ایک نئی بحث کاآغاز

شعبہ پاکستان

تحریر: خورشید ندیم

ہم سرعت کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میںآزادئ رائے ہر صورت ختم ہو جائے اور شہری روبوٹ میں ڈھل جائیں۔ جو ریاست کےطے کردہ مذہب، قومی مفاد اورنظریۂ پاکستان کے برخلاف رائے رکھے اور زبان کھولے،وہ قابل تعزیر ٹھہرے۔ لگتا ہے کہ اہلِ مذہب اس کے لیے ریاست کے دست و بازو بن رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ کل وہی اس کا ہدف ہوسکتے ہیں۔ میری نظر میں، تحفظِ بنیادِ اسلام بل، ایسے معاشرےکی طرف ایک بڑی جست ہے۔آزادئ رائے اہلِ اقتدار کو کبھی پسند نہیں رہی۔ بادشاہتوں اور آمریتوں میں تو یہ رویہ قابلِ فہم ہے کہ شخصی اقتدار کسی اخلاق اور قانون کا پابند نہیں ہوتا ۔ انسانیت طویل عرصہ اسی نظامِ حکومت کی زد میں رہی۔یہاں تک کہ اللہ کے پیغمبروں نے غلامی پرضرب لگائی اور اللہ کے آخری رسول سید نا محمد ﷺ کے شاگردِ رشید سید نا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جملہ لوحِ تاریخ پر ثبت ہو گیا کہ جن کو مائوں نے آزاد جنا، کوئی انہیں غلام بنانےکی جسات نہیں کر سکتا۔ اٹھارویں صدی میں روسونے بہ اندازِ دگریہی کہہ کر گویا اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ یہ الہامی علم ہو یا غیر الہامی ، دونوں انسان کی آزاد حیثیت پر متفق ہیں۔ اس آزادی میں، آزادئ رائے بدرجہ اولیٰ شامل ہے۔تاریخ یہ ہے کہ حکمران، توہینِ ریاست اور توہینِ مذہب دونوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے رہے ہیں۔ اموی دور میں اہلِ اقتدار پر گرفت کرنے والے بغاوت یا دوسرے الفاظ میں توہینِ ریاست کے مرتکب قرار پائے۔ عباسیوں نے توہینِ مذہب کے نام پر اپنے مخالفین پر عرصۂ حیات تنگ کیا۔ امام احمد ابنِ حنبلؒ پر یہی مقدمہ قائم ہوا کہ وہ قرآن مجید کو مخلوق نہیں مانتے، اس لیے قابلِ تعزیز ہیں۔دورِ جدید نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جملے کو ایک سیاسی نظام کی صورت میں متشکل کر دیا۔ جمہوریت میں آزادئ رائے بنیادی انسانی حق ہے اوراس پرکوئی قد غن نہیں لگائی جاسکتی۔ انسانی عزت و حرمت اور جان و مال کا تحفظ بھی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور آزادی رائے کا وہ تصور کہیں بھی قابلِ قبول نہیں جو کسی فرد کی آبرو یا جان و مال کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ اس کے لیے سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔ مغربی ممالک میں، کسی پر جھوٹا الزام لگانے کی پاداش میںلوگ عمر بھر کی کمائی سے محروم کر دیے جاتے ہیں؛ تاہم ریاست کو کہیں یہ حق نہیں دیاگیا کہ وہ لوگوں کے بنیادی عقائد میں مداخلت کرے یا وہ طے کرے کہ کیا لکھناچاہیے اور کیا نہیں۔پاکستان کہنے کو ایک جمہوری ملک ہے لیکن اسے تدریجاً ایک پولیس سٹیٹ میں بدلا جارہا ہے۔ پہلے قومی مفاد کی تعریف کے حقوق ریاست نے اپنے نام کیے اور اب مذہبی مقدمات کی تعریف و تشریح بھی اپنے ذمہ لے لی۔ اس کا مظہر یہ نیابل ہے جو پنجاب اسمبلی نے منظورکیا اور جسے تحفظِ بنیادِ اسلام کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل کے تحت ایک سرکاری افسرجب چاہے کسی کتاب کو بازار سے اٹھا لے اور کتاب فروش کو گرفتار کر لے۔ آدمی صفائی دیتا رہے گا اور اس میں برس ہا برس گزرجائیں گے۔ کیا اس ماحول میں کسی معاشرے کا فکری ارتقا ممکن ہے؟ کیا اسلام یہی چاہتا ہے؟

پھر یہ بل ایک طرف اس مقصد کو پورا کرتا دکھائی نہیں دیتا جسے اس کا شانِ نزول بتایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس نے بے شمار نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مجھے کوئی شبہ نہیں کہ یہ بل نہ مذہب کی تفہیم کا کوئی اچھا نمونہ ہے اور نہ معاشرے کے ساخت سےواقفیت کا اظہار ہے۔میں یہاں چند امور کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں:

1۔توہین سے مراد کیا ہے؟ توہین اور تنقید میں کیا فرق ہے؟ یہ فرق کون بیان کرے گا؟ایک افسر کس بنیاد پر کسی کتاب کے مصنف کو اس کا مرتکب قرار دے گا؟ اس بل میںتورات، انجیل اورپرانی الہامی کتب کی توہین کو بھی جرم کہا گیا ہے۔ اب مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ موجود کتبِ سماوی، الاقرآن مجید ، محرّف ہیں۔ ان میں تحریف کر دی گئی ہے۔ کسی آسمانی کتاب کے بارے میں یہ کہناکہ اس میں تحریف ہو گئ ہے، کیا توہین ہے؟ کیا کسی مسیحی کے لیے یہ قابلِ قبول ہے؟

2۔کافر اور غیر مسلم میں کیا فرق ہے؟ کیا ہر غیر مسلم کافر ہے؟ ہم اگر کسی مسیحی کو کافر کہیں تو وہ اسے اپنی توہین سمجھتا ہے۔ وہ خود کو صاحبِ ایمان کہتا ہے کیونکہ وہ خدا اور حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہے۔ یہی معاملے یہودیوں کا ہے۔ اگر کل کوئی پاکستانی مسیحی عدالت میں جا کر یہ مقدمہ قائم کر ے کہ انہیں کافر نہ کہا جائے تو اس بل کی روشنی میں اس کا کیا جواب ہو گا؟

3۔مسلم تاریخ کے باب میں ہمارے ہاں دو مستقل آرا ہیں جو مسلمانوں میں قدیم ترین فرقہ بندی کی بنیاد ہیں۔بعض جدید شیعہ علما نے صحابہ کی توہین کو حرام کہا لیکن اس کے باوصف تاریخ کےبارے میں ان کا نقطہ نظر وہی ہے۔وہ تنقید اور توہین میں فرق کرتے ہیں۔ کیا اس بل کے بعد شیعہ نقطہ نظر پیش کیا جاسکے گا؟ اس بل پر شیعہ ردِ عمل ہمارے سامنے ہے۔

4۔روایات اور تاریخ کی وہ کتب جنہیں مسلم روایت میں مراجع و مصادر کی حیثیت حاصل ہے، اُن میں ان گنت روایات ایسی ہیںجن کی بنیاد پر وہ کتابیںلکھی گئیں جن پر آج پابندی لگائی جا رہی ہے۔ اگر ان روایات کے اصل ماخذ کی اشاعت جائز ہے تو ان کی بنیاد پر قائم مقدمات کی حامل کتب پر پابندی کا کیا جواز ہے؟

5۔اس بل کا اطلاق کیا شائع شدہ کتب پر بھی ہو گا؟برصغیر میں ایک دوسرے کو گستاخ قرار دینے کی ایک روایت ہے اور اس کی بنیاد بعض کتب پر ہے۔کیا وہ کتابیںشائع ہو تی رہیں گی؟ اگر ان کی اشاعت جاری ہے تو پھر نئی پابندی کیسے نتیجہ خیز ہو سکتی ہے؟ اسی طرح ہمارے قدیم مصنفین جو جید عالم تھے، اپنی تحریروں میں زیادہ القاب استعمال نہیں کرتےتھے۔ مثال کے طور پر مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی کی کتابوں میں جہاں رسالت مآب ﷺ کا نامِ نامی آیا ہے، وہ کم و بیش ہر جگہ صرف نبی ﷺ لکھتے ہیں۔ کیا ان کتب کے نئے ایڈیشن تبدیلی کے ساتھ شائع ہوں گے؟

6۔مسلمان ہمیشہ حفظِ مراتب کے قائل رہے ہیں مگر اس کا کوئی مسلمہ اصول نہیں۔اس کا تعلق ذوق اور تفہیم سے ہے۔ اہلِ تشیع سیدنا علی کے ساتھ علیہ السلام اور سنی، رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں۔ بعض سنی بھی سید نا علی کے لیے علیہ السلام لکھتے ہیں۔ اسی طرح غیرصحابی کے لیے بھی رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے۔ اس پرکوئی پابندی کیسے لگائی جاسکتی ہے اور اس کی دینی دلیل کیا ہے؟

7۔احترامِ مذاہب و شخصیات کا ایک قانون پہلے سے موجود ہے۔ ایسے میں ایک نئے قانون کا جواز کیاہے؟

نصابی کتب کےبارےےمیں ، میں الگ سے لکھوں گا۔ مذہبی معاملات میں ریاست کی بڑھتی مداخلت کے دو نتائج ناگزیر ہیں۔ ایک یہ کہ خود اہلِ مذہب دیوار سے لگ جائیں اور ایک دن خود ہی اس کے خلاف نکل پڑیں دوسرا یہ کہ عوام مذہبی معاملات اور ان سے وابستہ خوف کے باعث ایک سیکولر ریاست کا مطالبہ لے کر کھڑے ہو جائیں۔یہ اس طرزِ عمل کا ناگزیر نتیجہ ہے جس پر یورپی تاریخ کی گواہی ثبت ہے۔

♣♣♣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *