پاکستان میں حکومت کرنے کا حق صرف پاکستانی عوام کا ہے

شعبہ پاکستان

تحریر :ڈاکٹرطارق احمد مرزا۔آسٹریلیا

رواں سال کے یوم آزادی سے کوئی آٹھ یا نو دن قبل قومی اخبارات میں وطنِ عزیز کے ایک فاضل جج صاحب کے بارہ میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران آپ نے ریمارکس دیتے ہوئے فرمایا کہ: “مارشل لا ء میں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ہمیں اللہ سے زیادہ ایک ڈکٹیٹر کا خوف ہوتا ہے۔ ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔انگریز نے فوجداری قوانین بنائے جن پر اب عمل نہیں کیا جاتا۔ مارشل لاء سے بہتر ہے دوبارہ انگریزوں کو حکومت دے دی جائے “۔

محترم فاضل جج صاحب سے منسوب اس بیان کو پڑھ کر بابا عبیر ابوذری کے الفاظ میں “اٹھتے ہیں میرے ذہن میں سوالات مسلسل”۔چنانچہ چشم تصور نے ایک طرف 1858 میں انگریز فوج کی لگائی گئی ناجائز اور غیرقانونی کورٹ مارشل میں آخری مغل ہندوستانی بادشاہ پر مقدمہ دائر ہوتے اور پھر سزاکے طورپر نہ صرف عہدہ سے معزول بلکہ ملک بدر ہوتے دیکھا۔یہ برطانوی فوجی کورٹ مارشل ناجائز اور غیرقانونی اس لئے تھی کہ اس قسم کی کورٹ اس وقت کے رائج عالمی اور بین الاقوامی قوانین کے سراسر خلاف تھی۔اور یہ حقیقت میری نہیں بلکہ ایک آسٹریلین قانون دان محترمہ لوسنڈا ڈاؤنز بیل کی بیان کردہ ہے۔

https://minerva-access.unimelb.edu.au/bitstream/handle/11343/39304/67510_00003818_01_Bell_L.D..pdf?sequence=1isAllowed=y

تو اسی طرح پھر چشم تصور نے جلیانوالہ باغ میں ایک برطانوی جرنیل جنرل ڈائر کے حکم پر سینکڑوں نہتے ہندوستانی شہریوں کو بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی وارننگ کے گولیوں سے مرتا،زخمی ہوتا اور چھلنی ہوتا بھی دیکھا جس کے بعد پنجاب میں برطانوی حکومت نے مارشل لاء نافذ کردیا تھا ۔جی ہاں یہ مارشل لاء گوروں کا نافذ کردہ تھا۔اس واقعہ کے بعد ایک طرف بنگالی شاعر رابندرا ناتھ ٹیگور نے احتجاجاً اپنا اعزاز برطانوی حکومت کو واپس کردیا تو دوسری طرف برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز نے اسی جنرل ڈائر کو اس کے اس “عظیم کارنامہ ” کے اعتراف میں “پنجاب کا نجات دہندہ” Saviour) Of (Punjabکے کندہ شدہ حروف سے منقش ایک تلوار بطور خلعت عطا کی۔ (انسائیکلوپیڈیابریٹانیکا)۔تو ہندوستان کی سرزمین میں مارشل لاء کو متعارف کروانے والے انگریز ہی توتھے ۔ اگر جان کی امان پاؤں تو میرؔ کا یہ شعر گنگنالوں کہ “میرؔ کیا سادہ ہیں۔۔۔۔۔”۔

پھر یہ سوال بھی ذہن میں اُٹھا کہ اس وقت ملک کی جو حالت ہے ،اگر اس حالت میں دوبارہ اسے انگریز کے حوالے کردیا جائے تو ان کے لئے فوری طورپر مارشل لاء لگانے کے علاوہ اور کیا طریقہ کار ہوگا؟۔اس پر بھی رہنمائی کی ضرورت تھی۔ اور پھریہ سوال بھی اس ذہنِ نارسا میں پیدا ہوا کہ کیاانگریز بھی پاکستان پر حکومت کرنے پر رضامند ہونگے یا نہیں ؟۔ کیونکہ عاجز کی رائے میں موجودہ انگریز شمالی کوریا ، ایران اور چین پر حکومت کرنے کے لئے تو شاید تیار ہو جائیں لیکن موجودہ پاکستان پر ہر گز نہیں کیونکہ یہاں کام اب اس قدربگڑ چکا ہے جس کی حد نہیں۔کہیں پڑھا تھا کہ اسلام آباد میں ایک”اعلیٰ سطحی ” قسم کے احباب ایک نجی مجلس میں بیٹھے اسی موضوع پر گفتگوکررہے تھے تو ایک صاحب نے تجویز پیش کی کہ کچھ عرصہ کے لئے ملک قادیانیوں (احمدیوں) کو ٹھیکہ پر دے دیا جائے تو اس کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔اس پر دوسرے نے فی الفور کہا کہ جی نہیں اب یہ ملک اس حالت کو پہنچ چکا ہے کہ احمدیوں کے بس سے بھی باہر کی بات ہو چکی ہے !۔ بہرحال ابھی ذہن میں اسی قسم کے خیالات اور سوالات کی بوچھاڑ جاری تھی کہ یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ بیروت میں ذخیرہ شدہ ہزاروں ٹن دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کے بعد صدمے اورغم و غصہ میں مبتلا تقریباً ساٹھ ہزار (60000) لبنانیوں نے ایک پیٹیشن پر دستخط کرکے فرانسیسی صدرعمانوئیل میکرون سے درخواست کی ہے کہ وہ دوبارہ لبنان کو فرانسیسی عملداری میں لے لیں،کیونکہ “آزادی” کے بعد سے لبنان نے فرقہ واریت،نسل کشی،لوٹ مار ،کساد بازاری،کرپشن،غبن ،معاشی اور معاشرتی انحطاط اور بیروزگاری کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔(العربیہ ڈاٹ نیٹ )

واضح رہے کہ فرانسیسی صدر میکرون دھماکے کے دوروز بعد ہی بیروت کی سڑکوں اور گلی محلوں میں پیدل دورہ کرتے ہوئے لبنانی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی ویکجہتی کرتے نظرآئے تھے۔لیکن جواباً صدر میکرون نے لبنان کے حکمرانوں کو جہاں کھلے بندوں کرپٹ،غیرسنجیدہ اور نااہل قراردیا وہیں دوٹوک الفاظ میں بتادیا کہ لبنان میں حکومت کا مینڈیٹ نہ تو اس کے نااہل حکمرانوں کا حق ہے اور نہ ہی اس کے اس پر قابض سابق فرانسیسی سامراج کا بلکہ صرف اور صرف لبنان کے عوام کا حق بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لبنان کے فرانس کی سابق نوآبادیاتی حیثیت کا احساس کرتے ہوئے وہ یہاں کے عوام کے مسائل کا پورا ادراک رکھتے ہیں لیکن ان کا نظریہ ہے کہ لبنان پر راج کرنے کا اگر کسی کو حق حاصل ہے تووہ صرف اور صرف اس کے عوام کا ہے۔مجھے ہزارفیصد یقین ہے کہ اگر برطانوی وزیراعظم کے سامنے فاضل جج صاحب کی یہ تجویز،مشورہ یا درخواست رکھی جائے کہ وہ پاکستان کو برطانوی کالونی بنا لیں تو ان کا جواب بھی یہی ہوگا جو صدر کیمرون کا ہے۔اصل میں پاکستانیوں کو خود اعتمادی کی ضرورت ہے۔خود سے مایوس ہوکر غیرقوموں سے امیدیں وابستہ کرنا کہ کوئی آکر ہمیں انگلی پکڑکر چلائے کوئی بالغ سوچ نہیں۔واضح رہے اسے ایک عمومی اور تعمیری اصول کے طورپر بیان کیا جارہا ہے نہ کہ تنقیدبرائے تنقید کے طورپر۔پاکستان پر حکومت کرنے کا حق صرف اس کےعوام کوحاصل ہے نہ کہ سابق برطانوی نوآبادیاتی سامراج کا،چاہے یہ خیال محض مفروضے کے طورپر یا کوئی نقطہ سمجھانے کی غرض سے پیش کیاجارہا ہو ۔اور اسی طرح اس ملک پر حکومت کرنے کاحق کسی طالع آزما سیلیکٹد یا الیکٹڈ آمر کا بھی ہرگز نہیں ، اور نہ ہی نام نہاد الیکٹیبلز المعروف لوٹا کریسی کو حاصل ہے ۔جمہوری عمل کے تسلسل سے ہی عوام اتنے باشعور اور بالغ نظر ہو سکتے ہیں کہ ڈیڑھ دو سو سال میں پھر اپنے منتخب کردہ نمائیندوں کو فرض شناس ،مخلص اور ایماندار رہنے پر مجبور کرسکنے کے قابل ہو سکیں گے۔یہ کوئی خوش فہمی یا خام خیالی نہیں ۔بلکہ دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔پاکستانی عوام کو خود اپنا قومی تشخص بناناہوگا۔اس کے لئے اپنے تلخ تجربات سے سبق سیکھ کر اپنے فائدہ کے لئے ایسے انتخابی فیصلے کرنے ہو نگے جو ان کے لئے بہتر ثابت ہوں۔ورنہ بقول شاعریہ تہذیب آپ اپنے خنجر سے خود کشی کر لے گی۔جس کا پھر کوئی علاج نہیں کیونکہ یہ مکافات عمل ہو گا ،جسے تقدیر یا عذاب الٰہی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدارآنے کے بعد افغان،لیبیااور عراق سے متعلق اپنی پالیسی کی بنیاد یہی بتائی تھی کہ ان کی حکومت ان ممالک کو دفاعی اور اقتصادی امداد کی فراہمی تو جاری رکھے گی لیکن “نیشن بلڈنگ” کاٹھیکہ اب نہیں لے گی۔گزشتہ امریکی حکومتوں نے اپنے تئیں ان ممالک میں دخل اندازی (بلکہ دست درازی ) کرتے ہوئے یہ سوچا تھا کہ وہ ان اقوام کی نئے سرے سے (اپنے مطلب کی) نیشن بلڈنگ Nation Building کا کام بھی کرلیں گی لیکن اس کا الٹا ہی نتیجہ نکلا۔قارئین کرام اصل میں اصل بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں خوب کھول کر بیان فرمائی ہے کہ:

إِنَّ للّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِہِمۡ‌ۗ وَإِذَآ أَرَادَ للّٰهُ بِقَوۡمٍ۬ سُوٓءً۬ا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۥ‌ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ

ترجمہ: بیشک الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں اور جب الله کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کوئی ٹالنے والا نہیں پھر اس کے سوا انکا کوئی مددگار نہیں.۔(13:11) ♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *