اتر پردیش سے وولور ہیمپٹن تک: جسے لوگ پیدا ہوتے ہی دریا میں پھینک دینا چاہتے تھے وہ ’مچھلی‘ جال توڑ کر باہر آ گئی

شعبہ انٹرنیشنل

تحریر: راحیل شیخ بی بی سی نیوز

دماغی فالج کے ساتھ ایک ہندوستانی گاؤں میں پیدا ہونے والی کولی کوہلی کا زندہ رہنا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پڑوسیوں نے ان کے والدین سے کہا کہ وہ انھیں دریا میں پھینک دیں، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ ملک چھوڑا اور کولی کو برطانیہ لے آئے۔ یہاں پروان چڑھتے ہوئے اپنے جذبات کے متعلق لکھنا کولی کے خود سے فرار کا ایک ذریعہ بن گیا اور ان کی زندگی کو اس طرح بدل دیا جس کی وہ توقع بھی نہیں کر سکتی تھیں۔

اپنے نئے اپنائے ہوئے ملک کے آبائی قصبے وولور ہیمپٹن میں سٹیج پر بلائے جانے کی منتظر کولی کوہلی بڑی پریشانی میں مبتلا تھیں۔ انھیں ڈر تھا کہ ان کے منہ سے الفاظ ہی نہیں نکلیں گے اور وہ دھڑام سے زمین پر گر جائیں گی۔ ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگ گیا اور ان کے اعصاب جواب دینے لگے۔ ان کے دماغ کو شک نے گھیرے میں لے لیا۔ انھوں نے خود سے سوال کیا: ’میں کیوں اپنے آپ کو اس مشکل میں ڈال رہی ہوں؟‘ میزبان نے کولی کو خوش آمدید کہا اور خالی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس وقت اندھیرا تھا، سپاٹ لائٹ سے سٹیج روشن ہوا اور کمرے میں تالیوں کی ایک ہلکی سی آواز گونجنے لگی۔

کولی سہمی ہوئی سٹیج کے ایک طرف سے چلتے ہوئے مائیک تک پہنچیں۔ انھوں نے گہرا سانس لیا اور کچھ لمحے خاموش رہیں۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی نظم سنانا شروع کی، یہ نظم انھوں نے سامعین کو پہلی مرتبہ سنائی تھی۔

کولی کی نظم:

Mine

I have a dream;please don’t influence it

It belongs to me

I have a delicate heart;please don’t break it

It belongs to me

I have peace of mind;please don’t disturb it

It belongs to me

I have to follow a path;please don’t obstruct it

It belongs to me

I have an amazing life;please let me live it

It belongs to me

I have a choice;please don’t choose for me

It belongs to me

I have freedom;please don’t capture me

It belongs to me

I have incredible feelings;please don’t hurt me

They belong to me

I have a lot of love;please don’t hate me

Love is mine to share

I’m on my material journey;don’t follow me

It won’t be fair

So… I have a dream;it’s my dream to be free

کولی کے پاس سٹیج سے ڈر کی دوسروں سے زیادہ وجوہات تھیں۔ وہ دماغی فالج کے ساتھ پیدا ہوئی تھیں جو کہ ایک اعصابی حالت ہے جو ان کی بولنے کی صلاحیت، ان کی نقل و حرکت، جسم کی حالت، تعاون اور توازن کو متاثر کرتی ہے۔سٹیج پر آنا اور اپنی شاعری سنانا ان کی ان لوگوں کے خلاف فتح تھی جنھوں نے ان سے کہا تھا کہ معذوری کی وجہ سے ان کی زندگی بیکار ہے۔ وہ کچھ نہیں کر سکیں گی یا کوئی بھی مقصد حل نہیں کر پائیں گی۔ وہ اپنی شخصیت کے ایک پہلو کو گلے لگا کر اسے اپنا رہی تھیں۔ وہ چیز جس سے انھیں ساری زندگی شرمندہ کیا جاتا رہا تھا۔

1970 میں جب کولی شمالی انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ایک دور دراز گاؤں میں پیدا ہوئیں تو جلد ہی یہ بات عیاں ہو گئی کہ وہ دوسرے بچوں سے مختلف ہیں۔

کولی کی پیدائش کی وقت ان کی ماں کی عمر تقریباً 15 سال تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی پہلی اولاد تھیں اور ان کی برادری میں بہت سوں کو مایوسی ہوئی تھی کہ وہ لڑکا نہیں تھیں۔ پہلے پیدا ہونے والی بیٹیوں کو اکثر منفی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے۔ لیکن گاؤں والوں کی نظر جس چیز پر پڑی وہ صرف ان کی جنس نہیں تھی۔وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو لگا کہ میں ایک عجیب لڑکی ہوں، کیوں کہ میں مختلف تھی۔ تقریباً جیسے ہی میں پیدا ہوئی، لوگوں نے میری والدہ سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ مجھ سے جان چھڑا لیں کیونکہ کوئی بھی مجھ جیسی لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔‘انھوں نے بتایا کہ ’کوئی نہیں جانتا تھا کہ میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ اس وقت ہمارے گاؤں میں لوگ معذوریوں کو نہیں سمجھتے تھے، اور نہ ہی کسی کو پتہ تھا کہ دماغی فالج کیا چیز ہے۔ گاؤں کے لوگ میرے اہل خانہ کو کہتے کہ میں پچھلے جنم کے پاپوں کی سزا ہوں۔‘’کیونکہ میں بہت چھوٹی تھی اس لیے مجھے اچھی طرح یاد نہیں، لیکن میری ایک آنٹی نے، جو ہمارے ساتھ رہتی تھیں، مجھے بتایا کہ میرا جسم کپڑے کی دھجیوں سے بنائی گئی گڑیا کی طرح تھا۔‘کچھ گاؤں والوں نے مشورہ دیا کہ کولی کو دریا میں پھینک دیا جائے تاکہ وہ ڈوب کے مر جائیں۔’لیکن میرے والد نے مجھے واقعی بچایا۔ انھوں نے مداخلت کر کے مجھے گھر سے لے جا کر کسی چیز کی طرح پھینکنے سے روکا۔ انھوں نے میری زندگی بچائی اور میرے لیے کھڑے ہوئے۔‘اس کے کچھ عرصے کے بعد ان کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ میرا مستقبل اس گاؤں میں نہیں تھا۔ 1970 کی دہائی میں جنوبی ایشیائی تارکین وطن کی برطانیہ آمد ہوئی اور کولی کا خاندان بھی ان میں سے ایک تھا۔ 1973 میں جب وہ ولور ہیمپٹن پہنچے تو کولی کی عمر اڑھائی سال تھی۔ ان کے والد کو ایک بس ڈرائیور کی نوکری ملی۔لیکن کولی کو برطانیہ میں بھی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے ارد گرد اب بھی بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی یہ حالت ایک سزا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں ایشیائی برادری کے کچھ حصے معذوری کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معذور افراد کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔‘’وہ ان سرگرمیوں کو سر انجام دینے کے لیے بھی جدوجہد کرتے ہیں جو تندرست لوگ بغیر کسی ہچکچاہٹ سے کر لیتے ہیں، مثلا، باہر جانا ، ڈرائیونگ اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال، یونیورسٹی جانا، تعلقات بنانا، جیون ساتھی ڈھونڈنا اور شادی کرنا، گھر خریدنا، کھانا پکانا اور روزانہ کے کام کاج کرنا، بچے پیدا کرنا ، شوق اور دلچسپیاں رکھنا، نوکری حاصل کرنا۔‘

برطانیہ میں قائم خیراتی ادارے ’ایشیئن پیپلز ڈس ابیلیٹی الائنس‘ کے مطابق کچھ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ معذوری پچھلے جنم کے گناہ کی سزا ہے، ان میں سے کچھ کو یہ بھی خوف ہے کہ کسی معذور شخص کے ساتھ تعلق رکھنے سے انھیں بھی سزا ملے گی۔ لہذا معذور افراد کو حقیقی طور پر برادری سے ہی نکال دیا جاتا ہے۔کولی کا داخلہ معذور بچوں کے ایک سکول میں کرا دیا گیا جس کی دیواروں کے باہر آتے ہی وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتی تھیں۔’دوسرے بچے مجھے ’معذور‘ کہتے تھے ۔ مجھے اس لفظ سے نفرت ہے۔ مجھے گھورا جاتا اور میری طرف اشارہ کیا جاتا۔ گور دوارہ جانا بھی ایک آزمائش تھا۔ مجھے اس سے نفرت تھی کیونکہ لوگ صرف مجھے گھورتے رہتے تھے، مجھے غیر اہم، اجنبی اور معذور ہونے کا احساس دلاتے تھے۔‘وہ بتاتی ہیں کہ بچے ان سے پوچھتے: ’کہ آپ اس طرح کیوں چلتی ہو، اس طرح کیوں بولتی ہو؟‘عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کولی کے لیے بات چیت کرنا بھی مشکل ہوتا گیا۔لیکن جس چیز کا اظہار وہ اپنی زبان سے نہیں کر سکتی تھیں وہ اسے لکھ کر کرنے لگیں۔ کولی سے پہلی مرتبہ شاعری کا تعارف پین ہال سپیشل سکول میں ہوا۔وہ کہتی ہیں کہ ’اساتذہ ہمیں شاعری پڑھ کر سناتے اور مجھے یہ سننے میں بہت اچھی لگتی۔‘’پھر میں نے ایک راحت اور ایک قسم کی تھراپی کے لیے شاعری لکھنا شروع کی۔ مجھے الفاظ کو قافیے کی شکل دینے اور اپنے جذبات اور احساسات کے بارے میں لکھنے میں مزہ آتا تھا۔‘13 سال کی عمر میں وہ مین سٹریم سکول میں داخل ہوئیں۔ جب وہ اپنے نئے ہم جماعتوں کے ساتھ متعارف ہوئیں تو معاملات بہتر ہونا شروع ہوگئے۔ اور وہ لکھتی رہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے خوشی اور راحت کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔ میں جسمانی طور پر تندرست نہیں تھی، لیکن میرا دماغ تندرست تھا۔ میں نے ہر ایک کی طرح محسوس کیا، سوچا اور دیکھا۔ اس نے مجھے طاقتور ہونے کا احساس دلایا۔‘سکول کولی کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تھا، لیکن وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ وہاں زیادہ کچھ حاصل نہیں کر سکیں۔ وہ جی سی ایس ای میں بیشتر مضامین میں فیل ہو گئیں اور انھوں نے 16 سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا۔ وہ مایوس تھیں کہ اب وہ یونیورسٹی نہیں جا سکیں گی، حالانکہ ان کے والدین ہمیشہ سمجھتے تھے کہ وہ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔اب جب وہ سکول مکمل کرچکی تھیں کولی کے خاندان نے ان کی شادی کرانے کی بھی کوشش کی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب فیملیز ہمارے گھر آ کر یہ چیک کرتیں کہ کیا میں ان کے بیٹے کے لیے موزوں ہوں۔‘’میں روایتی کپڑے پہن کر اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ جاتی۔ جب ہمارے گھر آنے والی فیملیز میری حالت دیکھتیں تو وہ میرے اہل خانہ سے کہتیں، ’آپ توقع کرتے ہیں کہ ہمارا بیٹا اس سے شادی کرے؟ اور پھر وہ چلے جاتے۔‘انھوں نے ساری زندگی ہی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص بھی انھیں پسند نہیں کرے گا، اور اب بھی وہ تکلیف دہ الفاظ ان کے ذہن میں گونجتے ہیں۔

کسی کو پتہ نہیں تھا کہ وہ اپنے احساسات کاغذ پر اتارتی ہیں۔انھوں نے یہ سوچ کر لکھا کہ شاید کوئی کبھی انھیں پڑھے کہ ان کے لیے زندگی کیسی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ایک دماغی فالج میں مبتلا ایک ایشیائی خاتون کیسا محسوس کرتی ہے۔ وہ ہمدردی چاہتی تھیں، نہ ہم دلی۔اور پھر ان کی ملاقات اس شخص سے ہوئی جو آخر کار ان کا شوہر بنا۔اس بار، وہ نوجوان اور ان کا خاندان جلد شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن کولی کو جلدی نہیں تھی۔وہ کہتی ہیں: ’پہلے مجھے وہ پسند نہیں آئے، وہ میرے مطلب کے نہیں لگے۔‘’لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور انھیں جاننے کے بعد، مجھے ان سے پیار ہو گیا اور ان کو بھی مجھ سے پیار ہو گیا۔‘ان کے کولی کو اسی حالت میں قبول کرنے نے بھی نوجوان شاعرہ کو حیرت میں ڈال دیا۔کولی کہتی ہیں: ’وہ جسمانی طور پر قابل ہیں اور ان کو میری معذوری سے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا، ان کے لیے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی تھی۔‘

کولی کام ڈھونڈنے کے لیے پرعزم تھیں، اس لیے انھوں نے یوتھ ٹریننگ سکیم میں داخلہ لے لیا، جس کی وجہ سے انھیں ولور ہیمپٹن سٹی کونسل میں پلیسمینٹ مل گئی۔ اور یہیں وہ گذشتہ 30 سالوں سے نوکری کر رہی ہیں۔کچھ سال پہلے تک، کولی جو اب چالیس کی دہائی میں تھیں، ایک خوش و خرم شادی شدہ، تین بچوں کی ماں اور فل ٹائم کام کرنے والی خاتون تھیں۔انھوں نے سب کو غلط ثابت کر دیا تھا۔ لیکن زندگی اتنی پرفیکٹ یا کامل بھی نہیں ہوتی۔کولی کسی بھی ایشیائی خاتون سے رکھی گئی توقعات کے مطابق زندگی گذارنے کی جدوجہد کر رہی تھیں۔’مجھ سے توقع کی جاتی ہے کہ میں ایک ماں، ایک بیوی، ایک بہو اور ایک کل وقتی کارکن کے طور پر کام کروں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر والوں کے لیے اور اپنی نوکری پر بہترین کارکردگی دکھائے۔ یہ ایک آزمائش ہے کیونکہ میں تندرست ماؤں کی طرح نہیں ہوں اور میں بہت ساری چیزیں نہیں کر سکتی جن کی مجھ سے توقع کی جاتی ہے جیسا کہ چپاتیاں بنانا، مکمل کھانے بنانا ، خریداری اور روز مرہ کے کام کرنا۔‘’میں تو اپنے بچوں کی چٹیا یا بال بھی نہیں باندھ سکتی۔ ایسے بہت سے کام ہیں جو کاش میں کر سکتی، آزادی کی اس کمی کی وجہ سے مایوسی اور غصہ آتا ہے۔‘

Short presentational grey line

تاہم انھوں نے لکھنا جاری رکھا، اور ایک دن سٹی کونسل میں ان کی ملاقات ولور ہیمپٹن لائبریریوں کے لٹریچر ڈویلپمنٹ آفیسر سائمن فلیچر سے ہوئی۔کولی نے انھیں بتایا کہ وہ لکھتی ہیں اور انھیں اپنی کچھ شاعری اور ناول کے کچھ حصے دکھانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے سوچا کہ چونکہ سائمن خود بھی مصنف ہیں، لہذا وہ انھیں کوئی قیمتی مشورے دیں گے۔ وہ ایک چھوٹے سے پریس کے جس کا نام اوفا پریس تھا، مینیجر تھے۔سائمن نے جو کچھ پڑھا وہ اس سے بہت متاثر ہوئے، اس کے جذبات، سچائی اور درد سے۔وہ کولی کے رہبر اور استاد بن گئے، اور انھیں اپنے کام کا ایک مجموعہ لکھنے کی ترغیب دی جسے اوفا پریس شائع کرے گا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مزید لوگوں کو کولی کی کہانی سننے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان جیسی اور بھی بہت سی خواتین ہوں گی، جن کے پاس آواز نہیں ہے۔ انھیں لگا کہ کولی اپنی شاعری اور کہانیوں سے ان خواتین کی مدد کر سکتی ہیں۔کولی کہتی ہیں کہ ان کی عمر اور نسل کی بہت ساری پنجابی خواتین کے لیے اپنے احساسات بتانا بہت مشکل ہے اور ان کا مقصد ہے کہ وہ اپنی تحریر کے ذریعے ان خواتین کو با اختیار بنائیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنی طرح برطانیہ میں بسنے والی کچھ دوسری نسل کی پنجابی خواتین کو جانتی ہوں، جن کی خواہشات اور خواب ہیں اور کچھ خواتین کے خواب فرض شناس بیویاں، مائیں، دادیاں، بیٹیاں اور بہوویں بن کر دی جانے والی قربانیوں کی نذر ہو چکے ہیں۔‘’لکھنا اور پنجابی خواتین کوئی بہت اچھا میچ نہیں ہے۔ جو پنجابی خواتین لکھائی اور آرٹ میں دلچسپی ظاہر کرتی ہیں، انھیں ’وقت ضائع کرنے والیاں‘ سمجھا جاتا ہے۔’پنجابی اکثر سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے قیمتی وقت کے ساتھ کچھ ایسا کام کرنا چاہیے جس کا نتیجہ نظر آئے، جیسا کہ گھر والوں کا خیال رکھنا اور سلائی کڑھائی اور کھانا پکانا سیکھنا اور اسی طرح کی چیزیں۔ میں خوش قسمت مچھلی ہوں، جو ماہی گیری کے جال سے بچ گئی۔‘کولی نے ولور ہیمپٹن میں پنجابی ویمن رائٹرز گروپ قائم کیا ہے۔ شہر کی سینٹرل لائبریری میں ایک مہینے میں ایک بار ملاقات ان مٹھی بھر پنجابی خواتین کو آزادانہ اظہار کے لیے ایک محفوظ جگہ مہیا کرتی ہے۔کولی اس بارے میں بہت محتاط ہیں کہ ان سیشنز میں کون شرکت کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو گھر والوں کی کسی بھی رائے سے آزاد ہونا چاہیئے، جس کا سامنا انھوں نے اپنی پوری زندگی کیا ہے۔وہ مجھے بتاتی ہے کہ خواتین وہ لکھتی ہیں جو وہ محسوس کرتی ہیں اور اپنی برادریوں میں دیکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، شرابی شوہر یا باپ اور گھریلو زیادتی، لیکن زندگی کا ایک خوبصورت اور مضحکہ خیز رخ بھی۔

Transparent line

کولی کو کافی اعتماد حاصل ہو رہا تھا اور انھیں لگا کہ اب ایک اور رکاوٹ کو دور کرنے کا وقت آگیا ہے۔سٹیج پر آ کر اپنی شاعری پڑھنا ایک ایک ایسا خیال تھا جس کا سوچ کر ہی ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے تھے۔ لیکن انھیں لگا کہ انھیں اس پر بھی قابو پانا ہے، اپنے آپ کو اپنانا ہے اور اعتماد کے ساتھ خود کو پیش کرنا ہے۔لہذا، 2017 میں، انھوں نے اپنے کام کی پہلی لائیو پرفارمنس دی، جو ان الفاظ سے شروع ہوئی: ’میرا ایک خواب ہے۔‘کولی کہتی ہیں کہ ’میں نے تقریباً 40 قدر دان سامعین کے سامنے 15منٹ کی شاعری کا ایک مجموعہ مائیکروفون پر بلند آواز پڑھا۔‘’میں جتنی واضح طور پر بات کر سکتی تھی میں نے کی، لیکن درمیان میں کئی مرتبہ پھسل بھی گئی۔ میں جانتی تھی کہ میں اس سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی تھی۔ لیکن سامعین بہت صابر اور مدد گار تھے اور انھوں نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ میرے کام کا خیر مقدم کیا۔‘’میں سمجھتی ہوں کہ بہت سارے لوگوں کے لیے یہ بہت پریشان کن ہو گا کہ وہ مجھ جیسے شخص کو سٹیج پر پرفارم کرنے کی جدوجہد کرتا اور اپنے الفاظ کو صاف طور پر بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوا دیکھیں۔ میں جانتی ہوں کہ میں جسمانی طور پر نارمل نہیں ہوں لیکن میرا دل، روح اور دماغ ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میں کبھی ایک پرفیکٹ پرفارمر نہیں بنوں گی، لیکن میں جانتی ہوں کہ پریکٹس اور رہنمائی کے ساتھ میں بہتر ہوتی جاؤں گی۔‘جیسے جیسے کولی کا اعتماد بڑھتا گیا ، اسی طرح ہی ان کا پنجابی خواتین کا گروپ بھی بڑھتا گیا۔ پنجابی رائٹرز گروپ نے 2019 میں آئرن برج میں ہونے والے ’دی فیسٹول آف امیجینیشن‘ میں اجتماعی طور پر اپنی شاعری پیش کی تھی۔49 کی عمر تک پہنچتے ہوئے کولی بہت آگے پہنچ چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ معذوری پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ ہماری برادری معذور افراد کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔ ان کے ذاتی معاملات اور پریشانیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور انھیں پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ ہم سب میں کسی نہ کسی حد تک معذوریاں ہیں۔ معذوری سے لاعلمی ہماری جڑوں میں ہے اور اس سے باہر نکلنے میں بہت نسلیں لگیں گی۔‘

کولی نے اپنی پوری زندگی ایک نظم ’سروائیور‘ میں سمو دی ہے۔

Survivor

Entered the world like an uninvited guest

I hid away, embarrassed- I was a disgrace

Flawed, I survived this sentence. A tough test

A child who was compared with all the rest

I was different- an alien from outer space

entered the world like an uninvited guest

Benefits, wages kept me together, dressed

I was a cash point- abused without a case

flawed, I survived this sentence- a tough test

On display to men for marriage;suppressed

I was a British visa for Asian men to chase

entered the world like an uninvited guest

A lucky escape, rescued by a husband;blessed

with a family that I could love and embrace

Flawed, I survived this sentence, a tough test

My dreams came true and all were impressed

a valued writer, poet, working mum, a place

Entered the world like an uninvited guest

flawed, I survive this sentence – a tough test

♦♦♦

البیرونی ایرانی مسلمان تھا ۔

اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہیں لیکن اتنا ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ اسے بچپن سے ہی حصول علم کا بہت شوق تھا ۔ مطالعے سے اس کی رغبت و انہماک تمام عمر جاری رہی ۔ کہا جاتا ہے کہ جس وقت اس کا دم نکل رہا تھا اس وقت اس کا ایک دوست اس سے ملنے آیا ۔ البیرونی نے اس وقت بھی اس سے علم الہند کے کسی مسئلے کے حل کے بارے میں دریافت کیا ۔ دوست کو یہ بات سن کر عجیب سا لگا لیکن البیرونی نے اس سے کہا کہ کیا اس کا ایسی حالت میں مرنا اچھا نہ ہو گا کہ وہ اس مسئلے کی حقیقت سے آگاہ ہو چکا ہو ۔ یہ سن کر اس کے دوست نے وہ مسئلہ بیان کر دیا ۔ وہ دوست جونہی کمرے سے باہر آیا البیرونی نے دم توڑ دیا اور کمرے سے لوگوں کی آہ و زاری  کا شور بلند ہوا ۔ خلیل جبران نے کہیں لکھا تھا کہ ” ہزاروں سال قبل مر چکے ستاروں کی روشنی اب بھی ہم تک پہنچتی ہے ۔ یہی معاملہ عظیم لوگوں کا ہے جو صدیوں پہلے مر چکے لیکن ان کی شخصیت کی شعاعیں اب بھی ہم تک پہنچتی ہیں۔ زندگی کے تمام اسرار دریافت کر لینے کے بعد آپ موت کی خواہش کرتے ہیں کیونکہ یہ زندگی کا ایک اور راز ہے ” ۔

 البیرونی کا علم و فضل ، علم ہیئت ، تدبر اور حکمت اپنے آپ میں یکتا اور تازہ دم سہی مگر البیرونی کی علم سے لگن اور رغبت نے اسے آج بھی زندہ و نوجوان بنا رکھا ہے ۔ علم سے محبت کرنے والے اور علم کیلئے اپنی زندگی کو وقف کرنے والے ہمارے خیالوں میں آج بھی ایک نوجوان کی حیثیت سے اپنا مقام برقرار رکھتے ہیں ۔ وہ ہمارے خیالوں میں بھی کبھی بوڑھا نہیں ہوتے ۔ ان کے ہمیشہ زندہ رہنے اور ہمارے خیالوں میں ان کے بوڑھا نہ ہونے کی بڑی وجہ ہم تک پہنچنے والی ان کے علم کی شعاعیں ہی تو ہیں۔۔♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *