درس القرآن

آیات مع ترجمہ:

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ  (الانعام 11)

اور یقیناً رسولوں سے تجھ سے پہلے بھی تمسخر کیا گیا پس ان کو جنہوں نے ان(رسولوں) سے تمسخر کیا انہی باتوں نے گھیرلیا جن سے وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ  (الانعام 12)

تُو کہہ دے زمین میں خوب سیر کرو پھر غور کرو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا (بد) انجام ہوا تھا۔

تفسیر:

اسی طرح پر ماموروں کی مخالفت خطرناک گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور ہوسکتا ہے۔ابلیس نے یہی گناہ کیا تھا۔انبیاء علیھم السلام کے حضور شیاطین بہت دھوکے دیتے ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ بڑے ہی بدبخت ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ذرّہ ذرّہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ معزّز و مکرم اور مطاع ہوتو اس کی مخالفت کرنے والا تباہ نہ ہوتو کیا ہو۔یہی سّر ہے جو انبیاء و مرسل اور مامورین کے مخالف ہمیشہ تباہ ہوئے ہیں۔وہ جُرمِ بغاوت کے مجرم ہوتے ہیں۔

پس کتابوں کے بعد رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ انسان متکبر ہوجاتا ہے اور پہلا گناہ دین میں خلیفۃ اللہ کے مقابل یہی تھاأَبَى وَاسْتَكْبَرَ ۔اس میں شک نہیں کہ سنت اللہ اِسی طرح پر ہے کہ ماموروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔اچھے بھی کرتے ہیں اور برے بھی۔مگر اچھوں کو رجوع کرنا پڑتا ہے اور بُرے نہیں کرتے۔مگر مبارک وہی ہیں جو اعتراض سے بچتے ہیں کیونکہ نیکوں کو بھی آخر مامور کے حضور رجوع اور سجدہ کرنا ہی پڑا ہے۔پس اگر ملک کی طرح بھی ہوپھر بھی اعتراض سے بچے کیونکہ خدا تو سجدہ کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا ورنہ لعنت کا طَوق گلے میں پڑے گا۔

(حقائق الفرقان جلداول صفحہ398)

حدیث:

قَالَ رَسُولُ اللہؐ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَھِیَ تَکُوْنُ مَعَ الْمَھْدِیِّ اِسْمُہُ اَحْمَدُ۔رواہ البخاریّ فی تاریخہ۔

(النجم الثاقب حصہ دوم صفحہ134)

آنحضرتﷺ نے فرمایا: ایک جماعت ہندوستان سے لڑے گی اور وہ مہدی کے ساتھ ہوگی جس کانام احمد ہوگا۔یہ روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کی ہے۔

نیزفرمایا:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنَ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ» يَعْنِي سُلْطَانَهُ                              (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی حدیث نمبر4078)

ترجمہ: حضرت عبداﷲ ؓ بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرق سے کچھ لوگ ظاہرہونگے جو امام مہدی علیہ السلام کی راہ ہموار کریں گے یعنی اس کی ترقی اوراس کے غلبہ کے لئے کوشش کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *