مکرم عبد الکریم قدسی ؔصاحب کا خصوصی انٹرویو

شعبہ گوشہ ادب

سوال نمبر 1:ابتدائی حالات زندگی ۔

جواب :میں نے 1948 ء میں کرتو ضلع شیخوپورہ میں ایک غریب اور محنت کش گھرانے میں آنکھ کھولی ۔محنت ومشقت نے نہ جانے مجھ میں کیا خوبی دیکھی اور مجھ پر ایسی فریفتہ ہوئی کہ آج بھی یہ مخلصانہ تعلق اور رشتہ قائم ودائم ہے ۔

سوال نمبر 2:شاعری کا آغاز کب اور کیسے ہوا ۔

جواب :ریڈیو سے مشاعرے سننے کا شوق تھا ۔لاہور ،کراچی ،جالندھر ،دھلی سے کب مشاعرہ نشر ہوتا ہے ۔مجھے علم ہوتا تھا ۔ مشاعروں سے اچھے شعر نوٹ کرتے کرتے اور پسندیدہ شعروں کی تلاش نے خود شعر کہنے کا حوصلہ دیا ۔

سوال نمبر 3: پہلی نظم جو لکھی یاد ہے ۔

جواب :حمد باری تعالیٰ تھی ۔

نہ جانے کب ملے گا مجھ کو میرا مدعا یارب

کچھ ایسی ہی تھی

سوال نمبر4 :ساٹھ ستر کی دہائی میں ہونے والے طرحی مشاعروں اور ادبی محفلوں سے وابستہ کچھ یادیں

جواب :میں نے اپنی غزلوں کی کتاب ’’اشک رواں ‘‘کے ابتدائیہ میں ان طرحی مشاعروں اور ادبی محافل کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔کیا شعروشاعری کی ترویج وترقی کا سنہری دور تھا ۔ایک طرف حضرت نشتر جالندھری کا حلقہ نشترِ ادب تھا ۔وائی ایم سی میں مشاعرے ہوتے ۔ڈاکٹر تبسم رضوانی کا حلقہ بہت فعال تھا۔پہلے پرانی انارکلی میں واصف علی واصف کے انگلش کالج میں پھر الشجر بلڈنگ پھر ریواز گارڈن میں باقاعدگی سے مشاعرے ہوتے ۔نوح ناروی کے شاگرد زیبا ناروی صاحب بھی باقاعدگی سے مشاعرے کرواتے کرشن نگر میں ۔تابکاری روڈ تکیہ املی والا میں اصغر نثار قریشی کی محفل جمتی ۔ڈاکٹر عبد الرشید تبسم کے ہاں 103سی ماڈل ٹاؤن میں بلانا غہ ماہوار طرحی نشست برپا ہوتی ۔اقبال صلاح الدین اور بشیر منذر کے ڈیرے بھی اہل قلم سے ہمیشہ آباد رہے ۔اقبال صاحب کے ہاں بشیر حسین ناظم ،چوہدری غلام رسول ،عبدا لجبار شاکر ،اشرف پال ،ڈاکٹر صدیق ہل،ساقی گجراتی ،ریاض راجی ،عصمت اللہ زاہد ،غلام مصطفی بسمل ،راجا رسالو ،اقبال زخمی،مقصود ناصر چوہدری ،سید اسلام شاہ ،امین خیال اور بے شمار ادیبوں شاعروں کا آنا جانا تھا ۔بشیر منذر کا ایبک روڈ پر المنار آرٹ پریس تھا۔وہاں بھی اہل قلم کی بہت ریل پیل رہتی تھی ۔شریف کنجاہی تنویر سپرا ،حفیظ تائب ،اقبال ساجد ،روحی کجاہی ،ڈاکٹر آفتاب نقوی ،سلیم کاشر اکثر وہاں آتے جاتے تھے ۔ڈاکٹر اجمل نیازی سے بھی وہیں تعارف ہوا طفیل ہوشیارپوری کے دفتر میں شرقی بن شائق ،یزدانی جالندھری ،طفیل ہوشیار پوری اور ایف ڈی گوھر کے مباحث سے ہم لوگ خوب سرشار ہوتے ۔دانش کدہ حضرت احسان دانش کی نشست گاہ تھی ۔وہاں بھی قسمت نے بیٹھے کے بہت سے مواقع عطا کئے ۔شفیق کوٹی ،رشید کامل ،اقبال راہی سے وہیں تعارف ہوا ۔شورش کاشمیری بھی کبھی کبھار وہاں آتے تھے۔ساغر صدیقی کا درویشانہ دربار فٹ پاتھ پر لگتا تھا ۔روزانہ کی حاضری دینے والوں میں میرے علاوہ یونس حسرت امرتسری ،ظہیر احمد ظہیر ،توقیر لدھیانوی ،یونس ادیب ،ناز خیالوی ،عبد الستار مفتی اور یاسین رضا شامل تھے۔طالب حسین طالب اور یوسف مثالی بھی گاہے گاہے شامل ہوجاتے تھے۔پنجابی حلقوں کے ہیروں کی چمک دمک بھی دیدنی تھی۔ایک حلقہ میں رؤف شیخ ،سلیم کاشر ،منظور وزیر آبادی یونس احقر ،اطہر نظامی ،معراج دین اختر ،ہمایوں پرویز شاہد اور منتظر زریں ۔دوسرے حلقہ میں ڈاکٹر رشید انور ،سلطان محمود آشفتہ ،سعید جعفری ،زاہد نواز ،حسین شاد کنول مشتاق وغیرہ ۔ایک حلقہ مشتاق بٹ ایڈوکیٹ کا تھا ۔استاد اللہ دتہ صابر ،قمر الدین کامل ،اعزاز احمد آذر ،تنویر ظہور ،خلیفہ نادم عصری وغیرہ اسی میں شامل تھے ۔استاد دامن سب سے الگ تھلک ایک حجرے میں رونق افروز رہتے تھے ۔

سوا ل نمبر 5:آج تخلیق ہونے والے ادب کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ۔

جواب : جس طرح پوری غزل میں صرف ایک شعر کا م کا ہو تو پوری غزل معتبر کہلاتی ہے ۔اس طرح آج کے کمرشل دور میں بھی کچھ نوجوانوں کی تخلیقات حیران کن ہیں جس کی وجہ سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔

ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ؔ

سوال نمبر 6: سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ادبی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔؟

جواب : میرا ادب سے تعلق کوئی پون صدی کے عرصے ک ومحیط ہے ۔میں نے بیشتر ادبی اداروں کی کارکردگی کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے ۔مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ان اداروں کے قیام کا مقصد ادب یا زبان کی ترویج وترقی ہے یا بعض خاص لوگوں کو نوازنا ہے جو ان اداروں میں بیٹھے بڑی بڑی رقمیں بٹور رہے ہیں ۔حیرت کی بات ہے کہ ان میں اکثر ادارے دس پندہ افراد کے ساتھ صرف کتابیں چھاپنے کا کام کر رہے ہیں ۔یہ کام اردو بازار کے پبلشر زیادہ بہتر انداز میں کر رہے ہیں ۔وہ کس کس طرح ادیب اور شاعر کا استحصال کر رہے ہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے لیکن ان اداروں نے ادیبوں کی بہبود کے لیے کیا کیا ہے ؟مراسم اور تعلقات کی بنا پر رائیلٹی دے کر غیر معیاری کتابیں چھاپنے کا عمل جاری ہے ۔اکیڈمی آف لیٹرز کو ادیبوں کی اعانت اور بہبود کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ بھی اپنے مقاصد کے حصول میں پوری طرح کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا ۔

سوال نمبر7 :آج کا الیکٹرانک میڈیا ادب کی ترقی وترویج میں کردارادا کرتا دکھائی دیتا ہے ۔

جواب :نہیں ۔جہاں ایک خوبصورت لڑکی اناؤسمنٹ کرے کہ ’’خواجہ سرا کی بیماری سے اتنے مریض ہسپتال میں داخل ہیں یا فوت ہوگئے ہیں ۔‘‘یاد رہے کہ یہ خسرہ کی بیماری کا ذکر تھا ۔موصوفہ نے خَسرہ کو خُسرہ پڑھتے ہوئے مہذب لہجہ اختیار کیا ۔ اب بتائیں یہ صرف اردو کا نہیں اردو ادب کا جنازہ نہیں ہے ؟اب ہم اناؤنسر کی خوبصورتی دیکھیں یا اردو ادب کے جنازہ میں شرکت کریں ۔ہاں چند ایک لوگ ہیں جو علم تقسیم کرتے ہیں ۔مگر آٹے میں نمک کے برابر

سوال نمبر 8:اہل قلم کو ہر سال دیئے جانے والے اعزازات پر آپ کی رائے ۔

جواب :اس کے باوجود کہ سیاست ملوث ہوتی ہے ۔انصاف کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے ۔میرٹ بھی ذبح ہوجاتا ہے مگر میں اس کو بند کرنے کے حق میں نہیں۔دس میں سے ایک ایوارڈ بھی مستحق کو مل جائے تو غنیمت ہے ۔

سوال نمبر 9:غزل اور نظم میں آپکی پسند ۔

جواب :میری پہلی اور آخری محبت غزل ہے ۔

سوال نمبر 10 :کس شاعر ادیب نے متاثرکیا ۔

جواب :جب ہم نے شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو ایک سے بڑھ کرایک نابغۂ روزگار ہستیاں موجود تھیں جن کی روشنی میں اردو ادب کی دیوی اٹھلا اٹھلا کے چلتی تھی ۔ایک سنہرا دور تھا ادب کا ۔کس کس کا نام لیا جائے البتہ جن کے قدموں میں بیٹھ کر کسبِ فیض کیا ان میں شرقی بن شائق ،ساغر صدیقی ،یزدانی جالندھری ،ثاقب زیروی ،اقبال صلاح الدین ،بشیر منذر ،ڈاکٹر رشید انور اور رؤف شیخ جیسے بلند قامت لوگ تھے ۔

سوال نمبر 11 :ادب میں تنقید وتحقیق کے بارے میں آپ کی رائے ؟

جواب :مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں جس تیزی سے شاعر پیدا ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اس تیزی سے ہم نقاد اور محقق پیدا نہیں کر سکے ۔نقاد وہ شخص ہوتا ہے جو ادب کی رفتار ہی نہیں ماپتا بلکہ اس کی انگلیاں ادیب اور ادب کی نبض پر ہوتی ہیں ۔وہ معاشرے کی بنتی بگڑتی ہوئی صورت حال کا ادراک رکھتا ہے ۔اور ادب کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔اسی طرح محقق کا وجود بھی ادب کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔محقق اپنی تحقیق کے ذریعہ کھوئے ہوؤں کی جستجو کرتا ہے اور ادب کے گم شدہ آثار دریافت کرکے نئی صورت حال پیدا کرنے کا سامان فراہم کرتا ہے لیکن اب تنقید وتحقیق کا میدان خالی ہوکر رہ گیا ہے ۔آج کے دور کا یہ المیہ ہے کہ ہمیں کوئی بڑا نقاد اور محقق نظر نہیں آتا ۔اب وہ لوگ نقاد کا لیبل لگائے ہوئے ہیں جو شعر کو وزن میں نہیں پڑھ سکتے ۔ اور محقق یونیورسٹیوں میں جمع ہوگئے ہیں جہاں سندی تحقیق میں وہ دوسروں کے کام پر ہاتھ صاف کیے جارہے ہیں ۔ان کی نگرانی کرنے والے اساتذہ بھی بس ایسے ہی ہیں جو تحقیق کی ابجد سے بھی واقف نہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکار کی سرپرستی میں چلنے والے ادبی اداروں کو اس کام پر لگا کر ان کی تن آسانی کا علاج کیا جائے ۔

سوال نمبر 12 :آج عالمی مشاعرے تو ہورہے ہیں مگر عام مشاعروں میں کمی کیوں ہے ۔

جواب :پہلے ادب کی خدمت کے لئے مشاعرے ہوتے تھے آج حقِ خدمت کے لئے ہوتے ہیں ۔کمرشل ازم کے دھوئیں نے ادب کی خدمت کا چہرہ جھُلسا کے رکھ دیا ہے ۔

سوال نمبر13 :تاریخ گوئی کو ایک مشکل صنف کہا جاتا ہے ۔بہت سے دوستوں کی تاریخ وفات آ پ نے نکالی ہے ۔اس طرف کیسے آئے ۔

جواب :میرے ایک شاعر دوست عبد السلام اختر فوت ہوئے میں نے پہلی بار ان کی تاریخ وفات نکالی ۔

ـ’’آسمانِ شعر کا اختر گیا ۔‘‘

1975

یزادنی جالندھری صاحب اس فن میں یدِطولیٰ رکھتے تھے ۔میں نے ان کو مصر ع سنایا ۔وہ چلتے چلتے رکے ۔آسمان کی طرف دیکھا ۔سر کوہلایا ۔کہنے لگے بالکل ٹھیک مصرع ہے ۔مجھے تھپکی دی ۔اور کہا کہ یہ فن مشکل ضرور ہے اور محنت طلب ہے ۔ اس راستے پر بڑھتے رہنا ہے واپس نہیں لوٹنا ۔آدھی صدی بعد بھی ان کی تھپکی کی حرارت ومحبت اور شفقت آج بھی محسوس کرتا ہوں ۔

سوال نمبر14 : بطور شاعر آپ اردو یا پنجابی کس میں زیادہ سہولت سے اظہار خیال کرنے میں آسانی سمجھتے ہیں ۔

جواب :اردو چونکہ ہماری قومی زبان ہے میں اردو میں لکھنا فخر کی بات سمجھتا ہوں۔پنجابی چونکہ میری مادری زبان ہے اس لیے مادری زبان میں لکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے میں کوئی ثواب کا کام کر رہا ہوں ۔

سوال نمبر 15:بیرون ملک کب گئے اور موجودہ ادبی سرگرمیاں کیا ہیں ۔اس بارے میں کچھ بتائیے

جواب :میں نے 2013 کو بھیگی پلکوں سے مادرِگیتی کو الوداع کہا ۔مسلسل ناانصافی ،عدل کشی اور تعصب کی تیز آندھی زوروں پر تھی ۔

بھیگی پلکیں ،پاؤں میں چھالے ،ہاتھ میں خشک نوالہ ہے

یہی تماشا دیکھ رہے ہیں جب سے ہوش سنبھالا ہے

تاہم میں کسی صورت ملک چھوڑنے پر راضی نہ تھا ۔میرا بیٹا جو امریکہ میں ٹرکوں کے کاروبار سے منسلک ہے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے کہ بڑھاپے میں اولاد سے جان بوجھ کر کنارہ کشی خودکشی سے کم نہیں ۔امریکہ کی بعض ریاستوں کا اتنا فاصلہ ہے کہ کئی کئی گھنٹے ہوائی سفر میں لگ جاتے ہیں سو اہلِ قلم خون کے ذریعہ ہی مل لیتے ہیں ۔میں ویسے ہی اب مشاعروں سے آنکھ چراتا ہوں کہ میرے کم از کم اردو پنجابی کے گیارہ مسودے تیار پڑے ہیں ۔ان کو ترتیب دینے پر توجہ ہے کہ زمین میں چھُپ جانے سے پہلے پہلے یہ چھَپ جائیں وگرنہ کل کو کون اشاعت کا سردرد مول لے گا کہ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں تو اردو پنجابی سے دور جار ہے ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا ہی انگریزی زبان ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *