درس القرآن

 

آیات مع ترجمہ:

قُلْ إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ۔(سبأ:49)

تُو کہہ دے کہ یقیناًمیرا ربّ حق سے (باطل پر) ضرب لگاتا ہے (وہ) غیبوں کا بہت جاننے والا (ہے)۔

            قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ۔(سبأ:50)

 تُو کہہ دے کہ حق آچکا ہے اور باطل نہ تو (کوئی) آغاز کر سکتا ہے اور نہ (اسے) دہرا سکتا ہے۔

تفسیر:

            يَقْذِفُ بِالْحَقِّ: حق کے ذریعے اس باطل کا سر توڑدے گا۔ یہ پیشگوئی ہے۔ اسی لئے عَلَّامُ الْغُيُوبِ صفت کا ذکر ساتھ کر دیا۔

            مذہبوں میں اختلاف ہے مگر حق پانا کوئی ایسا مشکل امر نہیں۔ مثلاً بُت پرست ہیں۔ صرف اتنا غور کافی ہے کہ اﷲ کو چھوڑ کر جس کی پرستش کرتے ہیں۔ وہ خود اپنے ہاتھ سے گھڑتے ہیں۔ پھر نبیوں کے منکر ہیں۔ وہ دیکھیں کہ نبی پہلے اکیلا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی غریب لوگ شامل ہوتے ہیں۔ مگر ہر نبی ضرور اپنے بڑے بڑے مخالفوں کے مقابل میں کامیاب ہوتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ راست بازوں کی جماعت حق پر ہے۔

            نبی پر جنون کا شبہ بہت ہی کمزور بات ہے۔ کیا مجنون ایسی اعلیٰ تعلیم لا سکتا ہے اور ایسے قوانین وضع کر سکتا ہے۔ اور اپنے کاموں کے نتیجے اپنی آنکھوں کے سامنے بار آور دیکھ سکتا ہے۔

            نجات کے طالبو! دینِ حق کے خواستگارو! خیالات ایں وآں سے تھوڑی دیر سر کو خالی کر کے ادھر متوجّہ ہو جاؤ۔ سوچو۔ کیا یہ زبردست پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی۔ کیا ایک دنیا پر اس کی صداقت ظاہر نہیں ہو گئی۔ تیرہ سو برس ہوئے ۔ دین کامل۔ توحید۔ صداقت کے آفتاب نے سر زمینِ عرب میں طلوع کیا۔ جس کی روشنی نہ صرف عرب میں بلکہ کل اقطارِ عالم میں پھیلی اور پھیل رہی ہے۔ اور جب سے کبھی شرک۔ کفر۔ بدعت ۔بت پرستی۔ بطلان کی کالی بدلی اس کے پُر جلال نورانی چہرے کو محجوب نہ کر سکی۔

            اسی پر کیا بس ہے۔ آپ نے بڑے اطمینان۔ الہٰی الہام سے۔ پُر جلال آواز سے۔ بڑے جلسوں اور محفلوں میں تاکیدی الفاظ میں زور میں کہہ دیا:

            وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ۔(بنی اسرائیل: 82)

            پڑھنے والے دیکھ! کیا یہ کلام قادرمطلق علاّم الغیوب کا نہیں؟ کیا انسان کی کمزور زبان اپنے ناقص اور محدود علم سے ایسی پوری ہونے والی سچ اور بالکل سچ خبر دے سکتی ہے؟ نہیں نہیں ! ہرگز نہیں۔ یقیناً یقیناً یہ اسی ہمہ قدرت کا کلام ہے جس کا علم کامل غیر محدود ہےا س کے دستِ قدرت میں قلبِ انسان کے انقلاب و تقلیب کی باگ ہے۔ اور زمانوں اور قوموں کی تبدیل و تغییراسی کے بس میں ہے۔ اسی پاک عالم الغیب خدا نے اپنے برگزیدہ عبد مگر رسول کے منہ میں اپنا کلام دیا۔ جو اُسی کے بلائے سے بولا اور اُسی کے بتائے سے بتایا۔ کیا ہی سچ بولا۔ اور کیا ہی ٹھیک بتایا۔ فداہ امی و ابی صلی اﷲ علیہ وسلم۔

وَمَا يُعِيدُ:یہ ایک پیشگوئی ہے کہ مکّہ میں پھر کبھی ایسی بُت پرستی نہ ہو گی۔                (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ441تا442)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *