جوگندر ناتھ منڈل: پاکستان کے پہلے وزیر قانون جنھیں پاکستان میں ’غدار‘ اور انڈیا میں ’سیاسی اچھوت‘ سمجھا گیا

 

تحریر : ثقلین امام

پاکستان میں عموماً مذہبی جنونیت میں اضافے اور پھیلاؤ کا ذمہ دار سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے نظام حکومت اور اُس کے بعد رائج ہونے والی ملائیت کی طاقت کو قرار دیا جاتا ہے۔لیکن تاریخ کے ایک اہم کردار، جوگندر ناتھ منڈل، نے 70 برس قبل اُس وقت کے وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے استعفے میں مذہبی جنونیت کے فروغ کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی مذہب کو ایک آلہِ کار کے طور پر استعمال کرنے اور پھر اس کے سامنے جھکنے کی روش کو قرار دیا تھا۔بانی پاکستان محمد علی جناح نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی دعوت انھیں دی تھی۔ اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر قانون بھی تھے۔جوگندر ناتھ منڈل کا تعلق بنگال کی دلت برادری سے تھا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے بنگال کی سیاست میں صرف برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی اہم معاملہ نہیں تھا بلکہ بعض لوگوں کی نظر میں اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ بنگال میں زمینداری نظام کی چکی میں پسنے والے کسان تھے جن میں زیادہ بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ اس کے بعد دلت تھے، جنھیں ’شودر‘ بھی کہا جاتا تھا لیکن انگریزوں کے زمانے میں انھیں ’شیڈول کاسٹ‘ کہا جانے لگا تھا۔زمینداروں کی اکثریت ہندو برہمنوں اور کائیستوں کی تھی جنہیں مقامی زبان میں ’بھدرو لوک‘ کہا جاتا تھا۔غیر منقسم بنگال کی کُل آبادی پانچ کروڑ دس لاکھ نفوس پر مشتمل تھی، جن میں 80 لاکھ دلتوں سمیت ہندوؤں کی کُل تعداد دو کروڑ بیس لاکھ تھی جبکہ مسلمانوں کی آبادی تقریباً دو کروڑ اسی لاکھ تھی۔ اونچی ذات کے ہندؤوں ’بھدرو لوک‘ کی کُل تعداد 30 لاکھ تھی۔اس طرح مسلمانوں کی آبادی 54 فیصد تھی، جبکہ اس کے بعد دلت تھے اور پھر ہندو برہمن۔ مسیحی اور دیگر مذاہب ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت تھے۔دلتوں میں جس نسلی گروہ کی سب سے زیادہ تعداد تھی وہ ’مہیشیا‘ تھے جن کی تعداد 35 لاکھ تھی اور اس کے بعد دلتوں کا دوسرا بڑا گروہ ’نامہ شودرا‘ تھے۔ اس گروہ سے جوگندر ناتھ منڈل کا تعلق تھا جو تقسیم سے پہلے کی سیاست میں دلتوں کو مسلم لیگ کے بہت قریب لے آئے تھے۔ وہ سنہ 1930 کی دہائی سے مسلم لیگ کے ایک مضبوط اتحادی تھے۔پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 11 اگست سنہ 1947 کو ہوا تھا یعنی باقاعدہ آزادی سے تین روز قبل۔ اور جب انڈیا اور پاکستان کو 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب کو آزادی ملی تو دلتوں کے ساتھ تعلقات کے سانچے کو مسلم لیگ نے ڈھال دیا تھا۔انڈیا اور پاکستان دونوں کے پہلے وزیر قانون دلت تھےاس کے بعد جب انڈیا میں بھی قانون سازی کا عمل شروع ہوا تو وہاں نہرو نے بھی اپنی کابینہ میں ایک غیر کانگریسی دلت رہنما ڈاکٹر امبیدکر کو انڈیا کا پہلا وزیرِ قانون نامزد کیا جن کے ذمے ملک کا پہلا آئین بنانا تھا۔بانی پاکستان جناح کی تقریر صرف ایک ویژن ہی نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی حکمتِ عملی بھی تھی۔ اور اسی حکمتِ عملی کے مطابق انھوں نے تقریر سے پہلے بنگال کے ہندو دلت رہنما جوگندر ناتھ منڈل سے قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرائی۔ (یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر پہلے سپیکر کے طور پر منڈل کا نام اب موجود نہیں ہے)۔

جوگندر ناتھ منڈل کون تھے؟

منڈل بنگال کے ایک قصبے باقر گنج میں کسانوں کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد کی خواہش تھی کہ گھر میں کچھ ہو یا نہ ہو، اُن کا بیٹا تعلیم ضرور حاصل کرے۔منڈل کی تعلیم کے لیے مالی مدد ان کے ایک بے اولاد چچا نے فراہم کی۔ مقامی سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے بنگال کے علاقے باڑی سال میں واقع بہترین تعلیمی ادارے برج موہن کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ باڑی سال مشرقی بنگال جو بعد میں مشرقی پاکستان بنا، کا ایک شہر تھا۔انھوں نے تعلیم کے بعد باڑی سال کی میونسپل سرگرمیوں سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور نچلے طبقے کی حیثیت کو بہتر کروانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اگرچہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے حامی نہیں تھے مگر انھوں نے محسوس کیا تھا کہ اونچی ذات کے ہندوؤں میں رہتے ہوئے شودروں کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں اور اسی لیے پاکستان اُن کے لیے ایک بہتر موقع ہو سکتا ہے۔جب انھوں نے جناح کی یقین دہانیوں کے بعد پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا تو انھیں اُن کے ساتھی اور انڈیا کے سب سے بڑے دلت رہنما ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیدکر نے خبردار کیا تھا۔ ڈاکٹر امبیدکر کا اپنا تعلق مہاراشٹر سے تھا۔تاہم قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جس طرح ڈاکٹر امبیدکر انڈیا کے وزیرِ قانون بنے، اُسی طرح جوگندر ناتھ منڈل بھی پاکستان کے وزیرِ قانون بنے۔ اور پھر دونوں کو چند برسوں کے بعد اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا۔منڈل آٹھ اکتوبر 1950 کو مستعفی ہوئے، جبکہ امبیدکر نے 27 ستمبر 1951 کو استعفیٰ دیا۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ منڈل مایوس ہو کر مستعفی ہوئے اور ملک کا آئین بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکے جبکہ امبیدکر نے انڈیا کا آئین جنوری سنہ 1950 میں مکمل کر کے اپنا تاریخی کردار بہرحال ادا کیا۔آئین بننے کے بعد امبیدکر نے ہندوؤں کے وراثت کے قانون میں لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر جائیداد میں حق کے لیے قانون سازی کی کوشش کی، جس میں ناکامی پر استعفیٰ دے دیا۔

11 اگست کی تقریر اور اقلیتیں

مؤرخین کا خیال ہے کہ پاکستان کے بانی اور ملک کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر میں انھوں نے پاکستان کے مستقبل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ملک کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ریاست کو مذہب سے الگ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔اسی خطاب میں جناح نے یہ بھی کہا تھا کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہے گا اور نہ مسلمان مسلمان رہے گا، مذہبی لحاظ سے نہیں کیونکہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، بلکہ سیاسی لحاظ سے ایک ریاست کے شہری ہوتے ہوئے۔‘جناح نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ہم ایک ایسے دور کی جانب سفر کرنے جا رہے ہیں جب کسی سے بھی کوئی امتیازی سلوک نہیں ہو گا، ایک کمیونٹی کو دوسری پر فضیلت نہیں دی جائے گی، کسی ذات یا نسل سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ہم سب اس ریاست کے برابر کے شہری ہیں۔‘بانی پاکستان کے اس خطاب سے ایک روز پہلے قائم مقام چیئرمین اور نئی ریاست کے قانون ساز اسمبلی کے پہلے سپیکر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے جوگندر ناتھ منڈل نے کہا تھا کہ انھوں نے پاکستان کا انتخاب اسی لیے کیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’مسلم کمیونٹی، جس نے انڈیا میں اقلیت ہوتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کی، وہ اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ نہ صرف انصاف کرے گی بلکہ اُن کے لیے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرے گی۔‘امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ غزل آصف اپنے حالیہ تحقیقی مقالے ’جوگندر ناتھ منڈل اینڈ پولیٹکس آف دلت ری کگنیشن اِن پاکستان‘ میں کہتی ہیں کہ ’پاکستان کے بننے میں منڈل نے دلتوں کی آزادی کے خواب کی تکمیل ہوتے ہوئے دیکھی تھی، لیکن نئی ریاست کی ہندو اقلیت کے اندرونی فرق کو سمجھے بغیر (یعنی شیڈول کاسٹ اور اونچی ذات کے ہندوؤں میں فرق کے بغیر اقلیت کو ایک اکائی سمجھنے والے ریاست کے نظریے کے سامنے) منڈل کا ویژن ٹھہر نہ سکا۔‘

کیا پاکستان نے منڈل کے ساتھ زیادتی کی؟

پروفیسر انیربان بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ یہ جاننا کہ جوگندر ناتھ منڈل کے ساتھ پاکستان میں زیادتی ہوئی تھی آسان کام نہیں ہے۔پروفیسر بندھیوپادھیائے انڈین ریاست گجرات کے شہر گاندھی نگر کے کٹناوتی کالج کے شعبہء تاریخ سے وابستہ ہیں اور امبیدکر اور منڈل پر ایک تحقیقاتی مقالے کے مصنف ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس بارے میں ایک منصفانہ جواب تبھی دیا جا سکے گا جب کوئی تاریخ دان پاکستان کے آرکائیوز کو کھنگالے۔‘تاہم ’(منڈل) نے اپنا موقف اپنے طویل ٹائپ شدہ استعفیٰ میں پیش کر دیا تھا جو انھوں نے اپنی سرکار کو بھیجا تھا۔ یہ استعفیٰ بہت واضح ہے۔ اصل میں سوال ٹھیک طریقے سے ہونا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ (نئی ریاست) کے مستقبل کے شہریوں کے لیے برابری کے حقوق دیے جانے کے بلند و بانگ دعوے جناح نے کیے تھے۔ ان کے ساتھ تو خود کچھ دھوکہ ہوا اور کچھ بے وفائی کی گئی۔‘پروفیسر بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ جناح ’واقعی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جو مذہبی قوم پرستی کا عفریت انھوں نے چھوڑا تھا وہ اُس پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اُن کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی۔ وہ ایک بہت ہی شریف النفس انسان تھے جنھوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ آنے والے دنوں میں ان کی اچانک موت نے پاکستان کے انتہا پسندوں کو عملاً شترِ بے مہار کر دیا۔‘وہ مزید کہتے ہیں ’یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ منڈل کو اُس ماحول میں مکمل طور پر غیر اہم بنا کر الگ تھلگ کر دیا گیا تھا، اُن کے لیے زندگی اتنی تنگ ہو گئی تھی کہ انھیں پاکستان سے بھاگنا پڑا۔ اگر انھیں کسی بات سے پاکستان میں دھوکہ ہوا تھا تو وہ جناح کا اپنے اختیار کے بارے میں غلط اندازہ تھا۔‘

جناح اور قراردادِ مقاصد

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز سے وابستہ محقق اور مورخ ڈاکٹر علی عثمان قاسمی کہتے ہیں کہ ’ایک دلت کو (ملک کی پہلی) آئین ساز اسمبلی کا سربراہ بنا کر قائدِ اعظم نے پاکستان کے ویژن کے بارے میں بہت واضح اشارہ دیا تھا۔ اگر وہ اقلیتی رہنما کو صرف علامتی نمائندگی دینا چاہتے تو وہ صرف ایک وزارت ہی دینے پر اکتفا کرتے۔‘

علی عثمان قاسمی کہتے ہیں کہ ’(جناح) ایک علامتی نمائندگی سے زیادہ اہم بات پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے (سنہ 1949 میں) منڈل کا قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعد پاکستان چھوڑ کر چلے جانا پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت اہم موڑ ہے کیونکہ اب وہ دیکھ سکتے تھے کہ نئی ریاست (پاکستان) کا سفر جناح کے ویژن سے مختلف ہو چکا ہے۔‘جوگندر ناتھ منڈل ایک دن کے لیے قانون ساز اسمبلی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے، اگلے دن محمد علی جناح اس کے صدر منتخب ہوئے۔ لیکن جب پاکستان کی پہلی کابینہ میں منڈل کو وزیرِ قانون بنایا گیا تھا اور جب تک جناح بقیدِ حیات رہے انھوں نے بظاہر کوئی شکایت نہیں کی۔بانی پاکستان محمد علی جناح کے انتقال کے بعد کئی ایک ایسے واقعات ہوئے جن سے جوگندر ناتھ منڈل اس بات سے مایوس ہو گئے کہ اس ملک میں اقلیتوں کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے انھیں اب پورا کرنے والا کوئی نہیں ہے، بلکہ ایسے افراد حکومتی عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں جو بہت زیادہ شدّ و مد کے ساتھ مذہب کو ریاست پر مسلط کر رہے ہیں۔اور اسی پس منظر میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی جس کے حق میں سوائے میاں افتخارالدین کے تمام مسلمان ارکانِ اسمبلی نے ووٹ دیا جبکہ اقلیتوں کے تمام ارکان نے، ماسوائے ایک کے، اس قرارداد کی مخالفت کی۔ایک اقلیتی رکن نے تو یہ تک کہا تھا کہ اگر ’قائدِ اعظم زندہ ہوتے تو ایسی قرارداد کبھی منظور نہ ہوتی۔‘ ستم ظریفی دیکھیے کہ قراردادِ مقاصد کے حق میں ووٹ دینے والے واحد اقلیتی رہنما خود منڈل تھے۔غزل آصف اپنے تحقیقی مقالے میں کہتی ہیں کہ ’پاکستانی اقلیتوں کے بارے میں تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ قراردادِ مقاصد (پاکستان کی تاریخ کا) ایک ایسا لمحہ تھا جب پاکستان کو مسلمانوں کی اسلامی ریاست بنانے کے لیے اقلیتوں کے تمام خدشات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔۔۔ خاص کر دلتوں کا اپنی آئینی حیثیت کو تسلیم کروانا، جو کسی بھی صورت میں اس قرارداد سے متصادم نہ تھا۔‘

منڈل کا استعفیٰ اور انڈیا روانگی

منڈل وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی کابینہ میں سنہ 1950 تک شامل رہے۔ انھوں نے اس دوران مشرقی پاکستان میں دلتوں پر ہونے والے مظالم کی وزیر اعظم سے کئی بار شکایت کی۔پھر انھوں نے اکتوبر میں استعفیٰ دیا جس میں انھوں نے اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اُن اسباب کا ذکر کیا جن کی وجہ سے ان کی یہ رائے قائم ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ بنگال میں سینکڑوں دلتوں کی، فوج، پولیس اور مسلم لیگی کارکنوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔منڈل کے بار بار شکایت کرنے پر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے منڈل سے تفصیلات طلب کیں۔ لیکن اب وقت بہت گزر چکا تھا۔ منڈل نے تفصیلات اپنے استعفے میں پیش کیں۔ اس لیے ان کے خط یا استعفے میں ایک ترتیب کے ساتھ پولیس اور مقامی مسلمانوں کی جانب سے دلتوں (شیڈول کاسٹ) پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی تفصیلات لکھی ہوئی تھیں۔منڈل نے کھلنا اور باڑی سال میں جو کہ ان کا انتخابی حلقہ تھا وہاں ہونے والے تشدد کے واقعات کی وہی تفصیل لکھی جو کہ مقامی دلتوں نے انھیں لکھ بھیجی تھی۔ انھوں نے ایک گاؤں میں فصلوں کی کٹائی پر ہونے والے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں تصادم کے دوران ’ایک مسلمان ہلاک ہو گیا تھا جس کے بدلے میں مقامی پولیس اور ایک مسلم تنظیم ’انصار‘ کی مدد سے نامہ شودرا دلتوں کے گاؤں کے گاؤں لوٹے گئے۔‘دلتوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کی فہرست کچھ اسی طرح کی تھی جو کہ تقسیم کے وقت ہونے والے تشدد کے دوران دیکھی گئی تھی اور اب اس میں دلتوں کے ساتھ مظالم کے واقعات کا بھی ذکر تھا: ’بالجبر مسلمان بنانا، عورتوں کے ساتھ زیادتی، لوٹ مار، بھتہ وصول کرنا، گائے کا ذبح کیا جانا، اور دلتوں کی عبادت گاہوں سے ان کے مذہبی تبرکات کی توہین کرنا، وغیرہ۔‘

تقسیم ہند پر منڈل کے خیالات

جوگندر ناتھ منڈل نے اپنے استعفیٰ میں تقسیم ہند کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ میں سمجھتا تھا کہ اونچی ذات کے ہندوؤں کے مسلمانوں کے ساتھ رویے کی وجہ سے انڈیا کی تقسیم مسلمانوں کی شکایتوں کا جائز جواب تھا، لیکن مجھے یقین تھا کہ پاکستان کی تخلیق فرقہ واریت (کمیونل) کے مسئلے کا حل نہیں ہو گی۔ اس کے برعکس اس سے فرقہ واریت اور نفرتوں میں مزید شدت پیدا ہو گی۔‘’اس کے علاوہ میرا یہ پختہ خیال ہے کہ (تخلیقِ پاکستان) سے مسلمانوں کے حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔ تقسیم کا ناگزیر نتیجہ یہ نکلے گا کہ مستقل طور پر نہ سہی، لیکن طویل عرصے کے لیے، دونوں ملکوں کے محنت کش لوگوں کے لیے غربت، جہالت اور تکلیفوں کا دور دورہ رہے گا۔ میرا یہ خدشہ ہے کہ پاکستان جنوب مشرقی ایشیا کا شاید سب سے زیادہ پسماندہ ملک بن جائے گا۔‘

جوگندر ناتھ منڈل نے اپنے طویل استعفیٰ میں جہاں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا تھا وہیں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’نہ صرف اقلیتوں کے ساتھ بلکہ پاکستان میں وہ مسلمان، جو لیگی حکمرانوں اور ان کی اتحادی بدعنوان نوکرشاہی کے دائرے سے باہر ہیں اُن کی بھی تذلیل کی جاتی ہے۔‘

منڈل کو ’غدار‘ کہا

جوگندر ناتھ منڈل کا استعفیٰ نئی پاکستانی ریاست کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی سکینڈل بن گیا تھا۔ خاص کر جب منڈل کلکتہ منتقل ہو گئے تو انھوں نے مزید سخت الزامات عائد کیے۔غزل آصف اپنے مقالے میں پاکستان کی نیشنل آرکائیوز سے حاصل ہونے والی دستاویزات کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ منڈل کے بیانات کو ایک ’دھوکہ‘ کہتے ہوئے انھیں ’جھوٹا، غدار اور بزدل‘ کہا گیا۔اُن کے بیٹے جگیدش چندرا منڈل نے پروفیسر انیربان بندھیوپادھیائے کو بتایا تھا کہ جب ان کے والد کراچی میں رہتے تھے تو وزیر ہوتے ہوئے بھی انھیں ہر معاملے سے الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔ ’انھوں نے پاکستان میں جناح پر بھروسہ کرتے ہوئے دلتوں کے بہتر مستقبل کی امید پر انڈیا میں اپنا جو کچھ بھی تھا، سب کچھ چھوڑ دیا تھا، لیکن جناح کے بعد اسی پاکستان میں انھیں سیاسی اچھوت بنا دیا گیا تھا۔‘

انڈیا میں ’سیاسی اچھوت‘

منڈل مستعفی ہو کر سنہ 1950 میں انڈیا کی ریاست بنگال منتقل ہو گئے تو وہاں انھیں اپنی ذات کے لوگوں میں بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا تھا کیونکہ وہ پاکستان سے ہو کر آئے تھے۔ اگرچہ پاکستان جانے سے پہلے وہ انڈیا میں دلتوں کے سب سے بڑے رہنما ڈاکٹر امبیدکر کے ساتھی رہے تھے، لیکن اب منڈل کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں تھا۔منڈل ہی نے تقسیم سے پہلے سنہ 1946 میں ڈاکٹر امبیدکر کو انڈین لیجیسلیٹیو کونسل کا رکن بنوانے کے لیے اپنے زیرِ اثر ایک حلقے سے منتخب کروایا تھا۔لیکن جب منڈل سنہ 1950 میں انڈیا واپس گئے تو وہ اب نہ صرف ایک نامہ شودرا اچھوت تھے بلکہ ایک سیاسی اچھوت بھی ہو چکے تھے۔

سابق وزیر کی جھگیوں میں رہائش

پاکستان سے سنہ 1950 میں انڈیا منتقل ہونے کے بعد سے سنہ 1968 کے عرصے کے دوران انھوں نے اپنا زیادہ وقت کلکتہ کے اس دور کے ایک پسماندہ مضافاتی علاقے میں بسر کیا۔ یہ اس وقت کی معروف رابندرا سروبار یا ڈھاکوریا جھیل کے دلدلی علاقے تھے۔ وہاں کی زمین خشک کر لینے کے بعد اب وہاں امیر لوگوں کا ایک رہائشی علاقہ تعمیر ہو چکا ہے۔ پہلے وہاں دلتوں کی کچی آبادیاں ہوتی تھیں جہاں منڈل نے رہائش اختیار کی تھی۔منڈل نے اس علاقے میں انتہائی غربت کے دن گزارے۔ اس علاقے کے لوگ بہت ہی بُری حالت میں رہتے تھے۔ ان کی جھگی کے سامنے ہر وقت دلتوں کا تانتا بندھا رہتا تھا تاکہ وہ ان کے مسائل حل کروا سکیں۔ان میں زیادہ تر مسائل تو نوکریوں اور ملازمتوں سے متعلق تھے۔ لیکن وہ دلت جنھیں مشرقی پاکستان میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، وہ مغربی بنگال ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے، ان کی آبادکاری کے سنگین مسائل تھے۔ یہ لوگ لُٹے پٹے کلکتہ پہنچے تھے۔ ان مہاجرین کو انڈین حکومت نے وہ سہولتیں نہیں دی تھیں جو پاکستانی پنجاب سے آنے والوں کو نہرو حکومت نے دی تھیں۔

’جوگن علی ملا‘

منڈل ایک معروف شخصیت تو تھے مگر اب ان کے پاس نہ وسائل تھے اور نہ ان کا اثر و رسوخ باقی رہ گیا تھا۔ پاکستان سے سابقہ تعلق کی وجہ سے اونچی ذات کے ہندو اُن کو تقسیم کا اور اپنے موجودہ مصائب کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے انھیں جوگندر ناتھ منڈل کی جگہ ’جوگن علی ملا‘ کہہ کر پکارتے تھے۔پروفیسر بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں بہت احتیاط کے ساتھ ان سے فاصلہ رکھتی تھیں۔’یہاں تک کہ وہ (اپنی حیثیت یاد دلاتے ہوئے اور اپنی ذات کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے) جب وزیر اعلیٰ بنگال یا وزیر اعظم انڈیا کو یا دیگر حکام کو ضخیم خطوط لکھتے تھے تو کبھی کبھار افسران یا حکام انھیں ملاقات کا موقع دے دیتے تھے، لیکن ان کی شکایتوں کا شاید ہی کبھی ازالہ ہوا ہو۔ تاہم انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ اس وقت بھی ایک جوان والی ہمت رکھتے تھے۔‘

انتخابی سیاست

پروفیسر بندھیوپادھیائے کے مطابق ’سنہ 1950 میں وہ 46 برس کے تھے اور موت کے وقت 64 سال کے تھے۔ وہ کہیں نہ کہیں سے کچھ وسائل حاصل کر کے الیکشن میں حصہ لیتے رہے لیکن چاروں مرتبہ ان کی ضمانت ضبط ہوئی۔ انھوں نے چھوٹی سطح کے اخبار یا جریدے بھی شائع کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے قارئین کی تعداد کم تھی۔ ان کے اپنے ساتھی اور پیروکار ان کی تحریک کو چھوڑ کر ملک کی بڑی پارٹیوں میں چلے گئے۔‘

بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ ’اب ان کے پاس سرپرستی کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ان کا ایک پیروکار، مثال کے طور پر ابوربل موجومدار، نے مخالف جماعت کی ٹکٹ پر ان کے خلاف الیکشن لڑا اور انھیں باآسانی شکست دے دی۔ انھوں نے دلتوں کی ایک جماعت مہاسیہ سماج کے ساتھ اتحاد بنانے کی بھی کوشش کی لیکن بنگال میں پچاس کی دہائی کے بعد نچلی ذات کے حقوق کے نام پر کی جانی والی سیاست کی اپیل اب کمزور ہو چکی تھی۔‘

منڈل ’ہر برائی کے ذمہ دار‘

جب کسی کے خلاف ہوا چلتی ہے تو لوگ اس سے اُس کی اچھائیاں چھین لیتے ہیں اور اس میں وہ برائیاں بھی ڈال دیتے ہیں جو اس میں نہیں ہوتی ہیں۔ اب عام لوگ منڈل کو سنہ 1943 کے بنگال کے قحط کا بھی ذمہ دار قرار دینے لگے تھے کیونکہ وہ اس وقت کی خواجہ ناظم الدین کی حکومت میں سول سپلائز کے وزیر تھے۔ (حالانکہ اب کچھ محققین چرچل کو اس قحط کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔)

اور بعد میں سنہ 1946 میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کا بھی انھیں ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا (یہ فسادات جناح کے ڈائریکٹ ایکشن کے اعلان کے بعد شروع ہوئے تھے اور ان میں پانچ سے دس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے)۔ان کے اپنے حامیوں نے حکومتی مشینری سے آبادکاری، نوکریوں جیسی ریلیف اور سہولتیں لینے کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب جانا شروع کر دیا تھا۔تاہم اس بات پر سب مورخین متفق ہیں کہ منڈل نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ ایک انتھک محنت کرنے والے انسان تھے۔ وہ سیاست میں اپنا مقام بنانے کے لیے لڑتے رہے اور نچلی ذاتوں کے لوگوں کے حقوق کی آواز بنے رہے۔ ان کی موت جد و جہد کے اسی سفر کے دوران ہوئی۔

’پراسرار موت یا قتل‘

اہمرسٹ کالج میں ساؤتھ ایشیا سٹڈیز کے پروفیسر دوے پیون سین اپنی کتاب ’دی ڈیکلائین آف دی کاسٹ کویسچن: جوگندر ناتھ منڈل اینڈ دی ڈیفیٹ آف دلِت پولیٹکس اِن بنگال‘ میں اشارہ دیتے ہیں کہ انڈیا واپسی کے بعد بھی اُن کی سیاست اونچی ذات کے ہندوؤں کے لیے خطرہ تھی چاہے وہ کانگریس کے برہمن تھے، ہندو مہا سبھا کے تھے یا کمیونسٹ پارٹی کے۔امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹفٹس سے وابستہ معروف تاریخ دان ڈاکٹر عائشہ جلال کہتی ہیں کہ ’منڈل کے پاکستان چھوڑ کر واپس انڈیا منتقل ہونے کے فیصلے کی بہت ہی سادہ وجہ مذہبی تعصب تھا جس کی وجہ سے وہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کے لیے ناقابلِ قبول ہو گئے تھے جو اُن کی نئے ملک کے ساتھ وفاداری پر اس لیے سوالات کرتے تھے کیونکہ وہ ایک نچلی ذات کے ہندو تھے۔‘’منڈل نے لیاقت علی خان کو خط لکھا تھا جس میں انھوں نے انڈیا جانے کے اسباب بیان کیے تھے۔ مگر افسوس انھیں واپس انڈیا میں بھی قبول نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر (دوے پیون) سین کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد ذات کی بنیاد پر عوامی تحریک اب انڈین رہنماؤں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی۔‘یہی وجہ ہے کہ پروفیسر دوے پیون سین کہتے ہیں کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ منڈل کی حیثیت اور نظریات رکھنے والا ایک سیاستدان اپنے پرانے کارناموں کو استعمال کرتے ہوئے کیوں کسی بھی منتخب ادارے کا رکن نہیں بن سکا جبکہ وہ بنگال کے دلتوں (نامہ شودروں) میں اب بھی مقبول تھا۔‘’(ماضی کا) اتنا شاندار سیاسی کیریئر ہونے کے باوجود، جس میں وہ دو مرتبہ تقسیم سے قبل بنگال کے وزیر رہے ہوں، ڈاکٹر امبیدکر کو سنہ 1946 میں انڈیا کی لیجسلیٹو کونسل کا الیکشن جتوانے کا کارنامہ سرانجام دیا ہو، انڈیا کی عبوری حکومت میں شامل رہے ہوں، پاکستان کی پہلی اسمبلی کے چیئرمین بنے ہوں، لیکن آخر میں ان کا اپنا سیاسی طور پر اچھوت بن کر رہ جانا، یہ کیا ثابت     کرتا ہے؟‘

جوگندر ناتھ منڈل نے کلکتہ کے جنوب میں جو کہ اس وقت دلتوں کا ایک پسماندہ علاقہ تھا، سنہ 1952 اور پھر سنہ 1957 میں کانگریس سے تعلق بہتر بنا کر انتخابات جیتنے کی کوشش کی تھی، لیکن ہر بار ناکام رہے۔جوگندر ناتھ منڈل کی سیاسی جماعت پر ریسرچ کرنے والے ایک مصنف پراکاسیتا بسواس کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر سین لکھتے ہیں کہ ’آج بھی وہ (اونچی ذات کے ہندو) انھیں اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ اونچی ذات کے حکمران طبقوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ ان لوگوں کا کوئی اپنا رہنما ابھرے۔ وہ عوام کے (اپنے) دیوتا کے جاگنے سے ڈرتے ہیں۔‘انڈیا میں منڈل کے مخالفین نے ان پر رجعت پسندی کا الزام بھی عائد کیا کیونکہ ان کے مخالفین کے بقول، وہ پورے معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے کے بجائے صرف دلتوں کی بہتری کی بات کرتے تھے۔ اس پر منڈل نے طنزیہ انداز سے کہا تھا کہ گاندھی نے جب دلتوں کے لیے کام کیا تب انھیں مہاتما کہا گیا لیکن جب ایک دلت نے دلتوں کی بہتری کے لیے کام کیا تو اسے رجعت پسند کہا گیا۔پروفیسر دوے پیون سین اپنی کتاب میں منڈل کی انڈیا واپسی کے بعد اٹھارہ برس کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ انھیں مسلسل ناکامیاں ہوئیں لیکن جب سنہ 1968 کے انتخابات میں ان کی کامیابی کے واضح امکانات اور آثار نظر آنے لگے تو اس وقت کی یونائیٹڈ فرنٹ کی حکومت، جس کے سربراہ کانگریس کے اجوئے مکھرجی تھے، اُن کا انتقال ہو جاتا ہے۔

جوگندر ناتھ منڈل کا انتقال سنہ 1968 میں ہوا تھا۔ بظاہر انھیں اُس وقت دل کا دورہ پڑا تھا جب وہ ایک کشتی میں سوار دریا عبور کر رہے تھے۔ اس وقت سوائے ملاح کے اور کوئی گواہ نہ تھا۔ ان کی نعش کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ بات ان کے بیٹے جگدیش چندر منڈل نے اپنی تصنیف میں بیان کی ہے۔ ان کے بیٹے نے کئی برس بعد اپنے والد کی تحریروں پر مشتمل سات جلدیں شائع کیں تھیں۔پروفیسر انیربان بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک دوپہر سفر پر جانے سے پہلے کھانا کھایا اور وہ بالکل صحت مند تھے۔ شام کو انھوں نے ایک سیاسی جلسے میں شرکت کرنا تھی، ان کے چھوٹے بیٹے نے اصرار کیا کہ وہ نہ جائیں۔ منڈل کو بتایا گیا تھا کہ ان کے نہ جانے سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، بہرحال منڈل کی موت کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اور شاید کبھی بھی معلوم نہ ہو سکے۔لیکن دوسری جانب، پروفیسر سین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حتمی شواہد کے ذریعے یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی موت کیسے ہوئی ’لیکن جوگندر ناتھ منڈل کے بیٹے جگدیش کہتے ہیں کہ ان کے والد کی لاش کی حالت ایسی تھی کہ جس سے نظر آتا تھا کہ وہ قدرتی موت نہیں مرے۔‘اسی لیے اُس زمانے کے سیاسی حالات اور ان کی میت کی حالات کے بارے میں بیانات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے پروفیسر سین اسے ’پُر اسرار موت‘ قرار دیتے ہوئے اس شک کا اظہار کرتے ہیں کہ ’انھیں زہر دیا گیا تھا۔‘وہ کہتے ہیں ’ان کی موت پُراسرار حالت میں ہوئی جس سے شک یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھیں قتل کیا گیا۔‘

زندہ درگور

پروفیسر دوے پیون سین کہتے ہیں کہ سب باتوں کو اگر اکٹھا کر کے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ’منڈل نے مغربی بنگال میں دلت سیاست کرنے کی ناممکنات کو نہ زیادہ طاقتور سمجھا، اور نہ ہی بظاہر نامعلوم رکاوٹوں کو، جنھوں نے ہمیشہ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالے رکھیں، درخور اعتناء سمجھا۔ جیسا کہ (منڈل) کے ایک واقف وکیل کہتے ہیں کہ انھوں نے منڈل کو ڈھلتی عمر کے دنوں میں ایک بار یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ ’میں نے محسوس کیا ہے کہ زندہ درگور کیا جانا کیسا ہوتا ہے۔‘منڈل نے پاکستان آ کر کتنی بڑی غلطی کی یا آیا یہ غلطی تھی بھی، ابھی اس بات کا بھی طے کیا جانا باقی ہے۔ پروفیسر سین کے خیال میں بنگال میں دلتوں کی سیاست ان کی موت کے ساتھ شکست کھا گئی۔ لیکن اکیسویں صدی کے حالات جن میں انتہا پسند ہندو نہ صرف اقلیتوں کے لیے بلکہ دلتوں کے لیے ایک مرتبہ پھر سے زندگی تنگ کر رہے ہیں، لگتا ہے کہ انڈیا میں ایک نئے جوگندر ناتھ منڈل کی ضرورت جنم لے رہی ہے۔(شکریہ بی بی سی اردو)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *