۔اکثر قبروں پر درج نام جسووالہ اور میانوالہ ہیں کیونکہ پارسی اپنے نام کے ساتھ عموماً ’والا‘ کالاحقہ استعمال کرتے ہیں۔ قبرستان کے مرکزی دروازے پر جو تختی لگی ہوئی ہے اس پر انگریزی کے ساتھ گجراتی لکھی ہوئی ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ راولپنڈی کے پارسی یا تو گجرات سے آئے تھے یا پھر یہ اپنی مادری زبان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

اسی قبرستان میں ایک قبر جماس جی ہرموس جی بوگا کی بھی ہے جو 21 مارچ 1884 کو فوت ہوئے وہ صورت کے مذہبی پیشوا تھے لیکن 1843 میں کراچی منتقل ہو گئے بعد ازاں وہ راولپنڈی آ گئے اور یہاں جماس جی اینڈ سنز کے نام سے کاروبار شروع کیا۔ جسے ان کی اولادوں نے مزید بڑھایا اور پنڈی کے ساتھ کابل، جلال آباد، پشاور، فیروزپور، سکھر، حیدر آباد ، جیکب آباد تک پھیلا دیا۔ اس قبرستان میں مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کرنے لیے رومن طرز کی ایک عمارت بھی ہے جس میں دو سو کے قریب لوگوں کے شریک ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ اس عمارت کے اندر اور اس کے بر آمدوں میں زرتشت مذہب کے بانی کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں جن پر ان کے اقوال بھی درج ہیں۔وہ شہر جو کبھی پارسیوں کے بغیر سانس نہیں لیتا تھا آج وہاں پارسیوں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ پارسیوں کے دیگر عبات خانے کہاں کہاں تھے کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاید آج ان پر پلازے کھڑے کیے جا چکے ہوں۔ میسی گیٹ جیسے اہم ورثے کو 50 سال پہلے ہی سڑک کھلی کرنے کے نام پر گرا دیا گیا تھا۔ پارسیوں کی آخری نشانی قبرستان بھی اب قبضہ مافیا کے نشانے پر ہے۔ اسفند یار بھنڈارا کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے انہیں تحفظ نہ دیا تو مافیا ہمارے بزرگوں کی قبریں بھی مٹا دے گا۔

♦♦♦

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *