دادل اور رحمان ڈکیت سے عزیر بلوچ تک

شعبہ پاکستان

(آخری قسط)

پیپلز امن کمیٹی کے رہنما اور عزیر بلوچ کے قریب سمجھے جانے والے حبیب جان بلوچ نے کہا کہ ’مظالم بڑھنے لگے اور بلوچوں کو لیاری کے باہر دیگر علاقوں میں مارا جانے لگا۔کسی دن تین بلوچ قتل ہوتے تو کسی دن سات اور یہ ہو رہا تھا جوڑیا بازار، آرام باغ، اکبرروڈ کے علاقوں میں۔یہ وہ زمانہ تھا جب عزیر بلوچ لیاری کا متفقہ لیڈر بن چکا تھا اور اہلیان لیاری نے متفقہ طور پر اسے سردار کا خطاب دے دیا تھا۔ہر مرنے والے بلوچ کی ماں وزیراعلیٰ کے گھر نہیں جاتی تھی بلکہ عزیر کے گھر کے باہر پہنچ کر فریاد کرتی تھی۔‘ایم کیو ایم لندن کے سیکریٹری اطلاعات مصطفیٰ عزیز آبادی نے پھر ان الزامات کی تردید کی۔’ہمارا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا‘۔انھوں نے اس کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو قرار دیا ’یہ تو جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ہے تو آصف زرداری کے چہیتے ذوالفقار مرزا نے کیا۔جب “پیپلز امن کمیٹی” بنائی گئی اور جو شہر کے تاجروں اور دکانداروں کے ساتھ ہوا۔اغوا برائے تاوان اور بھتّہ اور انھوں (گینگ وار لارڈز) نے خود قبولا کہ کس نے اسلحہ دیا۔پھر شیر شاہ مارکیٹ کا سانحہ ہوا۔دکانداروں کو بھتّے کی پرچیاں دی گئیں اور ہیسے مانگے گئے۔وہ بےچارے دے دے کر تنگ آ گئے تھے کہ بھئی کتنا دیں آخر ہم۔پھر باقاعدہ دکانداروں کا قتل عام ہوا اور جب ملزم پکڑے گئے تو وزیر داخلہ نے چھڑوا دیا۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات پر ان کے احتجاج اور مذمت کو ایسا رنگ دے دیا گیا کہ ’جیسے ہمارا اور گینگ وار کا کوئی تصادم چل رہا ہے۔ہمارا ان سے کیا لینا دینا۔اس (گینگ وار کو) پیپلز پارٹی نے پالا پوسا اور مدد دی۔‘انھوں نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ جب جرائم پیشہ افراد نے ایم کیو ایم کے زیر اثر علاقوں میں بھتّے کی وصولی شروع کی اور ایم کیو ایم مخالف عناصر (ایم کیو ایم حقیقی سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد) کے ساتھ ان کا اتحاد ہوا تو ایم کیو ایم کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں کی گئیں۔’ہمارا گینگ وار سے کبھی کسی قسم کا جھگڑا تھا نہ تصادم ہوا۔ہم نے غنڈہ گردی پر ایوان میں احتجاج کیا اور بس۔‘شہر میں لیاری کے علاوہ بلوچ آبادیوں میں رحمان کی جگہ سردار بننے والے عزیر بلوچ نے اپنی طاقت مضبوط کرنی شروع کی اور ملیر سے مواچھ گوٹھ تک، لیاقت آباد، بلوچ پاڑہ سے خاموش کالونی تک اور جہانگیر روڈ سے اورنگی تک کی بلوچ آبادیوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے منظم اتحاد بنا لیے۔سابق اعلیٰ پولیس افسر نے کہا کہ شہر میں ایم کیو ایم کے دیگر مخالفین جن میں قوم پرست حلقے اور ایم کیو ایم حقیقی کے تشدد پسند عناصر سمیت دیگر قوتیں بھی شامل تھیں ان سب نے بھی کھلّم کھلّا یا درپردہ عزیر کی حمایت شروع کر دی۔’علاقہ گیری کا یہ کھیل دو حصّوں میں بٹ گیا تھا۔ایک گروہ نے عزیر کی سیاسی اور عسکری حمایت شروع کی اور دوسرا گروہ وہ تھا جس میں ایم کیو ایم کی (غیر اعلانیہ) عسکری قیادت بھی شامل رہی اور اس گروہ نے عزیر کے سب سے بڑے مخالف یعنی ارشد پپّو اور لیاری کےایک اور وار لارڈ غفار ذکری کی پشت پناہی شروع کر دی۔‘ملزم غفار ذکری لیاری گینگ وار کا ایک سرگرم کردار تھا جس کے سر پر 25 لاکھ روپے انعام رکھا گیا تھا۔بلوچستان کے علاقے تربت سے تعلق رکھنے والا غفار ذکری کسی زمانے میں رحمان کا حامی رہا تھا۔مگر!تب تک وہ رحمان کے گروہ کا مخالف ہو چکا تھا اور عیدو لین اور ذکری پاڑہ جیسے علاقوں میں قدم جما چکا تھا۔نبیل گبول کا کہنا ہے کہ ’پہلے کراچی کا کنٹرول ایم کیو ایم کے پاس تھا مگر پھر لیاری کی وجہ سے بندرگاہ اور اطراف کے علاقوں کا کنٹرول عزیر کے پاس آ گیا تھا۔کنٹینرز جب نکلتے تھے کراچی پورٹ سے تو عزیر ان سے بھتّہ لیتا تھا پھر انھیں چھوڑتا تھا۔‘ارشد پپّو اور غفار ذکری کی مدد کے سوال پر نبیل گبول نے کہا کہ ’میرا کبھی کوئی تعلق نہیں رہا گینگ وار سے بلکہ میں تو واحد لیڈر تھا لیاری کا جو کھل کر گینگ وار کی مخالفت کرتا رہا۔میری تو پیپلز پارٹی سے مخالفت بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی۔میں ایم کیو ایم میں بھی مجبوراً گیا تھا تاکہ پارلیمان کا رکن بن سکوں اور عزیر کی گرفتاری میں مدد بھی کر سکوں۔‘لیاری کے بزرگ مکین کے مطابق عزیر بلوچ نے شہر بھر میں پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی امیدوار مقرر کرنے کےلئے مداخلت کی اور بندوق سیاست پر غالب دکھائی دی۔کراچی سے کم از کم بیس امیدوار عزیر کی مرضی سے نامزد ہوئے۔اس وقت کے پیپلز پارٹی کراچی کے صدر اور آج کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل اس پس منظر کی وضاحت مختلف انداز میں کرتے ہیں۔’لیاری کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ لیاری کے نمائندے لیاری کے مکین ہی ہونے چاہییں۔ایک طرف لیاری میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک خراب تھی۔14 دن تو سندھ حکومت کو لیاری میں آپریشن کرنا پڑا۔ان حالات میں آپ کو ایک پرامن الیکشن کروانا ہو۔’جب آپ نے دیکھا کہ سندھ حکومت کا آپریشن ناکام ہوا اور دیگر ’اداروں‘ نے بھی مدد کرنے سے انکار کردیا تھا اور 14 دن تک پولیس کے علاوہ کسی اور فورس نے حصّہ تک بھی نہیں لیا اور 52 لوگ مارے گئے تو پھر ایک بزرگ کمیٹی بنی۔‘تاہم قادر پٹیل نے یہ بھی کہا کہ ’میں نہیں کہوں گا کہ بزرگ کمیٹی کا لیاری گینگ وار سے تعلق نہیں تھا۔اس بزرگ کمیٹی نے مذاکرات کیے اور ایسے غیرجانبدار لوگ چنے گئے بلکہ شاہجہاں خان جو (ایم این اے) بنے، جاوید ناگوری (ایم پی اے) بنے وہ بھی پیپلز پارٹی کے لوگ تھے تو یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ کسی نے کسی کو ڈکٹیٹ کیا۔‘ان کے مطابق ‘لیاری میں دیگر جماعتیں بھی سیاسی کامیابیاں حاصل کرتی رہیں مگر وہاں ہمیشہ پیپلز پارٹی کی جڑیں مضبوط رہیں اور ہمیں سیاسی کامیابی کے لیے گینگ وار سمیت کسی کی کبھی ضرورت نہیں رہی۔ ‘مگر اس دوران گینگ وار نے ایسے پر پھیلائے کہ شہر بھر میں پولیس افسر ہوں یا رینجرز کے اہلکار یا پھر قید میں ان گروپوں کے ارکان سے بدسلوکی کرنے والا جیل کا عملہ، مخالف قوتوں کے عسکری جنگجو ہوں یا بھتّے دینے سے انکار کرنے والے تاجر و دکاندار جس نے جب اور جہاں ان گینگز کے احکامات کی خلاف ورزی کی یا ان کی طاقت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ، مارا گیا۔بھتّہ ہو، اغوا برائے تاوان ہو یا منشیات کا دھندہ۔تعمیراتی کام کا ٹھیکہ ہو یا شپنگ کنٹینرز کی آمد و رفت۔سمگلنگ ہو یا اسلحے کا ناجائز کاروبار کوئی بھی جرم اب عام اور معمولی نہیں رہا تھا بلکہ باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر گیا۔’لیاری تو کھیلوں، باکسنگ اور مارشل آرٹس کا مرکز تھا۔وہاں فٹبال کے انٹرنیشنل پلیئر پیدا ہوتے تھے۔میرا لیاری جو فٹبال کے کھیل کے لیے مشہور تھا وہاں انسانی سروں سے فٹبال کھیلی گئی۔‘ بات کرتے ہوئے لیاری کے بزرگ مکین کا گلا رندھ گیا، آواز بھرّا گئی۔ایس پی فیاض خان نے بھی تصدیق کی کہ ’کوئی دن نہیں ہوتا تھا کہ بیس پچیس لوگ نہ مرتے ہوں۔

ایک وقت ایسا آیا کہ مرنے والوں کے لواحقین نے تھانوں میں رپورٹ کرنا چھوڑ دیا تھا۔‘اسی دوران ارشد پپّو جیل سے چھوٹ کر آ چکا تھا۔بجھتے چراغ کی طرح ارشد پپّو نے اپنے اور اپنے والد حاجی لالو کے بکھر جانے والے گینگ کو منظم کرنے اور عزیر اور رحمان کے گینگ کے مقابلے پر لانے کی سر توڑ کوشش کی مگر اس وقت تک عزیر کا گینگ مکمل طور پر غالب آ چکا تھا اور مخالفین کی گلا کٹی لاشیں پورے علاقے سے ملنے لگیں۔بزرگ شہری نے کہا کہ ’پھر لیاری میں تھانے دار سے لے کر (ڈی ایس پی) اور (ایس پی) تک کی تعیناتی تک عزیر بلوچ کی مرضی اور منشا سے ہونے لگی۔یہاں تک کہ لیاری سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کون انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کا رکن بنے گا یہ فیصلے بھی عزیر کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔’ایسے ماحول میں سیاست اور بندوق کی طاقت سے پوری طرح مسلح عزیر کو اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کا موقع تب میسر آیا جب ارشد پپّو جیل سے چھوٹ کر آیا‘۔ارشد پپّو حاجی لالو کا وہی بیٹا تھا جس نے رحمان کی مخالفت میں عزیر کے باپ فیضو کو قتل کیا تھا۔ لیاری کی اس کہانی کی تیاری میں مدد کرنے والے تقریباً تمام ذرائع نے دعویٰ کیا کہ فلمی اندازمیں قتل کرنے والے ارشد پپو کا اپنا قتل بھی بہت ہی فلمی۔مگر! انتہائی بھیانک انداز سے ہوا۔نبیل گبول، حبیب جان بلوچ اور سابق (ایس پی) فیاض خان نے بھی اس کی تصدیق کی۔(ایس پی) لیاری فیاض خان نے بتایا کہ ’پپّو کو ڈیفینس کے علاقے (پی این ایس) شفا کے سامنے شیرو کے گھر سے اٹھایا گیا۔‘ان کے مطابق شیرو پپّو کا خاص آدمی تھا اور اس کا بھائی حامد بھی وہیں تھا۔لیاری میں تعینات کم از کم دو تھانے داروں جاوید بلوچ اور چاند خان نیازی نے اس کے لیے پوری مدد فراہم کی اور اس گھر سے ارشد پپّو کو قابو کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔فیاض خان کے مطابق ’یہ تو سب کو پتا ہے کہ ارشد پپّو نے دروازہ کھولا ہی پولیس افسران کو دیکھنے کے بعد تھا۔‘اس سوال پر کہ جب لیاری کی گلیوں میں پولیس حکام ہی جرائم پیشہ عناصر کو اپنے مخالفین کو قتل و غارت میں مدد فراہم کر رہے تھے تو ریاست کے باقی سب ادارے یعنی فوج، خفیہ ادارے، عدالتیں خاموشی سے سب کچھ کیوں دیکھتی رہیں، نبیل گبول نے کہا ’میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز جو آپ کے صحافی ہیں جاوید چوہدری ان کے بھائی، ان کا پورا نام مجھے یاد نہیں ہے، کے پاس گیا کہ آپ کیوں نہیں انھیں پکڑ رہے، کیوں نہیں ایکشن لیتے؟ تو انھوں نے کہا کہ ہم (جی ایچ کیو) کی ہدایت پر کام کرتے ہیں، سندھ حکومت یا (جی ایچ کیو) سے کوئی کارروائی کرنے کی ہدایت آئی تو ہم ضرور اپنا کام کریں گے۔‘پھر سب نے پاکستان کے تمام (ٹی وی) چینلز پر اس زمانے میں براہ راست دکھائے جانے والے وہ مناظر دیکھے جب پولیس کی بھاری نفری چوہدری اسلم کی سربراہی میں لیاری کی افشانی گلی کے چیل چوک پر کھڑی گولیاں چلاتی رہی اور عزیر بلوچ براہ راست دکھائی جانے والی (ٹی وی) نشریات میں بطور مہمان شریک رہا۔ایسے ماحول میں مقتول باپ کا بدلہ لینے کا موقع ملا لیاری کے بےتاج بادشاہ اور طاقتور سردار، عزیر بلوچ کو۔نام نہ بتانے کی شرط پر گفتگو کرنے والے پولیس افسر نے بتایا کہ ’ارشد کو پولیس افسران نے ہی اس ہجوم کے حوالے کیا۔بدلے کی آگ میں جلتے ہجوم میں زیادہ تر افراد خود پپّو کے ہاتھوں اپنے پیاروں اور ساتھیوں کو کھو چکے تھے۔‘(ایس پی فیاض خان نے اپنے سابق مگر اعلیٰ افسر کی تائید کی)’پھر کیا تھا جو آپ سوچ سکتے ہیں وہ سب کیا گیا، زندہ ارشد پپّو کی انگلیاں کاٹی گئیں، ہاتھ پیر کاٹے گئے۔چھری، چاقو، خنجر جس کے ہاتھ میں جو ہتھیار تھا سب استعمال ہوئے۔کسی نے پتھر مارا، کسی نے ڈنڈا۔

ارشد پپّو اس حال میں بھی قاتلوں کو گالیاں بکتا رہا۔کچھ بالکل مختلف بات کرتے ہیں کہ اس نے معافی مانگی مگر جہاں تک ارشد پپّو کو جانا جا سکتا ہے اس کا معافی مانگنا مشکل لگتا ہے۔‘حبیب جان بلوچ کے مطابق ’ارشد پپّو کو تو لیاری والوں نے مارا۔اب اس کو بلوہ کہہ لیں۔ہزاروں لوگوں کے تشدد سے مر گیا وہ۔جب رینجرز کے دو اہلکار مارے گئے تو اس کا الزام آیا گینگ وار پر تو رینجرز کا غصّہ تھا پپّو پر کہ اس نے اپنی سیاسی مدد سے یہ کیا۔‘جبیب جان کو ارشد پپو کے قتل میں نامزد بھی کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ ’بابا لاڈلا اور جھینگو جیسے کمانڈروں نے علاقے بھر میں دہشت پھیلانے کے لیے یہ سب کیا۔جو کچھ ہوا بڑی بے دردی سے ہوا۔ہر ایک نے دیکھا تھا اس دہشت ناک منظر کو۔‘پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انتقام کی آگ میں جلتے مشتعل قاتلوں نے تشدد کے بعد ارشد پپّو کی گردن تن سے جدا کر دی۔اس کے کٹے ہوئے سر کو ٹھوکریں ماری گئیں (جسے بعض اخبارات میں فٹبال کھیلنا لکھا گیا) لاش کے ٹکڑے کر دیے گئے اور بالآخر کٹی پھٹی لاش کے باقی ماندہ ٹکڑوں پر پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی۔’عزیر کے باپ فیضو کو قتل کرنے والے ارشد پپّو کا یہ انجام ہوا۔‘یہ کہتے ہوئے لیاری کے بزرگ کی آواز میں خوف آلود جھرجھری نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔گینگ چھوڑ کر دشمن بن جانے والے عزیر بلوچ کے دوسرے مخالف بابا لاڈلا کا انجام بھی ظاہر ہے، اچھا نہیں تھا۔دبئی چوک کلری کے رہائشی بابا لاڈلا پر ایک فٹبال میچ کے دوران بم سے حملہ ہوا۔بابا لاڈلا توبچ گیا مگر چھ، سات لوگ مارے گئے۔(ایس پی) فیاض نے بتایا کہ ’بم حملہ موٹر سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد کے ذریعے کیا گیا تھا۔اس وقت تک گینگ وار کے ڈانڈے متشدد جہادی حلقوں سے جڑ چکے تھے۔ہمیں بھی ایک کلیو اور سائن ملا کہ لیاری میں جہادی حلقے ہیں اور بابا لاڈلا بھی سمجھ گیا کہ حملہ کیوں ہوا۔’دو سو سے زائد افراد کے گینگ کے سردار بابا لاڈلا نے بدلے میں عزیر کے انتہائی قریبی ساتھی ظفر بلوچ کو مار دیا جس کا تعلق کسی زمانے میں پیپلز پارٹی سے رہ چکا تھا۔‘فیاض خان کے مطابق ’اب ایک نئی گینگ وار کا آغاز ہوا۔عزیر اور بابا کے کمانڈر بٹ گئے۔سائے کو سائے سے خوف آنے لگا، کوئی کسی پر بھروسہ نہیں کر رہا تھا کہ پتا نہیں کون کس کا دشمن ہے اور کون کس کا دوست اور ہوا بھی یہی۔دھوکے سے ایک دوسرے کے حامی اور مخالفوں کے قتل شروع ہوئے۔یہاں تک کہ کھانا ساتھ کھانے والے دوستوں نے کھانا ختم ہونے سے پہلے ہی دوسرے دوست کو ختم کر دیا۔نام خفیہ رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’گینگ وار کی اس کہانی میں اس وقت تک بلاشبہ ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکےتھے۔اوراب سسٹم اپنی علمداری کی برتری کی مہر لگانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔”نظام تو پھر نظام ہوتا ہے ناں” آپ تو جانتے ہی ہیں۔یہ اطلاعات بھی گردش میں تھیں کہ کسی جگہ صوبائی وزیر داخلہ کے قتل کی منصوبہ بندی ہوئی ہے، اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور صوبائی سیٹ اپ میں بھی اگر تب تک کوئی حمایت تھی تو وہ بھی باقی نہیں بچی۔یہ وہی وقت تھا جب آصف زرداری کے ایک قریبی ساتھی نے ان سے اپنی راہیں جدا کیں اور ریاست میں اعلیٰ سطح پر گینگ وار کی کہانی کو روکنے کا فیصلہ عملی طور پر نافذ ہونا شروع ہوا۔’صورتحال کی نزاکت کا احساس ہوتے ہی عزیر جیسے سمجھدار اور شاطر ذہن نے علاقے سے نکل جانے میں عافیت جانی اور ایک روز لیاری سے نکل گیا۔عزیر اور تاجو نے تو اپنے علاقائی کمانڈرز تک کو نہیں بتایا اور خاموشی سے لیاری سے نکل گئے۔’اب رینجرز فعال ہوئے اور لیاری میں آئے دن گینگ وار لارڈز کی گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔بابا لاڈلا اور غفار ذکری جیسے لوگ ایسے ہی چھاپوں میں گرفتاری سے بچنے کے لیے ’مقابلے کے دوران‘ مارے جانے لگے اور آہستہ آہستہ لیاری پر قابض گینگ وار کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔‘’ان کا صفایا بالکل اسی انداز سے ہوا جیسے رحمان مارا گیا تھا۔بس میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا۔‘ اعلیٰ سطح کے پولیس افسر نے محتاط انداز اپنایا۔’کئی وار لارڈز اور اُن کے گینگز کے ارکان اس دوران مارے گئے مگر عزیر پہلے بلوچستان کے راستے ایران اور بالآخر دبئی جا پہنچا۔‘نبیل گبول گینگز کی اس ’صفائی‘ کو حتمی اختتام ماننے سے ہچکچائے مگر انھوں نے گینگ وار کی روک تھام کا کریڈٹ فوج کے خفیہ اداروں کو بھی دیا اور ملک کے (اس وقت کے) وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ساتھ ساتھ خود کو بھی اس کا حقدار ثابت کرنا چاہا۔’2013 کے اختتام تک ہی عزیر جعلی ایرانی پاسپورٹ پر دبئی پہنچا تھا، جعلی ایرانی شناختی دستاویزات اور سفری کاغذات استعمال کرتے ہوئے۔ہمارے اداروں کو تو اس کا پتا ہی تھا۔پاکستانی حکام نے اس کا ریڈ وارنٹ بھی پاکستانی پاسپورٹ کی تفصیلات پر جاری کروایا تھا۔‘نبیل گبول کے مطابق ’عزیر تو دبئی سے بھی رہا ہونے والا تھا مگر ابوظہبی کے کچھ شیخ میرےعلاقے میں آتے تھے شکار کے لیے۔میں نے اپنی دوستی استعمال کی اور جعلی ایرانی پاسپورٹ اور جعلی ایرانی شناختی دستاویزات دبئی سے نکلوائیں پھر وزیر داخلہ چوہدری نثار اور (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل، جنرل رضوان نے ذاتی دلچسپی لی تو پھر اسے پاکستان واپس لایا گیا۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’عزیر ایرانی اور بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے بھی ملتا رہا۔لیاری سی پورٹ سے جڑا ہوا ہے۔نیوی کی حساس تنصیبات قریب ہیں، ایک حملہ بھی ہوا تھا کراچی میں نیوی کے جہاز پر آپ کو یاد ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ (جے آئی ٹی) رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اور عزیر بلوچ کے تمام گناہوں کے اطراف کے بعد، ہزاروں انسانوں کی جانوں کا زیاں اور تمام سیاسی رہنماؤں کے نام منظر عام پر آنے کے باوجود عدالت نے صرف 12 سال قید کی سزا سنائی تو کیا یہ ممکن ہے کہ عزیر بلوچ کی رہائی کا کوئی امکان ہے۔عزیر کا سیاسی چہرہ سمجھے جانے والے حبیب جان بلوچ کے مطابق جب اس ملک میں بڑی بڑی سیاسی شخصیات چھوٹ سکتی ہیں تو عزیر بلوچ بھی رہا ہو سکتا ہے۔اس سوال پر کہ عزیز بلوچ پر تو سرعام ارشد پپو کے قتل کا الزام ہے تو جبیب جان کا کہنا تھا کہ ’عزیر کے باپ کو منشیات فروشوں نے مارا۔اس کا کلچر تھا کہ اپنے باپ کا بدلہ لے۔اس کی ماں نے کہا تھا کہ تُو میرا بیٹا نہیں جب تک باپ کا بدلہ نہ لے لے اور ارشد پپّو تو ہجوم کے ہاتھوں مارا گیا۔اس قتل کے اور محرکات بھی دیکھنے ہوں گے۔‘تاہم نبیل گبول نے عزیر کی رہائی کو خارج از امکان قرار دیا۔’میں سمجھتا ہوں کہ عزیر باہر نہیں آئے گا۔اس پر رینجرز کے دو اہلکاروں کا قتل ہے۔فوج اپنے اہلکاروں کی لاشیں معاف نہیں کرے گی۔عزیر تو (جے آئی ٹی) میں خود مانا ہے اس بات کو‘۔نبیل گبول نے دعویٰ کیا! عزیر بلوچ کی رہائی ہونے یا نہ ہونے کا امکان اپنی جگہ مگر سوال یہ ہے کہ جس لیاری سے فلاحی شعبے میں عالمی شہرت یافتہ شخصیت عبدالستار ایدھی جیسے سماجی کارکن، 1988 کے سیئول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ اور ساؤتھ ایشینز گیمز میں لگاتار پانچ مرتبہ گولڈ میڈلسٹ رہنے والے عالمی شہرت یافتہ باکسر حسین شاہ اور ملنگ بلوچ کیپٹن استاد محمد عمر جیسے عالمی سطح کے فٹبالر پیدا ہوئے جو بین الاقوامی مقابلوں تک پہنچے۔تعلیم کے شعبے میں علی محمد شاہین جیسے استاد، صحافت کے شعبے میں انگریزی اخبار ڈان سے وابستہ ہارون فیملی اور کرائم رپورٹر کاکا غلام علی اور صدیق بلوچ آئے۔جہاں پیدا ہونے والے فنکار سلیمان شاہ، ابراہیم ڈاڈا اور انور اقبال برسوں تک ٹی وی پر اپنے فن کا جادو جگاتے رہے اسی لیاری میں دادل اور حاجی لالو، رحمان بلوچ، عزیر بلوچ، بابا لاڈلا، ارشد پپّو اور غفار ذکری جیسے لوگ کیسے پیدا ہوئے؟لیاری کے نامور صحافی نادر شاہ عادل نے کے سینیئر صحافی کو بتایا تھا کہ ’کسی نے بھی ان ستاروں کی چمک دمک کی حفاظت کی ہوتی اور لیاری کی غربت دور کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جاتے تو خان محمد، محمد علی ُمشکی اور دوسرے باکسرز بازاروں میں ریڑھیاں لگانے پر مجبور نہ ہوتے اور عبدالعزیز جونا مارکیٹ کی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر تالے چابیاں نہ بنا رہے ہوتے‘۔جب “پیپلز امن کمیٹی” کے رہنما اور عزیر بلوچ کے ساتھی حبیب جان سے سوال کیا گیا کہ عالمی کھلاڑیوں کے لیاری میں موت کے کھلاڑی کیسے پیدا ہوئے تو انھوں نے سوال کا جواب سوال ہی سے دیا۔وہ بولے ’آپ بتائیے جس (عزیر بلوچ) کا باپ اپنے بچے کو لنڈا بازار سے جوتے اور فٹبال کھیلنے کے کپڑے خرید کر دیتا ہے کہ بیٹا (کے پی ٹی) میں فٹبال کھیلے گا وہ گینگسٹر بنا کیوں؟‘لگتا ہے کہ لیاری کے گینگز کے جرائم نے غربت کے نطفے سے بیروزگاری کی کوکھ میں جنم لیا۔اس سوال پر کہ کیا لیاری گینگ وار چلتی رہے گی یا عزیر کی گرفتاری پر اسے ختم تصوّر کر لیا جائے؟ حبیب جان نے کہا ’نہ لیاری میں گینگ وار تھی۔نہ ختم ہو سکتی ہے۔ (حوالہ رپورٹ ہیلپ لائن 786نیوز )

☼☼☼

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *