جنگ، امن اور چرچل  

محمد عرفان ندیم

 

سر ونسٹن چرچل برطانیہ کے مشہور وزیراعظم تھے، انہوں نے اپنی زندگی کا آغاز ایک سپاہی اور اخباری نمائندے کی حیثیت سے کیا، وہ1901ء میں پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور مختلف عہدوں سے ہوتے ہوئے 1965ء میں انتقال کرگئے۔ وہ ہوم سیکرٹری، نیوی اور فضائیہ کے سربراہ، وزیرجنگ، وزیر خزانہ اور اسلحے کے وزیر سے ہوتے ہوئے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچے۔ 1936ء میں برطانوی وزیراعظم چیمبر لین نے ہٹلر کو خوش کرنے کی پالیسی اپنائی تو چرچل میدان میں کو د پڑا، یہی وہ وقت تھا جب چرچل کو برطانوی سیاست میں نمایاں ہونے کا موقع ملا۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو اسے ایڈ مرل کی حیثیت سے کابینہ میں شامل کر لیا گیا اور وہ مئی 1940ء میں برطانیہ کا وزیراعظم بن گیا۔ اور 1945ء میں جنگ ختم ہوگئی، برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت قائم ہوئی، چرچل قائد حزب اختلاف بن گیا. یہ وہ دور تھا جب روس اور مغربی اتحادیوں میں سرد جنگ عروج پر تھی، چرچل نے اس سرد جنگ میں روس اور مغربی اتحادیوں میں اختلافات بڑھانے میں اہم کر دار ادا کیا، وکٹری کا نشان اور روس کے خلاف ’’آہنی پردے ‘‘ کی اصطلاح بھی اسی نے ایجاد کی۔ 1951ء کے انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کو دوبارہ منظم کیا، الیکشن ہوئے، قدامت پسند پارٹی جیت گئی، چرچل دوبارہ وزیر اعظم بنا اور 1955ء میں بڑھاپے کی وجہ سے سیاست سے الگ ہوگیا۔ ونسٹن چرچل کو سیاست کی دنیا کا امام کہا جاتا ہے، دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر اور جرمنی کی شکست میں اس نے اہم کردار ادا کیا. کہا جاتا ہے کہ اگر دوسری جنگ عظیم میں چرچل نہ ہوتا تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہو تا۔ جرمنی کے بعد وہ روس کا بھی خاتمہ چاہتا تھا اور اس کے لیے اس نے مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر بھر پور لابنگ کی، امریکی صدر روزویلٹ نے اس لابنگ کی مخالفت کی جس کی وجہ سے روس بچ گیا۔ چرچل برطانوی نوآبادیات کی آزادی کا سخت مخالف تھا، اس نے صرف اس وجہ سے وزیراعظم بننے سے انکار کر دیا تھا کہ اسے بطور وزیراعظم ہندوستان کی آزادی کی تقریب کی صدارت کرنی پڑنی تھی۔چرچل اگرچہ اسلام اور مسلمانوں کا سخت مخا لف تھا لیکن وہ اسلامی تہذیب و ثقافت کا دلدادہ تھا، بلنٹ اس کا ایک عربی دوست تھا، چرچل اس کی پارٹیوں میں جاتا تو عربی جبہ اور لباس زیب تن کرتا، اسلامی تہذیب کی طرف اس کا رجحان اس قدر شدید تھا کہ اس کے گھر والوں کو اس کے مسلمان ہونے کا ڈر رہتا، چرچل نے ایک بار خط میں لکھا کہ وہ پاشا بننا چاہتا ہے جس پر اس کی بھابھی نے اسے ایک خط تحریر کیا جس میں لکھا ’’مہربانی کر کے آپ اسلام قبول نہ کریں، میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ آپ میں مشرقی تہذیب کو قبول کرنے اور پاشا بننے کے رجحانات پائے جاتے ہیں ‘‘

ونسٹن چرچل کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک بار قوم سے خطاب کے لیے اسے ریڈیو اسٹیشن جانا تھا، وہ سڑک پر آیا اور ایک ٹیکسی والے کو اشارہ کیا کہ اسے برٹش براڈ کاسٹنگ ہاؤس جانا ہے، ٹیکسی ڈرائیور نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ چرچل کی تقریر سننے جا رہا ہے، چرچل یہ سن کو جھوم اٹھا اور جیب سے ایک پاؤنڈ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا، ٹیکسی ڈرائیور نے پاؤنڈ دیکھا تو بولا ’’بھاڑ میں جائے چرچل اور اس کی تقریر، آپ بیٹھیں میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں، آپ جیسا رحم دل اور نیک انسان مجھے کہاں ملے گا‘‘ چرچل نے بتایا کہ میں ہی چرچل ہوں اور مجھے ہی تقریر کرنے جانا ہے تو ٹیکسی ڈرائیور بہت شرمندہ ہوا اور اپنی گستاخی کی معافی چاہی، چرچل نے اسے سمجھاتے ہو ئے کہا ’’کوئی بات نہیں، روپیہ پیسہ اکثر تعلقات اور رشتے بھلا دیتا ہے‘‘. چرچل ایک بار پاگل خانے گیا اور وہاں کھڑے ایک شخص سے پوچھا ’’آپ کا تعارف‘‘ اس شخص نے جواب دیا ’’میں پاگل خانے میں زیرعلاج تھا، اب صحت یاب ہوگیا ہوں اور آج گھر جا رہا ہوں ۔‘‘ اس نے چرچل کا تعارف پوچھا تو چرچل نے کہا ’’میں برطانیہ کا وزیراعظم ہوں‘‘، وہ شخص قہقہے لگانے لگا، آگے بڑھا اور بڑی ہمدردی کے ساتھ چرچل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’میاں فکر نہ کرو آپ بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گے، یہ بہت اچھا ہسپتال ہے، یہاں آنے سے پہلے میں بھی خود کو برطانیہ کا وزیراعظم سمجھتا تھا لیکن اب میں مکمل طور پر ٹھیک ہوں.‘‘

بات دور نکل گئی ہم واپس آتے ہیں، چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو شکست سے بچایا تھا، جنگ کے فورا بعد برطانیہ میں الیکشن ہوئے تو برطانوی عوام نے چرچل کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا. برطانوی عوام کا کہنا تھا کہ چرچل ایک جنگی ہیرو ہے اور اب ہمیں جنگ نہیں امن چاہیے، اس لیے چرچل برطانیہ کی تعمیر نو اور امن کے لیے موزوں امیدوار نہیں۔ برطانوی عوام نے مناسب وقت پر درست فیصلہ کیا تھا، برطانوی عوام جانتے تھے کہ چرچل ایک جنگجو ہے اور ایک جرنیل سے صرف جنگ کی امید ہی کی جا سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ چرچل اگر الیکشن جیت جاتا تو دنیا ایک نئی جنگ میں مبتلا ہوجاتی۔برطانوی عوام اور یورپ وہ سبق آج سے ستر سال پہلے سیکھ چکا تھا جو پاک انڈیا عوام، میڈیا اور حکمران ستر سال بعد بھی نہیں سیکھ سکے۔ پاکستان اور انڈیا کے عوام ہر دو ماہ بعد جنگ جنگ کھیلنے لگ جاتے ہیں، ایشیا کے اکثر خطے آج بھی جنگ کی لپیٹ میں ہیں ،کبھی شمالی اور جنوبی کوریا آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کبھی پاک بھارت فوجیں بارڈر پر آ جاتی ہیں، کبھی روس اور چین کے حالات خراب ہو جاتے ہیں اور کبھی عرب اسرائیل تنازع زور پکڑ لیتا ہے. یہ براعظم ایشیا کی بدقسمتی ہے کہ یہ ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے سانحات سے سبق نہیں سیکھ سکا. جنگ عظیم اول اور دوم میں بھی ایشیا میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے لیکن ایشیا نے پھر بھی سبق نہیں سیکھا اور آج ایک بار پھر ایشیا کے دو اہم ممالک، ان کا میڈیا اور ان کے عوام جنگ کے لیے پر تول رہے ہیں. یہ ثابت کرتا ہے کہ ایشیائی عوام کا شعور آج بھی 1945ء کے یورپی عوام سے بہت پیچھے ہے، ان لوگوں نے 1945ء میں سیکھ لیا تھا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی اور یہ پورے کے پورے ملک ہڑپ کر لیتی ہے لیکن ایشیائی عوام آج بھی جنگوں کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور یہ جنگوں کی پٹاری سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

آپ دنیا کا نقشہ اپنے سامنے میز پر پھیلائیں اور دنیا کے 260 ممالک کی فہرست بنائیں، اس فہرست میں آپ ترقی یافتہ ممالک کو الگ کریں، آپ کو نظر آئے گا کہ ترقی یافتہ ممالک صرف اس لیے ترقی یافتہ ہیں کہ وہاں امن اور قانون ہے اور ان ممالک نے اپنے ہمسائیوں سے جنگ بندی کے معاہدے کیے ہوئے ہیں جبکہ ترقی پذیر اور تیسری دنیا صرف اس لیے پیچھے ہے کہ وہاں امن ہے نہ قانون اور یہ ممالک اپنے ہمسائیوں سے الجھے رہتے ہیں۔ آج پاکستان اور بھارت اپنا دفاعی بجٹ کم کر دیں تو اگلے دس سال میں ان ممالک سے غربت ختم ہو جائے گی اور اگلے پندرہ سال میں یہ ممالک ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک کہلائیں گے۔ میں پاک بھارت میڈیا، عوام اور حکمرانوں کے جنگی جنون کو دیکھتا ہوں تو سر پکڑ لیتا ہوں کہ ڈیڑھ سے پونے دو ارب آبادی والے خطے میں کوئی بھی ایسا نہیں جو جنگ کے بجائے امن کی بات کرے اور یہ بات سمجھ سکے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوا کرتیں بلکہ ہیروشیما اور ناگا ساکا جیسے وہ مسائل پیدا کرتی ہیں جن کے زخم ستر سال گزرنے کے بعد بھی نہیں بھرتے۔           ♦♦♦

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *