عہد حاضر میں اسلامی حکومت کے 8 نکات

شعبہ بین المذاہب

1) اجتماعی اخلاقیات

جب تک انسان کا سیاسی شعور طفولیت میں تھا اور انسان صرف بادشاہت یا شخصی حکومت ہی سے واقف تھا، لیکن جب نوع انسان کا سیاسی شعور بلوغیت کو پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے خلافت اور امامت کو بھی عوامی اور اجتماعی اداروں کی شکل دے دی، چنانچہ ایک جانب امامت الناس کی ذمہ داری مجموعی اعتبار سے مسلمانو کے حوالے کر دی گئی جسے اُمت وسط اور خیر اُمت کا خطاب دیا گیا اور دوسری طرف خلافت بھی مسلمانوں کا حق قرار پائی جو اپنے میں سے کسی کو منتخب کر کے اسے خلافت کے منصب پر فائز کر سکتے ہی مسلم قبائلی اساس اور اس درجہ بندی کی بنیاد پر قائم تھا جو نبی اکرمﷺ کے فرامین و فرامودات کی بناء پر اس وقت بالفعل (فی الحال) موجود تھی، لیکن موجودہ زمانے میں اسے بالغ رائے دہی کے اصول کے مطابق ریاست کی جغرافیائی حدود میں رہنے والے تمام بالغ مسلمان مردوں اور عورتوں تک وسیع کرنے میں کوئی شرعی مانع نہیں ہے، بلکہ فقہاءِ اسلام کا بیان کردہ اصول کہ ’’تمام مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘‘۔ روح عصر کے عین مطابق ہے، اور جس طرح ایک مسلمان باپ کی وراثت میں اس کے محسن و متقی اور فاسق و فاجر بیٹے برابر کے شریک ہوتے ہیں، ایسے ہی خلیفہ اور شوریٰ یا مجلس ملی کے ارکان کے انتخاب کے ضمن میں رائے دہندگی کے حق کے معاملے میں بھی بالکل ایک دوسرے کے مساوی ہوں گے. البتہ قرآن حکیم کی اس ہدایت ابدی کے مطابق کہ ’’امانتوں کو ان کے اہل لوگوں کے حوالے کرو.‘‘ (سورۂ نساء: 58) انتخابات میں بحیثیت امیدوار سامنے آنے والوں کی سیرت و کردار کی چھان بین اور سکریننگ کا مؤثر بندوبست ضروری ہو گا، تاکہ ملک و ملت کی اہم ذمہ داریوں کی امانت صرف اہل لوگوں کے حوالے کی جا سکے. اس سلسلے میں جہاں تک امیدواری کے حلال یا حرام ہونے کا تعلق ہے۔ رہا حق رائے دہندگی کے ضمن میں عمر کا تعین اور علیٰ ہذا القیاس کسی اضافی شرط یا شرائط کا عائد کیا جانا تو یہ بھی مسلمانوں کے باہمی مشورے ہی سے طے ہونے والے امور ہوں گے! اس پوری بحث میں نظری اعتبار سے تو ان تمام لوگوں کا موقف مختلف ہو گا جو نبی اکرمﷺ پرخاتم النبیین کے بعد بھی شخصی امامت کے قائل ہیں، بلکہ امام حاضر خود یا اس کا کوئی نامزد نمائندہ حکومت کا اختیار سنبھالے گا۔

2) مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ

ریاست کے تین ’’اعضائے رئیسہ‘‘ یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ دورِ خلافت راشدہ میں باہم گڈمڈ تھے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ عہد حاضر کی اسلامی ریاست یا نظام خلافت کی راہ میں تمدنی ارتقاء کے ان عظیم ثمرات سے بھرپور طور پر مستفید ہونے میں کوئی ممانعت نہیں ہے،چنانچہ ایک جانب مقننہ ہو گی (جسے مجلس شوریٰ بھی کہا جا سکتا ہے) جس کے ارکان بھی سب مسلمان ہی ہوں گے اور ان کا انتخاب بھی صرف مسلمانوں کی رائے سے ہو گا اور اس کے ذریعے قانون سازی یعنی شریعت اسلامی کی تدوین نو اور اجتہاد کا عمل جاری رہے گا. دوسری جانب عدلیہ ہو گی جو جہاں شہریوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرے گی اور شہریوں اور انتظامیہ کے مابین عدل قائم کرے گی اور دستور کی رو سے جو حقوق شہریوں کو حاصل ہوں گے ان کی حفاظت کرے گی وہاں دستور کی امین ہونے کے ناطے اس امر کا بھی فیصلہ کرے گی کہ آیا مقننہ کا کوئی اختیار کردہ اجتہاد شریعت کے دائرے سے تجاوز تو نہیں کر گیا اور تیسری جانب انتظامیہ ہو گی جو ملک و قوم کے معاملات کے انتظام و قانون کے نفاذ، امن و امان کے قیام اور دفاع ملکی کے اہتمام کی ذمہ داری ہو گی.

3) قانون سازی یا اجتہاد

قانون یا اجتہاد پارلیمنٹ کے ذریعے ہو گا . اور چونکہ دستور کی کسی دفعہ یہاں کوئی قانون کتاب اللہ سے بالا تر نہ ہو گی۔ لیکن اس میں خالص فنی اور علمی معاملے کو ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے سپرد کر دیا جائے.

4) . سیاسی جماعتیں

سیاسی جماعتیں بھی ترقی کیلئے بہت ضروری ہیں اور انسان کی آزادیٔ اظہار رائے کی طرح جماعت سازی کو بھی شہریوں کا ایک مسلم حق سمجھا جاتا ہے. عہد حاضر کی اسلامی نظام حکومت میں بھی عوام کو یہ حق بعض پابندیوں اور بعض اضافی آزادیوں کے ساتھ حاصل ہو گا. پابندی یہ ہو گی کہ کوئی سیاسی جماعت یا تنظیم اپنے منشور میں ایسی چیز شامل نہ کر سکے گی جو کتاب و سنت کی نصوص کے منافی ہو. اس لیے کہ سیاسی جماعتیں جس نظام کو چلانے کےلیے وجود میں آئیں گی وہ خودبھی انہی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہو گا. اور اضافی آزادی یہ کہ ہر رکن پارلیمنٹ، خواہ کسی بھی جماعت کے ٹکٹ پر کامیاب ہوا ہو، روز مرہ کے معاملات میں اپنی رائے کے اظہار میں آ زاد ہو گا کہ اپنے ضمیر اور صوابدید کے مطابق رائے دے، الا یہ کہ معاملہ اساسی نوعیت کا ہو اور اس کی رائے بنیادی طور پر اس پارٹی کے منشور ہی کے خلاف جاری ہو جس کے ٹکٹ پر وہ منتخب ہوا ہو. اس صورت میں عقل ومنطق اور دیانت و شرافت، دونوں کا تقاضا ہو گا کہ وہ ازخود اپنی نشست سے مستعفی ہو جائے یا بصورت دیگر محروم کر دیا جائے۔

5) . آزادی اور پابندی

ایک اسلامی ریاست یا نظام خلافت میں آزادی اور پابندی کا جو حسین امتزاج ہوتا ہے وہ اس مثال سے اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ دائرے کا محیط کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی نمائندگی کرتا ہے جس سے تجاوز کی اجازت نہ افراد کو ہے نہ بحیثیت مجموعی معاشرے یا ریاست کو ہے۔ البتہ اس دائرے کے اندر اندر افراد بھی آزاد ہیں اور ریاست اور معاشرہ بھی چنانچہ اس حصے میں عہد حاضر کے اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق جمہوری اقدار کی ترویج اور ’’ان کا معاملہ باہمی مشاوت سے طے ہوتا ہے۔ عہدحاضر کے بہترین ترقی یافتہ اداروں کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے.

6) . فقہی اختلافات کا حل

ایک بہت اہم معاملہ جو شریعت کے عملی نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کی حیثیت سے بالعموم پیش کیا جاتا ہے فقہی اور مسلکی اختلافات کا ہے. حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ کچھ تو اس مسئلے کی سنگینی واقعتا اتنی نہیں جتنی بظاہر معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ اس کی اصل حدت و حرارت، یا توجمود اور تعطل کی پیداوار کردہ ہے یا مذہبی پیشہ وارانہ چشمک کا نتیجہ! اور یہ دونوں چیزیں اسلامی ریاست یا نظامِ خلافت کے قیام سے ازخود ختم ہو جائیں گی. موجودہ دور کی اسلامی ریاست یا نظام خلافت ’’نیم سیکولر‘‘ ہو گا، یعنی جس طرح سیکولر نظام میں کم ازکم نظری طور پر تمام مذاہب کو شہریوں کے شخصی معاملے کی حیثیت سے برابر تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کے ضمن میں ہر شخص کو مکمل آزادی دی جاتی ہے، اسی طرح جدید اسلامی ملک یا نظام حکومت میں پورے احوال شخصی جملہ فقہی مسالک برابر تسلیم کیے جائیں گے اور تمام شہریوں کو مکمل آزادی حاصل ہو گی کہ عقیدہ و عبادت، پیدائش، شادی بیاہ، اور تجہیز وتکفین کی جملہ رسومات و تقریبات حتیٰ کہ عائلی قوانین اور احکام میراث میں اپنے اپنے مسلک کے مطابق عمل کریں (اور جیسے کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے یہ آزادی غیر مسلموں کو بھی حاصل ہو گی). اس ضمن میں مشمل صرف عائلی قوانین کے ضمن میں پیش آ سکتی ہے، یعنی ہو سکتا ہے کہ لڑکا کسی ایک مسلک سے تعلق رکھتا ہو اور لڑکی کسی دوسری فقہ کی پیرو ہو، اس صورت میں سادہ اور آسان حل یہ ہے کہ نکاح کے موقع پر طے کر لیا جائے کہ اس شادی سے متعلق جملہ معاملات کس فقہ کے تحت طے ہوں گے، گویا دونوں میں سے کسی ایک کو، صرف عائلی قوانین کی حد تک دوسرے کے مسلک کو قبول کرنا ہو گا. اس معاملے میں بھی ہم کو دوسرے ممالک.سے رہنمائی لے سکتے۔ اور دوسرے جو مسائل ہیں وہ بھی قرآن و احادیث سے حل کروا سکتے ہیں۔

6) . وفاقی نظام

رہا یہ سوال کہ آیا عہد حاضر کی اسلامی ریاست کا دستوری خاکہ پارلیمانی طرز کا ہو گا یا صدارتی طرز کا اور اسی طرح یہ امر کہ آیا ریاست وحدانی ہو گی یاوفاقی تو ان میں سے کتاب و سنت کی کسی نص نے کسی بھی صورت کو مسلمانوں پر واجب و لازم نہیں کیا ہے بلکہ اصولی طور پر یہ معاملہ ریاست کے شہریوں کی صوابدید پر ہے. تاہم اس تاریخی حقیقت کا ذکر کرنا نامناسب نہیں ہو گاکہ دورِ خلافت راشدہ کا نظام حکومت جدید تصورات کے اعتبار سے صدارتی اور وحدانی نظام سے قریب تر تھا. اور اسی طرح اس ذاتی رائے کے اظہار میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت میں جس طرح پارلیمانی نظام کو گویا اصول موضوعہ اور ہمیشہ کے لیے طے شدہ فیصلے کی حیثیت دے دی گئی ہے وہ بھی کسی شعوری اور بالارادہ انتخاب کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم پر انگریز حکمران تھے اور انہوں نے ہمیں جو ابتدائی تربیت دی وہ اسی نظام کی تھی، جو خود ان کے اپنے ملک میں رائج تھا. ورنہ واقعہ یہ ہے کہ اگر معروضی طور پر غور کیا جائے تو پاکستان اوربھارت، دونوں کے حالات سے صدارتی نظام زیادہ مطابقت رکھتا ہے. البتہ اسے حقیقی معنوں میں وفاقی ہونا چاہئے. اس ضمن میں بھارت نے تو بعض اقدامات کر بھی لیے ہیں جیسے بہت سے صوبوں کی نئی تشکیل اور ان کے ضمن میں جغرافیائی حقائق کے ساتھ ساتھ لسانی اور ثقافتی حقائق کا بھی مناسب لحاظ، لیکن پاکستان کو ابھی اس مرحلے سے بھی گزرنا ہے اور اس کے علاوہ مناسب ہے کہ صوبے چھوٹے چھوٹے بنائے جائیں اور ان کے مابین آبادی کا فرق و تفاوت بھی بہت زیادہ نہ ہو بلکہ اندازاً تمام صوبے لگ بھگ ایک کروڑ کی آبادی پرمشتمل ہوں ( یہ کہ کسی خاص علاقے میں رقبہ کی نسبت سے آبادی بہت کم ہو، جیسے بلوچستان، تو وہاں کم آبادی پر بھی صوبہ بنایا جا سکتا ہے). مزید برآں روحِ عصر کا تقاضا ہے کہ جملہ وفاقی اکائیوں کو زیادہ زیادہ داخلی خودمختاری دی جائے اور ہر علاقے کے لوگوں کی زبان اور ثقافت کو یکساں اہمیت دی جائے. سوائے عربی زبان کے یعنی کتاب و سنت کی زبان ہے جس کی تعلیم پوری ریاست میں لازمی قرار دی جائے گی، اور جیسے ہی ممکن ہو ا اسی کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا جائے گا۔

7) . خواتین کی شرکت

ر ہا خواتین کی شرکت کہ کوئی عورت صدر/ وزیراعظم کے منصب پر فائز نہ ہو سکے گی کیونکہ اسکی اسلامی نظام میں ممانعت ہے۔ جہاں صدر /وزیراعظم / اسمبلی کی رکنیت کا معاملہ ہے، تو خواتین کو بھی رائے دہی کا حق حاصل ہو گا۔

ہاں البتہ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ان کو ستروحجاب کے شرعی احکام کی پابندی لازم ہو گی.

8) . غیر مسلموں کی حیثیت

آنکو صدر یا خلیفہ/وزیراعظم اور اسمبلی/ سینیٹ کے انتخاب میں ان کو حق رائے دہی حاصل نہیں ہو گا. ھاں ان کے اپنے مسائل کیلئے ایک الگ سے مشاورتی کمیٹی بنا سکیں گے جو کہ انکے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کو دے گی۔ ☼☼☼

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *