ڈرامہ “ارطغرل غازی “کا پہلا غیر سرکاری نتیجہ

شعبہ انٹرنیشنل

آج کل غازی کا نام سنیں گے تو ذہن فوری طور پر ترکی میں بنائے جانے ڈرامے”ارطغرل غازی “کی طرف جاتا ہے ۔اس نے بہت شہرت حاصل کی ۔اس میں مرکزی کردار ماضی کی ایک شخصیت ارطغرل کی زندگی کے اردگرد رہتا ہے ۔اس وقت یہ ذکر مقصودنہیں یہ ڈرامہ کس قدر تاریخی حقائق پر مبنی ہے ۔تاریخی اعتبار سے جس قدر مواد پیش کیا گیا ہے اس پر ایک سوالیہ نشان ہے ؟کیونکہ تاریخ ان تفاصیل کے حوالے سے خاموش ہے جو ڈرامہ میں پیش کی گئیں ہیں ۔لیکن یہ مسلم ہے کہ قائی ترک قبیلہ گمنامی سے نکل کر منظر عام پر آیا اوران ترک نوجوانوں نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو جولائی 1299ء میں قائم ہوئی اور یکم نومبر 1922ء تک قائم رہی ۔623سالوں تک 36عثمانی سلاطین نے فرمانروائی کی ۔آخری سلطان عبد المجید ثانی کو 3مارچ 1924ء کو معزول کر کے سلطنت عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا ۔یہ سلطنت تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی۔بات ہو رہی تھی ڈرامہ سیریل “ارطغرل غازی”کی ۔اس کے مداحوں میں پاکستان کے وزیراعظم بھی شامل ہیں ۔اسی وجہ سے اس ڈرامہ کو پاکستان کا سرکاری ٹی وی ترکی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کرکے نشر کر رہا ہے ۔اس ڈرامے کو واقعی بہت اچھے انداز سے تیار کیا گیا ہے جو اس کو ایک دفعہ دیکھ لے وہ اس کے سحر میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔کرداروں نے اپنے کردار کو خوب نبایا ہے ۔خاص طور پر ارطغرل اور اس کے ساتھی “اللہ اکبر “کا نعرہ لگا کر دشمنوں پر حملہ کرتے ہیں وہ سین بہت جاندار بنائے گئے ہیں ۔ارطغرل کا سازشوں اور بغاوتوں کو بے نقاب کرکے ختم کرنا اور یہ دکھانا کہ کس طرح وہ اتحاد اُمت کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ یقینا ً یہ سب باتیں ایک مسلمان کے ذہن پر اثر کرتی ہیں ۔ڈرامہ میں دکھایا گیا ہے کہ ارطغرل نے قائی قبیلہ کے چند ترک نوجوانوں کے ساتھ مل کر اسلام دشمنی میں مصروف عیسائی لشکروں کو شکست اور منگولوں کی یلغار کو روکنے میں ایک اہم کردارادا کیا ۔ جس طرح تلواروں کے ذریعہ سروں کو اڑایا جاتا ہے تیروں ،نیزوں اور کلہاڑوں کے ذریعہ دشمنوں کو ختم کیا جاتا ہے ۔یہ باتیں ذہنوں کو ایک سوچ کی طرف لے جاتی ہیں ۔اسی لیے اس ڈرامہ کے بنانے کے مقصد پر سوالات اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ۔کیونکہ جس تفصیل کو ڈرامہ میں بیان کیا گیا ہے تاریخ اس حوالے سے خاموش ہے ۔ لیکن ترک قوم کی روایات اور اسلام محبت خاص طور پر نمایاں کرنے کی وجہ سے اس پر کئی طرح کے اندازے لگائے جا رہے ہیں ۔سلطنت عثمانیہ 1923ء میں ایک معاہدہ کی وجہ سے ختم ہوئی جسے معاہدہ لوزان کہا جاتا ہے جس کی مدت ایک سوسال تھی۔اب یہ معاہدہ 2023ء میں ختم ہو رہا ہے ۔بعض کہتے ہیں اصل میں ترک اقوام کے ساتھ ساتھ اُمت مسلمہ کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں یا آئندہ کی جائیں گی اس میں سے ایک کوشش یہ ڈرامہ بھی ہے ۔بعض کہتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ پر کوئی ڈرامہ بنانامقصود تھا تو سلطنت عثمانیہ کے کئی ایسے کردار ہیں جو بہت مشہور ہیں اور ان کے حالات زندگی محفوظ بھی ہیں ان پر ڈرامہ بنانے کی بجائے ایک ایسے کردار کو چنا گیا جن کی زندگی کے احوال محفوظ نہیں تو ایسا کرنے کی یہ وجوہات بیان کی جارہی ہیں کہ ہیرو کی زندگی گمنامی پر مشتمل ہو تو اس میں اپنی مرضی سے رنگ بھرے جاسکتے ہیں ۔اگر ہیرو کی زندگی معروف ہو تو اس کے اچھے بُرے پہلو لوگوں کے علم میں ہوتے ہیں ۔ اپنی مرضی کم ہی چلتی ہے ۔اس لیے سلطنت عثمانیہ میں سے ایسے کردار کو ہیرو بنایا گیا جس پر تاریخی اعتبار سے کم سے کم اعتراض ہوں اور اس میں اپنی مرضی سے تفاصیل شامل کی جاسکیں ۔

تحریر :ابن قدسیؔ

یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈرامہ میں پیش کیے جانے والے جذباتی اور پر جوش مناظر کسی نہ کسی لحاظ سے سوچ پر اثر انداز تو ہوتےہیں اور اس کے ساتھ ایک مذہبی رنگ بھی ہے ۔اسلا م کا نام لیا جا رہا ہے ۔حضرت محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ کی موجودگی اور ارطغرل کی حمایت میں ان کو ملنے والے الہیٰ اشارے،پھر ارطغرل کی ہمت ،جواں مردگی ،شجاعت ،خدا پر توکل وغیرہ خصوصیات دکھا کر اسلام کی خدمت کے لیے تلوار اُٹھانے اور دشمنوں کا سر قلم کرنے کو ایک مذہبی فریضہ ظاہر کیا گیا ہے ۔اسلام کو بچانا ہے اس کی خدمت کرنی ہے اور اسے دیگر ادیان پر غلبہ دینا ہے تو اس کا ذریعہ تلوار ہے ۔جب اس جگہ پہنچتے ہیں تو پھر اس ڈرامہ کے اثرات بحث طلب ہو جاتے ہیں ۔جہاد کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ۔جہاد انتہائی ضروری ہے ۔روحانی دنیا میں انسانیت کی معراج جہاد سے ہی حاصل ہوتی ہے ۔لیکن جہاد ہوتا کیا ہے اس کا علم ہونا بہت ضروری ہے ۔ڈرامہ دیکھنے کے بعد تو ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے کہ تلواریں تیار کر لو تیر اندازی سیکھ لو ۔ڈھالیں اور کلہاڑیاں چلانی آنی چاہیے اسلام غالب ہوجائے گا ۔یہ سوچ پیدا ہونا کسی لحاظ سے درست نہیں ۔اسلام نے جس جہاد کو پیش کیا ہے وہ تو قیامت تک جاری ہے لیکن اصل جہاد کیا ہے؟ جہاد کا لفظ جہد کے لفظ سے نکلا ہے ۔جس کے معنی ہیں کوشش کرنا ۔اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش،اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش،اپنے نفس کو پاک صاف کرنے کی کوشش،شیطان کو زیر کرنے کی کوشش ،حقوق اللہ اور حقوق العباد اداکرنے کی کوشش،تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی کوشش ۔اب یہ جہاد تو انسان کی آخری سانس تک جاری ہے ۔اگر کوئی شیطان کو زیر کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر نماز ادا کرتا ہے تو جہاد فی سبیل اللہ کر رہا ہے کیونکہ اس نے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کی ۔ اگر کوئی اپنی غلط سوچوں کو صحیح راستے پر ڈالتا ہے اور نیکیاں بجا لا رہا ہے تو جہاد فی سبیل اللہ کر رہا ہے ۔وہ جھوٹ نہیں بولتا ،بددیانتی نہیں کرتا ،خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا ،کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تو وہ جہاد فی سبیل اللہ کر رہا ہے ۔اسی لیے جہاد کی چار اقسام بیان کی جاتی ہیں ۔1۔جہاد بالنفس یعنی نفس کے ذریعہ جہاد۔ 2۔جہاد بالقرآن یعنی قرآن کے ذریعہ جہاد۔ 3۔جہاد بالمال یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں مالوں کا خرچ اور چوتھی قسم جہاد بالسیف یعنی تلوار کے ذریعہ جہاد ۔پہلے تینوں جہادوں میں اپنے نفس کی قربانی زیادہ ہے۔اپنی نفسانی خواہشات کو ختم کرکے اپنے نفس کو اللہ کی رضا کے مطابق کرنا بظاہر مشکل امر ہے ۔پھر قرآن کے ذریعہ جہاد کرنے کے لیے قرآن کا علم حاصل کرنا ضروری ہے اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق کرنے میں بھی نفس روک ڈالتاہے اس حوالے سے بھی مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے ۔مال سے جہاد تو ویسے ہی ایک مشکل امر ہے ۔مال جو انسان اپنی محنت سے کماتا ہے اسے اپنا حق سمجھتا ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ایک بڑی قربانی ہے ۔ویسے بھی انسان اپنے آپ کو سدھانے کی بجائے دوسروں کی اصلاح کو “افضل نیکی “سمجھتا ہے اس لیے اسے یہ بہت آسان لگتا ہے کہ تلوار لو اور دوسروں پر چڑھ دوڑو۔ اس جہاد میں صرف دل کو مطئمن کرنا ہے کہ دوسرے کافر ہیں اوران کو مارکر سیدھا جنت میں چلے جانا ہے تو یہ “نیکی “بہت آسان ہے ۔ خود چاہے جو مرضی کرو لیکن کسی دوسرے کو کافر قرار دے کر جہنمی بنانا بہت آسان ہے ۔دل کو مطمئن کرنے کے لیے زیادہ علم کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بس کسی مولوی کا فتویٰ ہی کافی ہے ۔فتویٰ نہ بھی ہو بس دل کو سمجھانا ہے کہ سامنے والا گستاخ ہے ۔پھر کارووائی شروع ۔یہ کام کرتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے یہ سوچنے کی زحمت گوارانہیں کی جاتی کہ جس کا نام لے کر یہ کام کیا جارہا ہے ۔جس کی گستاخی کا بدلہ لیا جارہا ہے ۔اس کی نافرمانی کرکے کہیں وہ خود بھی گستاخ تو نہیں بن رہا ۔لیکن یہ سب جاننے کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے ۔پڑھنا اور سمجھنا پڑتا ہے تو یہ ایک مشکل کام ہے ۔اس لیے بظاہر آسان راستہ اپنایا جاتا ہے کہ سامنے والے نام نہاد گستاخ کو قتل کر دو ۔پرہیز گار اور نمازی بننے میں تو محنت کرنی پڑتی ہے لیکن “غازی “بننے میں ایک لمحہ لگتا ہے ۔ جنتی بننے کی بشارتیں تو فوراً دی جاتیں ہیں ۔ڈرامہ سیریل “ارطغرل غازی “کا پہلا غیر سرکاری نتیجہ پاکستان میں نکل آیا ہے ۔سوشل میڈیا پر آج کل ایک اور غازی کے نام کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ ارطغرل غازی کے کارہائے نمایاں دیکھ کر تو سمجھ آتی ہے کہ اسے غازی کہا جاسکتا ہے ۔ اس زمانے کے حالات ہی ایسے تھے ۔دشمن نے جب تلوار اُٹھائی تو دفاع میں تلوار نہ اُٹھائیں گے تو گردن کٹ جائے گی ۔ڈرامے میں جس ہمت اور بہادری کا مظاہر ہ دکھایا گیا تو سمجھ آتی ہے کہ اس زمانے میں واقعی ہی تلوار اُٹھانے کی ضرورت تھی اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اسلام کو بچایا گیا لیکن پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ایک صوبہ کے دارالحکومت پشاورمیں ایک عدالت کے اندر ایک جج کے سامنے کسی نہتے انسان کا قاتل کیسے “غازی “بن گیا ۔پھر اس کی رہائی کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس کے حق میں تقریرکی گئی ۔انسان اپنا سر پکڑ کر نہ بیٹھے تو بتائیں کیا کرے ۔کیا عدلیہ کے بالمقابل ایک نیا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے ۔ججوں کی ضرورت نہیں ،کوئی مقدمہ ،کوئی عدالت نہیں بس گستاخ رسول کا الزام ہی کافی ہے فوراً اسے مار کر “غازی ” بن جاؤ۔چہرے پر نور آجائے گا ۔لوگ ہاتھوں کو بوسے اور گلے لگانے کو فخر کہیں گے ۔موجودہ دور میں سیلفی کا اعزاز بھی مل جائے گا ۔ خدا کے لیے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے خاموش تماشائیوں ! خدا کے لیے پاکستان پر رحم کریں ۔اسلام پر رحم کریں ۔کیوں اسلام کوبدنام کرنے کا ٹھیکہ ان نام نہاد”غازیوں ” کو دے رہے ہیں۔ صاحب اختیار احباب کی مجرمانہ خاموشی اس آگ کو بھڑکائے گی اور یاد رکھیں یہ آگ چند گھروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بقول راحت اندوری ؔ

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

صرف ایک مکان نہیں جلے گا ۔ یہ آگ تو ویسے ہی بہت خطرنا ک ہے ۔کل کو کسی”غازی “نے کسی صاحب اختیار کے بارے میں خواب دیکھ لی تو پتا نہیں وہ “غازی ” بننے میں کتنا وقت لگائے گا ۔پاکستان میں تو ویسے ہی گستاخی کا فتویٰ سب سے سستا بکتا ہے ۔ رسول کریم ﷺ کے لیے موت یا وفات کا لفظ استعمال کرلیں تو فوراً گستاخ رسول کا فتویٰ لگ جائے گا ۔اس لیے “غازیوں “کی اس دوڑ کو روکنے کے لیے کچھ کریں ورنہ کل کو کسی بھی فرقے کا کوئی “غازی”اپنے خواب کی بنیاد پر کسی دوسرے فرقے پر چڑھ دوڑے گا ۔ “ارطغرل غازی”نے تو ویسے ہی اس شوق کو کافی ہوا دی ہوئی ہے ۔

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *