علامہ اقبال کی باتیں کتنی سچ ہیں

شعبہ شعر و شاعری

کل مذہب پوچھ کر بخش دی تھی جان میری

آج فرقہ پوچھ کر اس نے ہی لے لی جان میری…

مت کرو رفع یدین پر اتنی بحث مسلمانو

نماز تو ان کی بھی ہوجاتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے

تم ہاتھ باندھنے اور ہاتھ چھوڑ نے پر بحث میں لگے رہو

اور دشمن تمہارے ہاتھ کاٹنے کی شازش میں لگے ہیں

زندگی کے فریب میں ہم نے ہزاروں سجدے قضا کر ڈالے

ہمارے جنّت کے سردار نے تو تیروں کی برسات میں بھی نماز قضا نہیں کی

سجدہ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے

خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے

لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے

ایسا لگتا ہے کوئ قرض لیا ہو رب سے

تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کردیں

تو جھکتا کہیں اور ہے اور سوچتا کہیں اور ہے

کوئ جنّت کا طالب ہے تو کوئ غم سے پریشان ہے

ضرورت سجدہ کرواتی ہے عبادت کون کرتا ہے

کیا ہوا تیرے ماتھے پر ہے تو سجدے کا نشاں

کوئ ایسا سجدہ بھی کر جو چھوڑ جائے زمیں پر نشاں

پھر آج حق کیلے جاں فدا کرے کوئ

وفا بھی جھوم اٹھے یوں وفا کرے کوئ

نماز چودہ سو سالوں سے انتظار میں ہے

کہ مجھے صحابہ کی طرح ادا کرے کوئ

اک خدا ہی تو ہے جو سجدوں میں مان جاتا ہے

ورنہ یہ انسان تو جان لے کر بھی راضی نہیں ہوتا

دے دی اذاں مسجدوں میں حی الصلوہ حی الفلاح

اور لکھدیا باہر تخت پر اندر نہ آئے فلاں اور فلاں…

خوف ہوتا ہے شیطان کو بھی آج کے مسلمان کو دیکھ کر

نماز بھی پڑھتا ہے تو مسجد کا نام دیکھ کر

مسلمانوں کے ہر فرقے نے ایک دوسرے کو کافر کہا…

اک کافر ہی ہے جو اس نے ہم سب کو مسلمان کہا…

طلب غور باتیں ہیں.

♣♣♣

مستنصر احمد قاہر

غزل”

عشق کی راہ میں مجنون ہوا کرتے ہیں

اور نتائج کی نہ پرواہ کیا کرتے ہیں

ڈھونڈ کر لائے جو سپی میں سے موتی مر کر

وہی محبوب کی نظروں میں جیا کرتے ہیں

بہہ نہیں پڑتے سمندر کے بہاؤ میں یوں

ڈوبنے سے تو بس اک شیر بچا کرتے ہیں

روز مئے خانے میں اس نام کی پی کر عاشق

کس قدر شوق سے ہر روز مرا کرتے ہیں

نبض کو کاٹ کے اسکی ہی تو بس یاد میں اب

کچھ مرے یار ہیں بے خوف ہنسا کرتے ہیں

یہ تو ہے حال جو دنیا کہ ہیں عاشق قاہر

جو ہیں عشاق خدا نسلیں فدا کرتے ہیں

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *