عورت کہانی

تحریر : ڈاکٹر مبشر احمد طاہر

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ” جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے خوش اور راضی ہے تو وہ جنت میں جائے گی ” ۔ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ” کسی عورت سے نکاح کرنے کی چارہی بنیادیں ہو سکتی ہیں یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے خاندان کی وجہ سے یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس کی دینداری کی وجہ سے لیکن تو دین دار عورت کو ترجیح دے اللّٰہ تیرا بھلا کرے اور تجھے دین دار عورت حاصل ہو ” ۔آج ہم آپ کو سات قسم کی عورتوں کی کہانی سنائیں گے وہ عورتیں جن سے شادی نہ کرنے کا کہا گیا ہے پہلی وہ عورت جس کا ذکر ہے وہ عورت قنانہ ہے قنانہ یعنی وہ عورت جو ہمیشہ پیچھے کی طرف یعنی اپنے ماضی کو یاد کرتی رہے کہ فلاں وقت میرے ساتھ یہ ہوا تھا وہ ہوا تھا فلاں وقت میں میرے والدین کے گھر میں تو یوں ہوتا تھا لیکن تمھارے گھر میں کچھ بھی نہیں ہوتا مجھے اپنے گھر میں یہ سہولت میسر آئی تھی مگر اب تمہارے گھر میں ایسی سہولیات نہیں ہیں تمھارے پاس آکر رل گئی ہوں بربادہو گئی ہوں ایسی عورتوں کو قنانہ کا لقب دیا گیا ہے جو اپنے حال میں جینے کی بجائے اپنے ماضی میں جیتی رہیں اس کو اپنا ماضی زیادہ پسند ہو اور اپنے خاوند کو ہر وقت طعنہ دیتی رہےیہ وہ عورتیں ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہم اکثر بھائی ایک دوسرے کے ساتھ شکایت کرتے ہیں جو میری شریکِ حیات ہے وہ یونہی طعنہ دیتی ہے کہ شادی سے پہلے تم ایسے تھے مگر شادی کے فوراً بعد بدل گئے ہو چنانچہ اسی لئے کسی عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ قنانہ عورت سے کبھی بھی شادی نہ کرنا خواہ وہ حسن و جمال میں لاجواب ہو حور پری ہو یا مال و دولت میں بے مثال ہو۔

دوسری عورت جس سے شادی نہ کرنے کا کہا گیا ہے وہ عورت شداقہ ہے شداقہ وہ عورت ہے جو تیز زبان ہو اور ہر وقت باتیں بنانا جانتی ہو اور تو اور اس کا کام ہی باتیں بنانا ہو یہ تو Common Sense کی بات ہے اگر کوئی بھی تیز زبان شخصیت ہو اس میں صبر وتحمل کا مادہ نہیںہوتا اور وہ ہر وقت آپ پر طعنے اور طنز کے نشتر چلاتی رہے گی اور اس طرح آپ کی زندگی کو جہنم بنا دے گی اور آپ اس تیز زبان عورت کے منہ سے اپنے لیئے کچھ چند محبت کے دو بول سننے کو ترس جائیں گے ایسی عورت سے اس عرب دانا نے شادی کرنے سے اپنے بیٹوں کو منع فرمایا۔

تیسری وہ عورت جس سے شادی نہ کرنے کا کہا گیا ہے وہ عورت عنایہ ہے عنایہ وہ عورت ہے جو ہر وقت اپنے سر پر پٹی باندھے رکھے یعنی ہر وقت وہ شکوہ شکایت کےہی موڈ میں ہو اورہمیشہ اس کا مزاج بگڑا ہی رہے اور یہی اس کی روٹین بن جائے کہ وہ سراپہ شکایت بنی رہتی ہے اورہر بات میں میخ نکالتی اور کیڑے نکالتی ہے اورہر وقت اپنے سر پر پٹی باندھے رکھتی ہے کیونکہ اس کا کام ہی ہر بات پر جھگڑا کرنا اور بات کا بتنگڑ بنانا ہے کبھی وہ ساس کی شکایت کرتی ہوئی نظر آئے گی کبھی یہ عورت اپنی نند کی شکایت کرتے ھوئے نظر آئے گی اور کبھی اس بات پر کہ آپ نے میرے لیے کیا کیا ہے کبھی میرا خیال نہیں کیا کہ میں بھی اس دنیا میں رہتی ہوں بس اس کو سوائے بات سے بات نکال کر جھگڑا کرنا ہے اور کوئی کام نہیں اس عورت کے بارے میں عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عورت سے شادی نہ کرنا۔

چوتھی عورت جس سے نکاح کرنے سے اس عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ اس عورت سے شادی نہ کرنا وہ عورت حنانہ کا لقب دیا گیا ہے یہ عورت حنانہ یعنی وہ عورت ہے جو ہر وقت اپنے سابقہ شوہر کو ہی یاد کرتی رہے اور اسی Comparison کی بیماری میں مبتلا رہے اور یہی کہتی رہے کہ میرا سابقہ شوہر تو بہت اچھا تھا لیکن تم تو ویسے ہر گز نہیں ہو وہ تو میرا بہت خیال رکھتا تھا مجھے تو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی مگر یہاں تمہارے ساتھ شادی کرنے کے بعد تو میری حیثیت ایک نوکرانی جیسی ہو گئی ہے بلکہ اس سے بھی کم تر ہے ایسی عورت کو حنانہ کہا گیا ہے اس سے بھی شادی کے عمل سے دور رہنا چاہئے ورنہ آپ کی ساری زندگی جوہے وہ ایک عذاب کی صورت اختیار کر جائے گی یا پھر ایک سزا کی صورت میں گزرنے کا امکان ہے۔ان سات عورتوں میں پانچویں نمبر پر جس عورت کا ذکر کیا گیا ہے وہ منانہ کہلاتی ہے منانہ وہ عورت ہے جو ہر وقت مرد پر احسان جتاتی رہتی ہے کہ میں نے تیرے لیے یہ کیا ہے میں نے تیرے لیے وہ کیا ہے میں نے تجھ پر یہ احسان کیا ہے لیکن تو نے میرے لیے کیا کیا تو نے میرے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے میں نے کس کس طرح مدد کی لیکن پھر بھی مجھے تجھ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اس عرب دانا نے اپنے بیٹوں سے اس جیسی عورت سے شادی نہ کرنے کی نصیحت کی کیونکہ ایسی عورتوں کی کم ظرفی کی نشانی ہوتی ہے اور کوئی بھی شخص اپنی ساری زندگی کسی ایسی عورت کے ساتھ نہیں گزار سکتا اور نہ ہی گزارنا پسند کرے گا جو کم ظرف عورت ہوتی ہے وہ مرد پر ہر بات بات پر احسان ڈال کر شرمندہ کرنے والی ہوتی ہے ایک بزرگ صوفی شاعر نے کیا خوب کہا جس کا مفہوم یہ ہے

بڑوں سے محمد بخش فیض کسے نہ پایا

ککر پر انگور چھڑ بابا ہر خوشہ زخمایا

اس لیے اس عورت کو منانا کہا گیا اس عورت سے شادی کرنے والا اپنی ساری زندگی پچھتاوے میں گزارے گا کیونکہ اس کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ ذرا سی مہربانی کرنے کے بعد آپ کو مسلسل اس احسان کو جتلاتی رہے گی۔

اس کے بعد جس چھٹی عورت کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ وہ عورت ہے جس کے بارے میں اس عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شادی نہ کرنا یہ عورت حداقہ کہلاتی ہے یعنی وہ عورت جو ہر وقت فرمائشیں کرتی رہتی ہے یعنی کچھ بھی دیکھے تو اس کی طلبگار بن جائے گی مجھے پہلے دو مجھے وہ لے دو مجھے یہ چاہیئے مجھے وہ چاہیئے میں نے تو یہ خریدنا ہے میں نے تو وہ خریدنا تھا فلاں نے خرید لیا ہے میں نے بھی خریدنا تھا مجھے وہ بہت پسند تھا اب جیسے بھی ہو وہ خرید کر لا دیں یہ وہ عورت ہے جو اپنے شوہروں کو مالی مشکلات کا معاشی مسائل کا شکار کر دیتی ہیں ان کو اس چیز کی غرض نہیں ہوتی کہ وہ پیسہ کہاں سے آئے گا اور کیسے آئے گا اور پھر ایسی ہی Situation سے بہت ساری دیگر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جیسا کہ کرپشن اور اقربا پروری جیسی دیگر برائیاں اگر آپ کو یہ محسوس ہو کہ آپ کے سامنے والی جو عورت ہے وہ حداقہ کی Category میں یعنی اس Category میں ہے جیسے ہر وقت فرمائش کرتی رہتی ہے تو اس سے شادی نہ کریں کیونکہ اس سے شادی کرنے سے آپ قرض جیسی بری لعنت میں بھی گھر جائیں گے۔

اب ان سات قسم کی عورتوں کی کہانی میں ساتویں نمبر پر جس عورت کا ذکر کیا گیا ہے اس عورت کے بارے میں اس عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اس سے شادی نہ کرے اس عورت کو براقہ کا نام دیا گیا ہے براقہ لفظ دراصل برق سے نکلا ہے جس کے معانی چمک دمک کےہیں اور براقہ وہ عورت ہے جوہر وقت اپنی چمک دمک میں لگی رہتی ہے یعنی اپنے بناؤ سنگھار میں لگی رہتی ہے اور اس کو اپنے گھر کا اپنے گھر کے اہل وعیال کا اور اپنے خاوند کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کس حال میں ہیں ایسی عورت سے اگر کوئی شخص شادی کر لیتا ہے تو وہ اپنی گھریلو زندگی میں خوش نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اس کی زندگی میں کوئی خوشی اور آسائش آسکتی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی بے نیازی کی کیفیت میں ہے وہ پہلے ہی پرواہ نہ کرنے والی ہے اس کو صرف اور صرف اپنا آپ نظر آتا ہے تو پھر وہ آپ کے لیے کیا کرے گی اس لیے ایسی عورت سے شادی کرنے کے بعد وہ شخص پچھتاوے کی زندگی گزارے گا۔

دوستو یہ وہ سات قسم کی عورتیں ہیں جن سے شادی کر کے آپ خوش نصیب نہیں بن سکتے اگر آپ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی اس حدیث شریف کے مطابق کسی دین دار عورت سے شادی کریں گے تو آپ کی زندگی خوشیوں سے بھری پڑی ہو گی اور آپ کی اولاد بھی نیک اور اطاعت گزار اور خدمت گزار ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *