کراچی، محرم ، سبیل اور حلیم

  تحریر:  ذیشان محمود پاکستان

بچپن سے ہم نے محرم کو ایک غیر محفوظ مہینہ کی طرح سنا اور دیکھا۔محرم شروع ہوتے ہی گھر سے اسکول اور سکول سے سیدھے گھر  واپس آنے کی سخت  ہدایت ہوتی۔ رستے میں محلے کے  واحد پارک میں موجود اکیلا گول جھولا دس دن تک ویران رہتا۔محرم شروع ہوتے ہی کراچی میں محرم کی وہ تیاری اور سبیلوں کی یاد عود آتی ہے جو ماضی کا حصہ بن گئی ہے۔ محرم کے جلوسوں پر حملوں کے بعدشاید موبائل فون کی بندش اور دیگر عوامل کے سبب  ہم نے گھر رہ کر  ہی محرم کے دن گزارے۔محرم شروع ہوتے ہی ہر سڑک کنارے سبیلیں قائم ہونی شروع ہو جاتیں۔ ہمارے محلہ میں ہر مسلک کے لوگ گلی گلی پانی کی سبیلیں لگاتے۔ خصوصا بچوں اور نوجوانوں کا سارے دن کا مشغلہ یہی رہتا۔ سبیل تیار کرنی اس کو سجانا ایک نہایت دلچسپ امر تھا۔ سکول میں ہم مختلف سبیلوں کو اول، دوم بھی قرار دینے کی لا یعنی معصومانہ بحث کرتے رہتے۔ اور دوستوں کی سبیل سے پانی پینے کی دعوت بھی قبول کرتے۔ہم سکول سے واپسی پر سادے پانی کی سبیل کے بجائے تخمِ ملنگا والے لال شربت کی سبیل کا رخ کرتے۔ اپنی باری آنے پرہلکے پلاسٹک کے رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں شربت پیتے اور پھر لائن میں لگ جاتے۔ میٹھا کم ہونے پر ہم عمر لڑکے کو تو شکایت کرتے لیکن اگر کوئی انکل ہوتے تو ہم چپ سادھ لینے میں خیریت جانتے۔  9  اور 10محرم سکول سے چھٹی ہوتی اور ہماری موجیں شروع ہو جاتیں۔ مرور زمانہ سے سب بچوں کے علم میں تھا کہ کس گلی میں کون کس قسم کا شربت بنائے گا ا ور کس گلی میں دودھ والا شربت بنے گا۔ جیسے ہی دودھ والا شربت بٹنا شروع ہوتا پوری گلی کو اطلاع ہو جاتی۔ ہمیں ان دنوں گلی سے باہر جانے کی اجازت نہ ہوتی۔ سو ہمیں کبھی دودھ والا شربت  ملتا کبھی نہ ملتا۔ پھر مہنگائی کے سبب یا کسی اور وجہ سے پہلے ان لوگوں نے دودھ کے شربت کی سبیل لگانی بند کر دی اور دودھ کے شربت کا ایک ایک گلاس گھر گھر دینا شروع کر دیا۔ جو آہستہ آہستہ معدوم ہوگیا تھا۔ باقی گلیوں کا اب معلوم نہیں کہ کیا بنا۔ زمانہ بدلا ہم بڑے ہوتے گئے۔ یا حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ کچھ معلوم نہ ہوا وہ سبیلوں کی رونقیں کہاں گئیں۔ بچپن کے تحت الشعور میں تو سبیلوں کی منظر کشی کا عکس جھلملا رہا ہے۔ لیکن اس کے بعد کہیں کسی گوشے میں سبیل سے پانی پینا مستحضر نہیں۔ اس کی ایک وجہ کراچی چھوڑ کر آنا ہے یا  دوسری وجہ ہمارا لوگوں کی سنی سنائی باتوں کو حقیقت خیال کر لینابھی ہے۔ مثلاً سکول میں بعض بچے اپنے امی ابو کی قسم کھا کر کہتے کہ میں نے فلاں کو سبیل کے پانی میں کچھ ملاتے دیکھا۔ فلاں کو اس کے دوست نے دیکھا۔ لال شربت کو ماتم کے خون کا شربت کہہ کر ہمیں ڈراتے۔ ہمیں مسالک کے اختلاف کا اتنا شعور نہ تھا لیکن کلاس فیلوز کی باتیں شاید عقیدتاً ہمارے ذہن میں راسخ ہو گئیں۔حالات کی کروٹ کے بعد سیکیورٹی خدشات سے ہمارے ماں باپ نے ہمیں مزید پابندیوں میں جکڑ دیا۔ ہم سبیل سے دور ہوتے گئے اور سبیل تحت الشعور کا حصہ بنتی گئی۔10محرم کو حلیم کی تیاری اور تقسیم بھی ایک خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔گو ہم نے براہ راست کبھی کسی گلی میں حلیم پکانے کا جگراتا نہیں کیا۔ لیکن نمازِ صبح کے بعد قسماقسم کی حلیم کی گھر آمد شروع ہو جاتی۔ حلیم سے ناشتہ ہوتا اور خوب سیر ہو کر کھاتے۔ حلیم کے اچھے برے ذائقہ کی پہچان یہ ہر کسی کی اپنی ہوتی۔ کوئی کہتا گھوٹا اچھا لگا ہو، کوئی رنگ گہرا ہونا یا گوشت کاریشہ دار ہونا بتلاتا۔ بہر حال ہم تو چاٹ یا گرم مصالحہ ، فرائی پیاز، ادرک، لیموں چھڑک کر حلیم کھا لیتے۔ محرم کا حلیم ہمیں اس لئے اچھا لگتا کیونکہ وہ سکول کے سامنے ریڑھی والے کے نان حلیم سے بہت مغلظ اور ذائقہ دار ہوتا تھا اور روئی کے شامل ہونے کا یقین بھی۔کچھ سال قبل ایک محرم کراچی گزرا حلیم تو کھایا لیکن جا بجا سبیل اس طرح نہ دیکھیں جو ذہن کے کسی کونے میں نقش ہے۔ نہ کوئی دودھ والا شربت میسر آیا۔محرم میں تعزیہ داری کے جلوس بھی دیکھنے جاتے ۔ جس کی اصل وجہ مختلف مقاماتِ مقدسہ کے ماڈلز کا دیکھنا ہوتا۔ جب حالات بہتر ہوتے تھے تو والد صاحب کے ساتھ ضد کر کے تعزیئے دیکھنے جاتے اور سمندر پر تعزیہ کا اختتام اور تعزیہ ڈبونا بھی مشاہدہ کرتے۔لوگ توسبیل کو بھی بدعت سمجھتے ہیں۔ گزرتے زمانے سے یہ بات سمجھ آئی کہ پانی کی یہ سبیلیں اس امر کی عکاس ہیں کہ میدان کربلا کی تپتی ریت پر امام حسین اور کم سن پیاسے بچے کس طرح بلکے ہوں گے۔ کس طرح پیاس سے گلے سوکھ کے کانٹے ہوئے ہوں گے۔ کیا کیا ظلم ہوا ہوگا۔ اور حلیم یا کسی بھی طرح کا کھانا تقسیم کرنے والے اس بھوک سے خلق خدا کو آزاد کرانا چاہتے ہیں جو میدانِ کربلا میں اہل بیت رسول کو بطورِ اذیت پہنچائی گئی۔سبیل یہ درس دیتی ہے کہ خلق خدا کسی طرح بھوک اور پیاس کی اس اذیت سے نہ دوچار ہو جو نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسینؓ  کو پیش آئی۔ سبیل پر موجود ساقی چشم تصور میں اس اعزاز کا خواہاں ہوتا ہے کہ کاش ہم اس عظیم انسان اور سردارِ نوجوانانِ بہشت کو پیاس کی شدت سے بچا پاتے اوران کے صدقے  فی سبیل اللہ قربان ہو جاتے ۔گو یہ ممکن تو نہیں لیکن اس کوشش کی یہ توجیہہ ہوتی ہے کہ آپ کے عزادار، آپ کے نوحہ کناں، آپ کے مرثیہ خواں اور عام خلق خدا کو آئندہ اس قسم کی تکلیف نہ ہو  اور یزیدیت کی روح کا ہمیشہ ہمیش کے لئے خاتمہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *