پاکستان کے سرفروش ہیرو

شعبہ پاکستان

تحریر: زکریاورک، کینیڈا

جب گلستان کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی

پھر بھی ہم سے یہ کہتے ہیں اہل چمن یہ چمن ہے ہمارا، تمہارا نہیں

6 ستمبر 1965 کے حوالے سے ہم پا کستان کے تمام شہیدوں، اور جانباز سرفروشان کو سلام پیش کرتے ہیںجنہوں نے ارض وطن پاک سرزمین شاد باد کیzakria حفاظت اور قیام کی خاطر اپنی جان کاسب سے بڑا نذرانہ پیش کیا۔ آئیے آج ہم سب اہل وطن متحد ہوکر لیفٹننٹ جنرل اختر حسین ملک، میجر جنرل افتخار جنجوعہ، جنرل عبد العلی ملک،، میجر جنرل عبد اللہ سعید اور ان گنت فوجیوں کو سلام پیش کریں۔

میجر جنرل نذیراحمد ملک

آپ کا تعلق دولمیال سے تھا جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ آپ کو پاکستان آرمی کا پہلا جنرل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے علاوہ پا کستان کے قیام کے بعد بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کو پا کستان آرمی کی طرف سے پہلی سلامی دی گئی تھی اس پریڈ کے کمانڈر بھی آپ ہی تھے۔ آپ نے برطانیہ کی شہرہ آفاق سینڈ ھرسٹ ملٹری اکیڈیمی سے یکم ستمبر1931کو کمیشن حاصل کیا۔ آپ نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا اور انڈین آرمی آفیسرز کارپس کی فہرست میں آپ کا نام شامل تھا جو سر ظفر اللہ خاں نے پنجاب باؤنڈری کمیشن کو پیش کی تھی۔ کشمیر کی پہلی جنگ میں آپ کو ایک آرمی ڈویژن کی کمانڈ دی گئی تھی۔ حسد اور تعصب کی بناء پر آپ کو پنڈی سازش کیس میں ملوث کیا گیا اور صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خاں نے آپ کو جبراََریٹائر کر دیا تھا۔

لیفٹننٹ جنرل اختر حسین ملک (وفات 22، اگست 1969)

پا کستان آرمی کے مقبول اور مشہور جنرل تھے۔ 1965 کی ہند و پاکستان کی جنگ کے وہ ہیرو تسلیم کئے جاتے ہیں۔ آپ کی ولادت پنجاب کے گاؤںپنڈوری (ضلع اٹک سابقہ نام کیمبل پور)میں ہوئی تھی۔ گورنمنٹ کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ انڈین آرمی میں شامل ہوئے ، جلد ہی آپ کی غیر معمولی قابلیت اور عساکری جوہر کو پہچانا گیا اور ڈیرہ دون ملٹری اکیڈیمی آفیسرز ٹریننگ کیلئے بھیج دیا گیا۔ جون1941 کو آپ کو سیکنڈ لیفٹننٹ کے طور پرکمیشن مل گیا۔اس کے بعد آپ کا تعین 16th پنجاب رجمنٹ میں ہؤا۔ اپریل1942 میں آپ کو کیپٹن کا عہدہ دیا گیا۔ اپنی بٹالین کے ہمراہ ستمبر1945 میں آپ کو برما اور ملایا کے محاذ پر میجر کے طور پر بھیجا گیا۔اعلیٰ فوجی خدمت کی بناء پر آپ کو(برما سٹار )سے نوازا گیا۔ اگست 1947میں آپ تقسیم ہند کے موقعہ پرلیفٹننٹ کرنل کاعہدہ پا کرنوزائدہ مملکت پا کستان کی آرمی میں شامل ہوگئے۔ 1956 میں بر گیڈئر بنا دئے گئے۔

میجر جنرل اختر حسین حاضر دماغ، بے باک، صا ف گو انسان تھے۔ وطن عزیز کیلئے آپ کی محبت لا زوال تھی۔ آپ کے تحت کام کرنے والے تمام فوجی آفیسرز، آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔ آپ کی جنگ کی حکمت عملی، فوجی داؤ کو سب تسلیم کرتے تھے۔ وہ ایک جری اور دلیر کمانڈر تھے جو دباؤ میں گھبراتے نہیں پرسکون رہ کر اپنے جوانوں میں اعتماد کی جوت جگاتے تھے۔ آپ ہی نے آرمی آپریشنز آپریشن جبرالٹر Operation Gibraltar اور آپریشن گرینڈ سلیمOperation Grand Slam کا خاکہ صدر ایوب خاں کی منظوری سے تیار کیا تھا۔دراز قد اور پر شوکت شخصیت کی بناء پر کمرے میں آپ کی موجودگی کو محسوس کیا جاتا تھا۔احمدندیم قاسمی نے جنگ کراچی میں ۹ ستمبر ۱۹۶۹ صفحہ ۴ پر لکھا تھا کہ ـ:

لیفٹننٹ جنرل اختر ملک ( جو اس وقت بر یگیڈئر تھے) ملک و قوم کے ایسے ہیرو تھے جن کا نام آج بھی بچوں کو یاد ہے ۔ وہ بہادری، استقامت، اور اولوالعزمی کی ایک مجسم تصویر بن کر ابھر ے اور اہل پا کستان کے ذہنوں پر چھا گئے۔ ہند و پاکستان کی 1965کی جنگ میں آپ آپریشن گرینڈ سلیم کے کمانڈر تھے۔ مگر افسوس کہ آپریشن کے عین درمیان کمانڈ جنرل یحییٰ خان کو دے دی گئی جس کی وجہ سے یہ آپریشن بری طرح ناکام ہو گیا۔اس واقعہ کا ذکر ہندوستان کے آرمی جنرل جوگند رسنگھ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ https://www.dawn.com/news/1204925 ذولفقار علی بھٹو نے اس بارے میں کہا تھا: “اگر جنرل اختر ملک کو چھمب جوڑیاں سیکٹر پر نہ روکا گیا ہوتا ، تو انڈین آرمی کو کشمیر میں بری طرح پسپا ہونا پڑتا، لیکن ایوب خاں اپنے چہیتے یحیٰ خاں کو ہیرو بنانا چاہتے تھے”۔کامیاب قیادت کی بناء پر آپ پہلے جرنیل تھے جس کو ہلال جرات کے تمغہ سے سے نوازا گیا اور لیفٹنینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ 1965کی جنگ میں لاہور محاذ کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل سرفراز خاں (ملٹری کراس) نے 65کی جنگ کے متعلق ایک مضمون آپر یشن جبرالٹر کو ایک شاندار فتح قرار دیتے ہوئے کہا تھا : “جس ہنر مندی سے اختر ملک نے چھمب جوڑیاں پر حملہ کیا تھا اسے شاندار فتح کے علاوہ کو ئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ آگے بڑھ کر جوڑیاں پر قبضہ کر لیں۔ ۔۔مگر ایسے نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ پکی پکائی پر یحییٰ خاں کو بٹھانے اور کا میابی کا سہرا ان کے سر باندھنے کا پلان بن چکا تھا۔ لیکن نقصان کس کا ہؤا بھارت کو مکمل شکست دینے کا موقعہ ہاتھ سے نکل گیا۔ کمانڈر کی تبدیلی میں دو دن ضائع ہوئے” (روزنامہ جنگ لاہور6 ستمبر1984 صفحہ3) ۔ حکومت پا کستان نے ان کو سینٹو CENTO میں بطور سفیر ترکی بھجوایا جہاں وہ ایک کار کے حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آپ کی تدفین ربوہ میں ہوئی۔ لاہور کے مشہور خطیب اور اہل قلم رسالہ چٹان کے ایڈیٹرشورش کاشمیری نے اپنے رسالے کی اشاعت13 ستمبر1965صفحہ6پر جنرل اختر حسین ملک کا اپنے اشعار میں یوں ذکر کیا تھا:

دہلی کی سرزمین نے پکارا ہے ساتھیو اختر ملک کا ہاتھ بٹاتے ہوئے چلو

اس کے سوا جہاد کے معنی ہیں اور کیا اسلام کا وقار بڑہاتے ہوئے چلو

شاعرضمیر جعفری نے وطن عزیز کے اس نام آور جانباز کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا: (پہلا اور چوتھا بند)

انقرہ سے چکلالہ کے ہوائی اڈے پر

چمکتی ہوئی گاڑی کے اوپر جو تابوت ہے

چاند تارے کے پرچم میں لپٹا ہؤا

ایک جیالا، جری، نام آور، دلاور، بہادر سپاہی

ابد کی خموشی میں کھویا ہؤا

اپنی شفاف وردی میں سویا ہؤا

بند نمبر ۴

سرد پیکر میں اب دل دھڑکتا نہیں

آگ جلتی نہیں، خون چلتا نہیں

جسم بے جان ہے

لیکن اے زندگی، یہ وہ انسان ہے

ایک جیالا، جری، نام آور، دلاور، بہادر سپاہی

جو اپنے مقدس وطن، خطہ دلنشیں، کشور بہترین کیلئے

اس زمیں پر بہشت بریں کیلئے

پاک پر چم تلے

وادیوں، جنگلوں پربتوں میں لڑا

موت کیسامنے مسکراتا رہا

جنگ اور امن کے زخم کھاتا رہا

تا کہ یہ شہر اورگاؤں بستے رہیں

پھول کھلتے رہیں، باغ مہکتے رہیں، کھیت ہنستے رہیں

میجر جنرل افتخار خان جنجوعہ (وفات 9 دسمبر1971)

جنرل جنجوعہ پا کستان آرمی کے سینئر جنرل تھے جن کی وفات میدان جنگ میں ہوئی تھی۔دشمن کے وسیع علاقے پر قبضہ کرنے والے اس احمدی فوجی آفیسر کو”ہیرو آف رن کچھ”تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ آپ اپریل 1965میں16th Brigadeمیں بر گیڈئیر تھے جس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اگلی صفوں میں جنگ لڑی اور زخمی بھی ہوئے ۔ اس شجاعت کے اعتراف میں دوسرے بڑے ملٹری اعزاز ہلال جرات کے حقدار ٹھہرے۔ آپ کی شہادت 1971 کے ہند و پاک کی جنگ کے دوران سب سے بڑے محاذ کشمیر میں چھمب کی لڑائی میں ہوئی جب آپ کا ہیلی کاپٹر بھارتی فوجیوں کی زدمیں آکر کریش ہوگیا۔ میدان کارزار میں آپ ہمیشہ فرنٹ لائن پر ہوتے تھے جس کی وجہ سے آپ کے تحت فوج میں عزم اور استقلال نمایاں نظر آتا تھا۔ آپ کے والد راجہ محمود امجدبیرسٹر تھے اور آپ کے بھائی میجر جنرل اعجاز احمد تھے۔ آپ کو ہلال جرات دیا گیا مگرنہایت تعصب کے بناء پر آپ کو نشان حید ر سے محروم رکھا گیا۔ کھاریاں چھاؤنی میں ایک کالج اور رہائشی کالونی بھی آپ کے نام سے معنون ہے۔ روزنامہ امروز لاہور ۲۳ دسمبر ۱۹۷۱ صفحہ ۲۲ پر لکھتا ہے: چھمب کی لڑائی میں میجر جنرل افتخار نے دشمن کے مضبوط مورچوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے فوجیوں کے ہراول دستوں کی قیادت کی اور میدان جنگ میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بے مثال عزم اور جرات کا مظاہرہ کیا اور چھمب کو فتح کر لیا۔ آپ کا ایک زبردست کارنامہ یہ ہے کہ لاہور کے قریب بی آر بی کینال کا آئیڈیا سب سے پہلے آپ نے پیش کیا تھاجس وقت وہ لاہور میں10ڈویژن کے ایک بر یگیڈ کے کمانڈر تھے۔جنرل گل حسن نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ سویلین حکام کا اصرار تھا کہ نہر کو شہر کے اندر تعمیر کیا جائے جبکہ آپ نے دفاعی ضروریات کو ترجیح دی۔ یہ نہر لاہور کے مشر ق میں بین الاقوامی سرحد کے متوازی تعمیر کی گئی اور سرحد سے اس کا فاصلہ کم از کم تین کلو میٹر تھا۔ اس کی چوڑائی پچاس فٹ اور گہرائی 15 فٹ رکھی گئی تھی۔1965 کی ہند و پاک جنگ میں اگر لاہور کو خدا کے بعد کسی چیزنے تحفظ دیا تو وہ یہ نہر تھی۔ 6ستمبر1965کو بھارت کی وار مشین نہر کے مشرقی کناروں پر آکر رک گئی تھی۔ یاد رہے کہ چھمب کا نام میجر جنرل افتخار جنجوعہ کی جنگی خدمات کے اعتراف میں 20مارچ 1972 کو افتخار آباد رکھا گیا تھا۔ (غلام جیلانی خاں پاک بھارت جنگ1965 ہلال ستمبر2010)

لیفٹننٹ جنرل عبد العلی ملک (وفات2015)

آپ پا کستان آرمی انجنئیر آفیسر اور ہائی رینکنگ ملٹری جنرل تھے۔ آپ کی شہرت 1965کی پاک بھارت جنگ میں چونڈہ کی ٹینک لڑائی کی وجہ سے ہے۔ آپ کی ولادت راولپنڈی سے65کیلو میٹر کے مسافت پر گاؤں پنڈوری میں ہوئی تھی۔ آپ آرمی میں کیڈٹ کے طو ر پر بھرتی ہوئے اور پاکستان آرمی کارپس آف انجنئیرز میں شامل ہوگئے۔ پاکستان ملٹری اکیڈیمی سے آپ نے الیکٹر یکل انجنئیرنگ میں بی ایس سی کیا ۔ تربیلا ڈیم کے علاوہ آپ نے پنجاب میں بہت سارے منصوبوں پرکا م کیا۔ آپ کے بھائی اختر حسین ملک بھی آرمی میں جنرل تھے۔ منگلا ڈیم کے منصوبے کے بعد آپ ریٹائر ہوگئے۔ پاک بھارت جنگ 1965 میں آپ سیالکوٹ چھمب سیکٹر میں 24th infantry brigadeکے کمانڈر تھے۔ اس موقعہ پر Jasser sectorمیں دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی تھی جوBattle of Chawindaکہلاتی ہے ۔ اس عظیم معرکہ کے بعد آپ کو میجر جنرل کے عہدہ پر فائز کیا گیا اور1971 کی جنگ میں 8th infantry divisionکے کمانڈر تھے۔ آپ سیالکوٹ سیکٹر پر متعین تھے۔ ما ہنامہ حکایت کا ایڈیٹر عنایت اللہ اپنی اشاعت نومبر1984 میں صفحہ144 میں لکھتاہے کہ : “سیالکوٹ چونڈہ پر بھارت نے پورے آرمرڈ ڈویژن سے حملہ کیا تھا اس حملے کو ایک قادیانی بریگیڈئیر نے صرف ایک ٹینک رجمنٹ اور دو انفنٹری پلٹنوں سے روکا تھا۔ اس بر گیڈئیر کو ڈویژن کمانڈر نے حکم دیا کہ سیالکوٹ خالی کر دو ہم پیچھے ہٹ کر (سیالکوٹ دشمن کو دے کر ) لڑیں گے۔ اس قادیانی بریگیڈئر نے اپنے ڈویژن کمانڈر کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا اور حملہ روک لیا تھا۔ اس بر یگیڈئر کا نام عبد العلی ملک تھا”۔

میجر جنرل عبد اللہ سعید

آپ پا کستان ملٹری اکیڈیمی کاکول کے کمانڈنٹ تھے۔ بلوچستان میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹر یٹر رہے ۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں آپ میکسکو اور کیوبا میں پاکستان کے سفیر متعین رہے تھے۔ آپ کی ولادت ایبٹ آباد میں ہوئی اور پا کستان ملٹری اکیڈیمی کاکول سے 1948 میں کمیشن حاصل کیا اور فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں شامل ہوگئے ۔ آپ لاہور احمدیہ جماعت کے امیر ڈاکٹر سعید احمد کے سعادت مندفرزند تھے۔ آپ کی وفات 1988میں کولن کینسر سے ہوئی اور صدر پا کستان جنرل ضیاء الحق بہ نفس نفیس آپ کے خاندان سے اظہار افسوس کرنے لاہورگئے تھے۔

میجر جنرل ناصر احمدچوہدری شہید

پا کستان آرمی کے اس مایہ ناز جنرل نے 28 مئی2010کو ماڈل ٹاؤن احمدیہ مسجد میں دہشت گردی کے سفاک حملے کے دوران 91سال کی عمر میںجام شہادت نوش کیا تھا ۔راقم الحروف کی آپ سے ملاقات بیس سال قبل ماڈل ٹاؤن مسجد لاہور میں ہوئی تھی تو آپ نے مجھے اپنی ٹانگ پر وہ جگہہ دکھائی جہاں آپ کو1971 میں گولی لگی تھی۔ یاد رہے کہ آپ واحد جنرل تھے جو جنگ کے دوران زخمی ہؤاتھا۔ آپ نہایت شریف النفس، منکسر المزاج، پاک طینت پاک انسان تھے۔ نماز پورے خشوع خضوع کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ آپ بہلول پور کے رہنے والے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کے بعد 1942میںآرمی میں بھرتی ہوگئے۔آپ نے اپنے پیچھے تین بیٹے اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑی تھیں۔ اس جاں نثار محافظ وطن نے بھارت کے خلاف تین خون ریزجنگوں میں حصہ لیا تھا۔

میجر قاضی بشیر احمد شہید

آپ20ستمبر1926کو ہوتی مردان میں قاضی محمد یوسف امیر جماعت ہائے سرحد کے ہاں پیدا ہوئے۔ جون 1950میں کوہاٹ سے کمیشن حاصل کیا۔ اگست 1965 کی شب بطور کمپنی کمانڈر محاذ پر روانہ ہوئے۔ پانچ رات دن مسلسل دشمن سے بڑی جانفشانی سے لڑتے رہے۔ انہوں نے5ستمبر1965میںجوڑیاں کے محاذ پر شجاعت دکھاتے ہوئے توپ کا گولہ پھٹنے سے جام شہادت نوش کیا۔ نسیم کاشمیری اپنی مصنفہ کتاب حق پرستار میں لکھتے ہیں: میجر مرحوم نے زندگی کے آخری تین دن اس طرح گزارے کہ کھانے پینے آرام کرنے کی مہلت بھی ان کو نہ ملی۔ وہ مسلسل لڑتے رہے جب ان کی نعش محاذ سے گاڑی پر لائی گئی تو سپاہی اور کیا افسر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ (حق کے پرستار، صفحات 392-395)

سکواڈرن لیڈر خلیفہ منیر الدین احمد شہید

آپ کی ولادت گورداسپور میں ہوئی اور گیارہ ستمبر1965کو جام شہادت نوش کیا۔ Sept 4-11 آپ نے نو آپریشنل مشنز میں حصہ لیا۔ شہادت سے ایک روز قبل آپ نے بھارت کا Gnatجہاز فیروز پور کے قریب مار گرایا تھا۔ گیارہ ستمبر کو آپ نے ایک نہایت خطرناک مشن کیلئے اپنے آپ کو پیش کیا ۔ مدنظر یہ تھاکہ امرتسر کے ریڈار سٹیشن کو تباہ کر دیا جائے۔ اگر یہ سٹیشن تباہ ہو جاتا تو پاک ائر فورس کو فوقیت حاصل ہوجاتی۔ اس مشن میں کامیابی پرقوم کے اس سپوت کو وفات کے بعد ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا۔ آغا اشرف نے اپنی کتاب(ہمارے غازی اور ہمارے شہید)، صفحہ770-771 میں آپ کا یوں ذکر کیا: گورداسپور کا36 سالہ منیر بڑا ذہین اور نڈر ہوا باز تھا۔ ساری ائر فورس میں وہ بڑی مقبول اور دلآویز شخصیت تھا ۔ اس کے جوہر فضائے آسمان پر کھلے اس جانباز افسر کو ستارہ جرات کا اعزاز دیا گیا۔

فلائنگ آفیسر شمس الحق ستارہ جرآت

اس مرد مومن نے ڈھاکہ میں بھارتی حملہ آور طیاروں کا مقابلہ کیا۔ آپ کی بے مثل مہارت، جذبے، اور جرات کا ذکر پا کستان فضائیہ کی تاریخ میں ان الفاظ میں ملتا ہے: 4دسمبر 1971کو ڈھاکہ ائر پورٹ پر بھارتی طیاروں کے خلاف کاروائی میں انہوں نے SU7مار گرایا۔ اس اثناء میں ۴ ہنٹر بھی لڑائی میں شامل ہو گئے۔ وہ بلا تامل ہنٹر طیاروں پر پل پڑے اور ان میں دو کا کام تمام کر دیا۔ اس کے بعد دشمن کے چار MIGطیاروں نے ان پر ہلہ بول دیا۔ انہوں نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنا دیا۔ چنانچہ انتہائی مہارت کے مظاہرے پر فلائنگ آفیسر محمد شمس الحق کو ستارہ جرات عطا کیا گیا ۔ ( پاک فضائیہ کی تاریخ صفحہ282)

لیفٹننٹ ممتاز انورشہید

پا کستان نیوی کے اس احمدی جانباز کو1971 کے جنگی حالات میں مشرقی پا کستان بھجوایا گیا۔ اس جنگ میں بہادری اور جرات سے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ ارض وطن کو پیش کیا۔روزنامہ امروز23 دسمبر1971کی اشاعت میں لکھتا ہے: اگست1971میں پاک نیوی کا جہاز بدر سمندری طوفان میں پھنس گیا تو ممتاز انور جہاز کے انجن کا کنٹرول سنبھال کر تین دن تین رات مسلسل کھڑے رہ کر جہاز کو خطرے سے نکال لائے۔1971کی جنگ میں آپ خیبر جہاز پر بطور چیف انجئیر خدمت انجام دے رہے تھے۔ جہاز دشمن کے میزائلوں کا نشانہ بن گیا۔ انجن روم میں آگ لگنے کی وجہ سے جہاز خالی کرنے کا حکم دیا۔ لیکن آپ آخر دم تک اپنے فرائض انجام دیتے رہے اور ادائیگی فرض میں اپنی جان قربان کردی۔ اس بے مثل بہادری اور شجاعت کے نتیجہ میں آپ کو ستارہ جرات کے اعزاز سے نوازا گیا۔

میجرافضل محمود ( 1976-2009 )

اس جاں نثار نے 2009 میںسوات میں آپریشن کے دوران جام شہادت نوش کیا تھا۔ربوہ میں تدفین کے وقت پاک فوج کے سپاہیوں نے آپ کو سلامی پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ جن احمدی افسران نے جان کا نذرانہ پیش کیا وہ یہ ہیں: کیپٹن مجیب فقر اللہ ، لیفٹیننٹ ممتاز انور (شہادت ۵ دسمبر ۱۹۷۱)، لیفٹننٹ محمود اختر زبیری ( شہادت ۵ دسمبر ۱۹۷۱)، عبد السلام شہید ( ۷ دسمبر ۱۹۷۱) ، عبد الحسن خالد کڑک ( ۹ دسمبر ۱۹۷۱)، بریگیڈئیر محمد ممتاز خاں ہلال جرات(حسینی والا سیکٹرفیروز پور ) ، چوہدری محمد اکرام (۲۱ فروری ۱۹۷۱)، میجر مینر احمد ( ۲۱ ستمبر ۱۹۷۱)، عبدا لسلام شہید (۱۹۷۱)

ایک کتاب Air Battle of Pakistan جو ائرمارشل نورخاں کے حکم پر تالیف کی گئی تھی ، اس میں متعدد جگہوں پر احمدی پائلٹوں کا ذکر ہے۔ ائر مارشل عبد الرحیم کے بقول ایک نہایت خطرناک منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس کیلئے والنٹئیرز طلب کئے گئے تھے۔ ہر ایک کو معلوم تھا کہ کوئی بھی پائلٹ واپس نہیں آئیگا۔ درجنوں پائلٹوں میں سے صرف پانچ نے اپنے آپ کو رضاکار کے طور پر پیش کیا۔ محض خد اکے فضل سے تمام کے تمام پائلٹ مشن مکمل کرنے کے بعد واپس آگئے تھے۔ خود میرے ایک عزیز سکواڈرن لیڈر راجہ عبد المالک نے 1965ء کی جنگ میں حصہ لیا تھا جب وہ سرگودھا میں متعین تھے۔ اس کے کچھ سال بعد میںنے دیگر پا ئلٹوں کے ہمراہ راجہ صا حب کی ایک تصویر صدر پاکستان ایوب خاں کے ساتھ آئی آئی چندریگر روڈ کراچی پر واقع ائر فورس کے ریکروٹنگ سینٹر کے با ہر بورڈ میں لگی دیکھی تھی۔

ائر مارشل ظفر چوہدری (1926-2019)

آپ گورنمنٹ کالج لاہور کے گر یجوایٹ ہیں۔ پا کستان ائر فورس کے دو سال تک 1972-74چیف آف ائر سٹاف رہے تھے۔ اس سے قبل آپ قومی ائر لائن پا کستان ائر لائنز کے مینجنگ ڈائرکٹر تھے۔ آپ نے رائیل انڈین ائر فورس میں کمیشن 1945 میں حاصل کیا تھا۔ آپ PAF academyکے کمانڈر، اور سرگودھا ائیر بیس کے کمانڈنٹ تھے، اس کے ساتھ آپ برٹش سٹاف کالج اور امپرئیل ڈیفنس کالج کے گریجوایٹ ہیں۔ پا کستان ہیومن رائٹس کے فاؤنڈ نگ ممبر، اور اس کے فعال ممبر تھے۔ ان کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے ستارہ قائداعظم کے میڈل سے نوازا تھا۔ آپ انگلش میںچار کتابوں کے مصنف ہیں جن میں سے دو راقم کی لا ئبریری میں موجود ہیں: Miracles do happen (1988) An Airman Remembers (1993) آپ نے ان دونوں کتابوں کا اردو میں خود ہی ترجمہ کیا تھا۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبد السلام آپ کے گہرے دوستوں میں سے تھے۔ آپ کی سروس کا عرصہ تیس 1945-1974پر ممتد ہے۔ آپ کی انگلش میںسوانح عمری 2010ء میں شائع ہوئی تھی۔ علامہ اقبال کی مشہورنظم شکوہ ، جواب شکوہ کا ترجمہ آپ نے Plaint & Responseکے نام سے کیا ہے۔ اردو میں آپ کی سوانح زیر تصنیف ہے۔ پیرانہ سالی کے باوجودآپ لاہور میں علمی اور دانشی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *