انگریزوں کے سب سے بڑے خوشامدی: سرسید احمد خان؟

 

 

   تحریر : ابو نائل

 

جب ہم سکول میں مطالعہ پاکستان پڑھتے تھے تو ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ سرسید احمد خان قوم کے عظیم محسن تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم دلوانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور علیگڑھ کے کالج کی بنیاد رکھی اور انہیں پستی کی حالت سے نکالا۔ جب ہمیں نصابی کتب کے جھنجھٹ سے نجات ملی تو ایک اور طبقے کی آوازیں کان میں پڑیں کہ سرسید تو اول درجہ کے ”ابن الوقت“ تھے۔ جب برطانوی سرکار کا سورج بلند ہوا تو ان کی غلامی کا دم بھرنے لگے۔ 1857 ء میں انگریزوں کا ساتھ دیا اور اپنے ہم وطنوں سے بے وفائی کی۔ جنگ کرنے والے سپاہیوں کی مخالفت میں کئی صفحات سیاہ کیے اور انگریزوں کی اتنی خوشامد کی کہ حد ہی کر دی۔ اور تمام عمر انگریزوں کی چاپلوسیاں کر کے خطابات اور عہدے حاصل کیے ۔ ایسے آدمی کا تو تمیز سے نام لینا بھی رجعت پسندی کی علامت ہے۔

ہم میں سے اکثر نے سرسید کی تحریر کے چند صفحات بھی نہیں پڑھے ہوں گے۔ اس کالم کے لئے میں نے سرسید کی سب سے مشہور کتاب ”اسباب بغاوت ہند“ کا انتخاب کیا ہے۔ اس کتاب میں آپ نے ان وجوہات کا تجزیہ کیا ہے جن کی بنا پر 1857 ء  میں انگریزوں کے خلاف ان کی فوج میں شامل ہندوستانی سپاہیوں نے بغاوت کر دی۔ سرسید کا خاندان مغل بادشاہوں سے وابستہ تھا۔ ان کے نانا مغل دربار میں وزیر اعظم بھی رہے تھے۔ لیکن سرسید احمد خان نے شروع ہی سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت اختیار کی۔آپ کو 1850 ء میں رہتک میں ماتحت جج لگایا گیا اور 1855ء  میں اسی عہدے پر بجنور [یو پی ] میں مقرر کیا گیا۔ آپ بجنور میں ہی تھے کہ 1857 ءکی جنگ کا ہنگامہ برپا ہوا۔جنگ کے بعد فاتح انگریزوں کا سارا غصہ مسلمانوں پر نکلا۔ چاندنی چوک میں مسلمانوں کو پھانسیاں دی جاتیں۔ اور انگریز خواتین اور مرد تماشا دیکھتے۔ مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط کی گئیں اور جو مسلمان کی مخبری کرتا وہ نوازا جاتا۔ جو ان کے حق میں کچھ کہتا وہ معتوب بنتا۔ اگلے سال جولائی میں سر سید نے قلم اٹھایا اور اس کتاب کو لکھنا شروع کیا۔کچھ عرصہ بعد اس کا انگریزی ترجمہ برطانیہ کے تمام ممبران پارلیمنٹ اور ہندوستان میں برطانوی حکومت کے کرتا دھرتا احباب کو بھی بھجوایا گیا۔ انگریز حکومت میں سرسید کی مخالفت کا لاوا پھٹ پڑا کہ اس شخص نے سرکاری ملازم ہوتے ہوئے یہ جراءت کیسے کی؟ چنانچہ ہندوستان کی حکومت کے فارن سیکریٹری سیل بیڈن نے کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نہایت باغیانہ کتاب ہے۔ اس شخص سے باز پرس ہونی چاہیے۔ اگر وہ اپنی نا معقول حرکت کی کوئی معقول وجہ نہ بتا سکے تو اسے عبرتناک سزا دینی چاہیے۔اس کتاب میں سرسید نے کیا لکھا تھا؟ پہلے انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ اس جنگ کے لئے پہلے سے کوئی سازش تیار کی گئی تھی۔ یا ایران یا کسی اور مسلمان ملک سے رابطہ کیا گیا تھا۔ سرسید کے نزدیک بہادر شاہ ظفر کی ذہنی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ کسی قسم کی سازش تیار کر سکے۔

تو پھر اس بغاوت کی کیا وجہ بنی؟ سرسید نے اس کی سب سے اہم وجہ یہ بیان کی انگریز اس ملک کا نظم و نسق چلانے میں اور لیجیسلیٹو کونسل میں مقامی لوگوں کو شامل نہیں کر رہے تھے۔ وہ دوسرے ملک سے آئے تھے اور ایک اجنبی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے لئے لازم تھا کہ وہ ہندوستانیوں کو قانون سازی اور حکومت کے کام میں شامل کریں مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ سرسید لکھتے ہیں :

”مگر لیجسلیٹو کونسل میں مداخلت نہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی پس یہی ایک بات ہے جو جڑ ہے تمام ہندوستان کے فساد کی اور جتنی باتیں اور جمع ہوتی گئیں وہ سب اس کی شاخیں ہیں۔“

کانگرس نے ابھی تو جنم بھی نہیں لیا تھا۔ میرے علم کے مطابق سرسید وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے یہ مطالبہ کیا اور اسے برطانیہ میں تمام عمائدین سلطنت اور ممبران پارلیمنٹ تک پہنچا بھی دیا کہ مقامی لوگوں کو حکومت اور قانون سازی میں شامل کیا جائے۔

سرسید نے لکھا کہ لوگوں کو یقین ہوتا جا رہا تھا کہ حکومت ان کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔ جب انگریز پادری یہاں آنے لگے تو انہوں نے دوسرے مذاہب کی مقدس شخصیات کے بارے میں نا مناسب الفاظ استعمال کرنے شروع کیے ۔ اور جب پادری واعظ کے لئے نکلتے تو تھانیدار کا چپڑاسی ساتھ جاتا۔ مشنری سکولوں میں سب کو عیسائیت کی تعلیم دی جانے لگی۔ اس پس منظر میں پادری ایڈمنڈ نے کلکتہ سے خط لکھا کہ اب سب کو عیسائی ہوجانا چاہیے اور یہ خط حکومت کے ملازموں کو بھی بھیجا گیا۔ یہ خط پڑھنے والوں کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ایسے قوانین بنانے شروع کیے جو مذہبی مداخلت کے زمرے میں آتے تھے۔

ہندوستان کے کئی خاندانوں کے پاس صدیوں سے ان کے بزرگوں کو انعام میں ملنے والی جائیدادیں چلی آ رہی تھیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے خفیف بہانے بنا کر انہیں ضبط کرنا شروع کیا۔ اور لوگوں میں یہ خیال راسخ ہو گیا کہ یہ سرکار ہمیں غریب کرتی جائے گی۔برطانوی حکومت نے زمینوں کی آمد پر جو ٹیکس لگا نے کا نظام وضع کیا اس میں بعض خوبیاں بھی تھیں لیکن کئی پرانے قوانین بلا وجہ تبدیل کر دیے گئے جو شیر شاہ سوری کے زمانے سے چلے آ رہے تھے۔ مثال کے طور پر زمیندار اگر پسند کرے تو رقم کی بجائے حکومت کو غلہ دے سکتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زرعی آمد کم ہو گئی اور کاشت کار غریب ہو گئے۔ اسٹامپ کا جاری ہونا غریب ہندوستانیوں پر ایک ناجائز بوجھ تھا۔

حکومت کے نازک مزاج کارندے ہندوستان کے عوام کے حالات سے واقف نہیں تھے۔ اور ان سے میل جول تک نہیں رکھتے تھے۔ حکومت نے اپنے آپ کو ہندوستانیوں سے اس طرح رکھا جیسے سوکھی گھاس کو آگ سے الگ رکھا جاتا ہے۔ کمپنی کی فوج ایک ذریعہ معاش تھی مگر اس میں انگریزوں نے صرف تلنگوں کو جمع کیا ہوا تھا اور کوئی شریف شخص اس میں شامل ہونا پسند نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان میں برطانیہ میں بنی ہوئی اشیاء کی بھرمار ہو گئی۔ جس کے نتیجہ میں اہل حرفہ غریب سے غریب تر ہوتے گئے۔ برطانوی حکومت کے لئے لازم تھا کہ وہ ہندوستان کے لوگوں کی تنگدستی کی طرف توجہ کرتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔خاص طور پرکچھ سالوں سے حکومتی عہدیدار مقامی لوگوں سے بد تمیزی سے پیش آتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک شریف آدمی اس بات پر مجبور تھا کہ افسر سے بات کرتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر بات کرے۔ اور دل میں اپنی ذلت پر روتا تھا۔

سرسید نے لکھا کہ اس غرور کے با وجود جب جنگ کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے اکثر عہدیدار کوئی بیدار مغزی بھی نہ دکھا سکے۔ اور ان کے پاس حالات کو قابو کرنے اور سپاہیوں کو غیر مسلح کرنے کا موقع آیا لیکن انہوں نے اس کو ضائع کر دیا۔

خلاصہ کلام یہ کہ اس کتاب میں سرسید نے اس جنگ کی ذمہ داری مسلمانوں کے سر سے اتار کر کمپنی کی حکومت پر ڈالی اور یہ کام اس وقت کیا جب کوئی انگریز کے سامنے بولنے کی جراءت نہیں کر سکتا تھا۔ اور انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اس جنگ کے بعد خاص طور پر مسلمانوں پر شدید مظالم کیے گئے۔آپ سرسید سے لاکھ اختلاف کریں۔ مجھے خود ان کے کئی نظریات سے اختلاف ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کیا کوئی خوشامدی مطلبی اور ابن الوقت سرکاری ملازم ہوتے ہوئے اتنی بڑی سلطنت کے سامنے اس طرح کا کلمہ حق کہہ سکتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *