اخلاقی قدروں کا فقدان

تحری تحریر :ابن قدسی

شعبہ گوشہ ادب

انسان اشرف المخلوقات اسی وقت بنتا ہے جب اس کے اندر اخلاقی اقدار موجود ہوں۔اخلاق تمام  جذبات کے  سوچ اور عقل  کے ساتھ  درست اور برمحل استعمال سے پیدا ہوتے ہیں ۔پیار ،محبت،غصہ ،نفرت اسی طرح دیگر جذبات سوچ ،سمجھ اور عقل کے ساتھ جانوروں میں بھی کسی حد تک پائے جاتے ہیں لیکن ان تمام جذبات کا درست اور برمحل استعمال انسان کو دیگر مخلوقات سے اشرف بناتا ہے ۔جذبات کی موجودگی  عین قانون قدرت ہے ۔چاہنا اور چاہے جانا،محبوب بننا اور محبوب بنانا فطرت میں شامل  ہے ۔ نفرت ،غصہ اور برالگنا سرشت کا حصہ ہے ۔  دنیا میں کون ہے جو یہ کہتا ہے اسے محبت نہیں ۔ماں ،باپ ،بہن بھائیوں کی محبت سے شروع ہونے والا سفر زندگی کی اٹھان کے ساتھ متنوع صورتیں اختیار کر لیتا ہے ۔صنف مخالف کی جذباتی محبت کے علاوہ محبت کا  مسافر مختلف راستوں پر چلتا  ہے اور پھر ساری زندگی  منزل کی تلاش میں گزار دیتاہے ۔اپنے کام سے محبت ہو تومنزل آسان لگتی  ہے ورنہ ساری زندگی منتشر محبت بے چین کیے رکھتی ہے ۔

اب یہ صرف ایک جذبہ محبت کی بات ہے ۔ ایک جانور بھی جذبہ محبت رکھتا ہے۔بچے سے ماں کی محبت ۔اس جذبہ کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس کی کوئی حدنہیں ۔یہ  جانوروں تک پھیلا ہوا ہے ۔ اسی طرح زندگی جذبات کے گھیراؤ میں گزرتی ہے لیکن انسان ان تمام جذبات کی تکمیل  ایک سوچ ،سمجھ ،علم اور عقل کے تابع برمحل اور برموقع کرتا ہے اسی لیے وہ اشرف المخلوقات ہے ۔

جب معاشرے میں علم او  ر عقل کے بغیر جذباتی کیفیات غالب آجائیں تو مجموعی طور پر معاشرہ اخلاقی اقدار کھو بیٹھتا ہے ۔ہر ایک اپنے جذبہ کو تسکین پہنچانے کے لیے تگ ودو کرتا ہے جیسے ایک جانور اپنے جذبات کے تابع زندگی گزارتا ہے اسی طرح معاشرے کا ہرفرد اپنے آپ کو ہی تصور میں رکھتا ہے اسے کسی دوسرے کا خیال نہیں ہوتا۔اس کے نتیجہ میں معاشرہ پستی کی اتاہ گہرائیوں میں چلا جاتا ہے اور دنیا میں اس کی قد ر ومنزلت نہیں رہتی ۔

پاکستانی معاشرہ کو بہت محنت اور کوشش کے بعد اس سطح تک لایا گیا ہے جہاں علم اور  عقل کے بغیر جذباتی نعروں سے عوام کو بہلایا جاتا ہے ۔سیاسی قائدین تو عوام کو کالانعام  ہی سمجھتے ہیں وہ کبھی نہیں چاہتے کہ عوام کبھی اپنی عقل استعمال کرے ۔وہ کہیں عدالت ظالم ہے تو عوام سپریم کورٹ پر حملہ کر دے ۔ وہ کہیں لاہور ہائی کورٹ ہی ’’شریفوں ‘‘کو انصاف مہیا کرتی ہے تو عوام باقی تمام عدلیہ کو ’’بدمعاش ‘‘قرار دے دے اور نیب پر پتھروں سے ’’رمی جمار‘‘کرے ۔ہر وقت یہی نعرہ ہو ’’بھٹو زندہ ہے ‘‘خواہ پورا کراچی اور سندھ پانی میں ڈوب کر مر جائے  پھر بھی یہی نعرہ ہے ۔’’بھٹو زندہ ہے ‘‘۔تہتر کےآئین کے تناظر میں ہر چیز پر ’’مٹی پاؤ‘‘لیکن حکومت میں آنا ضروری ہے ورنہ مال کیسے بنے گا ۔افسوس ان قائدین پر نہیں ان کا تو کاروبار ہے اس کو چمکانے کے لیے ہر حربہ کا استعمال ’’جائز‘‘سمجھتے ہیں ۔افسوس عوام پرہے  جن سے جانوروں کا کام لیا جاتا ہے لیکن ان کو سمجھ نہیں آتی ۔سب کچھ دیکھنے کے باوجود ان کے پیچھے نعرہ مارتے ہوئے جاشامل ہوتے ہیں ۔جھوٹ ،فریب ،دغا،چاپلوسی ،بددیانتی ،لوٹ مار،کرپشن ،ظلم ، زیادتی ،بے انصافی ،ناجائز قبضہ ،ملاوٹ ،جعلی ادویات ،سفارش ،رشوت یہ سب پاکستانی سیاست کے ’’روشن ستارے ‘‘ہیں ۔اس فہرست میں سیاست دانوں کی ذاتی زندگی کی ’’خوبیوں ‘‘کو ابھی شامل نہیں کیا گیا ۔ان کے شوقِ مے اور شب رنگیوں کا تذکرہ بہت طویل ہوجائے گا ۔ان کے عشق معاشقے کی داستانیں سامنے آتی رہتی ہیں ۔ ابھی چند دن پہلے ہی فیصل آباد میں ایک مشہور سیاست دان طلال چوہدری  ’’پارٹی تنظیم سازی ‘‘ کے لیے رات تین بجے نو ن لیگ کی خاتون ممبر کے گھر’’میٹنگ ‘‘کےلیے پہنچا تو آگےخاتون ممبر کے بھائی اور گارڈ نے مل کر ان کی ’’اچھی خاصی مہمان نوازی ‘‘کر دی اور وہ زخمی حالت میں ہسپتال پہنچے ۔15کو فون بھی چلا گیا اور پولیس بھی آگئی لیکن سیاسی اثر ورسوخ کی وجہ سے اس ’’میٹنگ‘‘ کی تمام تر کارووائی کو دبا لیا گیا ۔بھائی کی بے جا مداخلت سے ’’میٹنگ ‘‘ کا’’ ستیاناس ‘‘ہوگیا تھا    ورنہ بقول محلہ داروں کے سیاسی شخصیت اکثر اس طرح کی ’’میٹنگنز ‘‘کے لیے آتی    رہتی تھی ۔

اس ’’میٹنگ‘‘کی کارووائی  خفیہ رکھنے کے باوجود سوشل میڈیا پر آگئی لیکن کئی ایسی ’’کارووائیاں‘‘ ہوتی ہیں جن کا پتا بھی نہیں چلتا ۔سوشل میڈیا کی  وجہ سے کسی قدر شعور آیا ہے اور آگاہی کے باعث ان سیاست دانوں کے ’’نیک ارادے ‘‘عوام کے سامنے آرہے ہیں ،یہ شعور اور علم ان  سیاست دانوں کو بہت تکلیف دے رہا ہے۔وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ عوام میں شعور نام کی کوئی چیز ہو بس نعرہ لگاؤاور کام کراؤ۔

دوسری طرف مذہبی طبقہ ہے ۔جس کا معاشرے کی اصلاح اوراس کی کردار سازی میں بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔مذہبی طبقہ میں ایک حصہ کو کرسی کی لت پڑ گئی ہے ۔ان کے پاس کرسی ہے تو ٹھیک ورنہ ہر چیز غیر اسلامی اور غیر شرعی ۔خواہ ان کا اپنا کردار کچھ بھی ہولیکن اگر کرسی مل گئی  تو 73 کا آئینی تناظر ٹھیک ورنہ سب کچھ کیا دھرا یہودیوں کا ہے۔ مذہب کا نام ونشان نہیں بلکہ کردار واخلاق بھی کہیں نہیں ۔  مذہبی طبقہ کا ایک اور بہت بڑا حصہ ’’کرسی ‘‘کا دیوانہ ہے جسے کسی قدر مہذب زبان میں ’’تشریف‘‘ کہتے ہیں۔مدرسوں میں ’’عملی ٹریننگ ‘‘کے بعد یہ طبقہ معاشرے میں پہنچتا ہے تو وہاں تمام تر اخلاقیات کے بخیے ادھیڑ دیتا ہے ۔بچہ ہو یا بچی ،کم عمر یا نو عمر ان سے محفوظ نہیں ۔اس طبقہ نے اسلام ،قرآن ،مسجد ،مدرسہ ، منبر کو اس قدر بدنام کیا ہے کہ کسی دشمن نے بھی اسلام کو اتنا بدنام نہیں کیا ۔جس ملک میں اللہ اور رسول کا نام لینے والوں ،قرآن وحدیث کا درس دینے والوں ،منبررسول سے آوازے دینے والوں کا یہ حال ہے وہاں دوسروں سے کیا  توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے  ۔اخلاقیات کا جنازہ ہی نکلے گا ۔چاہے وہ مسجد ہو   یا سڑک ۔

ایک عورت لاہور سے اپنے تین بچوں کے ساتھ نکلتی ہے ۔ موٹر وے پر ایک ٹول پلازہ سے تین کلومیٹر دور  اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوجاتا ہے ۔وہ پولیس کو کال کرتی ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ اس سٹرک پر بے یارومددگار مسیحا کی آمد کا انتظار کرتی ہے ۔کتنی ہی گاڑیاں اس دوران پاس سے گزر جاتی ہیں ۔پولیس جو عوام سے اسی بات کا ٹیکس لیتی ہے کہ ان کی جان ومال وعزت کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے ،باوجود اطلاع کے  ڈیڑھ گھنٹے تک نہیں پہنچتی ۔اگر پہنچے تو درندے نما  دو انسان وہاں پہنچے ۔انسان اس لیے کہا کہ ان کے شناختی کارڈ بنے ہوئے تھے ۔حکومت وقت نے انہیں سرکاری طور پر انسان تسلیم کیا ہوا تھا ۔وہ ’’سرکاری مسلمان ‘‘بھی تھے ۔ان درندوں نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر اس عورت  سے اس کی قیمتی اشیا ء چھین لیں بلکہ عورت کی سب سے قیمتی چیز بھی لوٹ لی ۔ جب اس عورت نے مزاہمت کی تو انہوں نے عورت کی ممتا کو نشانہ  پر رکھ کر کہا کہ اگر اس نے ان کی بات نہ مانی تو وہ اس کے بچوں کو نقصان پہنچائیں گے ۔وہ عورت اپنی ممتا کو بچانے کے لیے اپنی قیمتی اثاثے سے مرحوم ہوگئی ۔ذلت اور رسوائی کا بوجھ اٹھا لیا لیکن اپنے بچوں کو بچا لیا ۔

یہ واقعہ معاشرے کے  اس بھیانک پہلو کو عیاں کرتا ہے جس  کی تیاری کے لیے کئی سالوں تک ’’محنت‘‘ کی گئی ۔اخلاقیات کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے اس جگہ پہنچے ہیں۔دل ابھی اس واقعہ کی دل خراشیوں سے نکل نہیں پایا تھا کہ ایک نام نہاد ’’قومی ہمدرد‘‘سیاست دان نے میڈیا پر آکر مبارک باد دی کہ حکومت مجرموں کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔دل حیران وپریشان تھا کہ کس بات کی مبارک باد ۔ ایک ماںکا  اپنے بچوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بننے پر یا ان معصوم بچوں  کے معصوم ذہنوں پر اس واقعہ کی وحشت ناکیوں کے نقش ہونے پر ’’مبارک باد ‘‘ ۔لاہور شہر کے قرب میں ایک ماں پر قیامت گزر گئی اور میڈیا پر مبارک باد کی گونج۔قیامت کے روز کیا جواب دیں گے ؟کیا اس روز بھی مبارک دے دیں گے کہ نشاندہی کر لی تھی۔حکومت کو اس دنیا میں ظلم کرنے والے کو سزا دینے کا اختیار دیا گیا  وہ کہاں ہے ؟اس کا جواب دیں ۔حکومتی نظام کی نااہلی تو دیکھیں کہ اس درندے نے گاڑی کا شیشہ توڑتے ہوئے جو  خون  وہاں لگا دیا اور اسی خون کی وجہ سے اس کی نشاندہی ہوئی اس درندے کی اس غلطی کا مداوا حکومتی نظا م نے اس طرح کیا کہ ہفتوں گزر جانے کے باوجود اس درندے کو گرفتار نہیں کیا  جا سکا۔پورے نظام کا منہ چڑاتے ہوئے وہ درندہ آزادی کے مزے لوٹتا رہا ۔شاید لوٹنا اس کے مقدر میں ہے کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ ہے ۔

دعویٰ اور نعرے اسلامی جمہوریہ کے ہیں ۔رسول کریم ﷺکی  پیشگوئی ہے کہ

’’مجھے تمہارے بارے میں فقر فاقہ کا ڈر نہیں ۔اللہ تعالیٰ تمہاری مدد ضرور کرے گا اور ضرور تمہیں بہت کچھ دے گا اور وہ تمہیں ایسی فتح سے ہمکنار فرمائے گا کہ ایک خاتون حیرہ اور یثرب کے درمیان کا یا اس سے بھی زیادہ سفر بے خوف وخطر طے کرے گی۔‘‘(مسند احمد حدیث نمبر 11843کتاب خلافت وامارت کے مسائل باب :سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ )

رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی یقینا ً سچی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان  میں ابھی اسلام فتح سے ہمکنار نہیں ہوا ورنہ یہ واقعہ پیش نہ آتا ۔یہاں غیر ت ایمانی اور ناموس رسالت کے اتنے نعرہ گونجتے ہیں کہ لگتا ہے اس سے بڑھ کر ایمان کیا ہوگا لیکن اس طرح کے واقعات معاشرتی انحطاط کے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اگر اسلام صرف نعروں کا نام ہے تو اسلامی جمہوریہ میں بہت ہیں اگر حقیقی اسلام دیکھنا ہے تو اس طرف کا رخ نہ کریں ۔یہاں ’’غازیوں ‘‘کی کمی نہیں لیکن کردار کا غازی یہاں نہ ڈھونڈیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *