سفارش

شعبہ گوشہ ادب

 تحریر :فوزیہ فوزی

بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ” سفارش” اپنے اندر ایک وسیع معنی اور بے شمار سوال، الجھنیں اور بہت سے مسائل رکھتا ہے، کم فہم اور لاپرواہ آدمی بس اتنا ہی کہے گا” کیا ہے اپنے کام کے لئے کسی بڑے سے کہلوا دیا تو کیا ہوا، ضرورت تو پوری ہو گی ۔وقت بچ گیا خوار نہیں ہونا پڑا”یاد رکھیئے میں نے یہاں لفظ ” آدمی” استعمال کیا ہے انسان نہیں کہا ۔ کیونکہ میرے خیال میں جس کے اندر انسانیت ہی ختم ہو جائے وہ انسان نہیں کہلا سکتا۔ ۔ تو صاحب! بات ہو رہی تھی سفارش کی ۔یہ چھوٹا سا لفظ اپنے آپ کو منظر عام پر لائے بغیر بے دریغ استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس کے استعمال میں زمانے کی قید نہیں ۔ ضروت ہے تو بس اونچی پوسٹ ،تعلق داریاں اور بھری ہوئی جیب کی، جیسے ان تین نعمتوں تک رسائی ہے سمجھیئے اس کا بیڑا پار۔ ۔ ایک پرچی پر کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔ وہ پرچی مختلف ہاتھوں سے ہوتی ہوئی اونچی کرسی کے سامنے والی میز پہ رکھ دی جاتی ہے ۔ بڑے اطمینان سے ایک میٹرک پاس شخص کو اہم کرسی دے دی جاتی ہے اور باہر بیٹھے بڑی بڑی ڈگریوں والوں کو ان کی فائلوں سمیت واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ۔ایک کاغذ کے چھوٹے سے پرزے نے کھوٹا سکا چلا دیا۔ ۔ نہیں ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا۔ میں نے کب کہا ہر جگہ ایسا ہوتا ہے۔  بس کہیں پہ اس سے کم اور کہیں پہ اس سے زیادہ ہوتا ہے۔ شائد ضرورت ہے اس معاشرے کی ۔ تعلق نبھانے کے لئے لحاظ مروت دیکھانی پڑتی ہے۔ حق دار کو اس کے حق سے محروم کرنا مجبوری ہے۔ کہیں رعب جما کر اپنی حیثیت اور اپنے بلند مرتبہ ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے ۔لفظ “سفارش” کسی خاص طبقے ،خاص فرقے یا خاص قوم سے منسلک نہیں ۔بلکہ بدقسمتی سے ہر طرف اس کا بول بالا ہے۔کسی نہ کسی رنگ میں یہ ہماری رگوں میں سرایت کر رہی ہے۔ ۔ ہم نے خدا کا فرمان اورقرآن کریم کو صرف فراموش ہی نہیں کیا بلکہ اس مقدس کتاب کو خوبصورت جزدان میں لپیٹ کر الماریوں میں بند کر دیا ہے۔ اور کوئی نصیحت کرے تو فورا موبائل نکال کر دکھاتے ہیں کہ یہ دیکھیں صاحب! ہم نے تو موبائل میں بھی قران پاک ڈاؤن لوڈ کیا ہوا ہے ۔ ہمیں کیا نیکی کی تاکید کرتے ہیں ۔  سفارش اور رشوت آپس میں لازم اور ملزوم ہیں۔ جہاں تعلق سے کام نہ نکلے وہاں کاغذ کی بے جان گڈیاں مشکل سے مشکل کام کو آسان بنا دیتی ہیں ۔آفس میں ایک بڑا آفیسریا افسر قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا۔ پڑھتے پڑھتے ایک دم سے زور سے چیخا۔ ” خاموش ہو جاؤ دیکھ نہیں رہے میں تلاوت کر رہا ہوں ۔ کمرے میں ایک دم مکمل خاموشی چھا گئی۔ سب کام میں مشغول ہو گئے ۔ دروازے سے ایک بڑی بڑی مونچھوں اور پگڑی والا شخص مسکراتا ہوا داخل ہوا۔ اور آفیسریا افسر کے سامنے بیٹھتے ہوئے ایک خاکی لفافہ میز کے نیچے سے پکڑا دیا۔ افسر نے قرآن مجید بند کیا۔ دائیں بائیں دیکھا۔سب سر جھکائے کام میں مصروف تھے اس نے مسکراتے ہوئے لفافہ لے لیا۔ ۔یعنی کام ہو گیا۔ بھلا ہو گیا دونوں کا۔یہ ایک چھوٹا سا دفتری سین ہے۔ جو میں نے دکھایا۔ ایسے بہت سے کام بےشمار دفاتر میں چل رہے ہوتے ہیں ۔ دیکھنے والی آنکھیں کچھ پابندیوں کی وجہ سے دیکھتے ہوئے بھی زبان بند رکھتی ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں برائی پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ۔ حقدار کو حق نہیں ملتا۔ کچھ تو ناکامیوں کے آگے ہار نہیں مانتے مگر کچھ ہر نظام سے بددل ہو جاتے ہیں۔یا پھر زندگی ہار جاتے ہیں ۔زندگی پھر بھی رواں دواں ہے۔

ہم لوگوں کے نقش قدم پہ چل رہے ہیں ۔ کہیں بہتری کے سامان پیدا کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔ ۔ پتہ نہیں کیوں ؟ شائد اس لئے کہ کہیں کسی کی سفارش ان کی روزی روٹی کے درپے نہ ہو جائے۔ گھر اور گھر کی ذمہ داریاں برائی دیکھ کر بھی خاموشیوں کو طول دے رہی ہیں ۔ ۔ مگر کب تک ؟؟؟

  ♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *