پڑھتا جا شرماتا جا

شعبہ پاکستان

تحریر :محمد آرش انور

نیب ترمیمی آرڈیننس:وقت کی ضرورت یا نیا این آر او؟ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی بڑے نشریاتی ادارے کا شائع کردہ آرٹیکل پڑھنے کا اتفاق ہوا جو صرف اور صرف نیب کے اختیارات محدود کرنے یعنی آسان لفظوں میں نیب کے پر کاٹنے پر لکھا گیا تھا۔ اس آرٹیکل میں ہمارے پاکستانی سیاست دانوں کی سوچ اور مجبوریوں کو بیان کرکے بھگو بھگو کر۔۔۔ خیرچھوڑیں کیا مارا گیا ہے یہ بتانے کی کیا ضرورت ہے؟

قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے قیام سے قبل وفاقی ادارہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور صوبوں میں محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کے نام سے محکمے موجود تھے۔ ایف آئی اے مرکز جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن وزرائے اعلیٰ کے تابع ہیں، اِن محکموں کی موجودگی میں کیوں پٹواری اور تحصیلدار یا سپاہی کی سطح کے سرکاری ملازمین کے علاوہ کسی مگرمچھ یا مافیا پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا اور ملک کھربوں ڈالر کا مقروض کیونکر ہوا یہ عام فہم سی بات ہے۔ جس طرح مختلف لوگ مل کر کوئی تنظیم بناتے ہیں یا سرکاری اداروں میں سی بی اے ہوتی ہے بالکل اسی طرح اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کی دسترس سے باہر ان بڑے ٹائیکونز نے اپنی بقا کیلئے ریاست اور سیاست میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیں جس کی آسان مثال ’پیسہ پھینک تماشا دیکھ‘ دی جا سکتی ہے۔ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن محکموں کے باوجود قومی احتساب بیورو (نیب) کے نام سے ادارہ قائم کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کا ہی نہیں بلکہ اعلیٰ افسران اور حکمرانوں کا بھی بلاتمیز احتساب ضروری ہے۔

وگرنہ یہ سمجھ لیا جائے کہ صرف چھوٹا سرکاری ملازم ہی کرپٹ اور بےایمان ہے اور وطن عزیز جو کھربوں ڈالر کا مقروض ہے یہ تمام قرضے حوالدار، پٹواری، تحصیلدار اور کلرک درجہ کے سرکاری ملازمین کی پانچ دس ہزار روپے کی کرپشن کی وجہ سے ہے۔ نیب کے قیام کے بعد اربابِ اختیار، حکمرانوں اور سیاست دانوں کو اس بڑی غلطی کا فوراً احساس ہو گیا کیونکہ نیب نے ان درجات کے سرکاری افسران پر ہاتھ ڈالا جو خود کو باوردی حکمران سمجھتے تھے اس کے ساتھ ساتھ وہ سیاست دان بھی نیب کے ہتھے چڑھے جن کا خیال تھا کہ منکر نکیر بھی ان سے قبر میں حساب نہیں لے سکتے۔ اس کی واضح مثال سابق وزیراعظم میاں نوازشریف، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، چوہدری برادران، خواجہ برادران، قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، بیگم فریال تالپور، احسن اقبال، سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، علیم خان، سبطین خان، حمزہ شہباز اور ہزاروں ایسی شخصیات ہیں جن کے حکم پر مالی جرائم میں ملوث افراد چھوٹتے تھے، وہ شخصیات خود کرپشن کے کیسز میں سلاخوں کے پیچھے آئے۔

نیب نے بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈالا تو جیلوں کی رونقیں دوبالا ہو گئیں۔ لینڈ مافیاز پر ہاتھ ڈالا تو بڑے بڑے ٹائیکونز کو عوامی فلاح کے منصوبوں میں حکومت کی اعانت کرنے کا خیال آگیا اور بڑی بڑی رقوم کے چیک وقت کے حکمرانوں کو پیش کیے جانے لگے۔ ایک طرف نیب کو عوام میں پذیرائی مل رہی تھی کہ جن لوگوں کے پاک دامنی کی قسمیں سیاسی فرشتے کھاتے ہیں نیب ان کے کچے چٹھے کھول رہا تھا تو دوسری طرف سیاست کے ذریعے روزگار کمانے والے اس شتر بےمہار اور اتھرے نیب سے پریشان تھے۔ ایک طرف بین الاقوامی ادارے پاکستان میں کرپشن کم ہونے کی وجہ نیب کے کام کو قرار دے رہے تھے تو دوسری طرف نیب کا مکو ٹھپنے کیلئے ایک دوسرے کی عزتیں اچھالنے والے، کراچی سے خیبر تک سڑکوں پر گھسیٹنے والے خالہ اور چچا زاد بھائیوں جیسے رشتے آپس میں قائم کررہے تھے لیکن بفضلِ تعالیٰ نیب کے اختیارات محدود کرنے کا سہرا ان موجودہ حکمرانوں کے ماتھے پر ہی بندھنے جا رہا ہے جو انصاف عام، احتساب سر عام کا نعرہ لگا کر سیاست کے میدان میں کودے تھے۔

مبارکباد ان شوگر مافیا، لینڈ مافیا، گندم مافیا، لیزر سبسڈی مافیا، ادویات مافیا، آئی پی پیز مافیا کو جن کی دعائیں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سنی جارہی ہیں اور تعزیت کلرکوں، پٹواریوں، تھانیداروں اور چپراسیوں سے کہ اب وہ ایک بار پھر اس ملک کو کھربوں ڈالر کا مقروض کرنے کے ذمے دار ٹھہر جائیں گے۔ ماضی میں 2008تک پاکستان پہ اندرونی قرضہ کا حجم 6ٹریلین (کھرب) ڈالر پر محیط تھا، صرف 5سال کیا گزرے یہی قرض 15کھرب ڈالر تک پہنچ گیا، حکومت کیا بدلی قرض کا حجم بھی بدل گیا 2013سے 2018کے پانچ سالہ لیگی دور میں صرف اندرونی قرض کا حجم 30 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ کیا کہنے اس جمہوریت کے۔ نوجوانوں سے بھی اظہار افسوس کہ حال کی تبدیلی کے خواب کے آگے مصلحتیں آگئیں۔ مافیا نے گلا گھونٹ دیا تبدیلی کا۔اگر آپ نیب میں اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کو ضم کردیتے تو کرپٹ لوگوں کو قبروں میں بھی جگہ نہ ملتی لیکن سرکار! آپ تو سرکار ملتے ہی ”آپ سرکار ہو گئے“ جبھی تو غیرملکی نشریاتی ادارے نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے پسِ پردہ حقائق پر بھگو بھگو کر کیا مارا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ بہرحال ہم آپ کو آپ کا نعرہ انصاف عام احتساب سر عام والا نعرہ یاد دلاتے رہیں گے۔

☼☼☼

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *