میری ٹرمپ Mary Trumpکابصیرت افروز انٹرویو

شعبہ انٹرنیشنل

ترجمہ از زکریہ ورکzakria

صدر امریکہ ڈانلڈ ٹرمپ کے بھائی فریڈ کی 55سالہ بیٹی میری ٹرمپ کا درج ذیل انٹرویو جرمنی کے مؤقر رسالہ ڈر سپیگل Der Spiegel میں 31 جولائی 2020 کو شائع ہؤا ہے۔ فریڈٹرمپ جو نئیر کی وفات1981 میں ہوئی تھی۔ میری ٹرمپ کی کتاب Too much and Never Enoughجو حال ہی میں شائع ہوئی تھی اس کی پہلے روز دس لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں جس نے تمام ریکارڈ توڑدئے تھے۔

ترجمہ از زکریہ ورک

ڈر سپیگل : آپ نے لکھا ہے کہ آپ کا چچا دنیا کا سب سے خطرناک انسان ہے۔ اس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

میری ٹرمپ: اس کی پیتھالوجیز کے اتصال اور جس پوزیشن میںوہ اس وقت ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ایک طور پر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی امریکن جو اس کی پوزیشن میں ہو وہ اس کرہ ارض پر بہت ہی خطرناک انسان ہونے کی امکانی قابلیت رکھتا ہے۔ لیکن میر ے چچا میں اتنی دانشی صلاحیت نہیں ہے اور نہ ہی impulse control کہ اس پر اعتبار کیا جائے۔

ڈر سپیگل: جب اس کا 2016 میں صدر امریکہ کا انتخاب ہؤا تھا تو آپ کے دماغ میں کیا گزرا تھا؟

میری ٹرمپ: میں بر ی طرح تباہ و برباد ہوگئی تھی۔ عجیب بات ہے کہ میں نے اس چیز کو ذاتی معاملہ بنا لیا۔ میں اپنے فیملی نیم پر فخر کیا کرتی تھی کہ اس کی بازگشت کتنی سہانی تھی ۔ لیکن اس کے بعد میرے لئے یہ بات تکلیف دہ تھی کہ اپنے نام کو باربار سنوں جس کے بارہ میں کہا جا رہا تھا کہ یہ تمام وحشت ناک کام وہ شخص کر رہا ہے۔ ایسا لگتا تھا یہ میری ذات پرحملہ تھا۔

ڈر سپیگل: نام کے ساتھ ٹرمپ کے لاحقہ سے بڑے ہونا کیسا لگتا ہے؟

میری ٹرمپ: یہ با لکل نارمل چیز تھی کیونکہ ہمیں باہر کے نقطہ نظر کا علم نہیں تھا۔ ویک اینڈ پر میں اپنے دادا ، دادی کے گھر جاتی تھی اور وہاں وقت گزارتی تھی۔

ڈر سپیگل : آپ کے پڑ ددادا فریڈرک ٹرمپ کی پیدائش کال سٹاڈٹ Kallstadtمیں ہوئی تھی جو اس وقت جرمن ریاست Rhineland-Palatinate میں واقع ہے۔ ان کی وفات1918کے فلو کی وبا کے دوران نیویارک میں ہوئی تھی۔ کیا پڑ دادا کی وفات یا آپ کی جرمن اصلی النسل ہونے پر گھر میں گفتگو ہوتی تھی جب آپ چھوٹی عمر کی تھیں؟

میری ٹرمپ: میرے دادا نے اپنے والد کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کی۔میرے خیال میں وہ ان کی موت سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے تھے۔ میرے دادا فرسٹ جنریشن امریکن تھے ۔ وہ اس معاشرے میں مکمل طور پر assimilate ہو گئے تھے ۔ وہ جہاں سے آئے تھے اس کو ترجیح نہیں دیتے تھے۔ اور ڈانلڈ ٹرمپ نے بھی خود کو کبھی جرمن نہیں کہا کیونکہ وہ بہت سارے یہودی افراد سے بزنس کرتے تھے۔ بظاہر وہ یہ بات نہیں سمجھ سکے تھے کہ لوگ جرمن ورثے اور نازی ہونے میں فرق کر سکتے ہیں۔

ڈر سپیگل: آپ کے والد فریڈ ٹرمپ کو رئیل اسٹیٹ بزنس ورثے میں ملنا تھا لیکن آپ کے دادا نے ڈانلڈ کو اپنا وارث بنانا مناسب سمجھا؟ آپ کے دادا کیسے تھے؟

میری ٹرمپ: ہمارے دادا ، اور اس کے بچوں کے مابین کوئی جذباتی تعلقemotional bondنہیں تھا ۔ اس میں انسانی احساس کی کوئی چیز نہیں تھی۔ زیادہ ضروری یہ جا نناہے کہ وہ دوسرے لوگوں کواپنی ذات کا حصہ سمجھتا تھا جن کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا نا چاہئے۔ اگر آپ اس کے مقصد کو پورا نہیں کر پائے تو آپ سے لا تعلقی ہو جا ئیگی جیسے کہ میرے باپ کے ساتھ کیا گیا۔ ہمارے خاندان میںصرف اورصرف ایک شخص جیتنے والا ہو سکتا تھا ۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ یہ میرا باپ فریڈی نہیں ہوگا۔ اس لئے ڈانلڈ نے ہر وہ کام کیا جس سے ثابت ہو کہ وہ winner ہوگا۔ قطع نظر اس چیز کے کہ وہ کس کس کو روند ڈالے گا۔

ڈر سپیگل: بجائے فیملی بزنس کو سنبھا لنے کے آپ کا باپ پائلٹ بن گیا ۔ اس بات پر آپ کے دادا کا کیا رد عمل تھا؟

میری ٹرمپ: میرے والد روزانہ کش مکش میں مبتلا تھے ۔ جیٹ ایج کے شروع ہونے کے وقت وہ پروفیشنل پائلٹ بن چکے تھے لیکن میرے دادا نے اس کو کہا کہ وہ ایک شاندار بس ڈرائیور سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔جسمانی طور پر میرے والد اس قسم کا بیٹا ہونے سے معذور تھے جس قسم کا بیٹا میرے دادا چاہتے تھے۔ میرے دادا ہر قیمت پر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑہانا چاہتے تھے۔ بطور ایک ماہر نفسی طبیب (سائیکیا ٹرسٹ ) کے میری رائے میں میرے دادا ایک sociopath تھے۔ میں یہ دعوی کرنے میں قطعی طور پر مطمئن ہوں۔

ڈر سپیگل: کیاڈانلڈ ٹرمپ اپنے باپ کی طرح بننا چاہتا تھا؟

میری ٹرمپ: میرے دادا اور ٹرمپ کے درمیان کردار کی مماثلتیں اتنی زیادہ گہری دکھائی نہیں دیتیں جتنی بظاہر معلوم ہوتی ہیں۔ میرے دادا ایک بہت زیادہ صا حب اختیار انسان تھے۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین تھے ۔ لیکن ڈانلڈمیں ان دو خصوصیات میں سے ایک بھی نہیں ہے۔ وہ نہ ہی موزوں ماہر انسان ہے اور نہ ہی ایک قابل بزنس مین۔ لیکن میرے دادا نے دیکھا کہ ڈانلڈ میڈیا کو ہنیڈل کر نا خوب جانتا تھا۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ ڈانلڈ ہر وہ کام کر سکتا تھا جس سے ہر حال میںجیت اس کی ہو۔ یعنی بزنس کی ڈیل کرو چاہے کسی کو اس سے گزند پہنچے، چاہے جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا اور چوری ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

ڈر سپیگل: کیا آپ کے دادا کو اس بات کا احسا س تھا what he was setting in motion?

میر ی ٹرمپ: میرے خیال میں دادا کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ڈانلڈ کتنا برا شخص بنا جائیگا۔ اس بات کا بین ثبوت اٹلانٹک سٹی کے وقت سامنے آیا جب میرے دادا بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکے کہ بزنس کی دنیا میں ڈانلڈ کتنی بڑی تباہی ہے۔

ڈر سپیگل: آپ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جب اس نے اٹلانٹک سٹی میں کا سینوز کوویوالیہ قرار دے دیا تھا؟

میری ٹرمپ: ڈانلڈ کے علم میں بالکل نہیں تھا کی کا سینوزکس طرح کام کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ایک کاسینو کو وہ چلاتا جو کا میاب ہوتا اس نے تین خرید لئے تھے جو ایک دوسرے کا پرافٹ نگل کررہے تھے۔ اورطر فہ یہ کہ وہ ان کو بڑے برے طریقے سے آپریٹ کر رہا تھا۔ تیسرے کا سینو تاج محل کے افتتاح کے جلد بعد وہ پہلے ہی سے مصیبت میں مبتلا تھا۔ میرے دادا نے اپنے ڈرائیور کو$3.35 million رجسٹرڈ چیک کے ساتھ اٹلانٹک سٹی بھیجا تا کہ وہ چپس خرید کر ان کو لے کر واپس لوٹ آ ئے۔ یہ غیر قانونی تھا کیونکہ یہ غیر رجسٹرڈ لون تھا۔ بلکہ میرے دادا کو اس کے عوض جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ لیکن کچھ روز بعد اس نے پھر یہی حرکت کی۔

ڈر سپیگل: لیکن اس نے آپ کے والد کو مقروض اور تنہائی میں مرنے دیا ۔ یہ آخر کیسے ہؤا؟

میری ٹرمپ: میرے دادا کو میرے والد کا اس دنیا میں ہونا ہی برا لگتا تھا نیز اس کی نظر میں وہ انتہائی ناکام انسان تھا۔ جب میرے والد کا جاب بطور پائلٹ کے ختم ہوگیا تو دادا نے اس کو ٹرمپ میجمنٹ میں مرمت کرنے والے عملہ maintenance crewمیں شامل کر لیا۔ یہ اس کی ایمپائر تھی جس کی قیمت لاکھوں در لاکھوں ڈالر تھی جو کہ میرے باپ کو ورثہ میں ملنا تھی۔ لیکن دادا نے اس کو ٹرک میں ادھر ادھر گھومنے والے عملہ کے ساتھ مین ٹیننس کے کام پر لگا دیا۔

ڈر سپیگل: مسٹر ٹر مپ نے آپ کے والد پر پر یشر ڈالنے پر ندامت کا اظہار کیا ہے لیکن اس بات پر نہیں کہ اس کوبستر مرگ پر تن تنہا چھوڑ دیا۔

میری ٹرمپ: میرے خیال میں اس کو اس بات پرذرا بھی افسوس نہیں تھا کہ اس کا بھائی تنہا موت کی آغوش میں چلا گیا۔ ذرا دیکھو اس وقت ہمارے ملک (امریکہ) میں کیا ہورہا ہے۔ لوگ تنہا موت کی نیند سو رہے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے ڈانلڈ کی قیادت مکمل طور پر فیل ہو گئی ہے۔

ڈر سپیگل : ڈانلڈ ٹرمپ اپنے بزنس کیر ئیر میں کس مقام پر تھا جب آپ کے والد بیمار ہوئے تھے؟

میری ٹرمپ: وہ اس وقت ٹرمپ ٹاور کی تعمیر میں مصروف تھا بلکہ یوں کہئے کہ وہ میرے دادا کی دولت ،طاقت اورتعلقات پر ہاتھ صاف کر رہا تھا تا ٹرمپ ٹاور تعمیر کے مراحل سے گزرجائے۔ ڈانلڈ ٹرمپ ناقابل یقین حد تک دولت مند دکھائی دیتاتھا لیکن اب تک اس کے ہر پراجیکٹ کی فنا نسنگ میرے دادا نے کی تھی۔

ڈر سپیگل: آپ کے چچا جان میں کیا کوئی اچھے اوصا ف redeeming qualities نہیں ہیں؟

میری ٹرمپ: بہت عرصہ ہؤا ، اس میں کچھ شفقت کی تحریک پیدا ہوئی تھی لیکن شفقت و رحمدلی کا آئیڈیا اس قدر گمراہ کن تھا کہ اس کو یہ بھی پتہ نہیں شفقت کر نے کا طریقہ کیا ہے۔

ڈر سپیگل: کیا وہ کبھی چرچ گیا تھا ؟ عیسائیت کے داعیEvangelicals اس کو بہت چاہتے ہیں؟

میری ٹرمپ: اس میں مذہب کی کوئی رمق نہیں ہے۔ اور یہ کوئی پرابلم نہیں بلکہ پرابلم اس کی سراسر منافقت ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے عقائد کو استعمال کرتا ہے اپنے آپ کو یہ بات تسلیم کروانے کیلئے کہ اس کے دل میں ان کا فائدہ مد نظر ہے۔ یہ سب ایک کلٹ Cultکی مانند ہے۔

ڈر سپیگل : آپ کلینیکل سائیکالوجی میں ڈاکٹریٹ کی حامل ہیں ۔ آپ کا چچا کے بارے میں پروفیشنل تجزیہ کیا ہے؟

میری ٹرمپ: میرے لئے یہ لازمی تھا کہ میں اپنی کتاب میں اس کا نفسیاتی تجزیہ پیش نہ کروں۔ میں چاہتی تھی کہ لوگوں کو معرفت حاصل ہو تا وہ جان سکیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ ان کو toolsدئے جائیں تا وہ اس کے طور اطوار کو سمجھ سکیں۔ بہت سے لوگوں نے حتمی تشخیص پیش کی ہے جیسے : narcissistic personality

disorder, malignant narcissism, etc. لیکن پرسنلٹی ڈس آرڈر کے علاوہ ہمیںدیگر معاملا ت کو بھی پیش نظر رکھنا ہے جیسے:

sleep disorder, and learning disability.

ڈر سپیگل: لیر ننگ ڈس ابیلٹی learning disability?

میری ٹرمپ: اس کو انفارمیشن کو پر و سیس کرنے میں مشکل لاحق ہوتی ہے۔ یہ بہت ممکن ہے کہ جب وہ طفل مکتب تھا تو اس کو لیرننگ ڈس آرڈر لاحق تھا مگر اس کی تشخیص نہ ہو سکی اور اس لئے اس کا علاج بھی نہ ہو سکا۔

ڈر سپیگل: آپ نے اپنی کتاب Too much and Never Enoughمیں اس کو racist نسل پرست لکھا ہے لیکن اس کا کوئی حتمی ثبوت نہیں دیا ہے۔ بچپن میں کیا آپ نے اس کو یا کسی اور فیملی ممبر کو نسل پرستی کی بات کہتے ہو ئے سنا تھا؟

میری ٹرمپ: جی ہاں میں یہ کہہ رہی ہوں کہ میری فیملی 1940اور1950کے نیویارک شہر میں دوسرے لوگوں کی نسبت خاص طور پر زیادہ نسل پرست اور اینٹی یہودی تھی ۔ ہمارے گھر میں این ورڈN-word اور اینٹی سیمیٹک anti-semitic توہین الفاظ کھلے عام بولے جاتے تھے۔ یہ اس کی بیک گراؤنڈ تھی۔

ڈرسپیگل: آپ نے ایک عورت سے اپنے تعلق کو صیغہ راز میں رکھا، کیوں ؟

میری ٹرمپ: میری فیملی میری پرسنل لائف کے بارے میں متجسس نہیں تھی۔ ہمارے گھر میں ہومو فوبیا پر گفتگو نہیں ہوتی تھی کیونکہ ہم جنس پرستی پر با لکل بات نہیں ہوتی تھی۔ اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں تھا کہ میری فیملی ہومو فوبک ہے۔ تا وقتیکہ میری داد ی نے ایلٹن جان کے بارے میں ہتک آمیز جملہ کہا یعنی اس کو little faggotکہا۔ اس وقت مجھ پر واضح ہو گیا کہ یہ ایک ایسا امر ہے جس کو مجھے اپنے تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔

ڈر سپیگل : نیویارک ٹائمز اخبار نے 2018 میں انکشاف کیا تھا کہ اس نے آپ کو وراثت کے معاملے میں دھوکہ دیا تھا؟۔

میری ٹرمپ: مجھے خوب معلوم تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ اصل معاملہ کیاہے۔ یہ بات غیر معمولی معلوم ہوتی تھی کہ میرے دادا کی جا ئیداد وفات کے وقت $30/- million تیس ملین ڈالر تھی۔ ٹائمز اخبار نے پول کھول دیا کہ در حقیقت یہ $970/- million تھی۔ یہ امر میر ے لئے تباہ کن تھا کہ میری خالاؤں اور چچا جانوں نے جو میرے باپ کی وفات کے بعد میرے ٹرسٹی بنا ئے گئے تھے جب 16 سال کی تھی وہ اس رنگ میں اپنی طاقت کا استعمال کر تے ہوئے میرے ساتھ فراڈ کر رہے تھے۔

ڈرسپیگل: کیا اس کا مداوا کیا جا چکا ہے؟

میری ٹرمپ: ڈانلڈ ٹرمپ کی ساری زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لئے cumulativeمجتمع نہیں ہے۔ ایک گھناؤنا فعل اس سے پہلے کے بد ترین فعل کی جگہہ لے لیتا ہے اور آخر کار اس کو کسی کا بھی جواب دہ نہیں ہو نا پڑتا۔ یہ چیز اس وقت سے چلی آرہی ہے جب وہ عہد شباب میں تھا۔

https://www.spiegel.de/international/mary-trump-people-are-

dying-alone-because-of-donald-s-failure-to-lead-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *