خدا کی قدرت کی عجب نشانی

گولڈن پلوور ایک پرندہ ہے جو اپنی ہجرت کی وجہ سے مشہور ہے۔یہ ہر سال امریکی ریاست الاسکا سےہوئی کے جزیرےتک 4000کلومیٹر کی پرواز کر کے ہجرت کرتا ہے۔ اس کی یہ پرواز 88گھنٹوں پر محیط ہوتی ہے، جس میں وہ کہیں نہیں ٹھہرتا۔ راستے میں کوئی جزیرہ نہیں اور یہ پرندہ تیر بھی نہیں سکتا۔ درمیان میں کہیں سستانا بھی نا ممکن ہے۔ جب سائنسدانوں نے اس پرندے پر تحقیق کی تو ان کو پتہ چلا کہ اس پرندے کو یہ سفر مکمل کرنے کے لیے 88گرام چکنائی (fat)کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ حقیقت میں اس پرندے کے پاس پرواز کے ایندھن کے طور پر تقریباً70گرام چکنائی دستیاب ہوتی ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ پرندہ 800کلو میٹر پہلے ہی سمندرمیں گر کر ختم ہو جاتا، لیکن یہ صحیح سلامت اپنی منزل تکل پہنچ جاتا ہے۔

یہ کیسے پہنچتا ہے؟

اس کا جواب ششدر کر دینے والا ہے۔ اصل میں یہ پرندہ گروہوں کی شکل میں vکی شیپ بنا کر پرواز کرتے ہیں اور اپننی پوزیشن چینج کرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ہوا کی رگڑ کا کم سامنا ہوتا ہے بہ نسبت اکیلے پرواز کرنے کے، اس سے ان کی23%انرجی سیو ہو جاتی ہے، جو ان کو ہوائی کے جزیرے پر پہنچا دیتی ہے۔ 6یا7گرام چکنائی ان کے پاس ریزرو فیول کی صورت میں بھی موجود ہوتی ہے جو ہوائوں کا رخ مخالف ہونے کی صورت میں ان کے کام آجاتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک پرندہ یہ کیسے جان سکتا ہے کہ اس کو سفر کے لیے کتنی چکنائی درکار ہے؟

راستہ اسے کون بتاتا ہے؟

اتنے لمبے سفر کی اسے ہمت کیسے ہو جاتی ہے؟

اور چکنائی کے استعمال کا اسے کیسے اندازہ ہے؟ اور اس کو یہ کس نے بتایا کہVشیپ میں سفر کرنے سے وہ انرجی بچا سکتا ہے؟

                        کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔۔۔۔۔  منقول

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *