درد کی دائمی دھوپ میں خوشی ایک عارضی سایہ ہے

                   مترجم۔۔۔بلال احمد شمیم

خوشی کی تعریف کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ محسوس تو کی جا سکتی ہے لیکن بیان نہیں کی جاسکتی۔دولت سے خوشی نہیں خریدی جا سکتی یا یوں کہیں کہ خوشی دولت کی محتاج نہیں ہے۔ ایک شخص کے پاس لاکھوں روپے ہو سکتے ہیں لیکن وہ خوش بھی ہو یہ ضروری نہیں ۔خوشی دل میں موجزن ہونے والا ایک جذبہ ہے۔ اگر ایک شخص دولت مند ہو لیکن صحت مند نہ ہو اور اسے ذہنی سکون بھی میسر نہ ہو ہو تو اس کی دولت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ایک طالب علم محنتی ہو لیکن امتحان میں اس کے نمبر کم آئیں تو وہ خوش نہیں ہوگا البتہ اگر وہ اپنے والدین کی امیدوں اور توقعات پر پورا اتر جائے اور طے شدہ ہدف حاصل کر لے تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا ۔اگر ایک طالب علم کو میڈیکل یا انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل جائے تو ظاہر ہے اس کے والدین کو اتنی ہی خوشی ہو گی جتنی کہ اُس طالب علم کو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ ہمیں وہ زمانہ یاد آتا ہے یعنی اپنا دورِطالبِ علمی جب ٹیچر کی طرف سے کاپی میںGood/Very Goodیا Star ملتا تھا اور ہم گھر واپس آتے ہی خوشی خوشی والدین کو اپنی کامیابی کا جیتا جاگتا ثبوت دکھاتے تھے ۔ٹیچر کی طرف سے شاباشی حاصل کرکے ہم ساتویں آسمان میں پرواز کرنے لگ جاتے تھے۔ درحقیقت ٹیچرز ہمارے اندر خود اعتمادی ، جوش اور جذبہ بھرنے کے لئے ایسا کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں ۔ جب بچے خوشی خوشی اپنے والدین کو اسکول کی کاپی دکھاتے ہیں تو وہ بھی اپنے بچوں پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہر کسی کے لئے خوشی کا مفہوم اور معیار مختلف ہوتا ہے ۔بعض لوگ کرکٹ کا میچ دیکھنے میں لذت و فرحت محسوس کرتے ہیں اور اگر یہ میچ ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہو تو بات ہی الگ ہو جاتی ہے۔ بھارت اور برطانیہ کے ایک میچ کے دوران یوراج سنگھ کے زبردست چھکوں والا واقعہ کون بھلاسکتا ہے۔  یہ تو ذہنوں میں نقش ہو چکا ہے اور جس گیندباز کوچھکےلگے وہ کوئی معمولی گیندباز نہیں تھا۔اسی طرح ہریانہ کے ایک عام کھلاڑی جوگندر شرما جنہوں نے بھارت اور آسٹریلیا کے میچ کے دوران جو آ خری اوور پھینکاتھا ناقابل فراموش ہے۔ ان واقعات نے کرکٹ کے مداحوں کو وہ خوشیاں فراہم کیں جو کئی ہزار روپے دے کر بھی خریدی نہیں جا سکتیں۔ بعض لوگ اچھی موسیقی سن کر لذت محسوس کرتے ہیں۔ محمد رفیع اور کشور کمار کے پرانے فلمی نغموں کو سن کر راحت اور فرحت محسوس کرتے ہیں۔ انسان جب غمگین یا اداس ہو تو اس کے لئے تنہائی میں بیٹھ کر موسیقی سے دل بہلانا ایک اچھا شغل ہے۔ ہزاروں ایسے نغمے ہیں جو انسان کو وہ خوشی فراہم کرسکتے ہیں جو کروڑوں روپے سے بھی نہیں خریدی جا سکتی ۔جس کے پاس پہلے ہی پانچ گاڑیاں ہو وہ مزید ایک گاڑی آ سانی سے خرید سکتا ہے ۔ ایسا کرنے سے اس کی خوشی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔لیکن وہ شخص جس کے پاس ایک سائیکل ہو اور وہ اسکوٹر خرید لے تو اس کا دل بلیوں اچھلنے لگے گا۔بعض لوگ صرف اسی بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ان کا مضمون یا فوٹو کسی اخبار یا رسالے میں شائع ہواہے۔ روزانہ اخبار میں اپنا بھجوایا ہوا مضمون تلاش کرنا کہ شائع ہوا ہے یا نہیں بھی ایک دلچسپ عمل ہے ۔

خوشی اصل میں درد کی دھوپ میں ایک عارضی سایہ کے مانند ہے۔ اس لیے ہمیں خوشی کے مواقع تلاش کرنے چاہئیں، چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں۔ ضرورت مندوں کی امداد کرنا، مسافر یا اجنبی کو سہارا دینا، کسی مریض کے لئے خون کا عطیہ دینا یہ وہ نیک اعمال ہیں جن سے آپ کو دائمی خوشی حاصل ہو سکتی ہے اور جس کی آپ نے مدد کی ہے وہ تاعمر آپ کو یاد رکھے گا اور دعائیں دے گا۔اس کے برعکس اگر آپ ایک امیر آدمی کو شادی کے تحفہ میں دس ہزار روپے بھی دے دیں تو وہ  اگلے دن ہی بھول جائے گا۔

یاد رکھیں کہ دولت سے خوشی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ بے لوث اور بےغرض عمل سے ہی زندگی میں خوشی کا سورج روشن کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *