ستمبر1974کا فیصلہ

تتحریر : جمیل احمد بٹ

 7 ستمبر1974 ؁ کو   ملک ِ عزیز میں عددی اکثریت کے بل پر دنیوی اغراض کے لئے  کئے جانے والا اسمبلی کا فیصلہ درج ذیل وجوہ سے بے حقیقت تھا اور ہے۔

۱۔ بلا اختیار  (without  jurisdiction):

قرآن کریم نے دینی معاملات میں فیصلہ کا اختیار کسی اسمبلی کو نہیں دیا بلکہ یہ حکم دیا کہ

فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ(النساء۴:۶۰)

ترجمہ: اگر تم کسی امر میں اختلاف کرو تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔

اسی طرح فرمایا:

اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلاً (انعام ۶:۱۱۵)

ترجمہ:(تو کہہ دے کہ ) کیا میں اﷲ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ وہی ہے جس نے تم پر کھلی کھلی کتاب اتاری ہے۔

اور یہ اصول ٹھہرایا ہے کہ بین المذاہب جھگڑوں کا فیصلہ اﷲ ہی کرے گا اور ایسا قیامت کے دن ہو گا۔جیسا کہ فرمایا :

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِئِیۡنَ وَ النَّصٰرٰی وَ الۡمَجُوۡسَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا ٭ۖ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ (الحج۲۲:۱۸)

ترجمہ: یقیناجو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی بن گئے اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا اﷲ یقیناًان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا ۔

پس کسی اسمبلی کا اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لینا قرآنی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

۲۔اہلیت نہ ہونا  (incompetency ) :

وہ اراکین اسمبلی جنہوں نے یہ فیصلہ کیا دینی علم اور کردار کے لحاظ سے ایسا فیصلہ کرنے کے اہل نہ تھے۔ ضیاء الحق حکومت نے ان حضرات کے بارے میں جو قرطاس ابیض شائع کیا اس میں ان میں سے بیشتر کو خائن، راشی، جھوٹا، بد معاملہ ، بد عنوان، شرابی، زانی، اغوا میں ملوث، رسہ گیر، اسمگلر اور تخریب کار بتایا گیا ۔ اس اسمبلی کا سربراہ چند سال بعد ملکی قانون کے تحت قتل کا مجرم قرار پا کر تختہ دار کا سزاوار ہوا۔ اور اس اسمبلی کے لاٹ مولوی مفتی محمود صاحب وہ تھے جن کی وطن دوستی کا پردہ اس وقت فاش ہو چکا  تھا جب سقوط مشرقی پاکستان کے موقع پر انہوں نے فخریہ اعلان کیا تھا کہ ۔’خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے‘۔ کیایہ لوگ دینی فیصلہ کرنے کے اہل تھے اور اہلیت نہ رکھنے والےایسے لوگوں کے کئے گئے فیصلہ کی حیثیت کیا ٹھہرتی ہے؟

۳۔  سیاسی کھیل:

حقیقت یہ ہے کہ ربوہ اسٹیشن پر طلبہ کی ہلڑ بازی سے لے کر دوسری آئینی ترمیم کی منظوری تک یہ سارا معاملہ ایک سیاسی کھیل تھا۔ جس میں مولوی اپنی دانست میں بھٹو صاحب کو استعمال کرکے اپنے دیرینہ منصوبہ کو پورا کر رہے تھے اور دوسری طرف  خودبھٹو صاحب مولویوں کے کندھوں پر سوار اپنے اقتدار کو ہمیشگی دینے کے خواب دیکھ رہے تھے۔اسی پس منظر میں یہ جان کر کہ مفتی محمود صاحب اس آئینی ترمیم کا کریڈٹ خود لے رہے ہیں بھٹو صاحب نے اپنے رنگ میں بے ساختہ یہ سوال کیا  تھاکہ’تو کیا وہ لڑکے مفتی محمود کے باپ نے بھیجے تھے‘؟اور یوں یہ ظاہر کر دیا کہ اس معاملہ کی ابتداء بھی ان کی پلاننگ کے تحت تھی۔اس ترمیم کی سیاسی بنیاد کا اعتراف الطاف حسین قریشی صاحب نے بعد میں ان الفاظ میں کیا’جناب بھٹو صاحب نے مذہبی جذبہ کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار نہیں دیا تھا پھر کیا وہ ایک سیاسی فیصلہ تھا؟ واقعات اس کٹھن سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں‘۔ (اردو ڈائجسٹ لاہور مارچ ۱۹۷۶ء ؁)

۴۔ آنحضرت ﷺ کی فرمودہ مسلمان کی تعریف کے مخالف :

آنحضرت ﷺ نے کسی شخص کے مسلمان قرار دئے جانے کے لئے اس کا کلمہ پڑھنا کافی سمجھا اور اس بد ظنی کو کہ یہ پڑھنے والا دل میں کو ئی اور خیال رکھتا ہے آپ ؐ نے سختی سے رد فرمایا جیسا کہ آپ ﷺ نے حضرت اسامہؓ پر اس وقت سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا جب انہوں نے کلمہ پڑھ لینے والے ایک شخص کو یہ کہہ کر قتل کر دیا کہ اس نے یہ دل سے نہیں پڑھا تھا۔اس موقع کا درج ذیل مکالمہ اس باب میں یقیناًحرف آخر ہے۔فرمایا’اے اسامہ! تم نے اسے کلمہ توحید پڑھ لینے کے باوجود قتل کر دیا؟ انہوں نے عرض کی اے اﷲ کے رسول اس نے ہتھیار کے ڈر سے ایسا کہا تھا۔ تو آپ نے فرمایا ’افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالھا ام لا‘ کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے دل سے کہا یا نہیں؟آپ ؐ بار بار یہ بات دہراتے تھے‘۔

 (بخاری کتاب المغازی باب اسامہ بن زید)

ایک اور موقع پر آنحضرت ﷺ نے مسلمان کی یہ تعریف فرمائی ’من صلی صلو تنا و استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی لہ ذمۃ اﷲ و ذمۃ رسول اﷲ۔  (صحیح بخاری کتاب الصلوۃ)

ترجمہ: جو شخص بھی ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے پس وہ مسلمان ہے اور اسے خدا اور اس کے رسول کی حفاظت حاصل ہے۔

 اس دوسری ترمیم کے ذریعہ یہ اعلان کیا گیا کہ گویا آں حضرت ﷺ کے ارشاد، آپ ؐ کی سنت اور آپ ؐ کی بیان فرمودہ مسلمان کی تعریف درست نہ تھی اوراب گویا اس کی اصلاح کرتے ہوئے مسلمان ہونے کے لئے نئی شرائط کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نعوذباﷲ

۵۔ریاست  ِمدینہ کے آئین کے خلاف:

  مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی جس کے سربراہ خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تھے۔ آپ ؐ نے انتظام حکومت کے ضروریات کے تحت مردم شماری کا حکم دیا۔ پوچھا گیا کسے مسلمان شمار کیا جائے ؟ تو آپ ؐ نے فرمایا:

‘اکتبوالی من تلفظ بالاسلام من الناس۔(صحیح بخاری کتاب الجہاد)

ترجمہ:لوگوں میں سے جو زبان سے اسلام کا اقرار کرنے والے ہیں انہیں میرے لئے شمار کرو۔

ارشاد رسول ﷺ سے ہمیشہ کے لئے طے شدہ اس اصول  کے برعکس اس دوسری ترمیم کے تتبع میں آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمان ہونے کا زبانی اقرار نا کافی سمجھا گیا ہے اور یو ں گویا عملاً یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا فرمودہ اور سنت درست نہ تھا اب اس میں اصلاح کردی گئی ہے۔ نعوذباﷲ

۶۔اعلان ِ تکمیل ِ دین کے مخالف:

آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق  ابتدائے اسلام سے مسلمان ہونے کے لئے یہ طریق رہا ہے کہ کلمہ طیبہ پڑھا جائے اور گواہی دی جائے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ؐ اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔ یہی طریق اب بھی تمام امت مسلمہ میں جاری ہے تاہم دوسری ترمیم کے بعد پاکستان میں مسلمان قرار پانے کے لئے نئی شرائط والے ایک حلف نامے پر دستخط ضروری ہیں اور یہاں کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا پڑھنا مسلمان ہونے کے لئے ناکافی قرار دیا گیا ہے اور یوں ان سب مسلمانوں کے اسلام کی نفی کر دی گئی ہے جو گزشتہ پندرہ سو سالوں میں صرف یہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے۔

یہ جرا ت اس لحاظ سے بھی قابل فکر ہے کہ قرآن کریم تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ

 اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ (مائدہ ۵ : ۴)

ترجمہ:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا۔

لیکن اس کے برخلاف اس فیصلہ کے  کرنے والوں اور  اس پر اصرار کرنے والوں کے نزدیک مسلمان ہونے کا طریق صدیوں بعد اس دوسری ترمیم کے ذریعہ طے ہوا۔ گویا سارے درمیانہ عرصہ میں اسلام نا مکمل رہا؟

۷۔آنحضرت ﷺ کی ایک اور پیشگوئی کاظہور:

   دوسری ترمیم کے ذریعہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی سنت کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی یہ کوشش ارباب اقتدار نے اپنے مفاد دیکھتے ہوئے اس گروہ کے مطالبہ پر اور  اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے اسے اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لئے کی جس کا روزگار مذہب کے نام پر سیاست کرنا ہے گو ان پر علمائے دین کا لیبل لگا ہوا ہے۔ تنگ نظری، عدم رواداری اور تشدد ان کا طریق ہے اور حکومت کو دبائے رکھنے کے لئے جلسے، جلوس، مظاہرے اور فتوے جن کا ہتھیار ہے۔ان علماء کے اس منفی کردار کو دیکھ کر ہر اہل نظر کی توجہ درج ذیل پیش خبریوں کی طرف جاتی ہے جو آنحضرت ﷺ نے اس زمانے کے ان مولویوں کے بارے میں فرمائی تھیں:

 علماء ھم شر من تحت ادیم السماء من عندھم تخرج الفتنۃ و فیھم تعود   ۔   (مشکوۃ کتاب العلم الفصل الثالث صفحہ ۳۸)

ترجمہ:ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بد ترین مخلوق ہوں گے ان ہی سے فتنے اٹھیں گے اورانہی میں لوٹ جائیں گے۔

 تکون فی امتی فزعۃ فیصیرالناس الی علما ءھم فاذاھم قردۃ و خنا زیر۔  (کنزالعمال صفحہ ۱۹۰/۷)

ترجمہ: میری امت پر ایک زمانہ اضطراب و انتشار کا آئے گا لوگ اپنے علماء کے پاس رہنمائی کی امید سے جائیں گےتو وہ انہیں بندروں اور سؤروں کی طرح پائیں گے۔

۸۔ توہین ِرسالت اور توہین ِ قرآن:

 مندرجہ بالا آیات اور احادیث کی روشنی میں اس دوسری ترمیم اور اس کے تحت شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لئے مجوزہ فارموں پر مسلمان ہونے کے حلف نامے خود اپنی ذات میں توہین رسالت بھی ہیں اور توہین قرآن بھی۔ پھر اس ترمیم کے تبتع میں ۱۹۸۴ء ؁ میں نافذ کئے جانے والے ظالمانہ قوانین اور ان پر عمل درآمد کے لئے خدا کے گھروں سے اﷲ اور رسول کے نام کو بالجبر مٹانے اور بعض دفعہ اس عمل کی قانون کے نگہبانوں کو اپنی نگرانی میں جمعداروں کے ذریعہ سر انجام دہی اﷲ اور رسول کے ناموں کی ایک شرمناک توہین ہے۔

اس فیصلہ کے بعد سے پاکستان پر خوف اور بد امنی کے گہرے سائے مسلط ہیں ہر روز اخبارات اندوہناک خبروں سے بھرے ہوتے ہیں ہر دن گزشتہ دن سے خراب چڑھتا ہے اور ہر میدان میں ملک مسلسل زوال پذیر ہوتا چلا جارہا ہے کیایہ سب اس توہین کے نتیجہ میں اترنے والا عذاب الہٰی نہیں؟

۹۔ ماضی کی ناکام کوششوں کی مانند:

کسی اسمبلی کا اپنی حد سے تجاوز کر کے کسی مذہبی نقطہ نظر اور اس کے ماننے والوں کے بارے میں دوسری ترمیم کی شکل کا فیصلہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ مذہبی تاریخ میں پہلے بھی کئی بار قوموں کے بڑوں نے باہم اتفاق کر کے طاقت کے زعم میں اختلاف عقیدہ کے جرم میں چھوٹی جماعتوں کے خلاف سزا دہی کے فیصلہ کئے ہیں۔حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں جلانے کا فیصلہ نمرود کی مشاورتی مجلس کا تھا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر لٹکانے کا فیصلہ فلسطین میں قیصر کے نمائندوں نے کیا ۔ آں حضرت ﷺ اور ان کے اصحاب کے معاشرتی بائیکاٹ اور شعب ابی طالب میں نظر بندی کا فیصلہ سرداران مکہ کی مجلس نے کیا اور ایسی ہی ایک مجلس نے ہجرت سے قبل آنحضرت ﷺ کو قتل کر دینے کے فیصلہ پر بھی جرات کی۔

کمیٹیوں ، جرگوں اور اسمبلیوں کے ان فیصلوں کے رد میں خدائی تقدیر کس طرح ظاہر ہوئی یہ بھی تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ  علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی عظمتِ شان پر ان  فیصلوں سے ذرہ برابر فرق نہ پڑا۔ ہاں نمرود اور اس کے ساتھی ، یہودی فریسی اور سرداران قریش جس بد انجام سے دوچار ہوئے یہ سب کے سامنے ہے۔پاکستان میں بھی دوسری ترمیم کا سہرا اپنے سر باندھنے والے اور اس پر عمل درآمد کے لئے ۱۹۸۴ء ؁ میں آرڈینینس نافذ کرنے والوں کا انجام اہل نظر کے لئے مقام عبرت ہے۔

۱۰۔مثبت پہلو:

اس دوسری ترمیم کا ایک مثبت پہلوبھی ہے۔

اس ترمیم کی منظوری پر اخبارات میں یہ خبر اس اظہار کے ساتھ شائع ہوئی کہ امت کے بہتر فرقوں نے اتفاق رائے سے احمدیوں کے خلاف فیصلہ کردیا ہے اور اس اتفاق پر بڑی خوشی اور مسرت کا اظہار بھی ہوا مثلاً اخبار نوائے وقت نے زیر عنوان’بہتر فرقوں کا اجماع ‘اپنی رائے کا اظہار کیا اور لکھا:

‘اسلام کی تاریخ میں اس قدر پورے طور پر کسی اہم مسئلہ پر کبھی اجماع امت نہیں ہوا……….قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر جو بھی ۷۲ فرقے مسلمانوں کے بتائے جاتے ہیں سب کے سب اس حل پر متفق اور خوش ہیں’۔(نوائے وقت ۶ اکتوبر 1974ء ؁)

۷۲ اور ایک کی اس تعیین سے آں حضرت ﷺ کی ایک اور پیشگوئی پوری ہو گئی جس کے الفاظ یہ ہیں۔

‘ان بنی اسرائیل تفرقت علیٰ ثنتین و سبعین ملتہ و تفترق امتی علیٰ ثلاث وسبعین ملۃ کلھم فی النار الا ملۃ و احدۃ ، قالوا:من ھی یا رسول اﷲ؟ قال: ما انا علیہ و اصحابی۔

(ترمذی کتاب الایمان ۲/۸۹)

ترجمہ: بنی اسرائیل ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی لیکن ایک فرقہ کے سوا سب جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کون سا ہے۔ تو حضور نے فرمایا وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل پیرا ہوگا۔

اس پیشگوئی کی وضاحت میں مولوی مودودی صاحب نے لکھا تھا :

’اس حدیث میں اس جماعت کی دو علامتیں نمایاں طور پر بیان کر دی گئی ہیں ایک تو یہ وہ آں حضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہو گی اور دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہو گی۔( تر جمان القران جنوری فروری ۱۹۴۵ء ؁ صفحہ ۱۷۶)

یہ بوالعجی بہر حال اپنی جگہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ ۷۲ غلط ہوں گے اور ایک درست اور یہاں قوم کو اس بات سے بہلایا گیا ہے کہ ۷۲ صحیح ہیں اور ایک غلط!

♦♦♦

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *