حج کب کب ادا نہ ہوا؟

تحریر:   معصوم رضوی

شعبہ انٹرنیشنل

تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ کم و بیش 40 بار فریضئہ حج ادا نہ کیا جا سکا

حج بیت اللہ کسی بھی مسلمان کیلئے سب سے بڑی سعادت ہے، گزشتہ 1400 سالوں سے فریضئہ حج عقیدت و احترام کیساتھ منعقد کیا جاتا ہے۔ عہد حاضر میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ حج محدود کیا گیا وجہ ہے کورونا کی موذی وبا، لیکن کیا پہلے کبھی ایسا ہوا، کیا کبھی پہلے حج نہیں ہوا ہو یا پھر محدود پیمانے پر ہوا ہو۔ اس بارے مختلف افواہیں، مغالطے اور مفروضے گردش میں ہیں۔ فتح مکہ کے بعد پہلا حج بیت اللہ 8 ہجری بمطابق 631 عیسوی کو ادا کیا گیا، جب سے اب تک کتنی بار ادا نہیں کیا جا سکا، کتنی بار محدود رہا؟ ساتھ دی گئی وڈیو ڈاکومنٹری میں حج بیت اللہ کی پوری تاریخ بیان کی گئی ہے۔

تاریخی حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کم و بیش 40 بار فریضہ حج ادا نہ کیا جا سکا، وجوہات مختلف رہیں مگر بارہا ایسا بھی ہوا کہ متواتر دس سال بھی سلسلہ حج موقوف رہا ۔ شاہ عبدالعزیز فائونڈیشن برائے تحقیق و آرکائیوز کے مطابق جنگیں، وبائیں، امن و امان، موذی بیماریوں کے باعث حج متعدد بار منسوخ کیا گیا۔ 865 عیسوی میں پہلی مرتبہ عباسی خلیفہ اسماعیل بن یوسف السفاک نے مکہ المکرمہ پر حملہ کر دیا، عازمین حج کو خون میدان عرفات میں بہایا گیا، حج نہ ہو سکا۔ 930 عیسوی میں قرامطہ نے مکہ المکرمہ پر حملہ، 30 ہزار حجاج کرام کو شہید کیا گیا، قرامطہ حجر اسود بھی ساتھ لے گئے، حج بیت اللہ کا پورے دس سال نہ ہو سکا۔ 983 عیسوی عباسی اور فاطمی سلطنتوں کے درمیان خوفناک جنگ، امت مسئلہ فریضئہ حج سے محروم رہی۔ 1099 میں جنگیں اور سفری مشکلات فریضئہ حج میں رکاوٹ بنیں۔ 1831 میں خوفناک طاعون، ہزاروں عازمین حج وبا کے باعث شہید ہوئے، حج نہ ہو سکا۔ 1837 سے 1858 کے درمیان وقفے وقفے سے عالمی وبائو کے باعث حج کا انعقاد نہ ہو سکا۔ 1883 سے 1865 کے درمیان عالمی اور علاقائی وبائیں حج کے عظیم فریضے میں رکاوٹ ثابت ہوئیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ 1917 اور 18 کے درمیان پوری دنیا اسپینش فلو کی زد میں تھی مگر فریضئہ حج ادا ہوتا رہا۔ 1932 میں سعودی عرب کے قیام کے بعد آج تک کسی بھی سال فریضئہ حج میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔ موجودہ سال کرونا کے باعث فریضئہ حج خدشات سے دوچار ہے۔ وبا کے حوالے سے ایک حدیث شریف کا ذکر کرتے چلیں، حضرت عبدالرحمان بن عوف بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کسی جگہ طاعون پھیلنے کی خبر سنیں تو وہاں داخل نہ ہوں۔ لیکن اگر یہ وبا ایسی جگہ پھیل جائے جہاں آپ موجود ہو تو پھر اس جگہ کو نہ چھوڑیں” یہ حدیث مبارکہ وبا میں اسلامی طرز عمل کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

ساتھ دی گئی تحقیقی وڈیو ڈاکومنٹری میں خانہ کعبہ کی نادر و نایاب تصاویر، خونریز جنگیں، قرامطہ کا مفصل احوال اور تاریخی حوالہ جات کیساتھ عالمی وبائوں کا منظر نامہ ضرور دیکھیئے۔

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *