سیاست میں منافقت

تحریر : عبدالکریم

سیاست طاقت کا ایک ایسا کھیل ہے جس کو جیتنے کے لیےانسان سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔انسان طاقت کے نشے میں اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے اور اقتدار کو حاصل کرنے کے لیے انسان ہر طرح کے جتن کرتا ہے ۔جب اقتدار کو حاصل کر لیتا ہے تو اس کا خود پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے ۔وہ طاقت کے نشے میں ایسے فیصلے کرتا ہے جس سے اس کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑجاتا ہے ۔یہی حال پاکستانی سیاست کا ہے اور یہی ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔میں تاریخ میں زیادہ دور نہیں جاتا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا دور دیکھ لیں ان دونوں پارٹیوں پر الزام ہے کہ یہ سیاسی منافقت کی علم بردار ہیں ۔دونوں سیاسی پارٹیوں نے پاکستانی سیاست کا جنازہ نکالااور سیاست کو اپنی لونڈی بنایا دونوں نے سیاست کو عوام کی خدمت نہیں دولت کمانے کا ذریعہ بنایا اور پاکستان میں ایک ایسے سیاسی کلچر کوجنم دیا جس میں سیاست جیسے مقدس فریضے کو عام عوام کے سامنے گالی بنا دیا۔یہاں لوگ سیاستدانوں کو عوام دوست کی بجائے عوام دشمن سمجھتے ہیں ۔نواز شریف اور زرداری صاحب کے نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں دونوں نے عوام کو بے وقوف بنایا ہوا ہے ۔نواز شریف صاحب کو دیکھ لیں انھوں نے اس حد تک عوام کو بے وقوف بنایا ہوا ہے کہ جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو ان کا نعرہ صرف ووٹ کو عزت دو کا ہوتا ہے لیکن اقتدار میں آتے ہی ان کا نظریہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے وہ ووٹ کو عزت دو کی بجائے نواز شریف کو عزت دو کی طرف آجاتے ہیں پوری پارٹی اس بیانیے کو لے کر چلتی ہے۔ ن لیگ صرف نواز شریف ہے اس لیے نواز شریف کی سوچ ہی پارٹی کی سوچ ہوتی ہے اور پارٹی پوزیشن بھی یہی ہوتی ہے ۔نواز شریف چونکہ بادشاہت پسند ہیں اور بادشاہوں کے ساتھ ان کے گہرے مراسم بھی ہیں اس لیے وہ اقتدار میں آتے ہی جمہوریت کو بھول کر بادشاہت میں داخل ہوجاتے ہیں اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کو عوام نے منتخب کیا ہےجب وہ وزیراعظم کے منصب تک پہنچتےہیں تو بادشاہوں کی طرح سوچنا شروع کر دیتے ہیں اورہرادارے کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا شروع کر دیتے ہیں ان کا طرز حکمرانی بھی بادشاہوں جیسا ہو جاتا ہے ۔

جب نواز شریف صاحب طاقت کے نشے میں خوب مست ہوجاتے ہیں تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دوست اور دشمن کون ہے؟ ۔وہ مودی کو بھی گھر کی شادی پر بلا لیتے ہیں یہ سب اچانک ہو تا ہے کہ مودی صاحب افغانستان سے اڑ کر پاکستان آجاتے ہیں ان کے گھر کی شادی میں شامل ہوجاتے ہیں اور ملک میں کسی کو بھی اس کا پہلے سےپتہ نہیں ہوتا اوریہ سب بغیر ویزا بغیر کسی سر کاری پروٹو کول کے ہوتا ہے ۔نواز شریف صاحب مودی کی والدہ کو ساڑھی تک تحفے میں بھیجتے ہیں ۔جندال صاحب جن سے نواز شریف صاحب کی اولاد کے تجارتی تعلقات ہیں وہ انڈیا کے بڑے سٹیل کے کاروباری شخص ہیں اوروہ مودی کے خا ص لوگوں میں سے ہیں ان کو بھی بغیر ویزے کے مری میں رکھتے ہیں ۔جب ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کو اقتدار سے نکالا جاتا ہے تو ان کا بیانیہ بھی ساتھ ہی تبدیل ہو جاتا ہے اوروہ جمہوریت کے علمبردار بن جاتے ہیں اور طاقتور حلقوں کو برا بھلا کہنا شروع ہو جاتے ہیں ساتھ ہی پارٹی کے کچھ لوگوں کو طاقتور حلقوں کے ساتھ رابطے کے لیے لگا دیتے ہیں وہ لوگ طاقتور حلقوں کی خوشنودی کے لیے آلہ کار بن جاتے ہیں اور پارٹی میں ان آلہ کاروں کی عزت بھی بڑھ جاتی ہے اور یہ سیاست میں منافقت کی نشانی ہے کہ آپ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے صرف کرسی کی خاطر اپنے بیا نیے کو تبدیل کرتے رہتے ہیں آپ عمران خان کو تو یہ کہتے ہیں کہ سلیکٹرنے سلیکٹ کیا ہے ہمارے اوپر مسلط کیا ہے اور اند ر سے آپ کے لوگ انہی طاقتور حلقوں سے رابطے میں ہوتے ہیں ۔یہی حال پیپلز پارٹی کی سیاست کا بھی ہے بلاول صاحب وزیراعظم کو اسمبلی میں کھڑے ہو کر سلیکٹڈ کہتے ہیں ان کے والد محترم آصف علی ذرداری صاحب جو کہ مفاہمت کی سیاست کے کھلاڑی ہیں وہ لوگوں کو طاقتور اداروں کے ساتھ رابطے میں رکھتے ہیں جب موجودہ سینیٹ کے چیئرمین کو ہٹانے کا وقت آیا تھا تواپوزیشن کے ارکان سینیٹ نے ان کے حق میں ووٹ دیے تھے جس کا بلاول صاحب کو بہت دکھ ہوا تھاآپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستانی سیاست میں کتنی منافقت ہوتی ہے ہر پارٹی اپنے مفادات کو دیکھتی ہے عوام کے حقوق کو بالائے طاق رکھاجاتا ہے ہر پارٹی کا اپنا بیانیہ ہوتا ہے اپنے نظریات ہیں عوام صرف پسنے کے لیے ہوتے ہیں آپ دیکھ لیں ہر پارٹی اقتدار کے لیے طاقتور اداروں کی طرف دیکھتی ہے ان اداروں کی خوشامد میں لگی رہتی ہے ۔

اپوزیشن ایک طرف تو عمران خان کو سلیکٹڈکہتی ہے اور دوسری طرف یہ بڑی جماعتیں اقتدار کے لیے طاقتور اداروں سے رابطے میں بھی رہتی ہیں یہ سیاسی پارٹیاں یہ بھی دیکھتی رہتی ہیں کہ حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں کہ نہیں اگر ایک پیج پر ہیں تو ان کی سیاست میں ٹھہراؤآجاتاہے اور اگر حکومت اور ادارے ایک پیج پر نہ ہوں تو ہر اپوزیشن خوشی کے شادیانے بجاتی ہے پھر سیاست اور منافقت ایک پیج پر ہو جاتی ہے عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہوتاہے۔نواز شریف اور زرداری صاحب یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنا طاقتورحلقوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے بغیر ناممکن ہے۔اپنے آپ کو سیاست میں اِن رکھنےکے لیے سیاسی پارٹیوں کو اپنے اپنے سیاسی نعرے تخلیق کرنے پڑتے ہیں جیسے ووٹ کو عزت دو، روٹی کپڑا مکان،یکساں احتساب اور انصاف وغیرہ اب میڈیا اور سوشل میڈیا نے عوام کو باشعور کر دیا ہے عوام کے آگے سب کچھ عیاں ہے ہر پارٹی کے منشور کا بھی پتہ ہے سیاست میں لوٹ مارکا بھی پتہ ہے عوام کو یہ بھی پتہ ہے کہ سیاست میں منافقت کہاں ہو رہی ہے ۔

آپ دیکھ لیں جب نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے تو زرداری صاجب نواز شریف صاحب کے گھر تشریف لائے تھے نواز صاحب نے خوب اچھے اچھے پکوانوں سے زرداری صاحب کی تواضع کی تھی تب نواز شریف صاحب اور زرداری صاحب تمام سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر ایک پیج پر ہوگئے تھے حالانکہ نواز شریف صاحب کی ساری سیاست زرداری صاحب کے خلاف تھی ہر دفعہ نواز شریف صاحب وزیراعظم بھی پیپلز پارٹی کو ہرا کر بنے ہیں ۔پیپلز پارٹی سب سے بڑا نواز شریف صاحب کا سیاسی حریف تھا یہ سیاست بھی عجیب چیز ہے جب ان سیاستدانوں کے مفادات، گول،سیاسی مقاصد، سیاسی دشمن ایک ہو جائیں تو ان کو ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔اب ملک کے وزیراعظم عمران خان ہیں اور ن لیگ کے سب سے بڑے سیاسی حریف ہیں اس وقت ن لیگ کو پیپلز پارٹی کی اشد ضرورت ہے اور اب کے با ر شہباز شریف چل کے گئے ہیں۔ بلاول ہاؤس کراچی میں بلاول اور زرداری صاحب نےشہباز شریف کا استقبال کیا ہے ایک وقت تھا جب شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو وہ یہ کہا کرتے تھے زرداری صاحب کرپٹ ہیں انہوں نے ملک کو بہت لوٹا ہے میں زرداری صاحب کا پیٹ پھاڑ کر سارے پیسے نکالوں گا علی بابا چالیس چورہیں یہ سب باتیں شہباز شریف نے زرداری صاحب کے بارے میں بولی ہوئی ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے اب جبکہ ن لیگ کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے شہباز شریف صاحب کو چل کر زرداری صاحب کے پاس جانا پڑا۔عمران خان کو عوام نے سلیکٹ کیا ہے وہ ملک کے وزیراعظم ہیں عوام کی آخری امید ہیں ابھی اپنے دوسالوں میں عوام کو مہنگائی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکے دیکھتے ہیں جب وہ اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کریں گے تو عوام کو کیا دے کر جائیں گے ان کی اپنی بائیس سال کی سیاسی جدوجہد داؤپر ہے اگر انہوں نے عوام کے لیے کچھ کیا تو عوام ان کو دوبارہ لے آئے گی ورنہ وہ سابق حکمرانوں کی طرح ریجیکٹ ہو جائیں گے۔

♦♦♦

فلر

السلام علیکم و رحمۃ اللہ!

ماہ ستمبر کا میگزین پڑھنے کو ملا محبتوں کا بہت بہت شکریہ!

درس قرآن کریم، جزاک اللہ خیراً ۔

اداریہ محرم الحرام کی فضیلت،

ماشاء اللہ ماشاء اللہ! بہت عمدہ تحریر ۔ جزاک اللہ ۔

جناح کی تقریر اور اقلیتوں کا پاکستان، پُر مغز تحریر۔

مہاجر کیمپ کی یادیں، محمود شام

بہت ہی خوبصورت تحریر۔

مُلائیت کے 73 سال، لمحہ فکریہ۔

سید عطااللہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک،

سوچنے لائق تحریر۔

پاکستان میں حکومت کرنے کا حق صرف پاکستانی عوام کا ہے،

ڈاکٹر طارق احمد مرزا کا زبردست شاہکار ۔

ضروری اعلان: اللہ سوہنا آپ کا حامی و ناصر ہو، قارئین کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔

امریکہ کولمبس نے نہیں بلکہ مسلمانوں نے دریافت کیا، بہت عمدہ اور بہت بڑی جانکاری ۔

راحت اندوری، ارشد چوہان کی بہت خوبصورت کاوش، اللہ سوہنا مرحوم کے درجات بلند فرماوے۔

علامہ محمد اقبال کی باتیں، لاجواب ہے ۔

مجموعی طور پر انتہائی خوبصورت تحاریر ہائے اور بہترین میگزین ہے۔

آپ اس کمر توڑ مہنگائی کے ساتھ جس طرح ادب کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں،

آپ حقیقتاً ایک عظیم انسان ہیں، اللہ سوہنا آپکو مزید عزتوں سے نوازے اور اللہ سوہنا سلامت رکھے اور یہ سلسلہ جاری و ساری رکھنے کی مزید طاقت عطا فرماوے۔

میری جانب سے ادارے کی کامیابی کیلئے ڈھیروں دعائیں دل سے اور بہت بہت مبارکباد قبول فرمائیں ۔۔

تمت بالخیر۔ جزاک اللہ خیراًکثیرا ۔۔

رانا محمد اکرم شاد    سیکرٹری پنجابی ادبی تنظیم

💝دل دریا پاکستان رجسٹرڈ🌐

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *