کمپنی کھولنے سے پہلے آنکھیں کھول لیں

تحریر :وسعت اللہ خان

عصرِ حاضر کے اہم اردو شاعر جون ایلیا کو ایسے مداح سخت ناپسند تھے جو ان کی شاعری صرف تنہائی میں سراہتے تھے۔ بقول جون یہ سسرے خلوت میں لوٹ پوٹ جاتے ہیں کہ جون صاحب کیا مصرعہ کہا ہے، دل کٹ کے رہ گیا مگر مجمع میں یہی بات کہتے انھیں موت آ جاتی ہے۔مجھے یہ قصہ اسلام آباد کی کل جماعتی کانفرنس میں ہونے والی تقاریر سن کر یاد آیا۔ میاں نواز شریف سمیت ہر رہنما کی تقریر سن کر آنکھیں بھر آئیں۔ غضب خدا کا ایسے مخلص و محب لوگوں کا بھی کوئی دشمن ہو سکتا ہے۔ کسی میں سے مجھے چے گویرا جھانکتا نظر آیا، کسی میں سے آنگ سانگ سوچی تو کسی میں سے حسین شہید سہروردی۔مگر جب اپنے ہی کہے پر عمل کا موقع آتا ہے تو اجتماعیت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔ ارکانِ پارلیمان پارٹی قیادت کے احکامات کے برعکس ووٹ دیتے ہیں یا پھر نہیں دیتے۔سب جانتے ہیں کہ ہر بار سینیٹ یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپنی اپنی قیادت کو شرمندہ کروانے والے پورس کے یہ ہاتھی کون کون ہیں مگر مجال ہے کہ ان ہاتھیوں سے پارٹی کو پاک کردیا جائے۔ اپنا ہاتھ اسپِ تنظیم کی باگ پر نہیں مگر قصور وار محکمہ زراعت، سپر سٹیٹ اور سلیکٹڈ حکومت۔مسئلہ یہ ہے کہ جو بھی جماعتیں اسلام آباد کانفرنس میں شریک تھیں، ان میں سے ایک جماعت چار بار اور دوسری جماعت تین بار برسرِ اقتدار رہ چکی ہے۔ باقی جماعتیں بھی اقتدار کی ہر گروپ فوٹو میں نمایاں رہی ہیں۔ اگر بقول میاں صاحب بات ’ریاست کے اندر ریاست‘ سے آگے نکل کر ’ریاست کے اوپر ریاست‘ تک آن پہنچی ہے تو یہ سب ایک دن میں تو نہیں ہوگیا۔ہر جماعت کے کہاروں نے مختلف زمانوں میں سپر سٹیٹ کی ڈولی کو کندھا دیا۔ کون سی ایسی بڑی جماعت ہے جس نے موقع ملتے ہی سپر سٹیٹ سے بندھن نہ جوڑا ہو اور سپر سٹیٹ نے بھی پہلے سے زیادہ بہتر رشتہ ملتے ہی پرانوں کو طلاق دینے میں کوئی دیر کی ہو۔یہ احساسِ ندامت، کچھ کر گزرنے کی امنگ، عوام کو بااختیار کرنے کا جذبہ اور آئندہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرانے کا عہد طلاق کے بعد حالتِ بے اختیاری میں ہی کیوں یاد آتے ہیں۔خدانخواستہ یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھے کسی جماعت کی بالائی قیادت، جدوجہد یا قربانی پر شبہہ ہے۔ ممکن ہے بالائی قیادت اپنے عزم میں سراج الدولہ ہو، ٹیپو سلطان ہو، بہادر شاہ ظفر ہو۔ مگر جہاں میر جعفر، میر صادق و حکیم احسن اللہ خان اصلی سراج، ٹیپو و بہادر شاہ کی نہ چلنے دیں وہاں تینوں جئید شخصیات کی فرسٹ سیکنڈ تھرڈ کاپیاں کس کھیت کی مولی ہیں۔صرف قوم کی تقدیر بدلنے کی قسم کھانے سے کیا ہو گا؟ اگر دائیں بائیں کھڑے مجنوؤں کے بارے میں یہی معلوم نہ ہو کہ کون سا پنجیری کھانے والا اور کون سا خون دینے والا مجنوں ہے اور کون سا خون دینے والا کب پنجیری کھانے والا مجنوں بن جائے۔بقول کسے جب منہ میں ہڈی پھنسی ہو تو چیخنا یا دھاڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔قومی قیادت تو جب بدلے گی تب بدلے گی، سپر سٹیٹ کا جن تو جب ماتحت ادارے کی بوتل میں واپس ڈالا جائے گا تب ڈالا جائے گا۔ فی الحال آپ نے جو پتے منتخب ارکان کی شکل میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بکھرائے ہوئے ہیں انہی کی وفاداریاں سو فیصد یقینی بنا لیں تو بڑی بات ہو گی۔کل جماعتی کانفرنس میں ہونے والی ہمالیائی گفتگو سن کر مجھے قصہ یاد آیا کہ دوستوں کے ایک گروپ نے فیصلہ کیا کہ بہت غربت جھیل لی، اب بل گیٹس، سٹیو جابس، مارک زکربرگ کی طرح کوئی ہائی ٹیک کمپنی کھولی جائے۔اس گروپ میں ایک ہی شخص تھا جو ماضی میں کئی کاروبار کر کے خاصا پیسہ ڈبو چکا تھا۔ اس نے کہا دوستو میں آپ کو ہرگز ہرگز ترقی کرنے سے نہیں روکوں گا، بس اتنا کہوں گا کہ بل گیٹس ہو کہ زکربرگ، ان میں سے کسی نے پرانا منجن نہیں بلکہ نیا نکور آئڈیا بیچا تھا۔ چنانچہ درخواست ہے کہ کوئی ہائی ٹیک کمپنی کھولنے سے پہلے آنکھیں کھول لیں۔

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *