تانگےکی سواری بھی قصہ پریاں بن گئی

 تحریر: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

قدیم سنگی دور کا خاتمہ دس ہزار سال پہلے شروع ہوتا ہے اس دور کا انسان جانور مثلاً بھیڑ ،بکریاں اور گھوڑے وغیرہ پالتا تھا پہیہ بھی اسی دور میں معرض وجود میں آچکا تھا تب پہیہ پہلی بار کسی خاص مقصد کیلئے استعمال ہوا اور دو پہیوں سے چھکڑا بنانے کا کام لیا گیا۔ اس چھکڑے کو گھوڑے اور بیل کھینچتے تھے جو سواری اور بار برداری کیلئے استعمال کیا گیا۔گھوڑے گاڑی کو تانگہ کا نام دیا گیا جو اشوریوں کے عہدِ حکمرانی میں ایجاد ہوا ۔

     زندہ دلوں کے شہر میں تانگہ کا دورِ عروج و زوال

زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب زندہ دلوں کے شہر میں تانگے چلا کرتے تھے مگر وقت کا تیز رفتار پہیہ اتنی رفتار سے چلا کہ تانگے کے پہیے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔۔۔ ایک دور تھا جب کوچوانوں پر کہانیاں لکھی جاتی تھیں ۔۔احمد ندیم قاسمی جیسے معروف لکھاری اور شاعر نے بھی اس پر تحریر لکھی۔ شاعروں نے اپنی شاعری میں اور گیت نگار اپنے گانوں میں تانگے کا ذکر ضرور کرتے ۔

ٹانگہ لہور دا ہووے تے بھانویں جھنگ دا

ٹانگے والا خیر منگدا

جیسے گانے آج بھی تانگے سے جڑے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔۔ لاہور کی رونقیں کم تو نہیں ہوئیں مگر لاہور کے ماضی کے صفحے پر لکھی تحریر جیسے کسی نے کھرچ کر مٹا ڈالی۔ لاہور کی شاہراہوں پر چلنے والے تانگوں کی جگہ میٹرو نے لے لی ہے نئی نسل کو ماضی کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے البتہ وال سٹی لاہور نے ایک ثقافتی تنظیم کے ساتھ مل کر لاہور کی پہلی اور ماضی کی عوامی سواری کا آغاز کیا ہے وال سٹی کے مطابق یہ تانگے ہفتے میں چار دن مقرر کردہ تین مختلف رستوں پر چل رہے ہیں جن میں ایک سرکلر روڈ ،دوسرا دہلی گیٹ شاہی گزر گاہ اور تیسرا بھاٹی گیٹ کی ٹریل ہے یہ منصوبہ لاہور کی شاموں کو مزید خوبصورت بنانے اور نئی نسل کو ماضی کے ساتھ جوڑنے میں شاندار کردار ادا کر رہی ہے رکشوں کی نسبت تانگوں کی سجاوٹ کم ہے لیکن عوامی حلقوں نے سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تانگہ ہی کو پسند کیا ۔۔ تانگہ لاہور کی پرانی ثقافت کی نشانی تھی جو ماضی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گم ہو گئی ۔۔لاہور میں بھاٹی گیٹ اور ریلوے سٹیشن تانگوں کے بڑے اڈے تھے ایک باریک چھڑی جس کے ایک سرے پر رسیاں بندھی ہوتی تھیں چھانٹا کہا جاتا تھا اور اسی چھانٹے سے گھوڑے کو ہانکنے اور ہارن کا کام لیا جاتا تھا تانگے کا پہیہ جو لکڑی کے ڈنڈوں سے بنا ہوتا ۔۔کوچوان ان ڈنڈوں سے چھانٹاٹچ کرتا اور ٹک ٹک ٹک ٹک کی آواز سے تانگے کے آگے جانیوالا خبردار ہوجاتا تانگوں پر رنگ وروغن ہوتا ،خوش رنگ بیل بوٹے پینٹ ہوتے ،گدیاں درست کی جاتیں ،پیتل کا ساز خوب مل مل کر برش سے چمکایا جاتا ،بتیوں کے شیشے چمکائے جاتے بھلا زمانہ تھا ۔

       ایک دور تھا جب تانگہ شاہی سواری ہوا کرتی تھی ماضی میں جھانکیں تو مغلیہ دور میں شہنشاہوں اور شہزادیوں کو لیکر جب بڑی بڑی بگھیاں محل سے نکلتیں تو رستوںپر محو انتظار عوام انہیں حسرت سے دیکھتے تب ادب و ثقافت میں بھی تانگے کا راج تھا لیکن آلودگی کی حدیں پھلانگتے ذرائع آمدورفت نے بھی تانگے کے ماضی کو گہنا دیا۔۔ لاہور میں دور ِ حاضر کو ہی لیں شہر کے وہ مقامات جہاں تانگے سٹینڈ تھے بند ہوچکے ہیں ۔ تانگے بانوں کا زور شدید متاثر ہوا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آنے والی نسلیں تانگے کا ذکر صرف کتابوں میں پائیں گی ماضی میں بہت سے لوگ جہاں تانگے کو سواری کا ذریعہ سمجھتے تھے وہیں کچھ منچلے موسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے بھی شاہی سواری کا استعمال کرتے تھے ۔بڑھتی ہوئی مہنگائی ،پٹرولیم مصنوعات ،گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے جہاں ہر شخص پریشان نظر آتا ہے وہاں اس کا اثر لوگوں کے رہن سہن اور رسم و رواج پر بھی نمایاں طور پر پڑا ہے اس دور کو آج بھی عوام الناس یاد کرتے ہیں جب تانگے کی سواری عام تھی اکیسویں صدی میں جدید دور آیا تانگے کی جگہ رکشے اور گاڑیوں نے لے لی۔۔۔ مہنگائی بڑھی تو سرحد کے بہت سے شہروں میں لوگ پرانی سواری کی طرف لوٹنے لگے کوچوان خوش ہیں کہ لوگ ان کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔

غیر ملکی گانوں میں بھی پاکستانی گھوڑے اور تانگے کا ذکر۔۔۔۔محمد رفیع کا یہ گانا ایک دور میں بہت مشہور ہوا

ٹانگہ لاہوری میرا ،گھوڑا پشوری میرا

بیٹھو میاں جی بیٹھو لالہ

میں ہوں البیلہ ٹانگے والا

گلابوں کے شہر پشاور کی شاہرات پر تانگے میں جتے گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کا ذکر پورے برِصغیر میں ہوا کرتا تھا۔ماضی میں تو یہ روزگار یقینا بہتر تھا لیکن اب 500میں سے آدھی رقم گھوڑے کی خوراک پر صرف ہوجاتی ہے اور باقی رقم سے گھر کا چولہا بمشکل چل پاتا ہے ۔۔ماضی قریب ہی کو لیں ،غریب اور متوسط طبقہ کیلئے ملتان شہر میں تانگہ کی سواری کسی نعمت سے کم نہ تھی مگر قدیم شہر میں قدیم ثقافت سے جڑی یہ سواری بھی ایک سراب ہو گئی ۔

راولپنڈی میں اس شاہی سواری کا اپنا مزہ تھا کھلی فضا میں جب تانگہ شاہرات پر رواں دواں ہوتا تو دیکھنے والے کی آنکھوں کو یہ منظر خیرہ کردیتا ۔۔تانگے میں جتا گھوڑا اپنے پائوں سڑک کی تال سے ملاکر دھن بجاتا تو یہ آواز کانوں کو بڑی بھلی محسوس ہوتی ۔۔راولپنڈی کی خاصیت یہ ہے کہ تانگہ بنانے والے کاریگر آج بھی ماضی کی اس سواری کو زندہ رکھنے کیلئے اس کام میں مصروف ہیں۔ مگر یہ تانگے اب شاہرات پر دوڑنے کیلئے نہیں بلکہ شوقین حضرات اور بڑے زمیندار اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کیلئے خصوصی طور پر آرڈر دیکر تیار کراتے ہیں تانگہ کی تیاری بھی کاریگری کا ایک شاہکار ہے، جس کی سجاوٹ منفرد اور انتہائی جاذب نظر ہوتی ہے ۔۔پیتل کی بڑی بڑی پلیٹوں پر کڑھائی کر کے کیل میخوں کے ساتھ اس لکڑی پر لگائی جاتی ہیں جبکہ سیٹوں پر انتہائی خوبصورت پوشش کی جاتی ہے ۔۔اس کے علاوہ مختلف رنگوں سے بیل بوٹے بناکر چار چاند لگائے جاتے ہیں محمد صدیق جو اسی کام سے منسلک ہے یوں شکوہ کناں ہے کہ اب نئی نسل میں سے کوئی بھی یہ کام سیکھنے کیلئے تیار نہیں۔۔۔ لوگوں کا کہنا ہے یہ بیکار کام ہے جسے روزگار نہیں کہا جاسکتا ورنہ ہم تو یہ کام اساتذہ سے سیکھا کرتے تھے۔

فیصل آباد کبھی لائل پور ہوا کرتا تھا لاری اڈہ سے مقامی مسافروں کو لیکر نکلتے تانگوں کے کوچوان کے ’’مائی دی جھگی ’’بولے دی جھگی ‘‘ریل بازار ،گھنٹہ گھر، ریگل روڈ ، جھنگ بازار اور ٹیشن ٹیشن  جیسے الفاظ سماعت کو بھلے لگتے اس شہر میں قریبی علاقوں برج برنالہ ، ڈجکوٹ ، پینسرہ ،پل ڈینگرو،امین پور بنگلہ ، سمندری وغیرہ سے خریداری کیلئے سپیشل تانگہ پر لوگ اس شہر میں آتے تھے ۔۔اس شہر میں بھی وقت بدلا تو آٹو رکشوں نے اس قدیم اور ثقافتی سواری کو نگل لیا ۔ اب صرف بگھیاں کی شکل میں لوگ اس شوق کو شادی بیاہ کے موقع پر پورا کر لیتے ہیں ۔۔۔اس کے علاوہ تانگہ کہیں اور نظر نہیں آتا ۔۔ ۔ ۔سپیشل تانگہ  کو لوگ ” سالم تانگہ “کا نام دیتے تھے ۔ کیا دن تھے ۔۔۔یہاں وقت نے اتنا کچھ بدلا ہے ۔۔تانگہ بھی اس کی چوٹ برداشت نہ کر سکا۔۔۔اور یہ بھی ماضی کے جھروکوں میں کہیں جا چکا ہے ۔۔۔ ۔تانگہ کی سواری ایک قصہ پارینہ بن گئی ہے ۔۔

ایک وقت تھا اس میں بھی پیسے والے خوشی سے سواری کرتے تھے ورنہ اکثریت  پیدل کو ترجیح دیتی تھی ۔ تانگوں کا سٹاپ زیادہ سے زیادہ چار پانچ کلو میٹر کی دوری پر یوتا۔ روٹ پر گھوڑے کے پینے کے لئے پانی کا انتظام ہوتا۔

 گھوڑے  کے  پاؤں  میں لوہے کی کھریاں لگائی جاتی تھیں ۔ اس کے بھاگنے سے  خاص rhythm بنتی اور رات کو  چنگاریاں کا خاص منظر  ہوتا ۔۔

سردیوں  میں کوچوان گھوڑے کو اپنے بیڈ روم میں ہی سلاتا تھا ۔۔۔وہ گھوڑے کو بہت ناز و پیار سے رکھتا ۔۔کھرکھرا گھوڑے کے جسم پر باقاعدگی سے کیا جاتا ۔۔۔۔ہر گاؤں میں کئی کئی تانگے والے موجود ہوتے تھے اسی طرح شہروں میں بھی تانگہ کی سواری عوام کے دلوں کو لبھانے والی سواری رہی ہے ۔۔جو کہ وقت کی دوڑ میں اب  قصہ پارینہ ہو کر رہ گئی ہے ۔۔

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *