پاکستان میں واقع آسٹولا جزیرہ

   تحریر :  آصف رضا موریو

پاکستان کے چاروں صوبے بلاشبہ جغرافیائی لحاظ سے انتہائی خوبصورت ہونے کے ساتھہ قدرتی مناظر اور حسناکیوں سے مالامال ہیں مگر صوبہ بلوچستان بیشتر معاملات میں دیگر تمام صوبوں سے زمین کی فطری خوبصورتیوں میں انتہائی امیر و کبیر ہے۔  بدقسمتی سے دیگر صوبوں کے عوام اور خواص کی نسبت اس حسین و جمیل خطئہ زمین پر رہنے والی آبادیاں اپنی زمینی خزانوں، دولتوں اور ان کی اہمیتوں سے ناواقف دکھائی دیتی ہیں۔  یہاں پر پائے والی معدنیات، پیٹرول، گیس، پہاڑوں، وشال آبی ذخیروں، آثارِ قدیمہ، تاریخی و تہذیبی مقامات، رومانوی کہانیوں، روایات، رسمیات، سیاحت و ثقافت کو اگرجدید علمی، تحقیقی، تہذیبی، سائنسی، تیکنیکی اور تعلیمی حوالوں سے عمل و استعمال میں لایا جائے تو ان سے کمائی جانے والی دولت سے نہ صرف بلوچستان جیسے دس خطوں کو خوشحال طریقے سے چلایا جاسکتا ہے بلکہ ملک و قوم کیلئے دنیا بھر سے خیرسگالی، نیک نامی اور عزت کمائی جاسکتی ہے۔

بلوچستان کا ضلع گوادر بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی پر واقع ہے جس کے جنوب مغرب میں کوئیٹہ شہر، مغرب میں ضلع لسبیلہ، شمال میں کیچ اور آواران ضلع اور مغرب میں گوادر کی حدود و سرحدیں  ایران کے ساتھہ بٹی ہوئی ہیں۔ گوادرکی پانچ تحصیلوں میں سے ایک تحصیل پسنی کے علاقے میں بحیرہ عرب کی خلیج عمان کے متصل ساٹھہ کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے جس کی حدود میں پاکستان کا سب سے خوبصورت سمندری جزیرہ “آسٹولا” موجود ہے۔ کراچی سے کار کے ذریعے  پسنی  قریبن سات گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے جہاں ساحل سے کشتیوں کے ذریعے اس جزیرے تک تین سے چار گھنٹے میں پہنچا جاتا ہے۔

آسٹولا پسنی والے ساحل کے قریب ترین حصے سے جنوب میں تقریبن 25 کلومیٹر اور جنوب مشرق میں 39 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہ جزیرہ تقریباً 6۔7 کلومیٹر لمبا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 2۔3 کلومیٹر ہے جس کی سطحِ سمندر سے بلندی 246 فٹ ہے۔ لیٹیٹیوڈ پر آسٹولا کی بیٹھک 25°7’21.51″N  اور لانگیٹیوڈ پر  63°50’51.53″Eڈگریوں پر پایا جاتا ہے۔

آسٹولا جزیرے کو اس کے اڑوس پڑوس میں پائی جانے والی پہاڑی چوٹیوں کی وجہہ سے بلوچی زبان میں “جزیرہ ہفت تالار” یعنی سات پہاڑیوں والا جزیرہ بھی کہاجاتا ہے۔  بیشمار قدیم تاریخی کتابوں میں مختلف حوالوں سے اس جزیرے کا ذکر ملتا ہے جیسا کہ الیگزینڈر مقدونی کے ایڈمرلNearchus  سے متعلق تحریرات میں جسے 325 قبل مسیح میں جسے اپنے آقا نے بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں اور راستوں کی کھوج کیلئے مقررر کیا تھا۔   دھرتی کا یہ جنت نظیر اور حسین و ترین جزیرہ عربی سمندر کے پیٹ میں واقع خداتعالی کی کاریگری کا ایک ایسا باکمال مثالی شاہکار ہے جس کا تصور بھی بلوچستان جیسے بظاہر پسماندہ صوبے میں نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں “اتنا خوبصورت زمینی و آبی منظر بھی پایا جاسکتا ہے”۔ تاریخی و تہذیبی ورثوں سے بیگانگی والا ہمارا قومی المیہ یہاں بھی کارفرما نظر آتا ہے کہ سندھہ و  بلوچستان میں واقع تمام تاریخی، تہذیبی، تمدنی اور سماجی مقامات کی طرح (آسٹولا جزیرہ) بھی ٹھکڑایا ہوا اورنظر انداز کیا ہوا ایک ایسا (منورنجن) ہے جسےسنبھالنے کے لئے اگر سلیقہ مندی سے سنبھالا جائےتو یہ جگہ دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے پاکستان میں جنت نما بن سکتی ہے۔

انسانی آبادیوں سے متعلق اس غیر آباد جزیرے کو کچھہ قدیم ہندوی کتابوں میں (ستادپ )کے نام سے لکھا گیا ہے۔ یہاں پر ایک کھنڈرنما تعمیر کو ہندو دیوی کالی ماتا کے ایک قدیم مندر کے آثاروں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح  یہاں پر پائی جانے والی ایک چھوٹی سی مسجد کو خواجہ خضر سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔ مسجد اور مندر کی یہاں موجودگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ کسی دور میں آسٹولا پر انسانی آبادیاں پائی جاتی ہوں گی یا پھر کثرت سے آتی جاتی ہوں گی جو کسی بھی سبب یہاں سے ہجرت کر گئی ہوں گی یا پھر آنا جانا چھوڑ دیا ہوگا۔ یہاں پر ایک لائیٹ ہائوس بھی موجود ہے جسے حکومتِ بلوچستان نے 1983 میں بحری جہازوں کی رہنمائی کیلئے بنوا تھا جسے قریباً پانچ سال بعد شمسی توانائی کے نظام میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ پسنی کے ساحلی شہر سے انتالیس کلومیٹر دور بحیرہ عرب کے پیٹ میں آباد ملک کی عام آبادی اور خابرو اداروں کی چالاک نگاہوں سے بڑی حد تک پوشیدہ یہ خوبصورت جزیرہ ان زمینی جواہرات میں سے ایک ہے جو پرتھوی کے سینے کا زیور بنے صدیوں سےاس خطئہ زمین پر موجود ہیں۔ بلوری اور فیروزی پانیوں والے اس صاف و شفاف جزیرے پرگھومنے کیلئے سردیوں کا موسم بہترین ماتا جاتا ہے کیوں کہ تب ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر جا مزاج پرسکون رہتا ہے جبکہ گرمیوں اور مون سون کے دنوں میں یہاں جواربھاٹا اٹھتے رہتے ہیں اور سمندر کا یہ حصہ نازک مزاج انسانوں کیلئے خطرناک ہوجاتا ہے۔ آسٹولا جزیرہ ایک الگ تھلگ مقام پر واقع ہونے کے سبب اپنی تمام تر فطری تقاضائوں اور خوبصورتیوں کو شاید اس لئے برقرار رکھے ہوئے ہے کہ ابھی تک انسانی ہاتھوں کی دہشت گرد کارگزاریاں باظابطہ طور پر وہاں تک نہیں پہنچ سکی ہیں اور نہ ہی کسی نواب و سردار کی لالچی نظر ابھی تک یہاں پڑی ہے۔  انسان کے شکاری رویوں سے بہت دور ہونے کے سبب یہ جزیرہ ہزاروں آبی و زمینی مخلوقات کو اپنی آغوش میں پالتے ہوئے ان کی بڑہوتری اور افزائشِ نسل کی بہترین پناہ گاہ مانا جاتا ہے۔

یہ جزیرہ رنگین مچھلیوں، سمندری عقابوں اور جیلی فش کی ایک عمدہ آماجگاہ ہونے کے ساتھہ سمندری اور ساحلی جانوروں، پرندوں اور پودوں کی لاکھوں اقسام کا گھر بھی مانا جاتا ہے۔ یہاں پر ایک انتہائی زہریلے سانپ “رسل وائپر” کی کثیر آبادی بھی رہتی ہے جسے  (Echis carinatus astolae)کہا جاتا ہے۔ یہاں پر گھومتے ہوئے مختلف جگہوں پر سمندری پرندوں کے ہنرمندی کے ساتھہ بنائے ہوئے بیشمار خوبصورت گھونسلے بھی ملتے ہیں۔ آسٹولا جزیرے کا ریتیلا ساحل سبز کچھووں کے لئے گھونسلے بنانے اور انڈے دینے کا میدان ہے اور مرجان کی تقریبن پچیس اقسام یہاں پر پائی جاتی ہیں۔ بحیرہ عرب کے سمندری جانوروں میں سے “ہمپ بیک وہیل” جیسی نایاب ترین نسل کو بھی کئی بار آسٹولا کے ارد گرد پانی میں دیکھا گیا ہے۔

 آسٹولا پر سمندری جانوروں کی کافی نسلوں کو خطرہ ہے جن میں سبز کچھوے، کرسٹاسین، مرجان، پستان دار جانوروں، شارک، کچھوے، وہیلوں اور متحرک نوع کی کئی دیگر نسلیں شامل ہیں جن کو حکومتِ بلوچستان نے ہر ممکن تحفظ دے کر خطرے سے بچانے کا تدارک کرنے کی کوشش کی ہے۔  مزید برآں حکومت کی طرف سے اس بات پر بھی سختی سے عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے کہ وہیل، شارک، سنفش، گٹار فش اور سمندری پرندوں کا کسی طورپر بھی یہاں شکار کھیلنے نہیں دیا جائے۔  IUCN نے  2016میں آسٹولا جزیرے کو پاکستان میں سمندری مخلوق کی جانوں کے پسمنظر میں انتہائی محفوظ ٹھکانہ قرار دیا تھا۔ محکمہ جنگلات و محکمہ جنگلی حیات بلوچستان نے بھی آسٹولا جزیرہ کو سمندری مخلوق کی افزائش اور آبادیوں کیلئے ایک محفوظ ترین علاقہ قرار دیا۔ اس جزیرے پر صرف سمندری پانی کی دستیابی ہی میسر ہے جبکہ صاف پانی کا کوئی وسیلہ ارد گرد نہ ہونے کی وجہ سے جزیرے پر درختوں کی آبادیاں موجود نہیں ہیں سوائے کیکر کی مختلف اقسام کے۔  یہاں پر پودوں کی افزائش و بقا کا انحصار بارش کے پانی اورمٹی کی نمی پر رہتا چلا آیا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے سبب ہی دلفریب مناظر اور مظاہرِ فطرت سے بھرپور یہ جزیرہ سیاحت کے لئے ایک مشکل ٹھکانہ مانا جاتا ہے۔ اس کے باجود کچھ سرپھرے سیاح اور فطرت سے پیار کرنے والے لوگ یہاں کیمپ لگاکر گہرے سمندر میں ڈائیونگ کا مزہ لینے کے ساتھہ سمندر کے گہرے  پانی میں مچھلیوں کا شکار کرنے کا مزہ آتے رہتے ہیں۔ بیشتر لوگ سارا دن یہاں لطف اندوز ہوکر شام ہوتےہی اپنی اپنی منزلوں کو واپس چلے جاتے ہیں مگر جو مہم جو رات کو یہاں قیام کرنے، اسکوبا ڈائیونگ اور فشنگ کے خواہاں ہوتے ہیں انہیں کیمپ کرنے کے لئے کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ دیگر تمام ضرورری سہولتوں اور ضرورتوں کا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *