می، ہم اور کرونا وائرس

شعبہ پاکستان

ہمارا تعلق اس با صلاحیت قوم سے ہے جو ہر مُشکل میں ہر قسم کا ماہر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، کہیں کوئی عمارت منہدم ہو جائے تو ماہر تعمیرات، مُلک میں کوئی تعلیمی مسئلہ ہو تو ماہر تعلیم، کسی کی فصل اچھی نا ہو تو زرعی ماہر، کوئی پُرانی عمارت نظر آجائے تو ماہر اثار قدیمہ، کسی کو قانونی مسئلہ درپیش ہو تو جناب ہم وکیل، کُچھ ایسا ہی معاملہ ہمیں تاب دیکھنے کو ملا جب پاکستان میں وبائی مرض کورونا کا پہلا مریض سامنے آیا۔ یہ بات ہے پچھلے سال کے آخر کی اور رواں سال کےآ غاز کی جب ہم نے سُنا کہ چین میں ایک وائرس نے بڑے پیمانے پر حضرت انسان کو متاثر کیا ہے۔ ہم نے کہا چین کا وائرس ہے جلد ہی ختم ہو جائے گا، حکومتی روئیہ بھی اس سے مختلف نا تھا دُنیا کی دیکھا دیکھی کُچھ اقدامات کئے گئے مگر چند دیگر مسائل کا سہارا لیا گیا، اپنی نالائقی کو چھپانے کے لئے غریب کے کندھے پر بندوک رکھ کر چلا دی گئی۔

تحریر: عبید اللہ

لاک ڈاؤن ختم۔۔

اس وقت ملک ایک بار پھر حکومت کی نالائقی اورعوام کی بے وقوفیوں سے انتہائی ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچار ہے جب مُلک میں یومیہ چار ہزار سے زیادہ افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں اور روزانہ پچاس سے ستر کے درمیان قیمتی جانیں حکومتی نالائقی کی نظر ہو ہی ہیں۔ مگر مملکت خدادا میں اب بھی ایک ایسا جنونی طبقہ ہے جو دنیا میں سینکڑوں انسانی جانوں کو نگل لینے والے اس ان دیکھے قاتل کو دنیا کی اس واحد اسلامی جمہوریہ ریاسست اور اس کے ورلڈ چیمپن وزیراعظم کے خلاف ایک گہری سازش قرار دیتے ہیں ۔کُچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دُنیا میں بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی یہ کورونا وائرس حضرت انسان کی اپنی تخلیق ہے۔ یہ سب ایک جانب مگر کیا ایسی سوچ رکھنے والے چند لوگوں نے اُن مسیحاؤں کے چہروں پر حفاظتی ماسک کے مُسلسل استعمال کی وجہ سے بن جانے والے نشان دیکھے ہیں؟ کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی کورونا وائرس کی وجہ سے وینٹیلیٹر سے مصنوعی سانس لیتے اُن لوگوں کو دیکھا ہے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مُبتلا ہے؟ اور کیا ان لوگوں میں اتنی جُرت ہے کہ وہ کسی مریض کے گندگی سے بھرے کپڑے تبدیل کر سکتے ہوں جو کورونا وائرس کی وجہ سے بستر مرگ پر ہے؟ تو ان چند سوالوں کا جواب ہے “نہیں”۔۔۔لیکن اس کے باوجود ہم ماہر ہیں اس مرض کے اور ہم سب کُچھ جانتے ہیں۔۔۔ہم نے دیکھا کہ عید الفطر سے چند روز قبل قومی ائیر لائن کا جہاز کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے چند فرلانگ کے فاصلہ پر گرا، جہاز میں سوار ننانوے افراد میں سے صرف دو افراد حادثے میں محفوظ رہے، کئی خاندانوں کی عید کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔۔۔ مگر اس حادثے نے کئی ماہرین و مبصرین کو جنم دیا۔۔ یہ واقعہ ہونا تھا کہ وہ لوگ بھی اس حادثہ کے بارے میں بولنے لگے جنھوں نے جہاز میں سفر کرنا تو کُجا شائد جہاز کو کبھی قریب سے دیکھا بھی نہیں ہوگا مگر اُنھوں نے بھی جہاز کے گرنے کے مُحرکات پر تجزیہ شروع کر دیا۔ ایسی ایسی کہانیان تخلیق دیں کہ صاحب کمال، اور یہ سب تجزیات اپنے تک محدود نہیں رہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کا سہارا لیا گیا اور کُل عالم تک یہ موتی بکھیر دئے۔

اس بات کا یہاں ذکر بلا وجہ نہیں کیا آج ایک خاتون ڈاکٹر کا سوشل میڈیا پر پیغام سُنا جس میں اُنھوں نے یہی یا اس سے ملتے جُلتے الفاظ کا استعمال کیا۔ اور بعد میں ہماری توجہ اُس عمومی روئیے کی جانب مبزول کروائی جس کا ذکر میں نے ابتدا میں کیا۔کہ یہ قوم ماہر ہے بنا پڑھے لکھے اور بنا سوچے سمجھے۔۔۔

اپنے لوگوں کی سوچ پر رحم بھی آتا ہے اور شرم بھی کہ ہم ان کے ساتھ اس مُلک میں رہتے ہیں۔ رہنا تو ہے اور جائیں کہاں ۔۔۔

پس کورونا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم پر قیامت بھی ٹوٹ جائے گی تب بھی ہم اُسے یہود کی سازش قرار دیں گے۔کُجا اس کے کہ ہم عالمی ماہرین کی بات سُنیں، نیوزی لینڈ، جرمنی، آسٹریلیا اور کورونا وائرس سے لڑنے اور کامیاب ہونے والے دیگر مُمالک کی مثالیں دیکھیں، یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخر ان مُمالک نے ایسا کیا کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت گئے۔۔۔ ہماری نظر ہے تو امریکہ یا برازیل جیسے مُمالک کے حُکمرانوں پر جو پہلے تو اس جان لیوا وائرس کو ایک سازش قرار دیتے ہیں اور جب اپنے مُلک میں مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں میں پہنچتی ہے تو راہ فرار ڈھونڈتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ خواہ کسی بھی خدائی آفت سے دوچار ہو یا کسی آنجہانی مصیبت میں گرفتار ہو جائے ۔۔۔ہم اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتے ۔۔ہم اس آفت سے بچ نکلنے کے بعد کبھی لال کاپی بنا کر اس میں یہ تحریر نہیں کرتے کہ آئندہ ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے بلکہ ہم ہمیشہ اپنے بڑوں کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے ماضی کی انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہراتے ٹھہراتے پھر ایک دن ایک نئی آفت کا شکار ہو جاتے ہیں پر کبھی بھی کوئی موثر لائحہ عمل نہیں بنا پاتے ۔جناب من ۔۔۔سوچنا یہ چاہیے کہ آئندہ ہمارے کن اداروں کو کیا کیا بہتری لانی چاہیے ۔۔۔ ہمیں اپنےلوگوں کو کن باتوں پر باشعور کرنا ضروری ہے ۔۔۔سوال یہ ہے کہ کب تک ہم مملکت خدادا میں دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے اٹھاتے اپنے کندھوں پر اپنوں کو اٹھاتے رہیں گے ۔۔۔ایسے ہی متعدد سوال ہیں جو تحریر کا حصہ بن سکتے ہیں مگر کیا فائدہ سوائے شرمندگی کہ کُچھ ہو نہیں سکتا۔۔

کسی نے کیا خوب جُملہ کہا کہ “ہم نے پڑھ تو بہت لیا ہے مگر شائد سیکھا کُچھ نہیں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *