خورشید بسملؔ   کشمیر۔انڈیا۔

 

 

غزل

 

وہ بشر بے نظیر ہوتا ہے

جسکا زندہ ضمیر ہوتا ہے

اُسکا جینا بھی یار کیا جینا

نفس کا جو اسیر ہوتا ہے۔

نام بدنام پھر تو ہوگا ہی

کام ہی جب حقیر ہوتا ہے

حُسنِ اخلاق کا جو ہو پیکر

وہ تو خیرِ کثیر ہوتا ہے۔

جاہ وحشمت کا اعتبار کہاں

شاہ بھی تو فقیر ہوتا ہے۔

مال و دولت پہ انحصار نہیں

دل سے انساں امیر ہوتا ہے۔

لفظ پر ہوش کا رکھو پہرہ

یہ تو ترکش میں تیر ہوتا ہے۔

شاعری کو جو خون دے بسملؔ

وہ ہی غالبؔ یا میرؔ ہوتا ہے۔

♦♦♦

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *