آزادی یا آقا ہی بدلا

تحریر:پرویز مسیح مٹو

پاکستان اور بھارت ریکارڈ کے مطابق 15 اگست 1947ءکو آزاد ہوئے تھے لیکن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی زیر صدارت 29 جولائی 1948ءکے اجلاس میں کابینہ نے فیصلہ کیا ہم یوم آزادی 14 اگست کو منایا کریں گے تاکہ ہندوستان سے الگ نظر آئیں اس آزادی کے دن کے موقع پر بھگت سنگھ بمقام بنگا لائل پور (موجودہ چک نمبر 105 گ ب فیصل آباد) اور اس کے جانثار ساتھیوں کو یاد نہ کرنا کم ظرفی ہو گی جنہوںنے آزادی کی شمع کو اپنے خون اور جانوں کے نذرانوں سے جلا بخشی اور جن کا نعرہ ”انقلاب زندہ باد“تھالیکن جس کی رہائی سیاست اورکچھ لوگوں کی ہوس اقتدار کی بھینٹ چڑھ گئی پاکستان میں چار موسم ہوتے ہیں سرما’ گرما ‘ بہار ’ خزاں لوگ ان موسموں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں موسم کے مطابق پکوان اور پھل وغیرہ کھاتے ہیں لیکن غریب ایک موسم سے واقف ہے ’ وہ ہے بھوک اور عزت نفس کا نہ ہونا  دوسری طرف اقلیت ہے جس کے پاس ان دونوں کے علاوہ جینے کا حق بھی بہت ہی کم ہے۔ ان کے اٹھنے بیٹھنے ’ کھانے پینے پر سماجی دباؤ کے علاوہ اپنے مذہب یا اپنے ایمان کا دفاع کرنے کا حق بھی 295C قانون بنا کر چھین لیا گیا ہے ۔

پاکستان میں بہت سی قومیں آباد ہیں کیونکہ پاکستان قوم کا نہیں قوموں کا دیس ہے بہت سی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں مثلاً پشتو ‘ پوٹھواری ‘ پنجابی ‘ سرائیکی ‘ سندھی ‘ بلوچی ‘ مکرانی ‘ اردو اور مارواڑی وغیرہ لیکن قومی زبان اردو ہے اسی طرح پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں جن میں مسلمان ‘ مسیحی ‘ ہندو ‘ سکھ ‘ کیلاشی ‘ دھیل ‘ شیڈول کاسٹ اور پارسی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ان تمام مذاہب میں سے مسلمان اکثریت میںہیں باقی تمام مذاہب کے لوگ اقلیتوں میں آتے ہیں -پاکستان کی تمام اقلیتیوں میں سے مسیحیوں کی تمام سیاسی جماعتوں نے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور ان کی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کا سیاسی طور پر ساتھ دیا جس کی بدولت پنجاب کی تقسیم ہونا قرار پائی لیکن اس کے متعلق پاکستان کا تعلیمی نصاب بالکل خاموش ہے جبکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے اب کچھ دانشور طبقوں نے اس حقیقت پر گفتگوکرنی شروع کی ہے دیر آید درست آید اب کچھ مسیحی حلقوں نے بھی مجبوراً زیادتیوں ‘ ناانصافیوں ‘ معاشرتی ناہمواریوں اور بڑھتی ہوئی مذہبی نفرتوں کو دیکھتے ہوئے اس پر بولنا اور لکھنا شروع کیا ہے کہ ہماری قربانیوں اور پاکستان بنانے میں مدد کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ پاکستان کی اکثریت کے دلوں میں ہمارے لئے اس احسان کے بدلے ہمدردی پیدا ہو سکے حکومت پاکستان نے بھی مسیحی کمیونٹی کی طرف سے کی گئی مدد کے متعلق چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے 30اپریل 2016 ءکو ڈاک کا ٹکٹ جاری کیا حکومت پاکستان کے اصحاب اختیار کو دیوان بہادر ایس پی سنگھا صاحب کی خدمات اور پنجاب کی تقسیم میں ادا کئے گئے کردار کو ماننے اور اقرار کرنے میں 68سال کا عرصہ لگ گیا ۔

تقسیم ہند سے پہلے ہی متحدہ ہندوستان میں اونچی اور چھوٹی ذات پات کے علاوہ مذہبی تعصب تو موجود ہی تھا جس میں پاکستان کے عسکری و سیاسی حکمرانوں اور سیاسی ناخداؤں نے اپنی سیاسی پارٹیوں کو مضبوط کرنے اور حکومت کو قائم رکھنے کےلئے خطرناک حد تک اضافہ کر دیا کہ انسانیت اور انسانی بنیادی حقوق کو ہی پس پشت ڈال دیا لیکن اس سب کچھ کرنے کے باوجود ان کی حکومتوں اور پارٹیوں کو استحکام نہ ملا مسیحی لیڈروں کی نسلوں اور پاکستانی اقلیتوں کو اقتصادی ‘ معاشرتی ‘آئینی اور مذہبی طور پر اس قدر دبایا کہ اقلیتیں ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں حتیٰ کہ وہ اب خوف میں زندگی بسر کر رہی ہیں ۔

اقلیتوں میں سیاسی چاپلوسی اور بھیک کو پروان چڑھایا گیا اقلیتی نمائندے بھیک میںایم این اے ‘ ایم پی اے اور سینیٹر بنتے ہیں جنہیں اقلیتوں یا اپنے حقوق کی بات کرنے کا ادیکار ہی نہیں ہوتا جن کی اس میں بنیادی کوئی ٹریننگ یا ذہنی نشو و نما نہیں ہوئی ہوتی نہ ہی ان کا قومی سیاست سے کوئی تعلق یا واسطہ ہوتا ہے اور نہ ہی ملک کی کوئی قومی سیاسی پارٹی ’ کسی اقلیتی باشندے کو قومی الیکشن کےلئے ٹکٹ جاری کرتی ہے کیونکہ وہ اخلاقی یا قانونی طور پراس کی پابند بھی نہیں ہوتی مذہبی دباؤ کی وجہ سے اقلیتی لوگ ’سیاست میں آنے یا کاروبار شروع کرنے سے گھبراتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی اقلیتی لوگ ان حلقوں میںکام کرنے کے متعلق ذہنی نشو ونما اور خود اعتمادی پیدا ہی نہیں کر سکتے ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ آبائی ملک سے ملی ہوی ذہنی پستی ‘ برطانیہ میں بھی ان کے ذہنوں پر سوار ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے اورانہیںکسی نے کچھ کرنے نہیں دینا برطانیہ میں بھی وہ کاروبار کرنے سے کتراتے ہیں اور سیاست میں قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں حالانکہ برطانیہ میں ہر شہری کو سیاسی مذہبی سماجی نیز اقتصادی طور پر مکمل آزادی حاصل ہے ہر کوئی برابری کی بنیاد پر اپنی قابلیت ‘ اہلیت اور محنت سے ہر شعبے میں آگے بڑھ سکتا ہے ان تمام سہولتوں اور آزادی کے باوجود پاکستان مسیحی سیاست اور کاروبار میںبہت پیچھے ہیں پاکستان نژاد مسلم ‘ خواہ وہ اکیلا ہی برطانیہ کے کسی علاقے میں آباد ہو ’ وہ یہاں پر برابر کی دی گئی تمام معاشرتی ‘ اقتصادی‘ سیاسی اور مذہبی سہولتوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتا ہے کیونکہ اس کی پاکستان میں یہ سب کچھ کرنے کی ذہنی نشو و نما ہوئی ہوتی ہے -اس کا ذہنی اعتماد اسے یہ سب کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ دیتا ہے۔

 برطانیہ میں بھی پاکستانی مسیحی ماضی کی ذہنی پستی اوردباؤکی وجہ سے معاشی طور پر بہت پیچھے ہیں بات چیت کرتے ہوئے جھجھکتے ہیں جیسے کہ وہ ابھی بھی پاکستان میں ہی رہ رہے ہیں یوم آزادی پر پاکستان کی اقلیتوں کے دلوں میںا تنی خوشی نہیں ہوتی جتنی اصولاً ہونی چاہئیے جبکہ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے کھلے ہوتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی اقلیتیں اکثریت کی خوشی کےلئے خوشی منا رہی ہیں معاشرتی ناہمواریوں ‘ مذہبی دباؤ اور ریاستی قانونی دباؤ نے ان میں سے خود داری اور خود اعتماد ی ختم کر دی ہے اس احساس کمتری اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ حقیقی باشندے ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پاکستانی محسو س کرنے سے قاصر ہیں اقلیتوں میں بنیادی ضروریات زندگی کے علاوہ آگے بڑھنے اور اکثریت کی طرح ترقی کرنے جیسی صلاحیتیں ہی مانند پڑ چکی ہیں یوں لگتا ہے کہ پاکستانی اقلیتیں ابھی تک آزاد زندگی اور اس کے تصور سے ہی ناواقف ہیں-جس کا تصور قائد اعظم ؒ نے دیا تھا یا ترقی یافتہ آزاد معاشرے میں پایا جاتا ہے آزادی تو صرف پاکستانی مسلمانوں کو ہی ملی ہے اقلیتوں کا تو آقا ہی بدلا ہے آزاد ی کا رنگ اور مزہ ان سے کوسوں دور ہے -اصحاب اختیار کو اس طرف سچے دل سے دھیان دینے اور ان ناہمواریوں کو ختم کرنا ہو گا تاکہ آنے والے وقت میں اقلیتیں خود اعتماد ی سے سرشار ہو کر اپنے ملک پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں مزید بہتر طور پر مددگار بن سکیں۔-

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *