درس القرآن ماہ ستمبر ۲۰۲۰

اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَاللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ۵لا فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً ط وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ۔

(سورۃ التوبۃ آیت 36)

ترجمہ :۔ یقینا اللہ کے نزدیک، جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اللہ کی کتاب میں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہی ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا دین ہے۔ پس ان (مہینوں) کے دوران اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا۔ اور (دوسرے مہینوں میں) مشرکوں سے اکٹھے ہو کر لڑائی کرو جس طرح وہ تم سے اکٹھے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

تشریح :۔ فِیْ کِتٰبِ اللہ: اللہ کی پاک شریعتوں میں۔خدائی حساب چاند کے ساتھ وابستہ ہیں اور دنیاوی حساب آفتاب سے۔ دونوں میں کئی دنوں کا فرق پڑ جاتا ہے۔ دنیا داروں نے شمسی حساب کو پسند کیا کیونکہ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اور چاند کے حساب پر چلیں تو تین برس میںایک ماہ اور چھتیس سال میں ایک سال کا فرق پڑ جاوے۔ اور اس حساب سے تنخواہ لینے والا ملازم بڑے فائدہ میں رہ سکتا ہے۔ دینی کام چاند کے حساب پر کرنے میں صوفیاء نے ایک نکتہ لکھا ہے کہ امت محمدیہ ہر شمسی مہینے میں اپنی ہر عبادت کرنے کا فخر رکھتی ہے۔

(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 289)

حدیث :۔ یہ چار مہینے کون سے ہیں ان کی تفصیل صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمانہ اپنی حالت پر واپس آیا ہے کہ جس پر وہ اُس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی۔ سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں۔ تین تو لگاتار یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا مضر قبیلے کا ماہِ رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے۔

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نے عرض کیا ۔ ’’ اے اللہ کے رسول ! اگر رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا چاہوں تو کس مہینے کے روزے رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محرم کے مہینے میں روزے رکھنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اُس میں ایک دن ایسا ہے کہ اُس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور ایک قوم کی توبہ (آئندہ بھی) توبہ قبول فرمائیں گے۔

(ترمذی کتاب الصو باب ماجاء فی صوم المحرم )

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ اہل عرب رمضان کے روزے فرض ہونے سے قبل یوم عاشور کا روزہ رکھتے تھے کیونکہ اس دن کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کردیئے تو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جو اس دن روزہ رکھنا چاہے رکھ لے اور جو ترک کرنا چاہے ترک کردے۔

حضرت حفصہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان چار اعمال کو کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔ دسویں محرم کے روزے، عشرہ ذوالحجہ کے روزے، ہر مہینہ کے تین روزے اور نماز فجر سے قبل دو رکعات۔ اسے امام بخاری، طبرانی اور بیہقی سے روایت کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *