محرم الحرام کی فضیلت ، مقدس مہینہ، یوم عاشورہ

اداریہ

مدیر اعلی محی الدین عباسی

قرآن کریم فرقان حمید کی سورۃ التوبۃ آیت 36 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

’’ یقینا اللہ کے نزدیک، جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اللہ کی کتاب میں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہی ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا دین ہے۔ پس ان (مہینوں) کے دوران اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا۔ اور (دوسرے مہینوں میں) مشرکوں سے اکٹھے ہو کر لڑائی کرو جس طرح وہ تم سے اکٹھے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘

یہ چار مہینے کون سے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمانہ اپنی حالت پر واپس آیا ہے کہ جس پر وہ اُس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی۔ سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں۔ تین تو لگاتار یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا مضر قبیلے کا ماہِ رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے۔

مذکورہ حدیث میں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ محرم بھی حرمت والے مہینوں میں شامل ہے اور دوسری یہ کہ زمانہ اپنی سابقہ ہیئت پر واپس لوٹ آیا ہے۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ دور جاہلیت میں بھی لوگ حرمت والے مہینوں کا احترام کرتے اور جنگ و جدل ، قتل و غارت گری اور خون ریزی وغیرہ سے اجتناب کرتے تھے۔ دونوں باتوں کا حاصل یہی ہے کہ محرم الحرام ادب و احترام والا بنایا جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کو جاری رکھا اور عرب جاہل بھی اس کا اس قدر احترام کرتے کہ احترام کے منافی کسی عمل کے جواز کے لئے کم از کم حلیہ ضرور کر لیتے کہ فرضی طور پر حرمت والے مہینے کو کسی دوسرے غیر حرمت والے مہینے سے بدل لیتے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ بات از خود سمجھ آجاتی ہے کہ ماہ محرم کی حرمت و تعظیم کا حضرت حسین کے واقعہ شہادت سے کوئی تعلق نہیں۔ ماہ محرم کی فضیلت و حرمت تو اس دن سے قائم ہے جس دن سے کائنات بنی ہے جبکہ سورۃ التوبہ کی آیت (یوم خلق السمٰوٰت والارض ) سے واضح ہے۔ جہا ں تک شہادت حضرت امام حسینؓ کا تعلق ہے یہ تاریخی اعتبار سے حق و صداقت کی راہ میںایک عظیم قربانی ہے۔ عاشورہ والے دن حضرت امام حسین نے اپنے بہتر (72) نفوس قدسیہ کے ساتھ مذہب اسلام کی خاطر حق کے لئے کربلا میں خدا تعالیٰ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا تھا۔

علاوہ ازیں اس دن کی مناسبت سے تاریخ میں بڑے بڑے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اس روز جودی نامی پہاڑ پر ٹھہری، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی، حضرت دائود علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔ عاشورہ کے دن ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ وعلیہ السلام کو سلامتی سے سمند پار کرایا اور فرعون کو غرق کر دیا تھا۔

( واللہ اعلم بالصواب)

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا۔ ’’ یا رسول اللہ ! اگر رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا چاہوں تو کس مہینے کے روزے رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محرم کے مہینے میں روزے رکھنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اُس میں ایک دن ایسا ہے کہ اُس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور ایک قوم کی توبہ (آئندہ بھی) توبہ قبول فرمائیں گے۔

(ترمذی کتاب الصو باب ماجاء فی صوم المحرم )

یوم عاشورہ کا لفظی معنی دسواں دن یا دسویں تاریخ ہے مگر عرف عام میں یوم عاشورہ کا اطلاق محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو ہوتا ہے۔ اس روز حضرت امام حسینؓ کی شہادت ہوئی۔ احادیث سے ثابت ہے کہ ماہ محرم میں روزے رکھنا مسنون اور افضل ہیں۔ رمضان المبارک کے بعد ماہ محرم کے روزوں کو افضل ترین عمل قرار دیا گیا ہے اور محرم میں نویں اور دسویں کا روزہ دیگر دنوں کے روزوں سے افضل ہے لیکن افسوس کہ جیسے ہی محرم کا مہینہ شروع ہوتا ہے روزوں کے منافی امور کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ شہاعت امام حسینؓ کی یاد یں دودھ ، پانی، مشروبات کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔ جوں ہی دسویں محرم قریب آتا ہے ان امور کے دائرہ میں وسعت اور تیزی آجاتی ہے۔ گویا محرم اور یوم عاشورہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جتنا اہتمام روزے کا فرمایا کرتے اور صحابہ کرامؓ کو اس کی ترغیب دلاتے ۔ دور حاضر کے مسلمان ماہ محرم میں اتنا ہی اس کے منافی دعوتوں اور ضیافتوں کا اہتمام کرنے لگتے ہیں اور پھر اسے یقینی بنانے اور مسلسل قائم رکھنے کے لئے سرکاری طور پر بھی ملک میں اس کا اہتمام اور چھٹی بھی منائی جاتی ہے ۔

یزید کے لشکروں نے تو شہدائے کربلا کا پانی بند کردیا تھاکیا اس لئے شہدائے کربلا سے ہم اظہار محبت کے لئے ضروری ہے کہ ان کے نام پر بریانی ہی نہیں بلکہ اچھے اچھے مشروبات کی سبیلیں اور ضیافتوں کی محفلیں لگائی جائیں؟ اگر ہم قرآن کریم کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کی روشنی میں غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو مذکورہ امور کے جواز کی نہ کوئی گنجائش ملے گی اور نہ ہی کوئی معقول وجہ۔

محرم الحرام کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ حرمت والے مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جان پر ظلم کرنے سے (یعنی نافرمانی کرنے سے) منع فرمایا ہے۔ لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اجتناب کے ساتھ ساتھ اس ماہ کے دوران نیک اعمال زیادہ سے زیادہ کرنے چاہیں خاص طور پر نفلی روزے زیادہ رکھنے چاہئیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ (افضل الصیام بعد رمضان شہر اللہ المحرم و افضل الصلوٰۃ بعد الفریضۃ اللیل) رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے روزے ہیں جو کہ اللہ کا مہینہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔

(مسلم کتاب الصوم باب فضل المحرم 1136)

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کسی دن کو دوسرے دنوں پر فوقیت دیتے ہوئے اس کے روزے کا قصد کرتے ہوں سوائے یوم عاشورہ کے اور سوائے ماہ رمضان کے یعنی آپ رمضان المبارک کے علاوہ باقی دنوں میں سے یوم عاشورہ کے روزے کا جس قدر اہتمام فرماتے اتنا کسی اور دن نہیں فرماتے تھے۔ (بخاری 2006) ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں آئے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہودی یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا : تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو تو انہوں نے کہا۔ یہ ایک عظیم دن ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھا اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: فنحن انا احق بموسیٰ منکم۔ تب تو ہم زیادہ حق رکھتے ہیں اور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اس کا زیادہ حق دار ہوں ۔ پھر آپؐ نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔

(بخاری 2004، مسلم 1130)

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ اہل عرب رمضان کے روزے فرض ہونے سے قبل یوم عاشور کا روزہ رکھتے تھے کیونکہ اس دن کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کردیئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جو اس دن روزہ رکھنا چاہے رکھ لے اور جو ترک کرنا چاہے ترک کردے۔

حضرت حفصہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان چار اعمال کو کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔ دسویں محرم کے روزے، عشرہ ذوالحجہ کے روزے، ہر مہینہ کے تین روزے اور نماز فجر سے قبل دو رکعات۔ اسے امام بخاری، طبرانی اور بیہقی سے روایت کیا ہے۔

حضرت ابو موسٰیؓ سے مروی ہے کہ عاشورہ کے روز یہودی عید مناتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا : تم اس دن روزہ رکھا کرو۔

(بخاری 2005، مسلم 1131)

واقعہ کربلا 10 محرم الحرام 61 ھ کو پیش آیا۔ یہ دنیا کی تاریخ کا اندوہناک واقعہ تھا۔ اس میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ عنھم اپنے رفقا اور اعزّہ کے ہمراہ ایک ایسی جمعیت کے ہاتھوں شہید ہوگئے جو سب مسلمان تھے اور اس وقت کے مسلمان حکمران یزید کے حکم بردار۔ حضرت امام حسینؓ نے بجا طور پر اس نظام کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور یزید کی بیعت نہ کی اور یوں اس تنازعہ کی ابتدا ہوئی جس کا انجام آپ کی شہادت ہوا جس کا جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو یوم عاشورہ و واقعہ کربلا شہادت نواسہ رسولؐ جگر گوشہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس عظیم قربانی کو یاد رکھیں اور ہمیشہ ان کے لئے دعا گو رہیں۔

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *